Talash

Talash "Talash-e-Hidayat woh safar hai jahan dil Allah ke Noor ko dhoondta hai,
aur rooh Quran ki roshni mein apni manzil paati hai.

25/08/2026

*چاند کے دو ٹکڑے*

ان کا نام حبیب بن مالک تھا، اور وہ یمن کے بہت بڑے سردار تھے، ابوجہل نے پیغام بھیجا کہ حبیب محمدﷺ نے فلاں تاریخ کو چاند کے ): دو ٹکڑے کرنے ہیں تم یہاں آ جاؤ، اور چاند کو دیکھنا کہ، وہ دو ٹوٹے ہوتا ہے یا نہیں۔ چنانچہ حبیب بن مالک نے رخت سفر باندھا اور کوہ ابو قیس پر پہنچ گیے، جہاں کفار نے مطالبہ کر دیا تھا کہ آسمانی معجزہ یہاں دکھاؤ یا چاند کو دو ٹکڑے کرو ...!
میرے *: آقا حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور چاند دو ٹکڑے کر دیا، اور واپس تشریف لے گئے- خصایص الکبری میں موجود ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک چاند دو ٹکڑے رہا ...!
حیبیب بن مالک یہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لے آئے اور بولے :
" یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے ...؟"
آپ نے فرمایا :
" تیری ایک ہی بیٹی ہے، جسکا نام سطیحہ ہے، وہ اندھی لولی لنگڑی بہری اور گونگی ہے- تجھے اسکا دکھ اندر سے کھائے جا رہا ہے- جاؤ اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ہے ... ! "
حبیب یہ سنتے ہی دوڑ کر اپنے گھر آئے تو انکی بیٹی سطیحہ نے کلمہ پڑھتے دروازہ کھولا ، حبیب نے پوچھا کہ :
" سطیحہ تجھے یہ کلمہ کس نے سکھایا ...؟ "
تو اس نے حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سارا حلیہ بتایا اور بولی :
" اے ابا وہ آئے، مجھے زیارت بخشی اور دعا فرمائی، اور مجھے کلمہ طیبہ بھی پڑھا گئے ...! "
حبیب واپس گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے، اور نہ صرف مسلمان ہوئے، بلکہ اسلام کی خدمت میں بھی پیش پیش رہے ...!

(بحوالہ خصایص الکبری ، بحوالہ شرح قصیدہ ،بحوالہ معجزات مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 💕

21/08/2026

*حضرت موسیٰ ؑ *

کے حوالے سے ایک بات کہی جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑکے وہ جلیل القدر پیغمبر تھے جنہوں نے خود اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کیا تھا۔ایک مرتبہ وہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کوہ طور پہاڑ(مصر) پر پہنچے تو کوہ طور سے اللہ نے غیب کی آواز میں انہیں مخاطب کیا۔ موسیٰ ؑتم پہلے کوہ طور پر آتے تھے تو تمہاری ماں تمہاری سلامتی کی دعا کیا کرتی تھیں اب ذرا سنبھل کر رہو اب تمہاری خیر کی دعا کرنے والے لب خاموش ہو گئے ہیں۔ ایک اور واقعہ بھی روایت کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ اے باری تعالیٰ جنت میں میرا پڑوسی کون ہو گا تو جواب ملا کہ وہ فلاں قصاب ہے، فلاں بستی میں رہتا ہے چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ اس قصاب کے گھر گئے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ وہ کون سا عمل ہے جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اس قصاب کو یہ مقام عطا کیا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑکا سوال سن کر وہ قصاب اپنے گھر لے آیا۔ دیکھا کہ اس نے اپنی بوڑھی اور کمزور ماں کو سہارا دیا اور اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا تب اس کی ماں نے اسے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ جنت میں تجھے موسیٰ ؑ کا پڑوسی بنائے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو معلوم ہو گیا کہ اس قصاب کو یہ بلند مرتبہ اس کی ماں کی دعاؤں کے سبب ملے گا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں کہ جن کی مائیں زندہ ہیں۔قدر کر لو ورنہ روتے پھیروگے۔

20/08/2026

استغفار کی برکت کا ایک عجیب واقعہ __!!

