AHMAR TV

AHMAR TV ﷲ ایک ہے، وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ وہ جو عرشِ اعظیم کا مالک ہے جس کی بادشاہی کی کوئی حد نہیں 💯
(1)

10/08/2026

The Hidden History | Lost Civilizations & Suppressed Knowledge 🏛️⚡

10/08/2026

The secret of Ancient Bell's 🔔

🌺 حضرت مریم علیہا السلام اور معجزۂ ولادتِ عیسیٰ علیہ السلام​قرآنِ پاک میں حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر نہایت عزت، پاکیز...
08/08/2026

🌺 حضرت مریم علیہا السلام اور معجزۂ ولادتِ عیسیٰ علیہ السلام
​قرآنِ پاک میں حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر نہایت عزت، پاکیزگی اور عظمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کی ایک پوری سورت (سورۃ مریم) آپ کے نام سے منسوب ہے۔
​📖 قرآنی منظر کشی (سورۃ مریم)
​جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا وقت قریب آیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کی آسانی اور تسلی کے لیے خصوصی تدبیر فرمائی:
​کھجور کا درخت: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کھجور کے تنے کو اپنی طرف بلا جھجھک ہلاؤ، تم پر تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں جھڑیں گی۔
​جاری چشمہ: آپ کے قدموں کے پاس ایک میٹھے پانی کا چشمہ جاری کر دیا گیا تاکہ آپ سیراب ہو سکیں۔
​پاکیزگی اور توکل: سخت ترین آزمائش کے وقت بھی اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکل کی عظیم مثال قائم فرمائی۔
​✨ اہم نکات:
​دنیا کی برگزیدہ خاتون: حضرت مریم علیہا السلام کو اسلام میں تمام جہانوں کی عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔
​بغیر باپ کے ولادت: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم معجزہ (Inspiration) ہے۔
​صبر اور پاکدامنی: آپ کا اسوہ تمام مومنات کے لیے صبر، حیا اور توکل کا سرچشمہ ہے۔

08/08/2026

Is Statue of Liberty Actually Lucifer? 😱 | The Untold Secret

ذرا تصور کریں… ایک ایسا ظالم بادشاہ جس کے سامنے پوری قوم خوف سے کانپتی تھی، جو اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا، جس نے بنی ...
08/08/2026

ذرا تصور کریں… ایک ایسا ظالم بادشاہ جس کے سامنے پوری قوم خوف سے کانپتی تھی، جو اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا، جس نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کروانا شروع کر دیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی کے محل میں ایک ایسا بچہ پرورش پانے کے لیے بھیج دیا جو ایک دن اسی بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو کر کہنے والا تھا کہ میں تمہیں ایک اللہ کی طرف بلانے آیا ہوں! یہ حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا وہ عظیم واقعہ ہے جس میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی کتنی ہی بڑی طاقت کیوں نہ ہو، جب وہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی کرے تو اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے، خاص طور پر سورۃ القصص آیات 3 سے 42، سورۃ طٰہٰ آیات 24 سے 79 اور سورۃ الشعراء آیات 10 سے 68 میں۔

اس زمانے میں فرعون نے مصر کی سرزمین میں بہت تکبر اور ظلم پھیلا رکھا تھا۔ اس نے لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا تھا اور بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو کمزور کر دیا تھا۔ وہ ان کے بیٹوں کو قتل کرواتا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ قرآن اسے زمین میں فساد کرنے والوں میں شمار کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جس قوم کو فرعون کمزور سمجھ رہا ہے، اسی میں سے ایک بچے کے ذریعے اس کے ظلم کا خاتمہ ہوگا۔ (سورۃ القصص، 28:4–6)

