سبحان اللہ

سبحان اللہ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سبحان اللہ, Video Creator, Multan.

08/08/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

حصہ پنجم:
صراطِ مستقیم کیا ہے؟

ہم ہر نماز میں سیدھے راستے کی دعا کرتے ہیں، مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ راستہ ہے کیا؟

پچھلے حصے میں ہم نے سورۂ فاتحہ پر غور کیا تھا۔

ہم نے دیکھا کہ قرآن کا آغاز ہی ایک ایسی دعا سے ہوتا ہے جسے مسلمان دن رات بار بار دہراتا ہے:

"اهدنا الصراط المستقيم"

اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔

لیکن ذرا رک کر سوچیں...

ہم ہر نماز میں یہ دعا مانگتے ہیں۔

صبح بھی...

شام بھی...

تنہائی میں بھی...

جماعت میں بھی...

لیکن کیا کبھی ہم نے خود سے پوچھا:

"وہ سیدھا راستہ آخر ہے کیا؟"

کیا صراطِ مستقیم صرف ایک خاص فرقے کا نام ہے؟

کیا یہ صرف چند عبادات کا مجموعہ ہے؟

کیا یہ صرف مسجد تک پہنچنے والا راستہ ہے؟

یا یہ دراصل پوری زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے؟

قرآن جب صراطِ مستقیم کی بات کرتا ہے تو ہمیں صرف راستے کا نام نہیں بتاتا، بلکہ اس راستے کی سمت بھی بتاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔"
(سورۃ الانعام: 153)»

غور کیجیے...

اللہ نے فرمایا:

"یہ میرا راستہ ہے۔"

یعنی سیدھا راستہ انسان کی بنائی ہوئی کوئی سڑک نہیں۔

یہ اللہ کا راستہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی میں ہر وہ راستہ جو ہمیں اللہ سے قریب کرے، اس کی اطاعت کی طرف لے جائے اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد دے، وہ صراطِ مستقیم کا حصہ ہے۔

اور ہر وہ راستہ جو ہمیں اللہ سے دور کرے، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، ہمارے لیے خطرناک ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر سیدھا راستہ ایک ہے، تو پھر دنیا میں اتنے راستے کیوں ہیں؟

ہر شخص اپنی سوچ کو درست سمجھتا ہے۔

کوئی کہتا ہے کامیابی زیادہ دولت میں ہے۔

کوئی کہتا ہے شہرت میں۔

کوئی طاقت کو کامیابی سمجھتا ہے۔

کوئی آزادی کو ہر چیز سے مقدم سمجھتا ہے۔

کوئی اپنی خواہشات کو زندگی کا رہنما بنا لیتا ہے۔

اور کوئی لوگوں کی پسند کو اپنا معیار بنا لیتا ہے۔

لیکن قرآن ایک بنیادی اصول دیتا ہے:

راستے کی سچائی کا معیار یہ نہیں کہ کتنے لوگ اس پر چل رہے ہیں؛ معیار یہ ہے کہ وہ کہاں لے جا رہا ہے۔

ذرا روزمرہ زندگی کی مثال لیجیے۔

اگر آپ کسی نامعلوم شہر میں جا رہے ہوں اور آپ کے پاس منزل کا درست نقشہ موجود ہو، تو راستے میں دس لوگ آپ کو دس مختلف راستے بتا دیں، کیا آپ صرف اس لیے اپنا راستہ بدل دیں گے کہ زیادہ لوگ کچھ اور کہہ رہے ہیں؟

نہیں۔

آپ نقشہ دیکھیں گے۔

کیونکہ منزل کا فیصلہ لوگوں کی تعداد نہیں کرتی۔

اسی طرح زندگی میں بھی اکثریت ہمیشہ حق کا معیار نہیں ہوتی۔

قرآن کہتا ہے:

«"اور اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔"
(سورۃ الانعام: 116)»

یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑی ذہنی بیماری سے بچاتی ہے:

