06/01/2026
دانش نواز: ڈرامہ بہترین چل رہا ہے، کیوں نہ اسے کھینچا جائے اور اسپانسرز اکٹھے کیے جائیں؟
ٹیم سانول یار پیا: بہترین آئیڈیا ہے مالک۔ کیس والا سین کھینچ دیتے ہیں۔
دانش: زبردست، اور ہاں فیروز کنگ کے سینز زیادہ کر دینا، اُس کے پنکھے سانول کو پڑے رہتے ہیں فضول میں۔
تین قسطوں کے بعد۔۔
ٹیم: مالک، عوام کہہ رہے ہیں اس ڈرامے کے پتے بانٹنے کا وقت آ گیا ہے۔
دانش نواز: اوہ ہو۔ میں تو برباد ہو جاؤں گا۔ اب کیا کریں؟
ٹیم: آپ ہاشم ندیم کو کال لگائیں۔
پھر دانش، ہاشم ندیم سے بات کرتا ہے اور ہاشم صاحب اپنا جادو جگاتے ہوئے مجھ جیسے لوگوں کو واپس اس ڈرامے سے جوڑ دیتے ہیں۔ جو ہاشم ندیم نے لکھا اور جو سانول نے کہا، وہ کچھ یوں ہے:
• عشق میں بڑے بڑوں نے اپنی گردن پر تلوار چلائی، میں نے ایسا کیا تو کیا برا کیا؟
• محبت میں کسی کے قریب رہنے یا دور جانے کا کیا تعلق؟
• کانٹا وہ نہیں، راستے کا کانٹا تیرا بھائی ہے۔
• صرف جنگ میں سب جائز ہے۔ محبت میں تو محبت ہوتی ہے، عشق ہوتا ہے۔
• رقیب کوئی دشمنی کرنے والی چیز تھوڑی ہوتی ہے، جھلے۔ عشق تو رقیب سے بھی اُلفت کرنا سکھا دیتا ہے۔
یہ ڈائیلاگز اور پھر سانول کی پیلے بھڑکیلے سوٹ میں بھرپور اداکاری نے دوبارہ سے سارے داغ دھو دیے ہیں۔ یار پتہ نہیں احمد علی اکبر اتنا درد کہاں سے لے آتا ہے اپنی آواز میں، اپنے چہرے پر اور اپنی آنکھوں میں۔ پیا جی کو سانول سے پیار ہو یا نہ ہو، مُجھے ہو گیا ہے اِس کردار سے پیار۔
سانول یار پیا کی ٹیم سے گزارش ہے کہ آپ اس ڈرامے کو کھینچیں۔ لیکن برائے مہربانی ہر قسط میں ایسے سینز ڈال دیا کریں جہاں محور سانول ہو۔ ہمارا دل لگا رہتا ہے ایسے
وقار فاروق