08/05/2026
جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانا اسلام میں بڑا گناہ ہے۔ قرآن ہمیں واضح ہدایت دیتا ہے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے۔ سورۃ الحجرات (49:6) میں ارشاد ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا…”
ترجمہ: “اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو…”
اسی طرح سورۃ النور (24:15) میں فرمایا:
“إِذْ تَلَقَّوْنَهُۥ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُۥ هَيِّنًۭا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٌ”
ترجمہ: “جب تم اپنی زبانوں سے اسے نقل کرتے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہتے تھے جس کا تمہیں علم نہ تھا، اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑا (گناہ) تھا۔”
لہٰذا مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر خبر کی تحقیق کرے، سچائی کو اپنائے اور جھوٹی افواہوں کے پھیلاؤ سے بچے