Waqar Farooq

Waqar Farooq Film nerd with video-creating skills and questionable bias.

دانش نواز: ڈرامہ بہترین چل رہا ہے، کیوں نہ اسے کھینچا جائے اور اسپانسرز اکٹھے کیے جائیں؟ٹیم سانول یار پیا: بہترین آئیڈیا...
06/01/2026

دانش نواز: ڈرامہ بہترین چل رہا ہے، کیوں نہ اسے کھینچا جائے اور اسپانسرز اکٹھے کیے جائیں؟

ٹیم سانول یار پیا: بہترین آئیڈیا ہے مالک۔ کیس والا سین کھینچ دیتے ہیں۔

دانش: زبردست، اور ہاں فیروز کنگ کے سینز زیادہ کر دینا، اُس کے پنکھے سانول کو پڑے رہتے ہیں فضول میں۔

تین قسطوں کے بعد۔۔

ٹیم: مالک، عوام کہہ رہے ہیں اس ڈرامے کے پتے بانٹنے کا وقت آ گیا ہے۔

دانش نواز: اوہ ہو۔ میں تو برباد ہو جاؤں گا۔ اب کیا کریں؟

ٹیم: آپ ہاشم ندیم کو کال لگائیں۔

پھر دانش، ہاشم ندیم سے بات کرتا ہے اور ہاشم صاحب اپنا جادو جگاتے ہوئے مجھ جیسے لوگوں کو واپس اس ڈرامے سے جوڑ دیتے ہیں۔ جو ہاشم ندیم نے لکھا اور جو سانول نے کہا، وہ کچھ یوں ہے:

• عشق میں بڑے بڑوں نے اپنی گردن پر تلوار چلائی، میں نے ایسا کیا تو کیا برا کیا؟

• محبت میں کسی کے قریب رہنے یا دور جانے کا کیا تعلق؟

• کانٹا وہ نہیں، راستے کا کانٹا تیرا بھائی ہے۔

• صرف جنگ میں سب جائز ہے۔ محبت میں تو محبت ہوتی ہے، عشق ہوتا ہے۔

• رقیب کوئی دشمنی کرنے والی چیز تھوڑی ہوتی ہے، جھلے۔ عشق تو رقیب سے بھی اُلفت کرنا سکھا دیتا ہے۔

یہ ڈائیلاگز اور پھر سانول کی پیلے بھڑکیلے سوٹ میں بھرپور اداکاری نے دوبارہ سے سارے داغ دھو دیے ہیں۔ یار پتہ نہیں احمد علی اکبر اتنا درد کہاں سے لے آتا ہے اپنی آواز میں، اپنے چہرے پر اور اپنی آنکھوں میں۔ پیا جی کو سانول سے پیار ہو یا نہ ہو، مُجھے ہو گیا ہے اِس کردار سے پیار۔

سانول یار پیا کی ٹیم سے گزارش ہے کہ آپ اس ڈرامے کو کھینچیں۔ لیکن برائے مہربانی ہر قسط میں ایسے سینز ڈال دیا کریں جہاں محور سانول ہو۔ ہمارا دل لگا رہتا ہے ایسے

وقار فاروق

عالیار: میں کسی پر احسان نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف سچ کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔فیروز کنگ کے پنکھوں اور ہیٹرز، دونوں کو ہی پ...
29/12/2025

عالیار: میں کسی پر احسان نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف سچ کا ساتھ دینا چاہتا ہوں۔

فیروز کنگ کے پنکھوں اور ہیٹرز، دونوں کو ہی پتہ ہے کہ کنگ کی پرفارمینس اس ڈرامے میں کتنی بودی ہے۔ نہ پورا منہ کھلتا ہے مکالمے کے لیے اور نہ ہی کنگ ہل کر راضی ہے۔

لیکن کنگ کی 'ستی اٹھی آں ، وال کھلرے نے' والی پرفارمینس بھی عالیار کے کردار کا کچھ نہیں بگاڑ سکی میرے لیے۔ یہ کردار حسین ہے۔

پیا اور اپنے باپ کی مرضی کے آگے سر جھکاتا ہے لیکن اپنا دماغ استعمال کرنے سے ہچکچاتا نہیں ہے۔ سلجھا ہوا، دھیمے مزاج کا ایک جذباتی سا لڑکا۔

