19/05/2026
“وہ صرف ماں بننے کی خوشی منا رہی تھی 😨😲… مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اُس کی سب سے قریبی اپنی ہی اس خوشی سے جل رہی ہے!”
شادی کے کئی سال بعد جب اُس عورت کے ہاتھ میں پریگنینسی ٹیسٹ کی دو لکیریں آئیں تو اُس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔
یہ صرف ایک خوشخبری نہیں تھی… یہ اُس کی برسوں کی دعا، صبر اور ٹوٹتی امیدوں کا جواب تھا۔
گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔ شوہر ہر وقت اُس کا خیال رکھتا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنسانے کی کوشش کرتا۔
مگر ہر خوشی سب کو خوش نہیں کرتی…
خاندان میں ایک ایسی عورت بھی تھی جو ہر بار مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی:
“اچھا ہے… اللہ خیر کرے…”
مگر اُس کی آنکھوں میں عجیب سی بےچینی تھی۔
شروع میں کسی نے دھیان نہیں دیا۔
لیکن آہستہ آہستہ عجیب باتیں ہونے لگیں۔
جب بھی وہ حاملہ عورت خوشی سے کوئی چیز خریدتی، کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔
کبھی اچانک طبیعت خراب، کبھی رپورٹ میں پریشانی، کبھی بے وجہ ڈر۔
ایک دن اُس عورت نے خوشی خوشی بچے کے کپڑے خرید کر دکھائے تو سامنے والی نے مسکرا کر کہا:
“اتنی جلدی خوش نہ ہو… آج کل کچھ پتہ نہیں ہوتا…”
یہ الفاظ سن کر اُس کا دل جیسے بیٹھ سا گیا۔
رات کو وہ بہت روئی۔
شوہر نے پوچھا:
“کیا ہوا؟”
وہ بس اتنا بولی:
“پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کچھ لوگ میری خوشی دیکھ نہیں پا رہے…”
شوہر خاموش رہا مگر اُس نے محسوس کیا کہ واقعی کچھ بدل گیا ہے۔
وقت گزرتا گیا…
ساتواں مہینہ آیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تھوڑا خیال زیادہ رکھنا ہوگا۔
وہ عورت پہلے ہی ڈری ہوئی تھی، مگر اُس نے دعا نہیں چھوڑی۔
ایک رات تہجد میں اُس نے روتے ہوئے بس ایک دعا مانگی:
“یا اللہ! اگر میری خوشی کسی کی نظر یا حسد سے گھری ہوئی ہے تو تُو خود حفاظت فرما…”
اگلے چند ہفتوں میں جیسے حالات بدلنے لگے۔
رپورٹس بہتر آنے لگیں، طبیعت سنبھل گئی، دل کا خوف کم ہونے لگا۔
پھر وہ دن آیا…
ہسپتال کے کمرے میں ایک ننھی سی آواز گونجی، اور اُس عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر بچہ اُس کی گود میں رکھا۔
سب مبارک دینے آئے…
وہی عورت بھی آئی جو ہر خوشی پر عجیب جملے کہتی تھی۔
مگر اس بار حاملہ رہنے والی عورت صرف مسکرائی اور دل میں ایک بات سمجھی:
“ہر کسی کو راضی کیا جا سکتا ہے… مگر حاسد کو نہیں، کیونکہ اسے تمہاری خوشی سے نہیں، تمہیں ملی نعمت سے مسئلہ ہوتا ہے۔”
پھر وہ دن آیا…
ہسپتال کے کمرے میں اچانک ننھے بچے کے رونے کی آواز گونجی، اور اُس عورت کی دنیا جیسے ایک لمحے میں بدل گئی۔
وہ رو رہی تھی… مگر اس بار درد سے نہیں، خوشی سے۔
شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے بچے کو گود میں لیا اور دھیمی آواز میں کہا:
“دیکھو… ہماری دعائیں آخرکار ہار نہیں مانیں…”
کچھ دن بعد جب وہ پہلی بار بچے کو لے کر گھر آئی تو سب مبارک دینے آ رہے تھے۔
ہنسی، تصویریں، دعائیں… ہر طرف خوشی تھی۔
مگر اچانک دروازے پر وہی عورت کھڑی تھی…
چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں عجیب سی خاموشی۔
وہ آہستہ سے بچے کے قریب آئی، چند لمحے اسے دیکھتی رہی اور بولی:
“قسمت والی ہو… ہر کسی کو اتنی خوشی نہیں ملتی…”
یہ جملہ عجیب تھا… جیسے مبارکباد کم، دل کی چبھن زیادہ ہو۔
رات کو سب کے جانے کے بعد اُس عورت نے بچے کو سینے سے لگایا تو اچانک اُس کی نظر ایک پرانی چیز پر پڑی…
وہ چھوٹا سا بیبی سوٹ… جو اُس نے پہلی بار امید میں خریدا تھا، پھر کئی بار روتے ہوئے الماری میں چھپا دیا تھا۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اچانک اُسے یاد آیا…
وہی لوگ جو کہتے تھے:
“اتنی امید مت رکھو…”
“پتہ نہیں یہ خوشی پوری بھی ہوگی یا نہیں…”
“زیادہ خواب نہ دیکھو…”
آج وہی لوگ تصویر لینے کے لیے سب سے آگے کھڑے تھے۔
وہ خاموشی سے مسکرائی…
بچے کے ماتھے کو چوما اور دل میں ایک بات ہمیشہ کے لیے بٹھا لی:
“دعا مانگنے والے کبھی ہارتے نہیں… اور حاسد کبھی خوش نہیں ہوتے۔ کیونکہ انہیں تمہاری محنت، صبر یا آنسو نہیں دکھتے… صرف تمہاری نعمت دکھتی ہے۔”
اور اُس رات اُس نے پہلی بار سکون سے سوتے ہوئے اپنے بچے کو دیکھا…
کیونکہ اب اُسے ڈر نہیں تھا…
کچھ خوشیاں اللہ خود اپنی حفاظت میں رکھ لیتا ہے۔ 🫀✨
کیا آپ بھی مانتے ہیں کہ بعض لوگ دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر پاتے؟ 💭🫀