Koh e Suleman PTI

Koh e Suleman PTI سوشل میڈیا
ایاک نعبد و ایاک نستعین
Absolutely not ✌✌

29/10/2025

‏*نوٹ سرداروں کے چمچے یہ پوسٹ سے دور رہے

کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک حاکمِ وقت نے ایک بڑی گزرگاہ کے عین درمیان ایک چٹانی پتھر رکھوا دیا، یوں راستہ بند ہو کر رہ گیا۔*

اس نے اپنے ایک پہریدار کو قریب ہی ایک درخت کے پیچھے چھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِعمل کو دیکھے اور اُسے آگاہ کرے۔

اتفاق سے سب سے پہلے وہاں سے ایک مشہور تاجر گزرا۔ اُس نے نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ اسے خود حاکمِ وقت نے رکھوایا ہے۔ اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔
چٹان کے گرد چند چکر لگائے اور غصے سے چیختے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے شکایت کرے گا اور قصوروار کو سخت سزا دلوائے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد ایک ٹھیکیدار کا وہاں سے گزر ہوا۔ اُس کا ردِعمل بھی تقریباً ویسا ہی تھا، مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی تاجر کے لہجے میں تھی۔ آخر دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں فرق بھی تو تھا۔

پھر وہاں سے تین ایسے دوست گزرے جو ابھی تک اپنی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور روزگار کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رُک کر سڑک کے بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان کہا، اور قہقہے لگاتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
یوں کئی لوگ گزرتے رہے، چٹان کو اور حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہے، مگر کسی نے بھی مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہ کی۔

دو دن بعد وہاں سے ایک غریب اور مفلس کسان گزرا۔ اُس نے کوئی شکوہ نہ کیا، بلکہ دل ہی دل میں گزرنے والوں کی تکلیف کا احساس کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر ہٹا دیا جائے تاکہ لوگوں کو آسانی ہو۔ اُس نے راہگیروں کو متوجہ کیا اور سب سے مدد کی درخواست کی۔
چند لوگوں نے اکٹھے ہو کر زور لگایا اور آخرکار چٹان نما پتھر کو راستے سے ہٹا دیا۔

جیسے ہی چٹان ہٹی، نیچے ایک چھوٹا سا گڑھا نمایاں ہوا، جس میں ایک صندوقچی رکھی تھی۔ کسان نے اسے کھولا تو اندر سونے کا ایک ٹکڑا اور ایک خط رکھا تھا، جس پر لکھا تھا:

"حاکمِ وقت کی جانب سے اس چٹان کو راستے سے ہٹانے والے شخص کے لیے یہ انعام ہے۔ اُس کے لیے جس نے شکایت کرنے کے بجائے عمل کا راستہ چُنا اور مسئلے کا حل نکالا۔"
آخر میں خط کے نیچے یہ الفاظ درج تھے:
"اندھیروں کی شکایت کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے حصے کا ایک دیا جلاتے جائیں۔"
نوجوان اپنی جان،مال اور اپنے حقوق کے خاطر آو اب کچھ کرے گے
___________________________

29/10/2025

ہم کسی سے محبت تو کر سکتے ہیں، مگر زبردستی کسی کو محبت نہیں کروا سکتے۔ سردارو پرانا وقت گزر چکا ھے، اب محبت کے لئے زبردستی نہیں، فیشن کے لئے بھی نہیں 💕💖👍

29/10/2025

خان صاحب کے آنے کی خوشی میں ہم نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ آپ دوبارہ جیل میں جائیں گے، لیکن یہ موقع ہے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔

29/10/2025

جب جنگلوں کا دور تھا تب بھی شہد آسانی سے نہیں ملتا تھا، مگر آج ہر بیکری، دودھ، اور کریانے کی دکان پر یہ ڈھیر لگا ہوا نظر آتا ہے
اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ اج کل وہ پرانا زمانہ نہیں ہے سرداری نظام نہیں ہے اج کل نظام جو چل رہا ہے ہر کوئی جاگ چکا ہے ہر چھوٹا سا بچہ بھی ہو نا اس میں بھی شعور ا چکا ہے الحمدللہ اب وقت ہے جوانو جاگ جاؤ اور اپنے حق کے لیے لڑو

قوم کے اوپر اوکھا ٹائم آئے گا فر سردار نظر آتے ہیں😜😄یہ ہمارے سرداروں۔۔۔۔۔۔۔آگے سمجھدار ہیں آپ سب
29/10/2025

قوم کے اوپر اوکھا ٹائم آئے گا فر سردار نظر آتے ہیں😜😄
یہ ہمارے سرداروں۔۔۔۔۔۔۔
آگے سمجھدار ہیں آپ سب