اس نے پیا اور سانول کو بات کرتے دیکھا اور بجائے غلط فہمیاں پالنے کے صرف اتنا ہی غصّہ کیا جتنا بنتا تھا۔ پیا اور اپنے باپ سے بات کر کہ نتیجہ نکالا کہ یہ دونوں ہی فارغ ہیں مجھے خود ہی کچھ کرنا ہے۔

سوچتا ہوں کہ اگر کنگ فیروز اس کردار کو اپنا بیسٹ دے جاتا تو ڈرامہ کہاں کا کہاں پہنچ جاتا۔ ایک طرف سانول جیسی مزیدار پرفارمینس ہوتی اور دوسری طرف عالیار کی۔

وقار فاروق۔

میرے لیے آج کی قسط بہترین تھی۔ عموماً میں وہ قسطیں پسند کرتا ہوں جن میں سانول کا سکرین ٹائم زیادہ ہو۔ اس قسط میں سانول ک...
22/12/2025

میرے لیے آج کی قسط بہترین تھی۔ عموماً میں وہ قسطیں پسند کرتا ہوں جن میں سانول کا سکرین ٹائم زیادہ ہو۔ اس قسط میں سانول کے سینز تو زیادہ نہیں ہیں، لیکن ساری قسط کا محور جیسے سانول ہی ہو۔

سسی، ٹیپو، پیا اور سانول کا باقی سپورٹ سسٹم، سب ہی اس کی بات کر رہے تھے۔ آج کی قسط میں میکرز نے دکھایا ہے کہ سانول صرف آپ کا ہی نہیں، "سانول یار پیا" یونیورس کا بھی چہیتا ہے۔

بہت سی اچھی باتوں میں سے سب سے اچھی بات سسی اور پیا کی گفتگو تھی، جو میرے نزدیک سانول اور اسلم کی گفتگو سے کئی درجے بہتر ہے۔ کچھ تشنہ سوالوں کے جواب اور ہاں، سانول کی تعریفیں۔

اب سب نے تعریف کی ہے تو تھوڑی تعریف میں بھی کروں گا۔
سانول کم پڑھا لکھا ہے لیکن بہت سے پڑھے لکھوں سے سمجھ دار ہے۔
جانتا ہے اُس کی پیا سے محبت یک طرفہ ہے۔ اپنی محبت کو تھوپتا نہیں ہے۔ عشق میں لین دین کا قائل نہیں ہے۔ شاید یہ بھی جانتا ہے کہ آخر میں اُسے ایک ٹکا سا جواب دے دیا جائے گا کہ
"میں نے کہا تھا میرے لیے یہ سب کرو"؟
پھر بھی جان تک ہارنے کو تیار ہے۔

آج یار اور پیا نظر نہیں آئے مجھے تو۔ آج سب سانول ہی تھے۔

وقار فاروق۔

کتابی تعریف کے مطابق بیوروکریسی کا کام حکمرانوں کی عوام کے لیے بنائی ہوئی پالیسیوں کا نفاذ ہوتا ہے۔ لیکن عملی میدان میں ...
20/12/2025

کتابی تعریف کے مطابق بیوروکریسی کا کام حکمرانوں کی عوام کے لیے بنائی ہوئی پالیسیوں کا نفاذ ہوتا ہے۔ لیکن عملی میدان میں معاملات مختلف ہو جاتے ہیں۔

اگر پالیسی عوامی ہو تو بیوروکریسی کے پیٹ پر لات پڑتی ہے۔
اور اگر پالیسی عوامی نہیں ہے تو حکومت حالتِ نزع کا شکار ہو جاتی ہے۔
اور پھر ہوتی ہے دونوں میں کھینچا تانی۔

یس منسٹر (Yes Minister) اسی کھینچا تانی پر مبنی ایک سِٹ کام ہے۔ جِم ہیکر ایک وفاقی وزیر ہے اور سر ہیمفری جِم کے زیرِ اختیار ایک بیوروکریٹ جس نے جِم جیسے کافی وزیر بھگتائے ہیں۔

جِم چاہتا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کرے، اور سر ہیمفری کا مقصد خود کو اور اپنے پیٹی بھائیوں کو جِم کی اس مہلک سوچ کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔شو میں سرکاری نظام پر ٹِکا کر طنز کیا گیا ہے، جیسے جِم اور اُس کے ماتحت برنرڈ کا یہ مکالمہ:

