Mansoor Ali Malangi

Mansoor Ali Malangi Mansoor Ali Malangi — Preserving the legacy of a legendary artist whose voice and performances continue to inspire generations.

This page has been dedicated to honoring and sharing his artistic journey. Created: 23 January 2011
Location: BZU Multan Mansoor Ali Malangi belongs to a village named Garh Maharaja , near Darbar Sultan-Baho, in District Jhang.He is a nice and always smiling person and joking with others. He does not belongs to a big family but he has a big family in size..he has 3-4 marriages and rouund about 25-childrens(boys and girls).I know him personally

21/07/2026
19/07/2026

خوبصورت شعر

18/07/2026

کافی عرصے سے مجھے اس کلپ کی تلاش تھی۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی بلاشبہ ایک مایۂ ناز فنکار ہیں۔ اگرچہ میں فن کی قدر کرتے ہوئے کسی قسم کا فرق نہیں کرتا، لیکن جہاں موسیقی کی بات آئے وہاں استاد منصور علی ملنگی مرحوم کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔

ریڈیو پاکستان کے ایک پروگرام میں حاجی صاحب بتا رہے تھے کہ میں نے راگ بھیرویں کو اس قدر لگن اور عقیدت سے گایا کہ ریڈیو پاکستان لاہور کے ڈائریکٹر نے یہاں تک کہہ دیا: "یہ اب آپ کے نام سے پہچانی جائے گی۔"

جب ریمبو نے عطاء اللہ خان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے نہایت احترام اور کھلے دل سے یہ تسلیم کیا کہ: "منصور صاحب ہم سب سے بڑے آرٹسٹ اور موسیقار ہیں۔"

آخر میں اقبال سوکڑی مرحوم کا یہ خوبصورت شعر

مرن دے بعد سدھ پئی اے، اساں بلیار گونگے ہوئے
کتابیں وچ پڑھیندے ہیں، حسابیں وچ لکھیندے ہیں۔



17/07/2026

وسیب دے چار شاکر ہن اناں دا احوال منصور ملنگی دی زبانی۔۔
شاکر مولانا آف ملتان؟ کوئی دوست معلومات رکھتا ہے تو شیئر کرے۔

17/07/2026

شاکر مہروی مرحوم — "زندگی ہے سفر مختصر" کے خالق

سرائیکی وسیب کی یہ خوش بختی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہر دور میں عہد ساز اور نابغۂ روزگار شخصیات سے نوازا۔ اس خطے کو بالعموم اور کوٹ ادو کو بالخصوص ایسی عظیم ہستیوں کی دھرتی بنایا، جنہوں نے علم، ادب، فن اور ثقافت کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ مولانا عبدالعزیز پرہاڑویؒ، دوست محمد قریشیؒ، استاد پٹھانے خان، بشیر احمد کامریڈ، نواز بھٹہ صاحب، قاسم راز اور انہی درخشاں ستاروں میں ایک نام محمد رمضان آرائیں کا بھی ہے، جو اپنے ادبی نام شاکر مہروی سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔

شاکر مہروی 19 جنوری 1966ء کو کوٹ ادو کے نواحی قصبے سنانواں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک درویش صفت، صاحبِ علم اور صاحبِ فکر انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی عقل و دانش اور تخلیقی صلاحیت عطا کی کہ وہ کوٹ ادو کی شناخت بن گئے۔ لفظوں سے کھیلنا، سرائیکی زبان کے حسن کو اجاگر کرنا اور اس کے الفاظ کی اصل معنویت سے روشناس کرانا ان کا خاص وصف تھا۔

یہ سب کچھ اس لیے بھی تھا کہ انہیں فریدِ ثانی، سرکار احمد خان طارقؒ جیسی عظیم شخصیت کی صحبت نصیب ہوئی۔ ان کے کلام میں ہر جگہ اس تربیت کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ وہ واقعی طارق سئیں کے ایک باادب اور وفادار شاگرد بلکہ روحانی فرزند تھے۔

مجھے آج بھی 1998ء کا وہ مشاعرہ یاد ہے جو گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ ادو کے ہاکی گراؤنڈ میں منعقد ہوا تھا۔ شاکر مہروی کافی دیر تک احمد خان طارقؒ کے استقبال میں ان کے قدموں میں بیٹھے رہے۔ یہ منظر ان کی عاجزی، ادب اور اپنے استاد سے بے پناہ محبت کی روشن مثال تھا۔

شاکر مہروی کی شخصیت صرف ایک شاعر تک محدود نہ تھی۔ ان کا اندازِ بیان، محفل کو وقار کے ساتھ سنبھالنے کا سلیقہ اور حاضرین کی توجہ کو مقناطیس کی مانند اپنی جانب کھینچ لینے کی صلاحیت بے مثال تھی۔ میں نے آج تک ان جیسا باوقار اور بااثر اسٹیج سیکریٹری نہیں دیکھا۔

ان کی مشہور غزل "زندگی ہے سفر مختصر مختصر" کو معروف گلوکار محمد نواز بھٹہ صاحب نے ریڈیو پاکستان سے گایا اور اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

حسن چوہان کی شادی کے موقع پر جب منصور علی ملنگی مرحوم کوٹ ادو تشریف لائے تو اس تقریب کے اسٹیج کی ذمہ داری بھی شاکر مہروی کے سپرد تھی۔ منصور علی ملنگی نے ان کے دوہڑے بھی گائے اور ان کی یہ مشہور غزل بھی پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔

پھر وقت گزرتا گیا۔ میں یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا کہ 26 فروری 2010ء کو یہ افسوسناک خبر ملی کہ شاکر مہروی حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ یہ خبر میرے لیے ہی نہیں بلکہ پورے سرائیکی وسیب کے لیے ایک گہرے صدمے سے کم نہ تھی۔ ترقی پسند، باوقار اور باصلاحیت لوگوں کی وفات صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کا خسارہ ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ شاکر مہروی مرحوم کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور انہیں اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

آخر میں انہی کے لیے یہ مصرع دل سے نکلتا ہے:

ہِک شاکر نامی غم ہاسے، او وی کہیں غستان دے کم آ گئے۔



🎉 Facebook recognised me for starting engaging conversations and producing inspiring content among my audience and peers...
15/07/2026

🎉 Facebook recognised me for starting engaging conversations and producing inspiring content among my audience and peers!

Address

Defence Housing Authority
Kot Addu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mansoor Ali Malangi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share