لوگ کیا کہیں گے؟

کتنی مرتبہ ہم صحیح اور غلط کا فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے؟

ہم اچھا کام چھوڑ دیتے ہیں کہ لوگ مذاق اڑائیں گے۔

ہم غلط کام کر لیتے ہیں کہ سب یہی کر رہے ہیں۔

ہم اپنی زندگی کا انداز بدل دیتے ہیں کیونکہ معاشرہ کچھ اور چاہتا ہے۔

لیکن صراطِ مستقیم کا مسافر ایک دن یہ فیصلہ کرتا ہے:

مجھے یہ نہیں دیکھنا کہ لوگ کس طرف جا رہے ہیں؛ مجھے یہ دیکھنا ہے کہ اللہ مجھے کس طرف بلا رہا ہے۔

یہاں قرآن ہمیں ایک اور بنیادی بات سمجھاتا ہے۔

سیدھا راستہ صرف عقیدے کا نام نہیں۔

یہ کردار کا بھی نام ہے۔

ایک شخص نماز پڑھتا ہے، لیکن جھوٹ بولتا ہے۔

دوسرا قرآن پڑھتا ہے، لیکن لوگوں کا حق کھاتا ہے۔

تیسرا عبادت کرتا ہے، لیکن تکبر سے بھرا ہوا ہے۔

تو سوال یہ ہے:

کیا صرف ظاہری عبادتیں انسان کو صراطِ مستقیم پر لے آتی ہیں؟

قرآن کا جواب ہمیں پورے قرآن میں ملتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے روکتا ہے۔"
(سورۃ النحل: 90)»

یعنی سیدھا راستہ عبادت اور اخلاق دونوں کو جوڑتا ہے۔

نماز بھی...

دیانت بھی۔

قرآن بھی...

انصاف بھی۔

ذکر بھی...

حسنِ اخلاق بھی۔

اللہ سے تعلق بھی...

اللہ کی مخلوق کے حقوق بھی۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں بار بار ایمان کے ساتھ عملِ صالح کی طرف لے جاتا ہے۔

صراطِ مستقیم کا ایک اور اہم پہلو ہے:

توازن۔

انسان اکثر انتہاؤں کا شکار ہو جاتا ہے۔

کوئی صرف دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے اور آخرت بھول جاتا ہے۔

کوئی دنیا کو اس طرح چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی ذمہ داریاں بھی بھول جاتا ہے۔

کوئی صرف ظاہری عبادت پر توجہ دیتا ہے اور اخلاق بھول جاتا ہے۔

کوئی صرف اخلاق کی بات کرتا ہے اور اللہ کی عبادت سے غافل ہو جاتا ہے۔

قرآن انسان کو توازن سکھاتا ہے۔

وہ دنیا کو چھوڑنے کا نہیں، دنیا کو صحیح مقام دینے کا درس دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھولو۔"
(سورۃ القصص: 77)»

یہی سیدھا راستہ ہے۔

دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو۔

مال استعمال ہو، انسان کا مالک نہ بن جائے۔

خواہشات موجود ہوں، لیکن انسان خواہشات کا غلام نہ بنے۔

یہاں صراطِ مستقیم کا ایک بہت گہرا پہلو سامنے آتا ہے۔

سیدھا راستہ ہمیشہ آسان راستہ نہیں ہوتا۔

کبھی سچ بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

کبھی حرام چھوڑنے سے مالی نقصان ہوتا ہے۔

کبھی انصاف کرنے سے اپنے ہی لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔

کبھی اللہ کی رضا کے لیے ایسی خواہش چھوڑنی پڑتی ہے جسے دل بہت چاہتا ہے۔

لیکن یہی امتحان ہے۔

اگر سیدھا راستہ ہمیشہ آسان ہوتا تو امتحان کہاں رہتا؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟"
(سورۃ العنکبوت: 2)»

