کام والی ماسی معصومہ

کام والی ماسی معصومہ 📲 Contact / WhatsApp: 03067333767

“وہ صرف ماں بننے کی خوشی منا رہی تھی 😨😲… مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اُس کی سب سے قریبی اپنی ہی اس خوشی سے جل رہی ہے!”شادی ...
19/05/2026

“وہ صرف ماں بننے کی خوشی منا رہی تھی 😨😲… مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اُس کی سب سے قریبی اپنی ہی اس خوشی سے جل رہی ہے!”
شادی کے کئی سال بعد جب اُس عورت کے ہاتھ میں پریگنینسی ٹیسٹ کی دو لکیریں آئیں تو اُس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔
یہ صرف ایک خوشخبری نہیں تھی… یہ اُس کی برسوں کی دعا، صبر اور ٹوٹتی امیدوں کا جواب تھا۔
گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔ شوہر ہر وقت اُس کا خیال رکھتا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنسانے کی کوشش کرتا۔
مگر ہر خوشی سب کو خوش نہیں کرتی…
خاندان میں ایک ایسی عورت بھی تھی جو ہر بار مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی:
“اچھا ہے… اللہ خیر کرے…”
مگر اُس کی آنکھوں میں عجیب سی بےچینی تھی۔
شروع میں کسی نے دھیان نہیں دیا۔
لیکن آہستہ آہستہ عجیب باتیں ہونے لگیں۔
جب بھی وہ حاملہ عورت خوشی سے کوئی چیز خریدتی، کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔
کبھی اچانک طبیعت خراب، کبھی رپورٹ میں پریشانی، کبھی بے وجہ ڈر۔
ایک دن اُس عورت نے خوشی خوشی بچے کے کپڑے خرید کر دکھائے تو سامنے والی نے مسکرا کر کہا:
“اتنی جلدی خوش نہ ہو… آج کل کچھ پتہ نہیں ہوتا…”
یہ الفاظ سن کر اُس کا دل جیسے بیٹھ سا گیا۔
رات کو وہ بہت روئی۔
شوہر نے پوچھا:
“کیا ہوا؟”
وہ بس اتنا بولی:
“پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کچھ لوگ میری خوشی دیکھ نہیں پا رہے…”
شوہر خاموش رہا مگر اُس نے محسوس کیا کہ واقعی کچھ بدل گیا ہے۔
وقت گزرتا گیا…
ساتواں مہینہ آیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تھوڑا خیال زیادہ رکھنا ہوگا۔
وہ عورت پہلے ہی ڈری ہوئی تھی، مگر اُس نے دعا نہیں چھوڑی۔
ایک رات تہجد میں اُس نے روتے ہوئے بس ایک دعا مانگی:
“یا اللہ! اگر میری خوشی کسی کی نظر یا حسد سے گھری ہوئی ہے تو تُو خود حفاظت فرما…”
اگلے چند ہفتوں میں جیسے حالات بدلنے لگے۔
رپورٹس بہتر آنے لگیں، طبیعت سنبھل گئی، دل کا خوف کم ہونے لگا۔
پھر وہ دن آیا…
ہسپتال کے کمرے میں ایک ننھی سی آواز گونجی، اور اُس عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر بچہ اُس کی گود میں رکھا۔
سب مبارک دینے آئے…
وہی عورت بھی آئی جو ہر خوشی پر عجیب جملے کہتی تھی۔
مگر اس بار حاملہ رہنے والی عورت صرف مسکرائی اور دل میں ایک بات سمجھی:
“ہر کسی کو راضی کیا جا سکتا ہے… مگر حاسد کو نہیں، کیونکہ اسے تمہاری خوشی سے نہیں، تمہیں ملی نعمت سے مسئلہ ہوتا ہے۔”
پھر وہ دن آیا…
ہسپتال کے کمرے میں اچانک ننھے بچے کے رونے کی آواز گونجی، اور اُس عورت کی دنیا جیسے ایک لمحے میں بدل گئی۔
وہ رو رہی تھی… مگر اس بار درد سے نہیں، خوشی سے۔
شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے بچے کو گود میں لیا اور دھیمی آواز میں کہا:
“دیکھو… ہماری دعائیں آخرکار ہار نہیں مانیں…”
کچھ دن بعد جب وہ پہلی بار بچے کو لے کر گھر آئی تو سب مبارک دینے آ رہے تھے۔
ہنسی، تصویریں، دعائیں… ہر طرف خوشی تھی۔
مگر اچانک دروازے پر وہی عورت کھڑی تھی…
چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں عجیب سی خاموشی۔
وہ آہستہ سے بچے کے قریب آئی، چند لمحے اسے دیکھتی رہی اور بولی:
“قسمت والی ہو… ہر کسی کو اتنی خوشی نہیں ملتی…”
یہ جملہ عجیب تھا… جیسے مبارکباد کم، دل کی چبھن زیادہ ہو۔
رات کو سب کے جانے کے بعد اُس عورت نے بچے کو سینے سے لگایا تو اچانک اُس کی نظر ایک پرانی چیز پر پڑی…
وہ چھوٹا سا بیبی سوٹ… جو اُس نے پہلی بار امید میں خریدا تھا، پھر کئی بار روتے ہوئے الماری میں چھپا دیا تھا۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اچانک اُسے یاد آیا…
وہی لوگ جو کہتے تھے:
“اتنی امید مت رکھو…”
“پتہ نہیں یہ خوشی پوری بھی ہوگی یا نہیں…”
“زیادہ خواب نہ دیکھو…”
آج وہی لوگ تصویر لینے کے لیے سب سے آگے کھڑے تھے۔
وہ خاموشی سے مسکرائی…
بچے کے ماتھے کو چوما اور دل میں ایک بات ہمیشہ کے لیے بٹھا لی:
“دعا مانگنے والے کبھی ہارتے نہیں… اور حاسد کبھی خوش نہیں ہوتے۔ کیونکہ انہیں تمہاری محنت، صبر یا آنسو نہیں دکھتے… صرف تمہاری نعمت دکھتی ہے۔”
اور اُس رات اُس نے پہلی بار سکون سے سوتے ہوئے اپنے بچے کو دیکھا…
کیونکہ اب اُسے ڈر نہیں تھا…
کچھ خوشیاں اللہ خود اپنی حفاظت میں رکھ لیتا ہے۔ 🫀✨
کیا آپ بھی مانتے ہیں کہ بعض لوگ دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر پاتے؟ 💭🫀

