26/10/2025
👑 مہر اللّٰہ ڈیوایا چھجو — ایک بہادر، بااصول، اور حق پر ڈٹ جانے والا انسان 👑
آزادیٔ پاکستان سے تقریباً 8/9 سال قبل ملتان کے علاقے بند بوسن کے قریب ایک ایسے شیر دل نے آنکھ کھولی جن کا نام آج بھی جرأت، اصول پسندی اور غیرت کی مثال ہے —
ہم انہیں مہر اللّٰہ ڈیوایا چھجو کے نام سے جانتے ہیں۔
آپ کے والدِ محترم حاجی ملک واحد بخش چھجو تھے، اور آپ کا تعلق ملک چھجو برادری سے تھا — ایک برادری جو سچائی، عزتِ نفس اور غیرت کی علامت ہے۔
⚔️ حق و انصاف کے علمبردار
مہر اللّٰہ ڈیوایا چھجو وہ عظیم شخصیت تھے جو حق کے لیے کھڑے رہتے۔ وہ کسی کے سامنے جھکنے والے نہ تھے — چاہے سامنے کوئی وزیر ہو، سرپنچ ہو، امیر ہو یا کوئی بھی — ان کے لیے سب برابر تھے۔ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے اور مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے۔ ان کے لیے دو چیزیں سب سے اہم تھیں: اللہ کی رضا اور انصاف کی سربلندی۔
🏛️ پنچائیت میں مقام
آپ کا پنچائیت کے معاملات سے گہرا تعلق تھا — وہ فیصلے جو بہت سے بڑے سرپنچ بھی نہ کر پاتے، اکثر چھجو ہاؤس ملتان میں ان کے ذریعے طے ہوتے۔
ملتان کے کئی بڑے سیاستدان آپ کے حلقۂ احباب میں رہے، جن میں شامل ہیں: حاجی منظور حسین خاں بوسن، حاجی سکندر حیات خاں بوسن, مہر رجب علی ہراج, حاجی غلام سرور تھہیم، اور ملک صلاح الدین ڈوگر۔
دنیا کی طاقت، اثر و رسوخ یا دولت — کچھ بھی ان کے اصولی عزم کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔
🌹 نیک دل اور اصول پرست
وہ انتہائی نیک دل، نڈر، اور اصول پرست انسان تھے۔ اپنی پوری زندگی انہوں نے عزت، غیرت اور انسانیت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی زندگی مثال ہے کہ اصول اور ایمان کے ساتھ کس طرح رہنا چاہیے۔
🕊️ روحانیت اور سلسلۂ تصوف
ابتدائی طور پر آپ سلسلۂ چشتیہ کے عظیم مرشد پیر سید علی حسین شاہ چشتی مہروی رح کے مریدِ خاص تھے انکے وصال کے بعد آپ نے سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم روحانی بزرگ شہنشاہِ نقشبند، حضور خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی مجددی حبیبی سعیدی غفاری کے دستِ بیعت ہوئے آپ سے اسمِ اعظم حاصل کیا اور تقویٰ و تصوف کی راہ اختیار کی۔
بیعت کے بعد آپ نے سنتِ رسول ﷺ کو اپنے سلوک میں سمایا اور عاجزی و تقویٰ کا مظاہرہ کیا — حتیٰ کہ آپ نے صوفی صاحب کے مرید ہونے کے بعد کبھی دستار نہ باندھی اور فرمایا کرتے تھے کہ وہ خود کو گناہگار سمجھتے ہیں، اور دستار سنتِ نبوی اور تاج ہے اسی لیے دستار اپنے سر پر نا پہنتے کہ کہاں میں گنہگار انسان کہاں تاج جیسی عظیم سنت۔
🕯️ آخری وقت
10 اپریل 2009 کو یہ عظیم چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔ آپ آخری لمحات میں کے بی بس میں سفر کر رہے تھے تو لوگوں کو متوجہ کر کہ کہا کہ میری روح ٹانگوں سے نکلنا شروع ہو چکی ہے، پھر کہا پیٹ تک نکل چکی ہے، پھر کہا سینے تک نکل۔ چکی ہے— پھر کلمہ طیبہ پڑھا اور وصلِ الٰہی پا لیا۔ مولوی محمد اقبال نے جب آپکی میت کو غسل دیا تو جب صابن آپکے سینے پر پھیرا تو اسے محسوس ہوا کہ آپکا دل چل رہا ہے جو کہ آپکے مرشد کے عطا کئے ہوئے زکر اسمِ اعظم کی برکت تھی اور وفات سے دفنانے تک آپکی پیشانی پر ایسے پسینہ آتا رہا جیسے کسی زندہ انسان کو پسینہ آتا
🤲 خراجِ عقیدت
سلام ہو اس عظیم شخصیت کو جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی میراث — غیرت، اصول اور انصاف — ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔
-ملتان