برنرڈ: سر، کیا میں یہ درخواستیں جمع کروا دوں؟
جِم: جمع؟ اِن کو پھاڑ دو، یہ کسی کے ہاتھ نہ لگیں۔
برنرڈ: اگر ایسی بات ہے تو پھر جمع کروانا ہی بہتر ہے۔

یا پھر جِم اور سر ہیمفری کا یہ مکالمہ:

جِم: یہ جمہوریت ہے، اور عوام کو یہ بات (پالیسی) پسند نہیں آئے گی۔
ہیمفری: عوام جاہل اور بے وقوف ہیں۔
جِم: لیکن ہیمفری، مجھے عوام نے منتخب کیا ہے۔
ہیمفری: یہ ہی تو کہا میں نے۔

یہ شو گلیمر اور ایکشن سے بالکل پاک اور کامیڈی سے بھرپور ہے۔ اگر آپ ٹِک ٹاک زدہ نہیں ہیں تو آپ کو یہ شو بہت پسند آنے والا ہے۔ دیکھنا کہاں پر ہے؟ اس کے لیے آپ کو انٹرنیٹ کی طاقت (ٹورینٹ) کا استعمال کرنا پڑے گا۔
وقار فاروق

• چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں، وہ دربار، اب سانول کہیں اور حاضری دیتا ہے۔• اِس شہر کی گلیاں سیٹھ داؤد کے دشمن کو آسانی سے راست...
16/12/2025

• چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں، وہ دربار، اب سانول کہیں اور حاضری دیتا ہے۔

• اِس شہر کی گلیاں سیٹھ داؤد کے دشمن کو آسانی سے راستہ نہیں دیتیں، یہاں وہ (سانول) ہی چل سکتا ہے جسے پہلے سے راستہ پتا ہو۔

• سانول عزتوں کی رکھوالی کرنا جانتا ہے۔

ستائیسویں اور اٹھائیسویں قسط کی کچھ اچھی لائنز، جن کو سانول کے انداز نے مزید اچھا بنا دیا۔ سانول کو پیا جی اُلو بنا رہی ہیں اور سانول بھائی سمجھتے بوجھتے اُلو بن رہے ہیں۔ سانول کے دن تھوڑے ہی لگ رہے ہیں اب۔

سانول کو ڈرامے کے اختتام پر مرتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔
میری کم ظرفی دیکھ کیا چاہتا ہوں۔

وقار فاروق۔

میم سے محبت کی سبیکا۔ ایک پُراعتماد اور حسین انجینئر لڑکی جسے یہ تک نہیں پتا کہ کسی بھی ہاؤسنگ پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کر...
15/12/2025

میم سے محبت کی سبیکا۔ ایک پُراعتماد اور حسین انجینئر لڑکی جسے یہ تک نہیں پتا کہ کسی بھی ہاؤسنگ پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کرتے وقت لوگوں کی قوتِ خرید کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

اور اس میں غلطی سبیکا کی نہیں ہے۔ بس اس کے مدِمقابل جو لڑکی تھی، اسے ذہین و فطین دکھانا تھا۔ اور رائٹر کے لیے آسانی اسی میں تھی کہ سبیکا سے غلطی کروائی جائے۔

کیونکہ اگر دونوں کو ایک ہی درجے میں رکھا جاتا تو اس سے ناظر پر سوچنے سمجھنے کا دروازہ کھل جاتا کہ طلحہ (احد رضا میر) کو کس کا انتخاب کرنا چاہیے شادی کے لیے۔ (جی، ہر ڈرامے کی طرح یہاں بھی ہدف شادی ہی ہے)

اور رائٹر صاحبہ نے ہمیں اس زحمت سے محفوظ رکھتے ہوئے سبیکا سے ایک کے بعد ایک غلطیاں کروائی ہیں، تاکہ ناظرین ان کے فیصلے پر سوال نہ کریں۔

رائٹر صاحبہ کی پسندیدہ روش (دنانیر مبین) کو سات خون معاف ہیں، لیکن سبیکا کی ہر بات پر طوفان آنا لازمی ہے۔ روش کے دو ہی کام ہیں اس ڈرامے میں: ایک غلط فیصلے لینا اور دوسرا گلو اینڈ لولی کریم کی تشہیر کرنا۔ لیکن رائٹر روش کی طرفدار ہے تو چلتا ہے یہ سب۔