حضرت امام احمد بن حنبل رحمة الله علیه ایک بار سفر میں تھے ، عراق کے کسی دور دراز گاؤں میں رات آ پڑی نہ کوئی تعارف تھا اور نہ کوئی ٹھکانہ... ارادہ فرمایا کہ مسجد میں رات گزاریں گے ، مسجد گئے تو چوکیدار نے داخل ہونے سے منع کر دیا ، اسے بہت سمجھایا مگر وہ ضد کا پکا کسی طرح نہ مانا ۔ امام صاحب رحمة الله علیه نے فرمایا میں پھر اسی جگہ سو جاتا ہوں ، مسجد کے باہر فرش اُسی پر لیٹ گئے ، مگر چوکیدار پیچھے پڑا تھا، وہ آپ کی پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر مسجد سے دور کررہا تھا ، ایک نانبائی (روٹی پکانے، بیچنے والے) نے یہ منظر دیکھا تو امام صاحب رحمة الله علیه سے گزارش کر کے اُن کو اپنے گھر رات گزارنے کے لیے لے گیا ، اور آپ کا بہت احترام کیا ، پھر وہ آٹا گوندھنے باہر نکلا...امام صاحب رحمة الله علیه نے دیکھا اور سنا کہ وہ چلتے، پھرتے، آٹا گوندھتے مسلسل "استغفار" کر رہا ہے ۔ صبح اُس سے پوچھا تو کہنے لگا جی! یہ میرا مستقل معمول ہے....فرمایا اس کا کوئی ظاہری فائدہ اور ثمرہ بھی دیکھا ؟ کہنے لگا جی ہاں! جو دعاء بھی کرتا ہوں قبول ہوجاتی ہے ۔ اب تک صرف ایک دعاء قبول نہیں ہوئی ۔ پوچھا کونسی؟ کہنے لگا امام احمد بن حنبل رحمة الله علیه کی زیادت کی دعاء فرمایا: میں احمد بن حنبل ہوں ، تمہاری یہ دعاء بھی قبول ہوئی ، اور مجھے گھسیٹ کر تمہارے پاس لایا گیا۔

19/08/2026

قرض کے بارے فرمان رب العالمین

البقرة 2 آیت: 282

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ وَ لۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪ وَ لَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ وَ لۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ وَ لَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ وَ لَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ وَ لَا تَسۡئَمُوۡۤا اَنۡ تَکۡتُبُوۡہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ اَقۡوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمۡ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَکۡتُبُوۡہَا ؕ وَ اَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ ۪ وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَہِیۡدٌ ۬ ؕ وَ اِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۲﴾

اے ایمان والو !جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقررہ پر قرض کا معاملہ کرو ۔ تو اسے لکھ لیا کرو اور لکھنے والے کو چاہئیے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے ، کاتب کو چاہیئے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالٰی نے اسے سکھایا ہے پس اسے بھی لکھ دینا چاہیے اور جس کے ذمّہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالٰی سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوادے اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو ۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو ، اللہ تعالٰی کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی ہے شک وشبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں ۔ خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو اور ( یاد رکھو کہ ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور اگر تم یہ کرو تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے ، اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالٰی ہرچیز کو خوب جاننے والا ہے ۔

O you who have believed, when you contract a debt for a specified term, write it down. And let a scribe write [it] between you in justice. Let no scribe refuse to write as Allah has taught him. So let him write and let the one who has the obligation dictate. And let him fear Allah , his Lord, and not leave anything out of it. But if the one who has the obligation is of limited understanding or weak or unable to dictate himself, then let his guardian dictate in justice. And bring to witness two witnesses from among your men. And if there are not two men [available], then a man and two women from those whom you accept as witnesses - so that if one of the women errs, then the other can remind her. And let not the witnesses refuse when they are called upon. And do not be [too] weary to write it, whether it is small or large, for its [specified] term. That is more just in the sight of Allah and stronger as evidence and more likely to prevent doubt between you, except when it is an immediate transaction which you conduct among yourselves. For [then] there is no blame upon you if you do not write it. And take witnesses when you conclude a contract. Let no scribe be harmed or any witness. For if you do so, indeed, it is [grave] disobedience in you. And fear Allah . And Allah teaches you. And Allah is Knowing of all things.
All Surah: 2 Verse: 282