اس آیت کو سمجھنے والا انسان مشکلات میں ٹوٹتا نہیں۔

وہ خود سے کہتا ہے:

یہ مشکل میرے راستے کا خاتمہ نہیں، میرے راستے کا امتحان ہے۔

یہ سوچ انسان کی پوری نفسیات بدل دیتی ہے۔

جب کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہ صرف یہ نہیں سوچتا:

"میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟"

بلکہ وہ پوچھتا ہے:

"اس صورتِ حال میں اللہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟"

یہ ایک چھوٹا سا سوال ہے، مگر انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔

غصہ آیا؟

پوچھو:

صراطِ مستقیم پر میرا اگلا قدم کیا ہے؟

مال کا معاملہ آیا؟

پوچھو:

اللہ کو اس معاملے میں مجھ سے کیا چاہیے؟

گناہ کا موقع ملا؟

پوچھو:

اگر میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے تو کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں؟

رشتے میں اختلاف ہوا؟

پوچھو:

میں اپنی انا کی پیروی کروں یا انصاف کی؟

یہی قرآن کو زندگی میں داخل کرنا ہے۔

صراطِ مستقیم کوئی خیالی راستہ نہیں۔

یہ ہر دن، ہر فیصلے اور ہر آزمائش میں سامنے آتا ہے۔

اور شاید اسی لیے ہم ہر نماز میں کہتے ہیں:

"اهدنا الصراط المستقيم"

ہم یہ نہیں کہتے:

"اے اللہ! ہمیں صرف ایک مرتبہ راستہ دکھا دے۔"

بلکہ ہم بار بار کہتے ہیں:

"ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھ۔"

کیونکہ انسان راستہ جاننے کے بعد بھی بھٹک سکتا ہے۔

آج صحیح فیصلہ کیا...

کل خواہش غالب آ گئی۔

آج دل نرم تھا...

کل غصہ آ گیا۔

آج ایمان مضبوط تھا...

کل دنیا کی چمک نے متاثر کر دیا۔

اسی لیے ہدایت صرف معلومات نہیں، بلکہ اللہ کی مدد بھی ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں علم کے ساتھ دعا بھی سکھاتا ہے۔

اب ذرا اپنی نماز کے بارے میں سوچیں۔

ہم سورۂ فاتحہ پڑھتے ہیں:

"اهدنا الصراط المستقيم"

پھر سلام پھیرتے ہیں...

اور نماز کے باہر اپنی مرضی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔

اگر ایسا ہو تو کیا ہم نے واقعی دعا کی؟

یا صرف الفاظ ادا کیے؟

یہ سوال سخت ضرور ہے، مگر ضروری ہے۔

کیونکہ قرآن ہمیں الفاظ سے آگے لے جانا چاہتا ہے۔

وہ چاہتا ہے کہ ہماری زبان جو مانگ رہی ہو، ہمارا کردار بھی اسی کی تصدیق کرے۔

اگر ہم سیدھا راستہ مانگتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے فیصلوں میں بھی سیدھا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

اگر ہم ہدایت مانگتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی خواہشات کو قرآن کے سامنے رکھنا ہوگا۔

اور اگر ہم اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو پھر لوگوں کی رضا کو ہر چیز پر مقدم نہیں رکھ سکتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن انسان کی فکر بدلتا ہے۔

پہلے انسان پوچھتا تھا:

"مجھے کیا ملے گا؟"

قرآن اسے سکھاتا ہے:

"اللہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟"

پہلے وہ پوچھتا تھا:

"لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟"

اب وہ پوچھتا ہے:

"اللہ میرے بارے میں کیا پسند کرے گا؟"

پہلے وہ کامیابی کو دنیا کی نظر سے دیکھتا تھا۔

اب وہ کامیابی کو آخرت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔

یہی صراطِ مستقیم کی روح ہے۔

اور اگر ہم سورۂ فاتحہ کے پورے سفر کو دیکھیں تو ایک حیرت انگیز ترتیب سامنے آتی ہے۔