روش سبیکا کو بھڑکاتی ہے اور سبیکا بھڑک جاتی ہے۔ حالانکہ سبیکا بڑی عمر کی سمجھدار عورت ہے، لیکن اُس کے رویے میں یہ بات نظر نہیں آتی۔ آئے گی تو روش کے نمبر کم ہو جائیں گے۔

اور پھر آ جاتا ہے مزاح اس ڈرامے کا۔ پتا نہیں کس نے کہہ دیا ہے کہ چائے بناتے ہوئے پٹاخہ پھوڑنے، چائے بنانے والوں کے منہ پر کالک ملنے اور بالوں کو جھاڑ بنانے سے ناظرین ہنس ہنس کر پاگل ہو جائیں گے؟

ڈرامے کو مزید مزاحیہ بنانے کے لیے ایک شادی شدہ جوڑا بھی شامل ہے، جس میں میاں زن مرید ہے۔ گھر کے کام کرنا اور اپنی بیوی کا خیال رکھنا کافی مزاحیہ بات ہی تو ہے۔

ڈرامہ کافی اچھا ہے، لیکن جو باتیں ڈرامے کا معیار گراتی ہیں وہ میں نے آپ کے سامنے رکھ دی ہیں۔ اِن ہی باتوں میں سے ایک بات ہے ڈرامے کی آخری قسط۔

ڈرامے کی سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ ہی اس کی آخری قسط بنتی تھی۔ لیکن پھر کسی سمجھدار نے مشورہ دیا کہ احد اور دنانیر کی جوڑی کو کیش کروانا چاہیے۔ اور اس کے لیے آخری قسط میں اس جوڑی کے کیوٹ سینز کی بھرمار کی گئی۔

وہ قسط بھلے آپ چھوڑ دیں، لیکن ڈرامہ دیکھ لیں۔ یہ ایک اچھی چیز ہے۔

وقار فاروق۔

پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا؟جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔تُم کیسے مان گئی، نُصرت؟یہ مزیدار لائن "ایک جھوٹی لو اسٹوری" سے ہے ج...
12/12/2025

پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا؟
جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔
تُم کیسے مان گئی، نُصرت؟

یہ مزیدار لائن "ایک جھوٹی لو اسٹوری" سے ہے جِس میں بلال عباس اور مدیحہ امام کو اپنا آپ پسند نہیں ہوتا۔ لیکن اُن دونوں کو چھوڑیں، یہاں بات ہو گی ریاض اور نُصرت (مدیحہ امام کے والدین) کی اور اِن کی کُچھ تیکھی کُچھ میٹھی نوک جھونک کی۔

پاکستانی ڈراموں میں بزرگ کرداروں کو چابی دی جاتی ہے کہ منہ صرف رونے یا نصیحت کے لیے کھولنا ہے۔ بھول کر بھی کوئی ایسی بات یا حرکت نہیں کرنی جس سے آپ کے عام انسان ہونے کا شبہ پیدا ہو۔ لیکن یہ بزرگ الگ ہیں۔ لڑتے ہیں، روتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔

ریاض کا خواب ہے کہ اُس کا ایک کریانہ اسٹور ہو اور نُصرت بیگم کا مقصدِ حیات اپنے شوہر کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔ ان دونوں پر غصہ بھی آتا ہے اور ہنسی بھی۔ میرے لیے یہ جان ہیں اِس شو کی۔

یہ پندرہ اقساط کا ایک ہلکا پھُلکا ڈرامہ ہے۔ اور حیرت کی بات یہ کہ عمیرہ احمد (Umera Ahmed Official) کی اس کہانی میں مرکزی کردار (بلال عباس) ایک دکاندار ہے۔ اور اِس دکاندار کو کوئی غیر معمولی صلاحیتیں نہیں دی گئیں کہ وہ گاہک کی روح میں جھانک کر اُسے حیران کر دے۔ عام سا بندہ ہے جو کام سے آ کے سو جاتا ہے۔

صرف بلال ہی نہیں، "ایک جھوٹی لو اسٹوری" کی ساری کائنات ہی عام سی ہے اور یہی عامیانہ انداز ہے جو اِس ڈرامے کو میرے لیے خاص بناتا ہے۔

