18/04/2026
لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں جہاں قانون کی حکمرانی اور تحفظ کا احساس ہونا چاہیے تھا، وہیں قانون کے رکھوالوں کے ظلم کا ایک اور بھیانک واقعہ سامنے آیا ہے۔
ایک معصوم بہن، جو گھریلو ملازمہ ہے، اس پر چوری کا الزام لگتا ہے، اور اس کا بھائی، جو محض بہن کا حال پوچھنے تھانے جاتا ہے، اسے پولیس نے نہ صرف حراست میں لیا بلکہ وحشیانہ ت ش د د کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک غریب خاندان پر ہونے والا ظلم ہے، بلکہ ہمارے پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
معاملہ تب شروع ہوا جب ڈیفنس اے تھانے کی حدود میں واقع ایک گھر میں کام کرنے والی 22 سالہ لڑکی پر مالکان نے چوری کا الزام لگایا۔ چوری کیا ہوئی، یہ تو تفتیش کا حصہ ہے، لیکن یہ بات صاف ہے کہ جیسے ہی یہ الزام لگا، پولیس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے لڑکی کو اٹھا لیا۔
جب لڑکی کا بھائی، جو اپنی بہن کے لیے پریشان تھا، اپنی بہن سے ملنے اور معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے تھانے پہنچا، تو اسے توقع تھی کہ پولیس اس کی بات سنے گی اور اسے بہن سے ملنے کی اجازت دے گی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اسے اپنی بہن کی فکر کرنے کی اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی؟ پولیس نے اسے دیکھتے ہی حراست میں لے لیا اور کسی بھی جرم یا الزام کے بغیر اسے ت ش د د کا نشانہ بنایا۔ کیا بہن سے ملنا کوئی جرم ہے؟ کیا غریب ہونا تشدد کا لائسنس ہے؟
اس ت ش د د کا ثبوت وہ تصاویر ہیں جو سامنے آئی ہیں۔ ان تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا کہ لڑکی کے بھائی کو باندھا گیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب میں قانون کی حکمرانی اور 'پنجاب ماڈل' کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہیں۔ کیا یہ 'پنجاب ماڈل' ہے جہاں غریبوں کو تھانوں میں بے دردی سے پیٹا جاتا ہے؟ کیا یہ 'پنجاب ماڈل' ہے جہاں خواتین کی
مریم نواز سے سوال کیا جانا چاہیے کہ ان کے دور حکومت میں پولیس کیوں اتنی بے لگام ہو گئی ہے؟ وہ کیوں غریبوں پر ظلم کر رہی ہے؟ کیا وہ ان غریبوں کے درد کو نہیں سمجھتیں؟ کیا وہ اس بربریت کو روکنے کے لیے کچھ کریں گی یا صرف بیانات دے کر خاموش ہو جائیں گی؟
یہ واقعہ صرف ایک نوجوان پر ہونے والا ت ش د د نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس غریب کی چیخ ہے جو اس نظام میں پسا ہوا ہے۔ یہ ہر اس ماں کی فریاد ہے جس کا بیٹا بے قصور تھانے میں پڑا ہے۔ یہ ہر اس باپ کا آنسو ہے جس کی بیٹی پر چوری کا جھوٹا الزام لگا ہے۔