The Qalam TV

16/09/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کو سنایا سینئر صحافی محترم عبدالحئی بلوچ نے اپنی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ جب بچپن میں اس کے بڑے بھائی عبداللہ بلوچ نے گھر کے صحن میں پانی میں کرنٹ کی وجہ سے جان دے دی ۔۔۔ 45 برس گزر گئے نہ یہ واقعہ وہ بھلا پائے ہیں نا ہی انکی 92 سالہ بزرگ والد محترمہ اس اپنے نوجوان بیٹے کی جدائی برداشت کر پائی آ ج بھی اپنے اس مرحوم بیٹے کو یاد کرتی ہیں ۔۔۔۔ 45 برس سے محترم عبدالحی بلوچ کی والدہ نے 21 اپریل 1981ء کے بعد سے اپنی شادی کی سالگرہ نہیں منائی کیونکہ ان کی شادی کا دن 21 اپریل تھا ۔۔۔۔ اب سنئیے دیکھئے دی قلم ٹی وی چینل پر عبدالحئی بلوچ کا یہ المناک واقعے کا وڈیو کلپ ۔۔۔۔

الحمدللہ میرے کالم ایڈیشن "چلتے چلتے" کی سنچری مکمل ہونے کے 15 دنوں میں جن انتہائی قابل شخصیات نے اس پر اپنی محبتوں کا ا...
14/09/2026

الحمدللہ
میرے کالم ایڈیشن "چلتے چلتے" کی سنچری مکمل ہونے کے 15 دنوں میں جن انتہائی قابل شخصیات نے اس پر اپنی محبتوں کا اظہار کیا اور پسند کرتے ہوئے اپنی تحریروں اور پیغامات کے زریعے میری حوصلہ افزائی کی ان تحریروں پر جو ایڈیشنز تیار کرکے پیش کئے گئے ان کی تعداد 50 ہوگئی ہے یہ منفرد کام بھی اللہ تعالیٰ کی مدد بزرگوں کی دعاؤں اور آ پ جیسی پیاری شخصیات کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے اور اس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالٰیٰ نے یہ صلاحیت دی کہ اس کی ڈیزائننگ سیکھ کر میں نے خود اپنے ہاتھوں سے یہ ایڈیشنز تیار کئے ہیں اور اس محبتیں بانٹنے کیلئے کسی ڈیزائینر کا محتاج بھی نہیں رکھا ہے اس پر اپنے رب العزت کا شکر گزار ہوں اور اس میں مزید بہتری لانے کے لیے مزید بھی سیکھنے کا عمل جاری ہے جن محترم شخصیات کی وجہ سے 15 دنوں میں میرے مبارکباد پیغامات ایڈیشنز کی ففٹی مکمل ہوئی ان کے میرے اور میری کاوش کے لئے بھیجے گئے الفاظ میرے لئے اعزاز اور میڈلز کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کو کتاب کا حصہ بھی بنایا جائے گا ۔۔۔۔۔ ان محترم شخصیات میں محترم میاں غفار احمد 'محترم نسیم شاہد ' محترم شاکر حسین شاکر 'محترم چودھری یونس علی 'محترم شوکت اشفاق 'محترم امتیاز احمد گھمن 'محترم امتیاز احمد روحانی 'محترم خلیل بھٹی 'محترم اکمل وینس 'ناصر بشیر 'رضی الدین رضی 'محترم شریف ظفر 'محترم ناصر محمود شیخ 'محترم شکیل انجم 'محترم اعجاز کریم ججی 'محترم آ صف کھیتران 'محترم سجاد بری 'علی سخنور ' محترم اظہر سلیم مجوکہ ' محترم یاور بخاری 'محترم نعمان خان بابر 'رانا ولایت علی 'محترم مظہر خان 'محترم رؤف مان 'محترم عبدالحکیم ملک 'محترم اسلم جاوید 'محترم بخت آثار 'محترم سید خالد جاوید بخاری 'محترم راؤ مظہر الاسلام 'محترم انجم کاظمی 'محترم جاوید اختر بھٹی 'محترم ڈاکٹر عبد السمیع 'ڈاکٹر خالد اقبال 'سجاد کھوکھر 'ندیم عالم 'محترم عاطف اعوان ' محترم محترم میر کامران مگسی 'محترم مظہر جاوید' محترم ملک شہادت اعوان'محترمہ شہگی پیرزادہ 'محترمہ عائشہ احمد 'محترم امجد سعید ملک 'محترم عاصم تنویر 'محترم کلب عابد 'محترم جمیل کامران ' محترم انجم پتافی 'سلیم اختر قریشی 'محترم سجاد ملک شامل ہیں

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نوجوان ٹیسٹ کرکٹر رضا اللہ کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
12/09/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوجوان ٹیسٹ کرکٹر رضا اللہ کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے ساتھ تین ٹیسٹ میچ کھیل چکی پہلے دو ٹیسٹ میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بہت بری طرح شکست کا سامنا کرنا اور یہ کرکٹ کی ہسٹری میں پہلی دفعہ ہوا کہ پہلے ٹیسٹ کے جو کپتان تھے دوسرے ٹیسٹ میچ میں نہیں کھیلے اور تیسرے ٹیسٹ میں واپس وطن بھیج دیا گیا دو ٹیسٹ میچوں