عمیرہ احمد اور مہرین جبار کی رائٹر-ڈائریکٹر جوڑی مجھے تو اچھی لگی ہے۔ کہانی بھی اچھی ہے جس میں سبق ہے (جو مجھے سمجھ آیا) کہ مڈل کلاس کے لوگ اپنے لوگوں میں ہی ٹھیک ہیں۔ ہائی کلاس کی طرف چھلانگ لگانے سے انجر پنجر ہل سکتا ہے۔

وقار فاروق۔

جمع تقسیم کا یہ سین بہت پیارا ہے۔ قیس منتیں کر رہا ہے اپنے باپ رفیق صاحب کی کہ اُسے دوستوں کے ساتھ جانے دیا جائے۔قیس کا ...
11/12/2025

جمع تقسیم کا یہ سین بہت پیارا ہے۔ قیس منتیں کر رہا ہے اپنے باپ رفیق صاحب کی کہ اُسے دوستوں کے ساتھ جانے دیا جائے۔

قیس کا بڑا بھائی مجید اُس کی سفارش کرتا ہے باپ سے لیکن ساتھ ہی لقمہ بھی دے دیتا ہے کہ "وہاں لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے"۔

سب سے بڑا بھائی حمید بالکل بھی اس حق میں نہیں۔ وہ مخالفت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "یہ مستیاں کرتا ہوا جائے گا"۔

لیکن قیس کچھوے کی رفتار سے گاڑی چلانے کا وعدہ دے کر باپ سے اجازت لے لیتا ہے۔

اور پھر۔۔۔

پھر ماضی کے یہ چاروں کردار زمانۂ حال کے رفیق صاحب کی طرف دیکھتے ہیں جو اس منظر کو یاد کرکے مسکرا رہے ہیں۔

حقیقت کے بہت قریب تر سین تھا یہ۔ ڈراموں میں یا تو بہت فاصلہ ہوتا ہے باپ بیٹوں میں یا ضرورت سے زیادہ دوستی دکھائی جاتی ہے جو بہت کرنج لگتی ہے۔

جمع تقسیم میں باپ بیٹوں کا رشتہ جیسا ہونا چاہیے ویسا ہے۔ باپ کا خوف ہے لیکن حسبِ ذائقہ لاڈ بھی موجود ہے جو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا ہے۔

وقار فاروق۔

پیا جی بہت مضبوط ہیں۔ ۔۔۔۔
10/12/2025

پیا جی بہت مضبوط ہیں۔
۔۔
۔۔

سانول یار پیا کے ہدایتکار دانش نواز کے نام ایک خط۔ (صرف مرد حضرات پڑھیں)اُمید کرتا ہوں جناب آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کا ڈر...
10/12/2025

سانول یار پیا کے ہدایتکار دانش نواز کے نام ایک خط۔ (صرف مرد حضرات پڑھیں)

اُمید کرتا ہوں جناب آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کا ڈرامہ ہر ہفتے باقاعدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ سانول کے معاملے میں آپ نے اپنی ہدایتکاری کے کیا خوب جوہر دکھائے ہیں۔ ڈرامہ تو اچھا ہے لیکن آپ سے ایک سوال ہے چھبیسویں قسط میں سانول اور اسلم کے اس گفتگو والے سین کے بارے۔

جناب، ویسے تو ویژوئل سٹوری ٹیلنگ کے نام پر آپ "رنگ ریز میرے" چلا کر اُس پر سلو موشن شاٹس کی بھرمار کر دیتے ہیں کہ کہانی چل رہی ہے۔ لیکن جہاں آپ کے پاس موقع تھا وہاں آپ نے چند ڈائیلاگز پر ہی اکتفا کر لیا۔ کیوں؟

یہ اسلم اور سانول کا پہلا دوستانہ مکالمہ تھا، جسے میری ناقص رائے میں آپ نے صرف ضائع کیا ہے۔ اسلم اور سانول دونوں سموکرز ہیں۔ اس سین میں جان آجاتی اگر یہ دونوں خاموشی سے اپنا اپنا سگریٹ مکمل کرتے اور پھر اپنی بات پر آتے۔

پہلے کی بات الگ تھی، لیکن یہاں اسلم سانول کو ڈانٹنے نہیں بلکہ اپنا دُکھ سنانے آیا تھا۔ آپ کو لگا ہو گا اسلم اور سانول کا دھواں پھونکنا اور خاموش رہنا بورنگ ہو جائے گا؟ یقین کریں، "رنگ ریز میرے" پر پیا جی اور عالیار کے سینز سے زیادہ بورنگ نہ ہوتا یہ۔