اسی خوفناک ماحول میں حضرت موسیٰؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ بچے کو دودھ پلاتی رہو، لیکن جب خطرہ محسوس ہو تو اسے ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو، نہ خوف کرو اور نہ غم، ہم اسے تمہاری طرف واپس لوٹائیں گے اور اسے اپنے رسولوں میں شامل کریں گے۔ یہ ایک ماں کے لیے کتنا مشکل حکم تھا! لیکن حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے اللہ کے وعدے پر بھروسہ کیا اور بچے کو دریا میں ڈال دیا۔ پھر اللہ کی تدبیر دیکھیے کہ وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے گھر والوں تک پہنچ گیا۔ (سورۃ القصص، 28:7–8)

فرعون کے گھر والوں نے اس بچے کو اٹھا لیا۔ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ میرے اور تمہارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، ممکن ہے یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ وہ جس بچے کو اپنے گھر میں لا رہے ہیں، وہی آگے چل کر ان کے بادشاہ کے سامنے اللہ کی توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوگا۔ (سورۃ القصص، 28:8–9)

ادھر حضرت موسیٰؑ کی والدہ کا دل اپنے بچے کے غم میں بے قرار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط رکھا تاکہ وہ اپنے ایمان کو ظاہر نہ کریں۔ انہوں نے حضرت موسیٰؑ کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے جاؤ اور دیکھو کہ اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے کسی دایہ کا دودھ قبول نہ کیا۔ تب ان کی بہن نے فرعون کے گھر والوں کو ایک ایسے گھر کا پتا بتایا جو اس بچے کی اچھی پرورش کرسکتا تھا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو ان کی اپنی والدہ کی طرف واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، وہ غم نہ کریں اور جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (سورۃ القصص، 28:10–13)

وقت گزرتا گیا۔ حضرت موسیٰؑ جوان ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا۔ پھر ایک دن شہر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بعد حضرت موسیٰؑ کو مصر چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص جو بنی اسرائیل میں سے تھا، ایک قبطی شخص سے لڑ رہا ہے۔ بنی اسرائیلی شخص نے حضرت موسیٰؑ سے مدد مانگی۔ حضرت موسیٰؑ نے اسے ایک مکا مارا اور وہ شخص مر گیا۔ حضرت موسیٰؑ فوراً اپنی اس غلطی پر اللہ سے معافی مانگنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ (سورۃ القصص، 28:14–16)

اگلے دن خبر پہنچی کہ شہر کے بڑے لوگ حضرت موسیٰؑ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ ایک شخص دور سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے حضرت موسیٰؑ کو خبر دی کہ سردار تمہیں قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں، اس لیے شہر سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰؑ وہاں سے نکلے اور اللہ سے دعا کی: "اے میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔" پھر وہ مدین کی طرف چلے گئے۔ (سورۃ القصص، 28:20–22)

مدین پہنچ کر حضرت موسیٰؑ نے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانوروں کو پانی پلانے سے روک رہی تھیں کیونکہ دوسرے چرواہے پہلے پانی پلا رہے تھے۔ حضرت موسیٰؑ نے ان کی مدد کی، پھر ایک سایہ دار جگہ پر بیٹھ کر اللہ سے دعا کی: "اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، میں اس کا محتاج ہوں۔" اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مدین میں قیام کا راستہ بنایا۔ (سورۃ القصص، 28:23–28)

کئی سال گزرنے کے بعد حضرت موسیٰؑ اپنے گھر والوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے طور کی طرف ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو، مجھے آگ دکھائی دی ہے، شاید میں وہاں سے کوئی خبر یا آگ کا انگارہ لے آؤں۔ لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا اور انہیں نبوت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہارا رب ہوں، اپنے جوتے اتارو، تم مقدس وادی طویٰ میں ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو اپنی نشانیاں عطا فرمائیں: ان کا عصا اللہ کے حکم سے اژدہے کی طرح حرکت کرنے لگا، اور ان کا ہاتھ ایک اور نشانی کے طور پر روشن ہو گیا۔ (سورۃ طٰہٰ، 20:9–23؛ سورۃ القصص، 28:29–32)