میں انتہائی بری کارکردگی کے بعد اور انگلینڈ کی ٹیم سے برے طریقے سے شکست کھانے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ ہیڈ کوچ بالنگ کوچ اور سات کھلاڑیوں کو دوران ٹیسٹ سیریز واپس پاکستان بھیج دیا جاتا ہے یعنی ان کو تیسرا ٹیسٹ میچ بھی نہیں کھیلنے دیا گیا اب سات نئے لڑکوں کو انگلینڈ بھیجا جانا تھا اور اب ان سات لڑکوں میں سے بھی ایک لڑکے کی قسمت کا ستارہ چمکنا تھا اس نوجوان کرکٹر نے دعائیں تو بہت کی تھی ان کے والدین نے بھی بڑی دعائیں کی تھی مگر اس کو یہ خیال تک نہ تھا کہ وہ اچانک انگلینڈ پہنچ جائے گا اور تیسرا کرکٹ ٹیسٹ میچ ڈیبیو کرے گا اس نوجوان کر کٹر کا نام رضا اللہ تھا جو کہ خیبر پختون خواہ کے دیر کے علاقے میں پیدا ہوئے اور جب اس کے والد کام کے سلسلے میں مردان میں شفٹ ہوئے تو وہ بھی وہاں چلے گئےنتو 2018 تک اس نوجوان کرکٹر رضا اللہ نے ٹیپ بال سے کرکٹ ٹورنامنٹ میں دھوم مچا رکھی تھی اس کے بعد اس نے ہارڈ بال سے کھیلنا شروع کیا اور انڈر 19 بھی کھیلا اس کے بعد یہ سلسلہ تو چلا لیکن اس کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ستمبر میں 2026 میں وہ انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے نہ صرف بالنگ میں اپنے اپ کو منوائے گا بلکہ نو چھکے مار کے عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دے گا اگرچہ پاکستان نے یہ میچ بھی ہارا ہے لیکن نوجوان کے کرکٹر رضا اللہ نے دل جیت لیا ہے اب میں ذرا اس کی تھوڑی سی کہانی اپ کو بتاتا چلوں کہ رضا اللہ نے انڈر 19 کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ایک بار ایک میچ میں اس وقت سینچری بنا دی تھی جب وہ کوچ کے پاس پہنچ کر کہتے ہیں کہ انہوں نے اوپننگ کرنی ہے اور کوچ بھی ان کو بخوشی اجازت دے دیتے ہیں اور وہ اس میچ میں سنچری بنا لیتے ہیں اس کے بعد وہ تیز بالر کے طور پر بھی انٹری ڈالتے ہیں تو نمایاں ہوتے ہیں ایسے میں اس کو 2026 میں اس کے دوست نبیل یہ کہتے ہیں کہ وہ ایشین ٹورنامنٹ کے حوالے سے تیاری کر لیں لیکن یہ ان کو نہیں معلوم تھا کہ انگلینڈ کے تیسرے ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کے لیے بلایا جائے گا تو ستمبر حال ہی میں جب وہ فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور فجر کی نماز سے پہلے تہجد کی نماز پڑھنا بھی ان کا معمول تھا اس کے بعد ان کو نبیل کا فون اتا ہے کہ وہ فوی طور پر لاہور کیمپ سے رجوع کریں تب بھی ان کے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ انگلینڈ میں ہونے والے میچ میں وہ نہ صرف شریک ہوں گے بلکہ اس ٹیم کا حصہ بھی بنے گا وہ وہاں لاہور پہنچتے ہیں تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اپ تیاری کریں اور اپ نے انگلینڈ پہنچنا ہے جس نے تیسرے کرکٹ میچ میں حصہ لینا ہے اب تو اس نوجوان رضا اللہ کو خیال تک بھی نہیں تھا کہ وہ ایسے اچانک اب انگلینڈ چلے جائیں گے اور وہ میچ کھیلیں گے بالاخر وہ انگلینڈ پہنچتے ہیں تب تک بھی کسی کو بھی یہ یقین نہیں تھا کہ اب یہ نوجوان رضا اللہ ایک ایسا ریکارڈ بنانے والا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کرکٹ ٹیم میں اس کی پوزیشن مضبوط ہو جائے گی بلکہ دنیا کو بھی یہ نوجوان حیران کر دے گا پہلی اننگز میں رضا اللہ نے 143 سے لے کے 148 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کی بیٹس مینوں کو پریشان کیا اور چار وکٹیں لے اڑے اگرچہ پہلے اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ اتنی اچھی نہیں تھی لیکن دوسری اننگز میں پاکستان نے اٹھ وکٹیں کھودی تھی اور اس کو صاف نظر ا رہا تھا کہ تیسرے ٹیسٹ میچ کو وہ اننگز کی شکست سے اب کوئی نہیں بچا سکتا ایسے میں نویں نمبر پر رضا اللہ کریز پر پہنچتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے وہ پوری دنیا نے دیکھا کہ اپنے ڈیبیو میچ میں رضا اللہ نے نو چھکے مار دیے اور ٹیسٹ میچ میں تیز ترین 50ففٹی بھی بنا لی اگرچہ وہ اس میچ میں سینچری نہیں بنا سکے لیکن انہوں نے دھواں دھار بیٹنگ کر کے انگلینڈ کی ٹیم کو یہ بتا دیا کہ یہ نوجوان اپنی ٹیم کو اننگز کی شکست سے دو چار نہیں ہونے دے گا چنانچہ 129 سکور کی لیڈ بن گئی چہ جائے یہ کہ پاکستانی ٹیم اننگز کی شکست سے ہار رہی تھی چوتھے دن انگلینڈ کی ٹیم نے یہ ٹیسٹ سیریز تین صفر سے جیت بھی لی ہے لیکن تیسرے ٹیسٹ میں جو نوجوان رضا اللہ نے کیا اس سے وہ ویسی خوشی نہ منا سکے جیسے کہ وہ سوچ رہے تھے کیونکہ ان کے بالرز کی اتنی پٹائی کا تو انہوں نے تصوری نہیں کیا تھا رضا اللہ نے اپنی بیٹنگ کے دوران دو بیٹ تبدیل کیے جبکہ ان کے حقیقت یہ تھی کہ دونوں بیٹ ان کی دھواں دار ہٹنگ کی وجہ سے ٹوٹ گئے تھے اور وہ اپنے ساتھ چھ بلے لے کر گئے تھے جن میں سے دو ٹوٹ گئے رضا اللہ اپنی اس کا رگردگی کو اپنے والدین کی دعائیں قرار دیتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے والدین کی دعائیں اللہ تعالی نے قبول فرمائیں ایک ٹیسٹ میچ سے ہی رضا اللہ نے یہ ثابت کر دیا مشکل حالات مسائل کے باوجود ہمارے ملک پاکستان میں ایسا ایسا ٹیلنٹ موجود ہے جو پوری دنیا کو حیران کر سکتا ہے بس سوال صرف ان کو موقع ملنے کا ہے اور