29/10/2025

*لیڈر*
حضرت محمدﷺ دنیا کے بہترین لیڈر ہیں۔❤️💯

29/10/2025

🤲🏻*جو یقیں کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی* 🤲🏻
*جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے*❤️🌟💫🌠

28/10/2025

میں جناب ڈاکٹر غازی صاحب اور جناب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے پندرہ تاریخ سے لے کر ستائیس تاریخ تک لگاتار روڈ پر کام کرواتے رہے ہیں اور انہوں نے دن رات اپنے گھر سے باہر رہ کے گزارے ہیں۔ میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور عوام کا بھی حق ہے کہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کریں اور ان لوگوں کے ساتھ جو بندے وہاں تھے وہ سب لوگوں کی شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ ان لوگوں نے اپنا دن وہاں گزارے گھر سے دور گزارے ہیں، نہ میں نے تنخواہ دی ہے نہ کسی نے تنخواہ دی ہے، نہ ان لوگوں نے کسی سے کوئی معاوضہ لیا ہے۔ نہ ان لوگوں کو کوئی چیز کی ضرورت تھی۔ نا ان لوگوں کو کوئ چیز کی ضرورت ھے،الللہ کا شکر ہے کہ ان لوگوں کے پاس اپنا سب کچھ کافی ھے،ان لوگوں نے کار خیر اپنے اللہ کی خاطر اور اپنی عوام کی خاطر وہاں کام کرتے رہے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ڈاکٹر جاوید نے کیا کیا ہے، ڈاکٹر غازی صاحب نے کیا کیا ہے، اگر کوئ بندہ سوچنے والا ھو،تو ان لوگوں نے بڑے قربانیاں دی ھے،میں ھوتا یا کوئ اور ہوتا ایسے زمہ داری کے ساتھ کوئ بھی کام نا کرواتا نا ہوتا تھا مگر ہم نا سمجھوں کو کیا پتہ ہے،ی۔ ہمیں غلط سوچنے والوں کی لوگوں کی کمنٹس اور پوسٹس دیکھ کر شرم آنی چاہیے۔ وہ لوگ ادھر زن چاڑی ٹک پر یا روڈ کے اوپر سونا کیمپ لگانا اور کسی مہمان ائے ان لوگوں کی مہمان نوازی کرنا اور لوگوں کی انتظار کرنا لوگوں کی منتے کرنا اور ڈونیشن اکھٹا کرنا، یہ کوئی چھوٹی موٹی بات تو نہیں ہے۔ یہی روڈ بنانا اسان تو نہیں ہے، یہ ہمارے عوام کا کام تھوڑا ہے یا یہ ڈاکٹر جاوید اور ڈاکٹر غازی کا کام تھوڑا ہے کہ ان لوگوں نے کی ہے۔ کچھ تو یار شرم ہونی چاہئیے ہے کہ کچھ تو سوچے بندہ یار تنقید تو نہ کرے ان لوگوں نے اتنا بڑا کام کیا ہے اور اتنا بڑا محنت کی ہے اور اوپر سے ہم حوصلہ افزائی کی بجائے ان لوگوں کی تنقید کریں یار کچھ تو خیال کیا کریں افسوس ہوتا ہے اپ لوگوں کی کمنٹ اور پوسٹیں دیکھ کر بھائ بے ہد افسوس ہوتا ہے 🤦‍♂️💔👎💔🤦‍♂️👎💔🤦‍♂️👎💔🤦‍♂️👎💔
اس جیسے بھادروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ھم تنقید کرتے ھیں
کیا چاھتے ھیں آپ ۔
جلنے والے جلتے رہو اگر کچھ شرم ھے توتھوڑا بھت خیال کیا کرو

28/10/2025

ہم سب نوجوانوں کی ترقی میں روکاوٹ کا سبب خود ہمارے پگڑپوش لوگ ہیں جو ہمیں پریشان کرنے میں ماہر ہیں 🤔💔😢

جرمانے کے لیے ٹیکنالوجی موجود ہے، مگر عوام کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں! یہ کیمرے عوام کی حفاظت کے لیے نہیں، عوام کی جیب دیکھ...
28/10/2025

جرمانے کے لیے ٹیکنالوجی موجود ہے، مگر عوام کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں!

یہ کیمرے عوام کی حفاظت کے لیے نہیں، عوام کی جیب دیکھنے کے لیے لگائے گئے ہیں!

کیمرے مجرموں کو پکڑنے کے بجائے عوام کو پکڑنے میں مصروف ھیں

Address

بلوچستان, ����
Multan
بلوچستان ����

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Koh e Suleman PTI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share