19/05/2026

وڈیروں نے والدین کے سامنےاجتماعی زیادتی کی اور ویڈیو ریکارڈ کی گھوٹکی کی لڑکی سکھر میں ماں کو گلے لگا کر روتی رہی اور انصاف مانگتی رہی

19/05/2026

رشتےداروں نے کالا جادو کروا کر اپنی ہی آخرت خراب کر لی
" میں تو پہلے ہی برباد تھی "😌🔥

اللهم املأ قلوبنا بطاعتك🕋✨🙏
19/05/2026

اللهم املأ قلوبنا بطاعتك🕋✨🙏

داستان تب شروع ہوئی جب محض 14 سال کی ٹریزا کو اپنے سے دو گنا بڑی عمر کے سلمان سے محبت ... see more
19/05/2026

داستان تب شروع ہوئی جب محض 14 سال کی ٹریزا کو اپنے سے دو گنا بڑی عمر کے سلمان سے محبت ... see more

سات سال کی شادی اور اپنی 6 سالہ بیٹی کو چھوڑ کر ایک عورت نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔جب شوہر کو اس ...
19/05/2026

سات سال کی شادی اور اپنی 6 سالہ بیٹی کو چھوڑ کر ایک عورت نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔
جب شوہر کو اس بات کا علم ہوا تو وہ مدد کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچا۔ پولیس اور شوہر کی بار بار سمجھانے اور کوششوں کے باوجود عورت نے گھر واپس آنے سے انکار کر دیا۔
آخرکار سات سالہ رشتہ اور ایک معصوم بیٹی کی ذمہ داری بھی اُس کے نئے تعلق کے سامنے کم پڑ گئی۔
شوہر دل شکستہ ہو کر صرف اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے گھر واپس لوٹ آیا، جبکہ اُس کے ذہن میں بے شمار ان جواب سوالات تھے۔
آپ کے خیال میں کیا شوہر اور 6 سالہ بچے کو چھوڑ کر بوائے فرینڈ کے ساتھ چلے جانا درست

ھندوؤں کی رسموں نے شادی مہنگی کردیمُل٘ا کی رسموں نے فوتگی مہنگی کر دی
19/05/2026

ھندوؤں کی رسموں نے شادی مہنگی کردی
مُل٘ا کی رسموں نے فوتگی مہنگی کر دی

19/05/2026

ھندوؤں کی رسموں نے شادی مہنگی کردی
مُل٘ا کی رسموں نے فوتگی مہنگی کر دی

مجھے تو ثنا یوسف کے قتل کا معلوم ہی نہیں تھا۔ملزم عمر حیات کا بیانگزشتہ برس بے رحمی سے قتل کی گئی 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یو...
19/05/2026

مجھے تو ثنا یوسف کے قتل کا معلوم ہی نہیں تھا۔ملزم عمر حیات کا بیان
گزشتہ برس بے رحمی سے قتل کی گئی 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، ملزم عمر حیات کا کہنا ہے کہ مجھے تو ثنا یوسف کے قتل کا معلوم ہی نہیں تھا۔
تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کی۔ سماعت کے دوران ملزم نے اپنے اوپر عائد الزامات مسترد کردئیے۔
عدالت کو دئیے گئے 342 بیان میں ملزم نے کہا کہ اس کا ثنا یوسف سے کوئی جھگڑا یا رابطہ نہیں تھا، نہ ہی کبھی ملاقات کی درخواست کی۔ پولیس نے اسے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا کیونکہ دونوں سوشل میڈیا پر مشہور تھے۔
بیان میں ملزم کا کہنا ہے کہ ثنا یوسف کے فالوورز نے پولیس پر سوشل میڈیا دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے اسے کیس میں ملوث کیا گیا۔ جج نے ملزم سے مختلف سوالات کیے جن میں ملزم کی موجودگی، گاڑی رینٹ پر لینے اور جائے وقوعہ سے متعلق سوالات کیے گئے۔
ملزم نے عدالت سے کہا کہ وہ وکیل کے بغیر جواب نہیں دے گا۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان ملزم اور جج کے مابین ہوتا ہے، اس میں وکیل کی کوئی ضرورت نہیں۔ ملزم نے وکیل کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ میرا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اپنے بیان میں ملزم نے مزید کہا کہ وہ اسلام آباد نہیں آیا تھا اور نہ ہی اس واقعے میں اس کا کوئی کردار ہے۔ پولیس نے اسے شک کی بنیاد پر جڑانوالہ سے گرفتار کیا۔ ویڈیوز وائرل کیں اور مقدمہ مضبوط کرنے کیلئے جعلی رینٹ ایگریمنٹ بھی بنایا گی

عراق میں غیرت کے نام پر قتل کے بعد قبیلے کا جشن۔۔ ✍️عراق میں کوثر بشار الحسیجاوی نامی 15 سالہ لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا ...
19/05/2026

عراق میں غیرت کے نام پر قتل کے بعد قبیلے کا جشن۔۔ ✍️
عراق میں کوثر بشار الحسیجاوی نامی 15 سالہ لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی دردناک اور افسوسناک ہے، جس نے حالیہ دنوں میں عراقی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اسے عراق میں غیرت کے نام پر قتل (Honor Killing) کا ایک ہولناک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
​کوثر بشار کا تعلق عراق کے ایک روایتی قبائلی پس منظر سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس کی مرضی کے خلاف اس کی منگنی اس کے ہی ایک کزن سے طے کر دی گئی تھی۔ کوثر نے اس زبردستی کی شادی اور رشتے کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور گھر سے بھاگ نکلی۔ خاندان کے لوگ اسے ڈھونڈ کر واپس لے آئے۔ ​گمشدگی کے بعد لڑکی کے کردار کے حوالے سے خاندان اور قبیلے کے اندر افواہیں اور کشیدگی پھیلائی گئی۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے پلیٹ فارمز (Iraqi Women's Rights) کے مطابق، کوثر کو بغداد کے ایک دور دراز یا دیہی علاقے میں لے جایا گیا، جہاں قبیلے کے متعدد افراد کی موجودگی میں "صرف شادی سے انکار اور خاندانی نام نہاد غیرت" کے نام پر اسے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
​جشن کی ویڈیوز اور عوامی غم و غصہ
​اس واقعے نے اس وقت مزید بھیانک صورت اختیار کر لی جب سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں لڑکی کے خاندان اور قبیلے کے کچھ افراد کو اس قتل کے بعد "غیرت برقرار رکھنے" کی خوشی میں رقص کرتے اور جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا۔
​ان ویڈیوز کے وائرل ہوتے ہی عراق کے انسانی حقوق کے کارکنوں، حقوقِ نسواں کی تنظیموں اور عام شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ سوشل میڈیا پر اس بربریت کے خلاف اور مجرموں کو سخت سزا دینے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے۔۔۔۔ ✍️

اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو عید قربان پر لوگوں کے پاس جانور خریدنے کی سکت بھی نہیں رہے گی۔
19/05/2026

اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو عید قربان پر لوگوں کے پاس جانور خریدنے کی سکت بھی نہیں رہے گی۔

Address

Multan
66000

Telephone

03067333767

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when کام والی ماسی معصومہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to کام والی ماسی معصومہ:

Share