رضا اللہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ 2018 میں ٹیپ بال سے کرکٹ کا اغاز کرنے والے نے 26ء ستمبر میں اپنے اپ کو انٹرنیشنلی کرکٹر کے طور پر منوا دیا بالنگ میں بھی اور بیٹنگ میں بھی اور پاکستان کو ایک اچھا ال راؤنڈر مل گیا ہے رضا اللہ کے حوالے سے یہ میرا ایڈیشن اور ان کی یہ کہانی دراصل میرے بیٹے آ غا سلمان جو کہ کرکٹ سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں اور کھیلنا بھی پسند کرتے ہیں میچ دیکھنا بھی پسند کرتے ہیں اور اس پر تبصرہ کرنا بھی پسند کرتے ہیں تو رضا اللہ کی کارکردگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے مجھے کہا کہ اپ اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کے لیے جس کو دنیا کے چینلز ہمارے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا نے پذیرائی دے رہے تو اپ بھی میری خواہش پر اس نوجوان کے حوالے سے اپنے کالم ایڈیشن کے تحت تصاویر بھی تحریر بھی شائع کریں یقینا رضا اللہ جیسے کھلاڑی کی حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ ہمارے ملک میں وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نہ صرف اپنا نام کمائیں بلکہ ملک کا نام بھی روشن کریں اگرچہ یہ ان کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا ائندہ بھی وہ ٹیم کا حصہ رہیں گے امید یہ ہے کہ وہ ایسے ہی اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرتے رہیں پاکستان زندہ باد ۔۔رضا اللہ شاباش

09/09/2026

دیکھیں اور سنیں دی قلم ٹی وی کے وڈیو کلپ میں ایک بیٹے کے اپنے والد محترم کو پرائیڈ آف پرفامنس ایوارڈ ملنے کے اعلان کے بعد تاثرات وجذبات ۔۔۔

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسر ادیب شاعر کالم نگار محترم نسیم شاہد کے گھر ...
09/09/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر ادیب شاعر کالم نگار محترم نسیم شاہد کے گھر ویسٹرن فورٹ کالونی کے باہر ملتان کی 18 ویں لوح اعزاز نصب اور پروقار تقریب کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریب کے مہمان خصوصی کمشنر ملتان ڈویژن محترم عامر کریم تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریب کا اہتمام پروفیسر نسیم شاہد کے ڈرائنگ روم میں کیا گیا تھا صوفے اور کرسیوں کی سیٹنگ سلیقے اور قرینے سے کی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مرد وخواتین نے شرکت کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کے پیش نظر دو خواتین صائمہ نورین بخاری اور لبنیٰ عابدی جبکہ مرد حضرات میں محترم حمید رضا صدیقی 'محترم سابق ایس ایس پی شریف ظفر 'محترم ڈاکٹر ذوالفقار رانا اور محترم خورشید ملک نے اظہار خیال کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوران تقریب جملوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ اور چٹکلوں سے تقریب نے حاضرین کو بور نہیں ہونے دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان کے واحد کمشنر کے ملتان کی تعمیر وترقی کے لیے 42 ارب کے فنڈ لانے کا انکشاف پروفیسر نسیم شاہد نے کیا تو تالیاں بجنے لگیں اور ایک اور انکشاف کہ کمشنر صاحب نے ملتان کے گونگے بہرے بچوں کے ٹیسٹ کروائے تو 33سو بچوں میں سننے کی صلاحیت تھی جن کو آ لے لگائے گئے وہ معاشرے میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں تو کمرہ پھر تالیوں سے گونج اٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم حمید رضا صدیقی صاحب نے جب یہ کہا کہ پروفیسر نسیم شاہد کو پرانی چیزیں کو پسند کرتے ہیں تو حاضرین چہ مگوئیاں کرنے لگے پھر خود ہی وضاحت کردی کہ بھئی وہ پرانی کتابیں بھی ہوسکتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر نسیم شاہد صاحب نے اپنے اظہار خیال کے دوران پنجاب کی منسٹر صاحبہ کے انداز میں کہا کہ "ہاں بھئی ہے کمشنر صاحب سے میری یاری تو ہے "سب ہنسنے لگے پھر کہا نسیم شاہد افسروں کی افسری سے نہیں ڈرتا البتہ افسر کے اندر مخلص بے لوث بندا اچھا لگتا ہے تو وہ ان کو پسند کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

