23/08/2026
تین سال قید کے بعد PTI کی تحریک پھر زور پکڑ گئی
تین سال کا ہندسہ اس لیے پھر خبروں میں ہے کیونکہ 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری سے لے کر 5 اگست 2026 تک عمران خان مسلسل قید میں ہیں، اور PTI نے اس دن کو یوم سیاہ نہیں بلکہ یوم مزاحمت کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔
دی نیوز کے مطابق اپوزیشن نے اس روز ملک بھر میں ریلیوں کی کال دی تھی، جس میں بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی شریک ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو اڈیالہ جیل میں مشکلات کا سامنا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
اسی ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بیان آیا جس نے معاملے کو دوبارہ عالمی سطح پر اٹھا دیا۔ ایمنسٹی نے کہا ہے کہ تین سال سے منصفانہ ٹرائل سے محرومی، طویل تنہائی میں رکھنا، طبی سہولیات محدود کرنا تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے فیملی سے ملاقات نہیں ہوئی، بینائی متاثر ہو رہی ہے، اور دسمبر 2025 سے وکلاء تک کو باقاعدہ رسائی نہیں دی گئی۔ اسی لیے انہوں نے تنہائی کو غیر قانونی قرار دے کر فوری ملاقاتیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
قانونی پیچیدگی بھی وجہ ہے کہ رہائی نہیں ہو رہی۔ 2025 میں آفیشل سیکرٹس اور نکاح کیس میں بری ہونے کے باوجود وہ اب بھی کرپشن کے ایک کیس میں 14 سال اور توشہ خانہ کے دوسرے کیس میں 17 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ PTI ہر سالگرہ کو اسی پیچیدگی کو سیاسی بیانیہ بناتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اسی لیے 804 نمبر والی شرٹس، گاڑیاں اور Release Imran Khan کے بینرز پھر وائرل ہیں۔ یہ اب صرف قانونی کیس نہیں، ایک جذباتی علامت بن گیا ہے، جس سے خاص طور پر نوجوان کارکن دوبارہ متحرک نظر آ رہے ہیں۔