29/10/2025
*نوٹ سرداروں کے چمچے یہ پوسٹ سے دور رہے
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک حاکمِ وقت نے ایک بڑی گزرگاہ کے عین درمیان ایک چٹانی پتھر رکھوا دیا، یوں راستہ بند ہو کر رہ گیا۔*
اس نے اپنے ایک پہریدار کو قریب ہی ایک درخت کے پیچھے چھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِعمل کو دیکھے اور اُسے آگاہ کرے۔
اتفاق سے سب سے پہلے وہاں سے ایک مشہور تاجر گزرا۔ اُس نے نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ اسے خود حاکمِ وقت نے رکھوایا ہے۔ اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔
چٹان کے گرد چند چکر لگائے اور غصے سے چیختے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے شکایت کرے گا اور قصوروار کو سخت سزا دلوائے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا۔
اس کے بعد ایک ٹھیکیدار کا وہاں سے گزر ہوا۔ اُس کا ردِعمل بھی تقریباً ویسا ہی تھا، مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی تاجر کے لہجے میں تھی۔ آخر دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں فرق بھی تو تھا۔
پھر وہاں سے تین ایسے دوست گزرے جو ابھی تک اپنی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور روزگار کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رُک کر سڑک کے بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان کہا، اور قہقہے لگاتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
یوں کئی لوگ گزرتے رہے، چٹان کو اور حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہے، مگر کسی نے بھی مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہ کی۔
دو دن بعد وہاں سے ایک غریب اور مفلس کسان گزرا۔ اُس نے کوئی شکوہ نہ کیا، بلکہ دل ہی دل میں گزرنے والوں کی تکلیف کا احساس کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر ہٹا دیا جائے تاکہ لوگوں کو آسانی ہو۔ اُس نے راہگیروں کو متوجہ کیا اور سب سے مدد کی درخواست کی۔
چند لوگوں نے اکٹھے ہو کر زور لگایا اور آخرکار چٹان نما پتھر کو راستے سے ہٹا دیا۔
جیسے ہی چٹان ہٹی، نیچے ایک چھوٹا سا گڑھا نمایاں ہوا، جس میں ایک صندوقچی رکھی تھی۔ کسان نے اسے کھولا تو اندر سونے کا ایک ٹکڑا اور ایک خط رکھا تھا، جس پر لکھا تھا:
"حاکمِ وقت کی جانب سے اس چٹان کو راستے سے ہٹانے والے شخص کے لیے یہ انعام ہے۔ اُس کے لیے جس نے شکایت کرنے کے بجائے عمل کا راستہ چُنا اور مسئلے کا حل نکالا۔"
آخر میں خط کے نیچے یہ الفاظ درج تھے:
"اندھیروں کی شکایت کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے حصے کا ایک دیا جلاتے جائیں۔"
نوجوان اپنی جان،مال اور اپنے حقوق کے خاطر آو اب کچھ کرے گے
___________________________