8ستمبر سے سے دو دن پہلے استاد محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب کا فون ایا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ ایک تقریب ہونے والی ہے وہ کیا تقریب ہے یہ نہیں بتایا اور کہا اس میں تم نے ضرور شرکت کرنی ہے میں نے حامی بھر لی اس کے بعد معلوم ہوا کہ اٹھ ستمبر کو شام ساڑھے چار بجے ٹھیک ویسٹرن کالونی ملتان میں لوح اعزاز نصب کرنے کی ایک تقریب منعقد ہونی ہے اور یہ ملتان میں اٹھارویں لوح اعزاز ہے جو کہ محترم پروفیسر نسیم شاہ صاحب کے گھر کے باہر نصب کی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی کمشنر ملتان محترم عامر کریم خان کی صدارت میں ایک تقریب میں منعقد ہوگی جو کہ پروفیسر نسیم شاہد صاحب کے گھر کے ڈرائنگ روم میں ہوگی اب میں نے سوچا کہ تقریب میں نہ جانے کا تو اغا صاحب خیال ہی دل میں نا لانا کیونکہ وہاں جانا ہے تو بس جانا ہے۔۔ تو پھر مجھے خیال ایا کہ میرے ایک دوست بھائی سابق چیئرمین ڈرگ کوٹ سلیم اللہ کو بھی لے کر چلتے ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اور سلیم اللہ بھی پروفیسر نسیم شاہ صاحب کے شاگرد تھے اور اس تقریب میں ہم دونوں بطور شاگرد پروفیسر نسیم شاہد صاحب کو اس اعزاز کے ملنے پر مبارکباد دینے چلتے ہیں محترم سلیم اللہ نے میری یہ تجویز قبول کر لی اور باہمی رضامندی سے یہ طے پایا کہ دونوں بھائی اکٹھے اس تقریب میں چلیں گے مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ محترم سلیم اللہ کا یہ وقت ان کے ارام کرنے کا وقت ہے اور انہوں نے اپنی زندگی کو باقاعدہ ایک نظم و ضبط کے ساتھ بنا رکھا ہے لیکن انہوں نے میری محبت میں اپنے اس اصول کو توڑ دیا اور اس وقت میرے ساتھ تقریب میں پہنچ گئے ابھی تقریب کے شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا اور ہم دونوں بھائی ڈرائنگ روم میں جہاں پر بہت سے معزز بڑی شخصیات موجود تھیں اور ہم دونوں تیسری کرسیوں کی قطار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک میرے ساتھ بیٹھے ہوئے محترم سلیم اللہ کا فون نیچے گرتا ہے اور وہ نیند کے جھٹکے سے باہر اتے ہیں خیر فون اٹھا لیا گیا میں نے پوچھا سب ٹھیک ہے تو انہوں نے کہا سب ٹھیک ہے اس کے بعد تھوڑی دیر بعد پھر فون گرتا ہے اور وہ نیند کے جھٹکے لے رہے ہوتے ہیں ابھی تقریب شروع ہوئی ہی تھی تو میں نے کان میں سلیم اللہ بھائی کو کہا کہ اپ باہر گاڑی میں جا کر ارام کر لیں تقریب مختصر ہو گی تو میں ختم ہونے پر اپ کے پاس باہر ا جاؤں گا پہلے تو انہوں نے ہاں کہا پھر نہ جانے تقسیم کرنے والے نے عین اس وقت منرل واٹر کی بوتلوں کو تقسیم کرتے ہوئے محترم سلیم اللہ کو بھی دے دی اور وہ بوتل پیتے ہی میرے بھائی سلیم اللہ تو پھر ایسے ایکٹو ہوئے کہ پھر نہ نیند تھی نہ جھٹکے تھے اور انہوں نے بڑی توجہ سے پوری تقریب میں مقررین کو سنا اور داد بھی دیتے رہے اس سے پہلے میں یہ بتاتا چلوں کہ تقریب تھوڑی تاخیر سے شروع ہوئی تھی تو اسی ڈرائنگ روم میں محترم اصف گلزار نے ٹائم پہ اگے پیچھے کا موضوع چھیڑ دیا تھا اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ ٹائم اٹومیٹک سیٹ ہو جائے گا اور مینول طریقے سے اس ٹائم کو اگے پیچھے سردی گرمی میں کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اس پر محترم شوکت اشفاق صاحب نے بتایا کہ یورپین ممالک میں ایسا ہو چکا ہے جس پر محترم علی رضا گردیزی صاحب نے حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں سردی گرمی میں اپنی گھڑیوں کو گھنٹہ ادھا گھنٹہ اگے پھر واپس پیچھے نہیں کرنا پڑے گا تو ان کو جواب دیا گیا جی بالکل ایسا ہی ہوگا پھر تقریب کا باقاعدہ اغاز ہو گیا کچھ مہمان باہر جہاں پر لوح اعزاز کو نصب کیا گیا تھا اس کی نقاب کشائی کے موقع پر گھر کے باہر چلے گئے اور باقی مہمان ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھے رہے وہاں لوح اعزاز کی نقاب کشائی کے بعد کمشنر ملتان عامر کریم صاحب ڈرائنگ روم میں تشریف لے ائے اور فرنٹ پر لگائے گئے صوفے پر ان کے ساتھ محترم حمید رضا صدیقی صاحب کو بھی بٹھا دیا گیا اور پروفیسر نسیم شاہد صاحب بھی بیٹھ گئے اب محترم عثمان صاحب نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سنبھال لیے اور تقریب کا باقاعدہ اغاز کیا محترمہ انٹرنیشنل قاریہ نسرین اختر اسسٹنٹ پروفیسر بی زیڈ یو شعبہ اسلامیات نے تلاوت اور پھر نعت پڑھنے کی سعادت حاصل کی اس کے بعد پہلے مقرر محترم ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا صاحب کو بلایا گیاتو انہوں نے بتایا کہ پروفیسر نسیم شاہ صاحب کے ساتھ ان کا پہلا تعارف فیس بک سے 2016 میں ہوا تھا انہوں نے پروفیسر نسیم شاہد صاحب کو فیس بک فرینڈ کی ریکویسٹ بھیجی جو کہ فوراً قبول کر لی گئی ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ وہ بھی سائنس کالج میں پڑھتے رہے ہیں جہاں پر محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب پرنسپل ریٹائر ہوئے تھے پھر ان کے ساتھ تعلق دوستی میں بدل گیا اور پھر وہ ایک ہی کالونی کے مکین بن گئے اور پھر کالونی کے چند لوگ اکیلے اکیلے واک کیا کرتے تھے تو ایسے میں محترم نسیم شاہ صاحب کو واکاں ٹاکاں شاکاں کا سربراہ بنا دیا گیا دوستوں کو کیا معلوم تھا کہ جس کو وہ سربراہ بنا رہے ہیں اس نے اپنی زندگی بڑے نظم و ضبط اور ایک بڑے کالج کے پرنسپل ہو کر ریٹائر ہوئے ہیں پھر کیا تھا اندھی ہو طوفان ہو بارش ہو حتی کہ دھند میں ایک فٹ بھی نظر نہ اتا ہو پروفیسر نسیم شاہد صاحب نے واکاں ٹاکاں شاکاں کے ممبران کو اکٹھا کرنا اور ان کی شرکت کو لازمی بنا رکھا ہے اس واک تحریک میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی انہوں نے کہا واکاں ٹاکاں کا مطلب تو وہ جانتے ہیں لیکن اج تک شاکاں کا مطلب وہ نہیں جان سکے پھر انہوں نے محترم کمشنر ملتان عامر کریم خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ملتان کے اہل ادب اہل علم دانشوروں کی سراہتے ہوئے ان کے گھروں پر یہ لوح اعزاز نصب کرنے کا اقدام اٹھایا ہوا ہے اور اس تقریب میں کمشنر صاحب خود بھی شرکت کرتے ہیں پھر انہوں نے پروفیسر نسیم شاہد صاحب کو مبارکباد دی اس کے بعد جس شخصیت کو بلایا گیا وہ پروفیسر سجاد نعیم صاحب تھے انہوں نے مائک سنبھالتے ہی کہا کہ ان کے پروفیسر نسیم شاہد صاحب سے تین رشتے ہیں ایک تو وہ بھی ایم اے اردو ہیں اور انہوں نے بھی ایم اے اردو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی سے کیا ہوا ہے اور تیسرا اب ان سے دوستی محبت اور تعلق کو اج ایک عشرہ گزر چکا ہے ہمیں اس وقت پتہ چلا کہ منتظم اور ماتحت کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے جب وہ سائنس کالج کے پرنسپل بنکر آ ئے اور جب انہوں نے یہ رویہ عملی طور پر اختیار کر کے ہمیں دکھایا تو ہم نے دیکھا کہ اس سے ماتحتوں سےکام لینا اسان ہو جاتا ہے پھر پروفیسر سجاد نعیم کہنے لگے کہ پروفیسر نسیم شاہد صاحب کی شخصیت کے بہت سارے پہلو ہیں جن کو سمجھنا اسان نہیں ہاں یہ بتا دیتا ہوں کہ اگر اپ پروفیسر نسیم شاہدصاحب کو جاننا سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر ان کی محفل میں اپ کو ان کے ساتھ بیٹھنا ہوگا جس پر سٹیج پر موجود محترم کمشنر ملتان عامر کریم خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ اپ دیکھ لیں کہ میں اج بھی پروفیسر نسیم شاہد کے ساتھ بیٹھا ہوں تو حاضرین ہنس دئیے پھر انہوں نے تجویز دی کہ ملتان میں درخت لگانے کی ایک مہم شروع کی جائے جس میں ایک ملتانی ایک درخت کے حوالے سے یہ سلسلہ شروع کیا جائے اپنی اظہار خیال کے بعد جیسے ہی وہ مائک کو چھوڑنے لگے تو اچانک وہ ایک ایسا جملہ کہہ گئے جو کہ پوری تقریب میں اس کی اواز گونجتی رہی وہ یہ تھا کہ محترم نسیم شاہ صاحب کے گھر کے باہر لوح اعزاز تو نصب ہو گئی ہے لیکن اب پروفیسر نسیم شاہد صاحب اپنے گھر کو نہیں فروخت کر سکیں گے پھر کیا تھا قہقہے ہنسی اور حاضرین تالیاں بجاتے رہے اس کے بعد محترمہ صائمہ نورین بخاری صاحبہ کو اظہار خیال کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس تقریب میں خصوصی طور پر لے کر ائی ہیں جب انہوں نے کہا وہ نیم بزرگ ہیں (تو میرے ساتھ بائیں نشست پر بیٹھے محترم شاعری ادیب مختار کلیم نے مجھے کہا آ غا صاحب نیم بزرگ ایک خوبصورت لفظ ہے پھر میں نے کہا ہم دونوں بھائی بھی نیم بزرگ ہیں)... وہ آ ج ان جنزی بچوں کو دکھانا چاہتی ہیں کہ اپس میں ادب و احترام اور محبت کے رشتوں کو کیسے نبھایا جاتا ہے میرے لیے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں نے اس تقریب میں شرکت کی اور وہ اس پر پروفیسر نسیم شاہد صاحب کا خصوصی شکریہ بھی ادا کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب نے 15 ہزار سے زیادہ کالم لکھ چکے ہیں اور میں صرف یہ کہنا چاہیں گی کہ ان کے کالمز میں رنگینی تو ہوتی ہے لیکن سنگینی نہیں ہوتی پھر انہوں نے محترم کمشنر صاحب سے درخواست کی کہ بوسن روڈ پر ایک ایمرجنسی سینٹر بھی قائم کیا جائے اور شہر میں کوڑا کرکٹ کے حوالے سے مزید موثر اقدام اٹھانے کے لیے کوششیں کی جائیں اس کے بعد محترم ایس ایس پی ریٹائرڈ شریف ظفر صاحب کو ڈائس پر ا کر اظہار خیال کرنے کی دعوت دی محترم شریف ظفر صاحب کا انداز بیاں بھی محبتانہ ہوتا ہے اور انداز تحریر بھی محبتیں جھلکتی ہیں انہوں نے مائک سنبھالتی کہا کہ وہ بنیادی طور پر سپورٹس مین ہیں اج جب اس خوبصورت تقریر میں شرکت کے لیے ائے اور یہ محفل دیکھی تو ان کی تھکاوٹ اتر گئی ہے اج پروفیسر نسیم شاہد صاحب کے گھر پر لوح اعزاز کی تختی کے نصب ہونے