23/06/2026
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
ایک اور ننھی کلی کو بے دردی سے مسل دیا گیا 😢
کل سرگودھا میں پیش آنے والا یہ واقعہ، ایک چھوٹی سی سات آٹھ سال کی بچی گھر سے بازار میں کریانے کی دکان سے کچھ سامان لینے گئی تھی۔ واپس نہیں آئی تو گھر والوں کو پریشانی ہوئی۔ اس کی گمشدگی کا شور مچ گیا۔ اعلان ہوئے ، سوشل میڈیا پہ بچی کی گمشدگی کے متعلق پوسٹس لگائی گئیں۔
احکام نے تفتیش شروع کی تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ بچی دکان کے اندر جاتی نظر آئی لیکن باہر آتی نظر نہیں آئی۔ جب دکان کی مکمل تلاشی لی گئی تو دکان کی اوپر والی منزل سے ایک بوری بند لاش ملی، جس میں اس بچی کو مار کر بند کیا گیا تھا۔ مزید تفتیش ہوئی تو پتا چلا دکان پہ دس سال سے کام کرنے والے ملازم ارسلان نے بچے سے مبینہ طور پہ ذیادتی کی، پھر اس کا گلا دبا کر اس کی جان لی اور اب پھر اس بچی کی لاش کو ایک بوری میں بند کر کے اوپر والی منزل پہ چھپا دیا کہ مناسب موقع ملتے ہی کہیں اور پھینک آئے گا۔
مجرم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اب اداروں کو چاہیے کہ اس مجرم کو صرف سزا نہ دیں بلکہ عبرت کا نشان بنائیں تاکہ باقی لوگوں کے دل میں ڈر بیٹھے۔
اس دردناک سانحے نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب صرف افسوس نہیں، انصاف چاہیے ایسا انصاف جو مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچائے اور معاشرے کو تحفظ کا احساس بھی واپس لوٹائے۔
اور والدین سے ایک عاجزانہ گزارش ہے
اپنے بچوں کا خود خیال رکھیے۔ کم عمر بچوں کو حتی الامکان تنہا دکان بازار یا گلی میں نہ بھیجیے۔ چند لمحوں کی احتیاط بعض اوقات پوری زندگی کے پچھتاوے سے بچا لیتی ہے۔۔