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا: "فرعون کے پاس جاؤ، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔" حضرت موسیٰؑ نے اپنے بھائی حضرت ہارونؑ کو بھی ساتھ بھیجنے کی درخواست کی، کیونکہ حضرت ہارونؑ زیادہ فصیح گفتگو کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور دونوں بھائیوں کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔ (سورۃ طٰہٰ، 20:24–36؛ سورۃ القصص، 28:33–35)

اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کو یہ بھی حکم دیا کہ فرعون سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا اللہ سے ڈر جائے۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ فرعون کے پاس پہنچے اور اسے اللہ کی طرف بلایا اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ جانے دینے کا مطالبہ کیا۔ لیکن فرعون نے تکبر کیا اور انکار کر دیا۔ اس نے اپنی طاقت اور حکومت پر غرور کیا اور حضرت موسیٰؑ کی نشانیوں کو جادو قرار دینے کی کوشش کی۔ (سورۃ طٰہٰ، 20:43–48؛ سورۃ الشعراء، 26:16–31)

پھر فرعون نے جادوگروں کو جمع کیا تاکہ لوگوں کے سامنے حضرت موسیٰؑ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایک مقررہ دن بہت سے لوگ جمع ہوئے۔ جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو لوگوں کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ حرکت کر رہی ہوں۔ پھر حضرت موسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا پھینکا، تو وہ ان کے بنائے ہوئے جھوٹے کرتب کو نگل گیا۔ حقیقت سامنے آتے ہی جادوگر سجدے میں گر گئے اور اعلان کیا کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔ (سورۃ الشعراء، 26:38–48)

یہ دیکھ کر فرعون مزید غضب ناک ہوگیا۔ اس نے جادوگروں کو دھمکیاں دیں، لیکن وہ ایمان سے پیچھے نہ ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ (سورۃ طٰہٰ، 20:70–76؛ سورۃ الشعراء، 26:49–51)

فرعون نے پھر بھی اپنی سرکشی جاری رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مختلف نشانیاں دکھائیں، لیکن وہ اور اس کی قوم باز نہ آئے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل رات کے وقت وہاں سے روانہ ہوگئے۔ فرعون کو جب معلوم ہوا تو اس نے اپنے لشکر جمع کیے اور ان کا تعاقب شروع کر دیا۔ (سورۃ طٰہٰ، 20:77–79)

اب ایک انتہائی خوفناک منظر سامنے تھا۔ سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا بہت بڑا لشکر۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ اب تو ہم پکڑے گئے۔ لیکن حضرت موسیٰؑ نے پورے یقین سے فرمایا: "ہرگز نہیں! میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا۔" (سورۃ الشعراء، 26:61–62)

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا کہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ حضرت موسیٰؑ نے عصا مارا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کے درمیان خشک راستہ بن گیا۔ بنی اسرائیل اس راستے سے گزرنے لگے۔ پانی دونوں طرف عظیم پہاڑوں کی طرح کھڑا تھا، لیکن اللہ کے حکم سے ان کے لیے راستہ محفوظ تھا۔ (سورۃ الشعراء، 26:63–66؛ سورۃ طٰہٰ، 20:77–79)

فرعون اپنے لشکر کے ساتھ اسی راستے میں داخل ہوگیا۔ جب حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل گزر گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر اپنی حالت پر واپس آگیا اور فرعون اور اس کا لشکر ڈوب گئے۔ یوں وہ بادشاہ جو زمین میں اپنی طاقت پر اکڑتا تھا، اللہ کے سامنے بے بس ہوگیا۔ (سورۃ القصص، 28:40؛ سورۃ یونس، 10:90)

ڈوبتے وقت فرعون نے ایمان کا اقرار کیا اور کہا کہ میں اس ذات پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ لیکن اس وقت ایمان لانا اس کے لیے فائدہ مند نہ تھا، کیونکہ اس نے اس سے پہلے مسلسل نافرمانی اور فساد کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج ہم تیرے جسم کو محفوظ رکھیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے۔ (سورۃ یونس، 10:90–92)

اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی صحیح حدیث میں حضرت موسیٰؑ کی فرعون پر فتح کے دن کا ذکر فرمایا۔ جب مدینہ میں یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ وہ دن ہے جب موسیٰؑ کو فرعون پر فتح حاصل ہوئی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہم موسیٰؑ کے زیادہ حق دار ہیں، پھر آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری، حدیث 4737)

حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا یہ واقعہ ہمیں ایک ایسا سبق دیتا ہے جو آج بھی ہر انسان کے لیے زندہ ہے: ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور نظر آئے، وہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا؛ اور حق بظاہر کتنا ہی کمزور کیوں نہ دکھائی دے، اگر اس کے ساتھ اللہ کی مدد ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ حضرت موسیٰؑ کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون، لیکن جب اللہ پر یقین مضبوط تھا تو وہی سمندر راستہ بن گیا۔ دوسری طرف فرعون کے پاس لشکر، حکومت اور طاقت تھی، لیکن اللہ کے سامنے وہ سب کچھ بے کار ہوگیا۔ اس لیے اگر آج آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا وقت ہے جب ہر طرف سے راستے بند نظر آ رہے ہیں، تو حضرت موسیٰؑ کا وہ جملہ یاد رکھیں: "کَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ" — ہرگز نہیں، بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ (سورۃ الشعراء، 26:62)

🌹 اگر حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا یہ واقعہ آپ کے دل کو چھو گیا ہے تو آج کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 خوبصورت ناموں میں سے کوئی ایک نام ضرور لکھیں، شاید آپ کا لکھا ہوا وہ مبارک نام کسی دوسرے شخص کے دل کو بھی اللہ کی یاد دلا دے۔

حوالہ جات: قرآن مجید: سورۃ القصص 28:3–42، سورۃ طٰہٰ 20:9–79، سورۃ الشعراء 26:10–68، سورۃ یونس 10:90–92۔ حدیث: صحیح بخاری، حدیث 4737۔
© Nabi Pak Ki Batein — قرآن و مستند احادیث کی روشنی میں

📖 قصة أصحاب السبت (ہفتے والوں کا واقعہ): قرآن اور تاریخ کی روشنی میںقرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل قوم کی نافر...
07/08/2026