کے بعد اب ان کو سکہ بند ادیب تسلیم کر لیا گیا ہے اور اعتراف بھی کر لیا گیا ان کا خیال ہے کہ ستائش اور اعتراف میں بھیگی یہ تختی دراصل روح کو تقویت اور طاقت دیتی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر سے بہتر انداز سے پیش کرتے رہیں پھر ہنس کر کہنے لگے کہ محترم نسیم شاہد صاحب جڑی بوٹیوں کا مجموعہ ہے پرانے دوستوں کے تو وہ عاشق ہیں نئے دوستوں کے ساتھ بھی محبت کی ایسا تعلق رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں وہ اج تک بھی پریشان ہیں کہ پروفیسر نسیم شاہد صاحب اتنے سارے کرداروں سے نبھا کیسے کر لیتے ہیں بہرحال اج ان کے اعزاز میں جو تقریر سجائی گئی ہے اسے مدتوں یاد رکھا جائے گا اور وہ کمشنر ملتان محترم عامر کریم خان کا دانشوروں ادیبوں اہل علم اہل قلم کی حوصلہ افزائی کے لیے اس اقدام کی تعریف کرتے ہیں انہوں نے اب تک 18 دیواروں پر تو یہ لوح اعزاز کی تختی نصب کر دی ہے جبکہ لاکھوں دلوں پر میں امید کی کرن بھی جگادی ہے اس کے بعد سابق ڈائریکٹر ریڈیو اسٹیشن ملتان براڈ کاسٹر محترم خورشید ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گاؤں کے ایک دوست کا جملہ ہی دہرا دیتے ہیں وہ یہ تھا کہ جب اس کو سٹیج پر بلایا جاتا تو وہ ا کر صرف یہ جملہ کہتا کہ اب تک جتنی باتیں سٹیج پر مقررین نے کر دی ہیں وہ سب کی تائید کرتے ہیں اس پر حاضرین نے تالیاں بجائیں انہوں نے کہا کہ وہ کسی کی ایسے ہی تعریف نہیں کر رہے دراصل انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے افسر دیکھے ہیں مگر جس افسر نے بھی جداگانہ بے لوث ہو کر کام کیا تو ان کو ہمیشہ یاد رکھا گیا ہے اور ان کی تعریف کی گئی ایسے ہی محترم کمشنر عامر کریم خان صاحب کا یہ سلسلہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا محترمہ صائمہ نورین کی تجویز کی وہ تائید کرتے ہیں کہ اگر موٹر سائیکل پر خلاف ورزی کی جاتی ہے تو فورا چالان ہو جاتا ہے تو گندگی کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کا چالان کیوں نہیں کیا جاتا پھر انہوں نے کہا کہ پروفیسر نسیم شاہد صاحب کے شاعری کے تو بہت سارے عاشق ہوں گے مگر وہ ان کے کالم کے عاشق ہیں پھر انہوں نے محترم کمشنر ملتان سے کہا کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ 20 سال سے ملتان میں شعبہ موسیقی ختم ہو چکا یا آ خری سانسیں لے رہی ہے کبھی ریڈیو پر شعبہ موسیقی کو عروج حاصل تھا اور امیر خسرو کے کلام پیش کیے جاتے تھے اس کے بعد میڈم لبنیٰ عابدی کوئی اظہار خیال کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی میں جب ایم اے اکنامکس کی طالبہ تھی اور نسیم شاہد صاحب ایم اے اردو کے طالب علم تھے تو پہلی بار ان کی ان سے ملاقات ہوئی تھی یعنی نسیم شاہد ایک لڑکے اور وہ ایک لڑکی تھی جیسے ہی انہوں نے یہ جملہ کہا تو حاضرین ہنس پڑے تو کسی نے بلند آواز سے واہ کہا انہوں نے کہا کہ وہ شاعرہ تھیں اور اکثر یونیورسٹی کے مشاعروں میں حصہ لیا کرتی تھی اس وقت کے نسیم شاہد جو کہ ایک دبنگ دلیر متحرک جوشیلے تھے مگر ان میں منافقت نام کی کوئی چیز نہیں تھی آ ج بھی ویسے ہی ہیں پھر کہا وہ کافی عرصے بعد ملتان واپس آ ئی ہیں اور اج بھی اپنے یونیورسٹی زمانے اور اپنے اس یونیورسٹی فیلو جن میں شوزب کاظمی بھی شامل تھے وہ اس یونیورسٹی زمانے کو اج بھی یاد اور محسوس کرتی ہیں پھر انہوں نے کہا کہ انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پروفیسر نسیم شاہد کے واکاں ٹاکاں شاکا ں میں شرکت کریں لیکن وہ کوشش کے باوجود بھی اس میں شرکت نہیں کر سکی ہیں تاہم وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کو یہی بتانا چاہتی ہیں کہ وہ باقاعدگی سے اپنے گھر پر ایکسرسائز کرتی ہیں یہ ان کی چلائی گئی تحریک ایکسرسائز کی کامیابی ہی ہے پھر ماہر تعلیم محترم حمید رضا صدیقی صاحب کو سٹیج پر انے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے پہلا جملہ ہی ایسا کہا کہ حاضرین محفل ہنس پڑے اور تالیاں بجانے لگے وہ یہ تھا کہ انہوں نے اب تک مقررین سے جو سنا ہے اس کے بعد تو بس یہی کہنا رہ گیا ہے کہ اب پروفیسر نسیم شاہد کو حوالہ پولیس کر دیا جائے۔۔۔ پھر کہنے لگے کہ پروفیسر نسیم شاہد حق بات کہتے ہیں جانتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں بولنا ان کا اگر دائیں ہاتھ کا کام ہے تو لکھنا ان کا بائیں ہاتھ کا کام ہے یہ کہنے لگے کہ میرے اور نسیم شاہد صاحب کا تعلق کتنا پرانا ہے بس یہ سمجھ لیں جتنا ملتان قدیم ہے پھر کہنے لگے پروفیسر نسیم شاہد صاحب کو پرانی چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ تو ہال میں چہ مہ گوئیاں ہونے لگی تو پروفیسر حمید رضا صدیقی صاحب نے فورا صورتحال کو بھانپتے ہوئے کہ بات کسی اور جانب چل نکلی ہے تو کہا بھائی نسیم شاہد کے بارے میں پرانی کتابوں کی بات کی ہو۔۔۔ تو ہال میں پھر تالیاں بجنے لگیں پھر کہنے لگے پروفیسر نسیم شاہد صاحب بات کرنے کا ڈھنگ بھی جانتے ہیں اور بولنا تو ان کو خوب اتا ہے تو ایک بات دعوے سے کہتے ہیں کہ خواتین ان کے سامنے بولنے کا مقابلہ میں جیت نہیں سکتی ہیں پھر کہنے لگے کہ میرا نسیم شاہد کے پرانے تعلق پر تاریخ بھی خاموش ہے ان سے تعلقات کس نوعیت کے اور کیوں تھے بس وہ اتنا جانتے ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ خوش قسمتی ہے کہ وہ پروفیسر نسیم شاہد کے دور میں موجود ہیں پھر انہوں نے محترم کمشنر ملتان عامر کریم خان کی اس بے لوث کاوش کو بھی سراہا اس کے بعد محترم کمشنر ملتان عامر کریم خان سٹیج پر ائے تو کہنے لگے کہ وہ اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں یہ ان کو کسی کام کا خیال اتا ہے اور وہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں لگ جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی کریڈٹ کی بات نہیں بلکہ وہ تو صرف ذریعہ بنتے ہیں پھر کہنے لگے کہ یہاں پر درخت لگانے کے حوالے سے بات ہوئی تو وہ یہ بتاتے چلیں کہ انہوں نے 11 ہزار ایکڑ پر درخت لگانے کا ٹاسک دیا ہوا ہے اور وہ درخت بھی کم از کم پانچ فٹ ہوں کے ہوں گے ان کی پوری دیکھ بھال کی جائے گی اور نمبردار اس کا ذمہ دار ہوگا اس کی باقاعدہ مانیٹرنگ بھی کی جائے گی اور جو نمبردار اس فیصلے کو نہیں مانے گا تو وہ پھر اس کی نمبرداری ختم کر دی جائے گی البتہ انہوں نے درخت لگانے کے حوالے سے یہ چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ درخت پھل دار لگائیں یا سایہ دار لیکن لگیں گے ضرور۔۔۔ اور ہر ایکڑ پر پانچ درختوں کو لگایا جائے گا پھر ازراہ مذاق نسیم شاہد صاحب کو دیکھ کر کہنے لگے کہ پروفیسر صاحب گلاب کی قلمیں لگا کر ان کو درخت سمجھا اور کاؤنٹ نہیں کیا جائے گا پھر کہنے لگے کہ یہاں پر صفائی کے حوالے سے بات کی گئی تو یہ بتاتے چلیں کہ انہوں نے 22 ممالک کا وزٹ کر رکھا ہے تو یہ واحد ہمارا ملک ہے جہاں پر ہم یہ جگہ جگہ کنٹینر رکھنے کے باوجود گندگی کو باہر پھینکنے کے مناظر دیکھتے ہیں پھر اس سلسلے میں تحقیق کی تو پتہ چلا تین وجوہات ہیں پہلا تو کنٹینر سے پہلے ہی کوڑا پھینک دیتے ہیں اس لیے کہ وہاں پہلے کوڑا پڑا ہوتا ہے دوسرا کنٹینر سے پہلے کوڑا پھینکے جانے کی جو بدبو ہوتی ہے اس وجہ سے کنٹینر میں کوڑا نہیں پھینکا جاتا ہے اور کچھ لوگ دور سے ہی کنٹینر میں کوڑا پھینکنے کے لیے نشانہ لگاتے ہیں پھر کہنے لگے کہ اج اہل علم دانشوروں کی محفل ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پہ بات کرنی چاہیے پھر کہنے لگے کہ مسجد کے واش روم جو کہ چند فٹ کے فاصلے پر ہوتے ہیں لیکن وہاں پر جانے والے فلش درست طریقے سے اس کو صاف نہیں کرتے نہ پانی بہاتے ہیں ہمیں اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر نہیں ڈالنی ہوں گی ہمیں خود ان ذمہ داریوں کو محسوس اور اس پر عمل بھی کرنا ہوگا پھر کہنے لگے کہ وہ گزشتہ دنوں کینیڈا اور امریکہ 15 دن گزار کر ائے ہیں اور وہاں پر ان کو دوران سفر خیال ایا کہ ایک مضمون لکھا جائے جس کو نصاب میں شامل کیا جائے چنانچہ انہوں نے پوزیشن لینے والے 19 بچوں کو دعوت دی تو ان سے کچھ سوال کے ان سے پوچھا گیا کہ سڑک کو کیسے کراس کرنا چاہیے پھر پارک ریلوے اسٹیشن ان کے حوالے سے وہاں جانے والے شہریوں کو صفائی کا کیسے خیال کرنا چاہیے پبلک واش روم میں جائیں تو اس کو کیسے استعمال اور صحیح طریقے سے صاف رکھنا چاہیے اجنبی لوگوں سے کیسے بات چیت اور ڈیل کرنی چاہیے تو بچے خاموش تھے پھر میں نے ان کو کہا کہ اپ میری عمر کو دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ تجویز پیش کریں بطور مجھے بڑا بھائی سمجھیں جس پر بچوں نے کہا کہ ان کو ان کی درسگاہوں میں ایسی کوئی چیز نہیں پڑھائی گئی ہے نہ سکھائی گئی پھر بتانے لگے کہ انہوں نے بچوں کو کہا ہے کہ جو بھی ان کے محلے میں کالونی میں دکانوں کے اگے تجاوزات پھیلا دیتا ہے تو پہلے تو اس کو بغیر بدتمیزی کیے سمجھا دیں اگر وہ پھر بھی نہ سمجھے تو پھر اپ اس سے خریداری کرنا چھوڑ دیں اور کمفرٹ زون سے باہر نکلیں پھر کمفرٹ زون سے باہر نکلیں دوسرے دکاندار سے خریداری کریں اور اس شاپر کو لے کر اس تجاوزات پھیلانے والے دکاندار کے سامنے