پہلے:

الحمد لله رب العالمين

رب کی پہچان۔

پھر:

الرحمن الرحيم

رحمت کی پہچان۔

پھر:

مالك يوم الدين

آخرت کی یاد۔

پھر:

إياك نعبد وإياك نستعين

زندگی کا مرکز۔

اور پھر:

اهدنا الصراط المستقيم

زندگی کا راستہ۔

گویا سورۂ فاتحہ ہمیں بتا رہی ہے:

اپنے رب کو پہچانو، آخرت کو یاد رکھو، اپنی زندگی اس کے لیے وقف کرو، اور پھر اس سے سیدھے راستے پر چلنے کی مدد مانگو۔

یہی قرآن کے اگلے دروازے کی طرف اشارہ ہے۔

کیونکہ اب ایک بہت اہم سوال باقی ہے۔

اگر ہمیں سیدھا راستہ مل گیا، تو ہمیں اس راستے پر چلنے کے لیے کن لوگوں کو اپنا نمونہ بنانا چاہیے؟

سورۂ فاتحہ خود اس کا جواب دیتی ہے:

"ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔"

یعنی صرف راستہ کافی نہیں...

ہمیں راستے کے مسافر بھی دیکھنے ہوں گے۔

قرآن ہمیں ان لوگوں کی داستانیں سنائے گا جنہوں نے اسی راستے پر چل کر کامیابی حاصل کی۔

آدمؑ...

نوحؑ...

ابراہیمؑ...

موسیٰؑ...

عیسیٰؑ...

اور آخرکار محمد ﷺ اور آپ کے صحابہؓ۔

ان کی کہانیاں محض تاریخ نہیں۔

یہ صراطِ مستقیم پر چلنے کے عملی نمونے ہیں۔

آج اپنی اگلی نماز میں جب آپ کہیں:

"اهدنا الصراط المستقيم"

تو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں:

اگر اللہ واقعی میری یہ دعا قبول کر لے، تو میری زندگی کی کون سی چیز سب سے پہلے بدلنی چاہیے؟

اور پھر اگلا سوال خود سامنے آتا ہے:

وہ لوگ کون تھے جنہیں اللہ نے اس سیدھے راستے پر چلنے کی وجہ سے "انعام یافتہ" قرار دیا؟

ان شاء اللہ، اگلے حصے میں ہم قرآن کی اسی حیرت انگیز فہرست کا دروازہ کھولیں گے:

"اللہ کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟"

08/08/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ

حصہ دوم
میں دنیا میں کیوں آیا ہوں؟

اگر اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے، تو آخر کس مقصد کے لیے؟

پچھلے حصے میں ہم نے ایک بنیادی حقیقت پر غور کیا تھا کہ قرآن کا پہلا پیغام اللہ کی معرفت ہے۔ کیونکہ جب تک انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا، وہ نہ خود کو پہچان سکتا ہے اور نہ اپنی زندگی کا مقصد۔

لیکن اب ایک اور سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے...

اگر اللہ میرا خالق ہے، تو اس نے مجھے دنیا میں کیوں بھیجا؟

کیا صرف اس لیے کہ میں پیدا ہوں، پڑھوں، نوکری کروں، دولت کماؤں، شادی کروں، اولاد چھوڑ جاؤں اور ایک دن مر جاؤں؟

اگر یہی زندگی کا مقصد ہوتا تو انسان اور دوسرے جانوروں میں کیا فرق رہ جاتا؟

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسان صرف ایک جسم نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ وہ صرف زمین پر رہنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ ایک مقصد کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"کیا تم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جاؤ گے؟"
(سورۃ المؤمنون: 115)»

یہ آیت انسان کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ تمہاری زندگی اتفاق نہیں، بلکہ ایک منصوبہ ہے۔ تمہارا وجود بے مقصد نہیں، بلکہ ہر لمحہ معنی رکھتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"
(سورۃ الذاریات: 56)»