تمباکو نوشوں کے درمیان ایک الگ ہی رشتہ ہوتا ہے۔
دو جوان ایک ہی کھوکھے پر سگریٹ پھونک رہے ہوں تو ایک دوسرے کو دیکھ کر سر ہلا دیں گے۔
کوئی سگریٹ جلا رہا ہو تو کوئی انجان چِلا اُٹھے گا کہ بھائی، فلٹر والی سائیڈ سے جلا رہے ہو، غور کرو۔
کبھی کبھار تو کوئی جاننے والا نظر آ جائے تو اپنی سگریٹ دوسرے کے گلے ڈال دی جاتی ہے کہ "میں نہیں، یہ ہے پینے والا۔" اور وہ اجنبی تمباکو نوش بھی خاموشی سے قربان ہو جاتا ہے۔

یہاں پیا دھاوا بول سکتی تھی اور اسلم اپنا سگریٹ سانول کے ذِمے ڈال دیتا۔
یا اسلم کا لائیٹر کام کرنا بند کر دیتا اور سانول اپنا دے دیتا۔

اب اس طرح کے سینز بورنگ ہیں یا پیا جی اور عالیار کے تاثرات سے عاری سینز؟

میں آپ کو ہدایتکاری نہیں سِکھا رہا، وہ آپ بہتر جانیں۔ ایک ناظر کی حیثیت سے جو سوال تھا وہ آپ سے پوچھ لیا کہ آپ نے یہ سین ضائع کیوں کیا؟

پچھلی تین اقساط سے تمام دیکھنے والوں کا منہ بنا ہوا ہے۔ ڈرامے کا ماحول بھاری ہے اور اسے ہلکا کرنے کا موقع آپ نے ہاتھ سے جانے دیا۔ آپ براہِ مہربانی "رنگ ریز میرے" کم چلائیں اور کہانی آگے بڑھائیں۔

منجانب،
ایک فکرمند ناظر
وقار فاروق

#

کیس نمبر ۹ کا کامران اور اُس کا وفادار فوجی انیب۔ کامران کی قسمت اس لحاظ سے اچھی ہے کہ اسے بندے کام کے مل جاتے ہیں (گو ک...
08/12/2025

کیس نمبر ۹ کا کامران اور اُس کا وفادار فوجی انیب۔ کامران کی قسمت اس لحاظ سے اچھی ہے کہ اسے بندے کام کے مل جاتے ہیں (گو کہ یہ آگے چل کر کسی کام نہیں آنے والے اس کے)۔

سحر نے جان مار کر اور کمپنی کو اپنا سمجھ کر کام کیا۔
اس کا چوکیدار کامران کے کوّے کو ہمیشہ سفید کہتا ہے۔
روہت کامران کے لیے اپنی شادی تک برباد کرنے پر آگیا ہے۔
اور انیب کامران کے لیے اپنے ہاتھ گندے کرنے کو ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

انیب کا کردار مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ عموماً ماتحت جی حضوری اور خوشامد میں مصروف رہتے ہیں، لیکن انیب دل کی بات زبان پر لانے میں دیر نہیں کرتا۔ کامران کو اس کی غلطیوں اور پھر ان کے نتائج سے پیشگی خبردار کرتا ہے لیکن وہ کامران ہی کیا جو سن لے۔

انیب کو پتہ ہے کہ باس اخلاق اور حواس باختہ ہے اور نہیں سنے گا، لیکن پھر بھی اپنے پیسے حلال کرتا ہے اور سمجھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

کردار بھلے چھوٹا ہے انیب کا لیکن شاہزیب خانزادہ نے چھوٹا بڑا چھوڑ کر ہر کردار پر محنت کی ہے۔ ڈراموں میں جب مرکزی کرداروں سے ہٹ کر دوسروں پر کیمرہ جاتا ہے تو شو کی گرفت کمزور پڑنے لگتی ہے، لیکن کیس نمبر ۹ کے معاملے میں ایسی بات نہیں ہے۔ ہر سین ہر مکالمہ جاندار ہے۔ ایک اچھا شو دینے کے لیے شاہزیب کو داد دینا بنتا ہے ۔

وقار فاروق

سب مُبارک دیں سانول بھائی کو۔۔۔
03/12/2025

سب مُبارک دیں سانول بھائی کو۔
۔
۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waqar Farooq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share