📖 قصة أصحاب السبت (ہفتے والوں کا واقعہ): قرآن اور تاریخ کی روشنی میں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل قوم کی نافرمانیوں اور چالاکیوں کا ذکر فرمایا ہے، جن میں سے ایک "اصحاب السبت" (Sabbath) کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک تاریخی حقیقت ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا درسِ ہدایت بھی ہے۔
📍 واقعہ کا پس منظر اور مقام
مقام: بحرِ احمر (Red Sea) کے کنارے واقع ایک ساحلی بستی "ایلہ" (Ayla / موجودہ عقبہ کے قریب)۔
حکم: بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شریعت کے مطابق ہفتے (Sabbath) کا دن عبادت کے لیے مخصوص کرنے اور اس دن دنیوی کام بالخصوص مچھلی کا شکار کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
🌊 آزمائش اور چالاکی (الحیلۃ الشرعیۃ)
اللہ تعالی نے ان کی آزمائش کا فیصلہ فرمایا:
آزمائش: ہفتے کے دن سمندر سے مچھلیاں سطح پر اچھل اچھل کر کثرت سے آتیں، جبکہ باقی دنوں میں غائب ہو جاتیں۔ (سورۃ الاعراف: 163)
چالاکی: وہ براہِ راست ہفتے کے دن شکار کرنے سے ڈرتے تھے، اس لیے انہوں نے ایک نیا طریقہ نکالا:
جمعہ کے دن ساحل کے قریب نالیاں اور حوض کھود دیتے۔
ہفتے کے دن جب مچھلیاں نالیوں میں آتیں، تو ان کے راستے بند کر دیتے۔
اتوار (Sunday) کے دن جا کر انہیں آسانی سے پکڑ لیتے اور کہتے: "ہم نے ہفتے کے دن شکار نہیں کیا!"
انہوں نے ظاہری طور پر حکم ماننے کا ناٹک کیا لیکن دل میں اللہ کی حدود اور قانون کا مذاق اڑایا۔
👥 بستی کے لوگوں کے 3 گروہ
اس موڑ پر بستی کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے:
گروہ 1 (حکم عدولی کرنے والے): جنہوں نے ہیلے بہانے بنا کر شکار جاری رکھا۔
گروہ 2 (نصیحت کرنے والے / داعی): جنہوں نے گناہگاروں کو روکا، اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور اپنا دینی فرض ادا کیا۔
گروہ 3 (خاموش تماشائی): جنہوں نے نہ خود گناہ کیا اور نہ گناہگاروں کو روکا، بلکہ روکنے والوں سے کہتے: "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے؟"
قرآنی جواب: روکنے والوں نے کہا: "ہم اپنے رب کے سامنے معذرت (جواب دہی) کے لیے اور اس امید پر نصیحت کرتے ہیں کہ شاید یہ ڈر جائیں۔" (الاعراف: 164)
⚡ عبرتناک انجام اور عذاب
جب گناہگار اپنے عمل سے باز نہ آئے، تو اللہ کا عذاب نازل ہوا:
نجات: اللہ تعالیٰ نے برائی سے روکنے والوں (گروہِ دوم) کو نجات عطا فرمائی۔
عذاب: نافرمانوں کا چہرہ اور جسم بندروں کی شکل میں مسخ (Transform) کر دیا گیا۔
قرآنی فرمان:
"پھر جب انہوں نے اس حکم کی سرکشی کی جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے ان سے کہا: ذلیل و خوار بندربن جاؤ!" (سورۃ الاعراف: 166)
تفسیر کے مطابق یہ مسخ شدہ لوگ تین دن تک زندہ رہے، روتے رہے اور پھر ہلاک ہو گئے۔
💡 اس واقعے سے حاصل ہونے والے 4 بڑے اسباق
شرعی حیلے بازی سے پرہیز: اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ گناہ کو نیا نام دے کر یا ظاہری حیلہ بنا کر جائز قرار دینا شدید ترین عذاب کا باعث بنتا ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر: معاشرے میں برائی ہوتے دیکھ کر خاموش رہنا بھی جرم ہے۔ گناہ سے روکنا ہر صاحبِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔
حق کا ساتھ: حق کی دعوت دیتے رہنا چاہیے، چاہے سامنے والے ہدایت قبول کریں یا نہ کریں۔
ظاہری اور باطنی تقویٰ: اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ حکمِ الٰہی کی روح پر عمل کرنے کا نام ہے۔
📌 قرآنی حوالہ جات:
سورۃ الاعراف (آیات 163 تا 166)
سورۃ البقرۃ (آیات 65 تا 66)
سورۃ النساء (آیت 47)

قصہ حضرت یونس علیہ السلام: اندھیروں سے نجات کا عظيم معجزہ 🐋✨​"لَّآ إِلٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظ...
07/08/2026

