17/05/2026
ملتان کا سب سے زیادہ
نظر انداز کیا گیا
قدیم مقبرہ
جو کہ 426.... سال قدیم ہے۔
مگر حیران کن طور پہ اسے دیگر مقابر کی طرح اہمیت و شہرت نہیں مل پائی۔۔۔۔۔۔
حالانکہ اس کی ملتان کے
پہلے پانچ عظیم مقابر میں جگہ بنتی ہے۔
#مقبرہ حضرت سخی سلطان شاہ علی اکبر شمسی
یہ مزارِ ملتان کے مشہور علاقے سورج میانی میں موجود ہے۔
کیا ہی خوبصورت عمارت ہے۔
تحریر کے 5 حاشیے نظر آتے ہیں۔ سب سے اوپر حضرت کا شجرہء نسب۔۔۔ اور اسمائے حسنیٰ
دوسرے حاشیے میں، درود پاک اور مدحت اہل بیت ۔۔۔
باقی تین حاشیوں میں۔۔۔ تزکیہء نفس سے متعلق ..... کمال درجے کے فارسی اشعار
اسے منفرد مقام دیتے ہیں۔
نسب و ولادت
آپؒ کا نامِ گرامی سید علی اکبر ہے۔ والد محترم سید موسیٰ ظاہر علی شمسی
اور والدہ محترمہ بی بی فاطمہ
سلطان حسین لنگاہ، حکمرانِ ملتان کی صاحبزادی تھیں۔
آپؒ کی ولادتِ با سعادت 880 ہجری میں سیت پور (تحصیل علی پور، ضلع مظفر گڑھ) میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم والد گرامی سے حاصل کی اور اعلیٰ دینی تعلیم #اچ شریف کے جید علماء کرام سے مکمل کی۔ تعلیم کے بعد آپؒ نے اسلام کی تبلیغ کے لیے مختلف علاقوں کا سفر کیا، جس کے نتیجے میں کئی غیر مسلم قبائل نے اسلام قبول کیا۔
923
ہجری میں والد کے وصال کے بعد آپ ملتان تشریف لائے۔ آپؒ کا مزارِ مبارک 993 ہجری (1585ء) میں تعمیر شروع ہوا۔
اور تقریباً 15 سال میں مکمل ہوا۔
مقبرہ صاحب مزار کے نواسے نے تعمیر کرایا۔۔۔ جن کی لحد اندر ہی پہلو میں موجود ہے۔
تعمیر کا کام ابراہیم اور رجب
(موسیٰ لاہوری کے بیٹوں)
نے انجام دیا۔
جس کا باقاعدہ قدیم کتبوں میں اندراج ہے۔
یہ مزار شاہ رکن عالمؒ کے مزار کا چھوٹا نسخہ کہلاتا ہے۔ آکٹاگونل یعنی 8 کونوں یا آٹھ محرابوں والا ڈیزائن،
ٹائل ورک اور فنِ تعمیر کا شاندار نمونہ۔
روحانی نسبت
آپؒ حضرت شاہ شمس الدین سبزواریؒ کے آٹھویں پشت میں اولاد ہیں۔
اور #شمسی سلسلہ کے اہم بزرگ مانے جاتے ہیں۔ آپؒ اسماعیلی روایت کے داعی اور صوفی بزرگ تھے۔
علاقائی اہمیت
درانی دور میں افغانستان کے ساتھ تجارت کی وجہ سے یہ علاقہ ترقی یافتہ ہوا۔ مقامی لوگوں نے #کابل طرز کے مکانات تعمیر کیے، جس کی وجہ سے سورج میانی کو "کابلی محلہ" بھی کہا جاتا تھا۔
#ڈسکلیمر
یہ پوسٹ مذہبی یا مسلکی نہیں۔۔۔۔ بلکہ۔۔۔۔ سیاحتی، تاریخی، ثقافتی اور معلوماتی ذوق کی تسکین کیلیے بنائی گئی ہے۔