08/07/2026
سادہ اور معصوم نہیں !!
یہ بین الاقوامی اسکیمرز اور بٹکوائن کی فرنٹ گرلز ہیں
ان کا کام فراڈ اور جنسی بزنس سے مالدار افراد
کا سرمایہ لوٹنا ہی ہوتا ہے۔
ایسے فراڈز کی ہر طرف بھرمار ہے
ہوا یہ ہے کہ پاکستانی بااثر لڑکے ان کے پاس اپنا پیسہ پھنسا بیٹھے اور اب واپس مانگ رہے تھے۔ اسی سلسلہ میں یہ پاکستان آئیں۔ دباؤ اور تفریح ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پاکستانی بااثر پارٹی اپنے ڈالرز کی واپسی کے علاؤہ کسی بات پر "راضی" نہیں ہو رہی ہے تو جنسی تشدد کا الزام لگا کر انہوں نے فی الحال خود کو بچا لیا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ڈار فیملی کے لڑکوں کی غلطی سے یہ کیس ملکی سطح پر سامنے آیا ہے۔ حالانکہ پاکستان میں ہزاروں افراد انہی جیسی گوری لڑکیوں اور لڑکوں سے ڈسے جا چکے ہیں اور اپنی اور والدین کی اربوں روپے کی جمع پونجی لٹا چکے ھیں۔ اب چونکہ یہ خبر حکومتی افراد کے ساتھ منسلک ہے تو حکومت مخالف افراد بھی اپنا کام کر رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ان لڑکیوں پر آزادانہ تحقیقات کے بعد فراڈ کا مقدمہ بنانا چاہیے اور ان کے گینگ لیڈرز سے رقم واپس منگوانی چاہیے۔ ایسے فراڈ کے دیگر واقعات میں لٹنے والے ہزاروں پاکستانی شہریوں کی بھی دادرسی ہونی چاہیے۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ہجوم ایسا ہے جو ہر مسئلے میں پاکستان کی توہین اور تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
اگر ان لڑکیوں کی جگہ کوئی کالے افریقی ہوتے تو خبر کچھ یوں ہوتی کہ فراڈ اسکیمرز کا گروہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن درحقیقت "چٹی چمڑی" کو دیکھ کر ہمارا نظام انصاف اپنی دوسری کتاب کھول لیتا ہے جو کہ کھل چکی ہے۔
لہٰذا ان لڑکیوں کو دودھ کی دھلی مت سمجھیں۔ یہ کئی بار گنگا اشنان کر چکی ہیں۔ یہ ان کے بزنس کا ایک طریقہ ہے۔ مختصر یہ کہ ہمیں کسی مسئلہ میں تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے یا تعریف کے ڈونگرے برساتے ہوئے جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ شکریہ
یہ میسیج ایک دوست کا مؤقف ہے
اختلاف کی بیشک گنجائش ہے لیکن پڑھنے میں کیا حرج ہے
پوسٹ پوری پڑھنے کا شکریہ