قصہ حضرت یونس علیہ السلام: اندھیروں سے نجات کا عظيم معجزہ 🐋✨
​"لَّآ إِلٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ"
(قرآن - سورۃ الانبیاء: 87)
​📜 نینوٰی (Nineveh) کا پیغام اور نبوت
​حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی (موجودہ عراق کے قریب ایک قديم شہر) کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ وہاں کے لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے طویل عرصے تک انہیں ہدایت کی دعوت دی، لیکن قوم نے مسلسل انکار کیا۔
​جب قوم کی ہٹ دھرمی حد سے بڑھ گئی، تو آپ علیہ السلام نے اللہ کے صریح حکمِ الٰہی کا انتظار کیے بغیر، شدید جلال میں آکر اس شہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور قوم کو عذاب کی خبر دے کر وہاں سے نکل گئے۔
​🌊 سمندر کا طوفان اور القرعہ اندازی (Parcham/Draw)
​حضرت یونس علیہ السلام سمندر کے کنارے پہنچے اور ایک کشتی (جہاز) میں سوار ہو گئے۔ سمندر کے درمیان پہنچتے ہی ایک خوفناک طوفان نے کشتی کو گھیر لیا۔ کشتی کے لوگوں نے سوچا کہ شاید اس پر کوئی ایسا غلام سوار ہے جو اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے۔
​اس دور کے اصول کے مطابق، بار بار قرعہ اندازی کی گئی اور تینوں بار حضرت یونس علیہ السلام کا نام ہی نکلا۔ آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، اور آپ خود سمندر میں کود گئے (یا ڈال دیے گئے)۔
​🐋 مچھلی کا پیٹ اور تین گھنے اندھیرے
​اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی مچھلی (الحوت) کو حکم دیا کہ وہ حضرت یونس علیہ السلام کو اپنے اندر نگل لے، لیکن اس کی ہڈی نہ توڑے اور نہ کوئی نقصان پہنچائے۔
​علماء اور مفسرین کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام تین اندھیروں میں محصور تھے:
​رات کا اندھیرا
​سمندر کی گہرائی کا اندھیرا
​مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا
​🤲 دعائے یونس اور نجات کا معجزہ
​اس بظاہر ناممکن اور خوفناک صورتحال میں حضرت یونس علیہ السلام نے مایوس ہونے کے بجائے اپنے رب کو پکارا اور وہ تاریخی کلمات ادا کیے جنہیں قرآن میں "آیتِ کریمہ" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے:
​"لَّآ إِلٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ"
(اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصوروار تھا!)
​اللہ تعالیٰ نے اس تسبیح کو قبول فرمایا اور قرآن میں ارادہ فرمایا:
"فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَنَجَّيْنَٰهُ مِنَ ٱلْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِى ٱلْمُؤْمِنِينَ"
(پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔ - سورۃ الانبیاء: 88)
​مچھلی نے آپ علیہ السلام کو ساحلِ سمندر پر اگل دیا۔ آپ کا جسم انتہائی نحیف اور نازک ہو چکا تھا، جس پر اللہ نے "کدو" (یقطین) کا درخت اگایا تاکہ آپ کو سایہ اور خوراک مل سکے۔
​📌 اس واقعے سے ہمارے لیے اہم اسباق:
​امید کی کرن: انسان چاہے زندگی کے کتنے ہی گہرے اور سخت اندھیروں (مشکلات، بیماری، پریشانی) میں کیوں نہ گِھر جائے، اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
​استغفار کی طاقت: اپنی غلطی کا اعتراف کرنا اور اللہ کے سامنے جھک جانا ہی نجات کی واحد چابی ہے۔
​آیتِ کریمہ کا ورد: کسی بھی غم اور مصیبت کے وقت "لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین" کی تسبیح انسان کو ہر قسم کی مشکل سے نکالنے کی ضمانت دیتی ہے۔
​📲 اگر آپ کو یہ معلومات پسند آئی ہوں تو اسے شیئر کر کے دوسروں تک پہنچائیں!

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا پہلا روبوٹ کس نے بنایا تھا؟ 🌐✨تاريخ میں کئی ایسی حیرت انگیز ایجادات گزر چکی ہیں جنہوں نے سائ...
01/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا پہلا روبوٹ کس نے بنایا تھا؟ 🌐✨
تاريخ میں کئی ایسی حیرت انگیز ایجادات گزر چکی ہیں جنہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔ لیکن کیا پہلا روبوٹ کسی جدید سائنسدان نے بنایا یا اس کے پیچھے قدیم دور کا کوئی راز ہے؟ 🤔💡
👇 کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے اور معلومات ضرور شیئر کریں! 💬👇

Blue Whale largest Animal Ever....🦈
23/07/2026

Blue Whale largest Animal Ever....🦈

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AHMAR TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category