14/05/2026
مولوی کی بیٹیاں 😢💔
بیٹی نے معصومیت سے کہا:
“بابا… عید میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، ہم نے ابھی تک کچھ بھی نہیں خریدا…”
مولوی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
“میرا بچہ، ابھی بہت دن ہیں… چاند رات سے ایک دن پہلے سب لے آئیں گے…” ❤️
مگر یہ صرف ایک باپ کی جھوٹی تسلی تھی…
وہ باپ جو اپنی بیٹی کی خواہش پوری نہ کر سکنے کی شرمندگی چھپا رہا تھا… 😔
اذان ہوئی تو مولوی صاحب فوراً مسجد کی طرف چل دیے…
کیونکہ کبھی کبھی انسان عبادت میں سکون نہیں، اپنے ٹوٹے دل کو چھپانے جاتا ہے…💔
عید سے ایک دن پہلے…
ہر دروازہ بند ہوچکا تھا…
نہ قرض لینے کی ہمت…
نہ کسی سے مانگنے کی طاقت…
اور نہ کسی کو خود خیال آیا کہ مسجد میں نماز پڑھانے والے امام کے بچوں کے بھی دل ہوتے ہیں… 😢
وہی مولوی صاحب…
جو لوگوں کو صبر کے درس دیتے تھے…
آج اپنی بیٹیوں کو دلائل دے کر سمجھانے کی تیاری کررہے تھے کہ:
“بیٹا… بڑی عید پر نئے کپڑے نہیں پہنے جاتے… یہ تو قربانی کی عید ہے…”
مگر دل میں خوف تھا…
کہ بیٹی بھی تو مولوی کی ہے…
کہیں یہ نہ کہہ دے:
“بابا… قربانی بھی تو آپ نہیں کررہے…” 💔
جب گھر پہنچے تو بیٹیاں ہاتھوں میں پرچیاں لیے بیٹھی تھیں…
ان آنکھوں میں امید تھی…
کہ آج بابا وعدہ پورا کریں گے… 😭
ماں سب سمجھ چکی تھی…
وہ فوراً پیاز لے آئی…
تاکہ آنسوؤں کو بہانے کا بہانہ مل جائے… 🥺
کیونکہ ماں کبھی اپنے بچوں کے سامنے نہیں ٹوٹتی…
وہ چپکے سے روتی ہے… 💔
مولوی صاحب خاموش بیٹھ گئے…
چھوٹی بیٹی اپنی پرچی دینے لگی…
مگر بڑی بہن نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا…
اور دونوں پرچیاں چپکے سے چٹائی کے نیچے چھپا دیں… 😭
یہ منظر دیکھ کر بھی مولوی صاحب ایسے بیٹھے رہے جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو…
پھر بڑی بیٹی بولی:
“بابا جان… ہم نے کل نئے کپڑے نہیں لینے…
بڑی عید تو قربانی کی عید ہوتی ہے نا…
آپ تو سارا دن قربانی میں مصروف ہوں گے…
ہم چھوٹی عید والے کپڑے ہی پہن لیں گے…” 🥹
یہ الفاظ نہیں تھے…
ایک معصوم بیٹی کی خواہشوں کا جنازہ تھا… 💔
مولوی صاحب نے پہلی بار بیٹی کی طرف دیکھا…
ایک لمحے کو فخر ہوا…
کہ میری بیٹی کتنی سمجھدار ہے…
لیکن اگلے ہی لمحے…
یہ احساس انہیں اندر سے توڑ گیا…
کہ میری بیٹی وقت سے پہلے بڑی کیوں ہوگئی…؟ 😭
وہ فوراً کمرے میں گئے…
بستر میں منہ چھپا لیا…
اور برسوں کا مضبوط آدمی بچوں کی طرح رو پڑا… 💔
صبح ہوئی…
چھوٹی بیٹی چند پرانے نوٹ لے کر آئی اور بولی:
“بابا… یہ پیسے بھائی کے کپڑوں کے لیے رکھ لیں…
وہ چھوٹا ہے نا…
گلی میں سب کے ساتھ کھیلے گا…” 😭
یہ سن کر مولوی صاحب کا دل پھر ٹوٹ گیا…
مگر آج انہیں سمجھ آگیا…
کہ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی…
یہ بچوں کی خواہشیں بھی مار دیتی ہے… 💔
خدارا…
اپنے محلے کے امام صاحب، مدرسے کے استاد، مسجد کے مؤذن اور ان کے بچوں کا بھی خیال رکھا کریں… 🙏
وہ بھی انسان ہیں…
ان کے بچے بھی عید کا انتظار کرتے ہیں…
انہیں بھی نئے کپڑوں، جوتوں اور خوشیوں کا حق ہے… 😢
ہم ہزاروں روپے برانڈڈ کپڑوں پر خرچ کردیتے ہیں…
مگر کسی غریب کے بچوں کی عید بنانے سے پہلے سو بہانے سوچتے ہیں… ☹️
یاد رکھیں…
کسی کے بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی عبادت ہے… ❤️