اکثر لوگ اس آیت کو صرف نماز، روزہ اور عبادات تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ قرآن میں عبادت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ ایسی زندگی گزارنا ہے جس میں ہر فیصلہ اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔

اگر آپ تجارت کرتے ہیں اور دیانت داری اختیار کرتے ہیں، تو یہ بھی عبادت ہے۔

اگر آپ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، تو یہ بھی عبادت ہے۔

اگر آپ انصاف کرتے ہیں، وعدہ پورا کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا حق ادا کرتے ہیں، تو یہ سب عبادت ہے۔

یعنی عبادت صرف مسجد کے اندر نہیں، بلکہ پوری زندگی میں پھیل جاتی ہے۔

ذرا ایک مثال پر غور کریں۔

فرض کریں ایک کمپنی نے ایک جدید مشین تیار کی۔ اس کے ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی دیا کہ اسے کس طرح استعمال کرنا ہے۔

اگر کوئی شخص اس ہدایت نامے کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی سے مشین چلائے، تو کیا ہوگا؟

کچھ وقت بعد وہ خراب ہو جائے گی۔

قصور مشین کا نہیں، بلکہ استعمال کرنے والے کا ہوگا۔

بالکل اسی طرح انسان کو پیدا کرنے والے اللہ نے قرآن کی صورت میں زندگی کا ہدایت نامہ عطا کیا ہے۔

جب انسان اس ہدایت کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو اس کی شخصیت متوازن رہتی ہے، اور جب اپنی خواہشات کو رہنما بنا لیتا ہے تو اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔

آج دنیا میں بے شمار لوگ ظاہری کامیابی رکھتے ہیں، لیکن دل کا سکون نہیں رکھتے۔

کیوں؟

کیونکہ مقصد کھو جائے تو کامیابیاں بھی خالی محسوس ہونے لگتی ہیں۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔"
(صحیح مسلم)

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ مومن ہمیشہ تکلیف میں رہے، بلکہ یہ ہے کہ مومن اپنی خواہشات کا غلام نہیں بنتا، بلکہ اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔

یہی زندگی کا اصل امتحان ہے۔

قرآن بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، مستقل گھر نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«"اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے۔"
(سورۃ الملک: 2)»

غور کیجیے...

اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ مالدار ہوگا، کون زیادہ مشہور ہوگا یا کون زیادہ طاقتور ہوگا۔

بلکہ فرمایا:

"کون بہتر عمل کرے گا۔"

یعنی اللہ کے نزدیک کامیابی کا معیار دنیا کی چمک نہیں، بلکہ کردار ہے۔

اگر انسان اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھ لے تو اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں۔

وہ وقتی فائدے کے بجائے ہمیشہ کے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔

وہ گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ صرف دنیا کے لیے نہیں جی رہا۔

وہ مصیبت میں بھی امید نہیں چھوڑتا، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ امتحان بھی گزر جائے گا۔

اور وہ نعمت پر غرور نہیں کرتا، کیونکہ جانتا ہے کہ یہ سب ایک آزمائش ہے۔

اگر اس پورے باب کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا:

"اللہ نے انسان کو صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے پیدا کیا ہے۔"

آج اپنے آپ سے ایک سوال ضرور پوچھیں:

کیا میری روزمرہ زندگی کا کوئی واضح مقصد ہے، یا میں بھیڑ کے ساتھ صرف چل رہا ہوں؟

اور جب انسان اپنے مقصد کو جان لیتا ہے تو ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے...

اگر قرآن میری رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے، تو کیا میں اسے اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے اللہ چاہتا ہے؟

ان شاء اللہ، اگلے حصے میں ہم بات کریں گے:

"قرآن صرف پڑھنے کی کتاب ہے یا سمجھنے کی؟"

17/06/2026

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

12/06/2026

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سبحان اللہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category