19/08/2026

*حضرت رابعہ بصری*

ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ، ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺑﻼ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ:- ”ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﯿﻠﺌﮯﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯﮐﻮ ہے۔۔؟"
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ہے، ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺳﮯﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔۔۔؟ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﯽ ﺁﺋﮯﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯﺁئے۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮨﯽ ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﻧﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯼ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﺱ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﻮ ﺩﮮﺩﻭ ﺟﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﺍ ہے، ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮگئے۔
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ۔ ”ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔"۔
”ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ہیں۔۔۔؟“ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺧﺎﺩﻣﮧ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ہے۔ “ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺍﻃﻼﻉ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ہے۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺟﻮﺍﺑﺎً ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ”ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻﻧﮯﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ہے۔ ﺍﺱ ﺳﮯﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯽ۔“
ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﻣﺴﺮﺕ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ”ﮨﺎﮞ ! ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ہے۔ ﺍﺳﮯﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ۔“
ﺧﺎﺩﻣﮧ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯ تو ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻧﮯﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮯﮐﺮ ﺁئے۔ ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺁﭖ ﻧﮯﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺴﺮﮮﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻻﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﻟﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺭﺍﺯ ہے۔؟
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﻧﮯﺩﺭﻭﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺩﺱ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺯﺍﻕ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺩﻭ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮐﺴﯽ ﺗﺮﺩﺩ ﮐﮯﺑﻐﯿﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﯿﻦ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺭﺯﺍﻗﯽ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺩﺱ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺳﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺍﺑﻌﮧ ﺑﺼﺮﯼ ﮐﯽ ﺻﺒﺮﻭﻗﻨﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔۔

18/08/2026

*چنگیز خان*

یہ تیرہویں صدی تھی شورشوں کا دور تھا ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی تاریخ بتاتی ہے چنگیز خان کھوپڑیوں کے مینار بناتا ہوا1220ء میں بخارہ پہنچا تو وہ اس مینار کے سامنے رک گیا' مینار 46 میٹر اونچا تھا' چنگیز خان نے مینار کی آخری حد دیکھنے کے لیے سر اٹھایا تو اس کی پگڑی گر گئی' وہ پگڑی اٹھانے کے لیے بے اختیار جھکا اور اسے اپنا وعدہ یاد آگیا۔۔۔۔☆

اس نے خود سے وعدہ کیا تھا وہ زندگی میں کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے گا لیکن اینٹوں کے ایک بے جان مینار نے دنیا کے سب سے بڑے فاتح کو اپنے قدموں میں جھکا دیا' وہ شرمندہ ہو گیا پگڑی اٹھائی' سر پر رکھی اور حکم دیا اس پورے شہر میں اس مینار کے علاوہ ساری عمارتیں گرا دی جائیں اور سارے سر اتار دیے جائیں' چنگیزی فوج آگے بڑھی' پورے بخارہ کے سر اتار کر کلاں مسجد میں جمع کیے' سروں کا مینار بنایا اور مینار پر انسانی چربی کا لیپ کر کے آگ لگا دی' شہر کی تمام عمارتیں بھی گرا دی گئیں۔۔۔۔☆

صرف کلاں مینار' بخارہ کی قدیم مسجد اور اسماعیل سمانی کا مقبرہ بچ گیا' مینار پگڑی کی مہربانی سے بچا جب کہ لوگوں نے مسجد اور اسماعیل سمانی کے مقبرے کو ریت سے ڈھانپ دیا تھا' یہ دونوں عمارتیں ریت کا ٹیلہ بن گئیں اور دونوں بچ گئیں' فارسی میں کلاں بڑے کو کہتے ہیں اورکلا پگڑی کو لہٰذا یہ مینار بلندی کی وجہ سے کلاں کہلاتا ہے یا پھر چنگیز خان کی پگڑی کی وجہ سے کلا مینار یہ واضح نہیں تاہم یہ طے ہے ''وہ عمارت اتنی بلند ہے کہ سر سے ٹوپی گر جاتی ہے'' اس محاورے نے اسی مینار کے سائے میں جنم لیا تھا۔۔۔۔☆
آج بخارہ شہر پھر سے آباد ہو چکا ہے مگر چنگیز خان کی قبر تک معلوم نہیں سچ کہا تھا کسی نے ظلم جب مٹتا ہے تو ظالم کا بھی نشان نہیں ملتا

17/08/2026

*Hadith of the day*

*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*
جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے تو اس کے گناہ جو اس مجلس میں ہوئے تھے بخش دیئے جاتے ہیں
*سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ*
پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں

*(سنن ترمذی #3433)*

16/08/2026

البقرة 2 آیت: 281

وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِیۡہِ اِلَی اللّٰہِ ٭۟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۱﴾٪ ⁶

اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالٰی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔

And fear a Day when you will be returned to Allah . Then every soul will be compensated for what it earned, and they will not be treated unjustly.
All Surah: 2 Verse: 281

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talash posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share