سے گزرے گلی محلے اور کالونیوں میں اس دکاندار کے 30' 40 خریدار گھر ہوتے ہیں جب دیکھا دیکھی ایسا معاملہ ہوگا تو وہ خود ہی اخلاقی طور پر مجبور ہو جائے گا پھر محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ کریانہ کا زمانہ تو نسیم شاہد صاحب کا ہے ان کا زمانہ تو ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا ہے اس پر پروفیسر نسیم شاہد صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کمشنر صاحب میں سب چیزیں برداشت کر لوں گا مگر میں اپنی عمر پر بات کو برداشت نہیں کروں گا اس پر حاضرین ہنسنے لگے پھر محترم کمشنر صاحب یہ بتانے لگے کہ بہت جلد مساجد میں جمعہ کے خطاب میں ایک جمعہ دینی باتوں کے بعد معاشرتی مسئلہ جیسے ان کہ تجاوزات ' ناپ تول میں کمی صفائی کو دینی حوالے سے بھی بیان کریں گے اور انہیں امید ہے کہ ایسا کرنے سے دو تین سال میں بہتری ائے گی اس کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ ایک ہی بات پر یقین رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کام کرنے کے لیے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہوگا اس کے بعد اس تقریب کے دولہا محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب کو اظہار خیال کے لیے بلایا گیا تو مائک سنبھالتے ہی انہوں نے کہا کہ اپنی اس 40 '45 سالہ علمی وہ ادبی زندگی میں جبکہ وہ 15 ہزار کالم بھی لکھ چکے ہیں تو وہ اج برملا یہ بتاتے ہیں اور ان کے حوالے سے جو یہ بات ہے کہ ان کی کسی افسر سے نہیں بنتی بالکل درست ہے لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میری کسی افسر سے نہیں بنتی لیکن اس افسر کے اندر اگر ایک مثبت سوچ اور بے لوث شخص موجود ہے تو اس سے اس کی خوب بنتی ہے اور ایسا ہی وہ شخصیت کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان بھی ہیں وہ ایک ایسے انسان ہیں جن کا سٹائل اور کام کرنے کا انداز بھی الگ ہے یہاں پر محترم شریف ظفر صاحب بیٹھے ہوئے ہیں وہ گواہ ہیں اور جب وہ انسپیکٹر پولیس تھے ہم نے تو اس وقت ایک رسالہ پولیس میگ نکالا تھا جس کے وہ ایڈیٹر تھے اور یہ ذمہ داری پولیس کے سربراہ سردار محمد چودھری صاحب نے دی ان کے بعد محترم جاوید نور صاحب اور مرزا احمد علی صاحب جیسے افسران بھی ائے ان سب کا یہ کہنا تھا کہ اس پولیس میگ کی کامیابی کے پیچھے پروفیسر نسیم شاہد صاحب کی انتھک محنت شامل ہے لہذا ان کو کسی قیمت پر ناراض نہیں کرنا پھر بتانے لگے کہ پولیس میگ ایک ایسا رسالہ تھا جو بڑی تعداد میں شائع کیا جاتا تھا اور مارکیٹ میں باقاعدہ فروخت ہوا کرتا تھا پھر اچانک پروفیسر نسیم شاہد صاحب نے ایک محترمہ منسٹر پنجاب کا انداز اپنا لیا اور حاضرین محفل کے سامنے یہ کہنے لگے ۔۔۔ہاں بھئی عامر کلیم خان سے میری یاری ہے ۔۔۔۔یہ انداز دیکھ کر حاضرین محفل ہنسنے لگے پھر کہنے لگے کہ ان کے ایک دوست محترم افضل شیخ صاحب نے ایک دن کمشنر صاحب سے پوچھا تھا کہ ایسی کیا بات ہے کہ پروفیسر نسیم شاہد اپ واری ہیں جبکہ اس کے اکثر افسران سے نہیں بنتی پھر کہنے لگے کہ میں تو اپنے خلاف کمنٹس کرنے والوں کو بھی لائک کر دیتا ہوں ان کو کسی قسم کا جواب نہیں دیتا یہ لائک کمنٹ ان کے لیے موت ہے پھر مجھے جو کہ سٹیج سے تیسری لائن میں بیٹھا تھا کمشنر صاحب کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ جو لال ٹوپی والا باریش شخص بیٹھا ہے تو یہ کبھی ایک خوبرو خوبصورت جوان تھا اور دبنگ صحافی تھا اس کا نام اغا محمد علی خان ہے میرا شاگرد ہے اور بڑی محنت لگن سے اس وقت اپنے صحافتی سلسلوں کو اور اپنے نجی چینل کو چلا رہا ہے تو اپ اسے ایسا ویسا ہرگز نہ سمجھیں جہاں تک اس کے اس باریش ہونے کا تعلق ہے یہ تو مجھے بھی نہیں ابھی تک پتہ چلا ہے جب پتہ چل جائے گا تو میں بتا دوں گاپھر جب محترم نسیم شاہد صاحب نے یہ ذکر کیا کہ انہوں نے تین مارشل لاء کے دور دیکھے ہیں اور ایک سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کالمز میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے تو ایسے میں محترم انٹرنیشنل کرکٹ ایمپائر پروفیسر جاوید ملک نے یہ کہا نسیم صاحب وہ اپنے پنڈی گھیپ ٹرانسفر کا تو بتائیں اس پر پروفیسر نسیم شاہ صاحب نے صرف اتنا کہا کہ وہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر کھوتوں پر بیٹھ کر جایا جاتا ہے اصغر ندیم سید صاحب اور بڑے بڑے نامور سرکاری شخصیات کو وہاں ٹرانسفر کر دیا جاتا تھا تو ان کو بھی ایک بار وہاں ٹرانسفر کیا گیا تھا لیکن وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے وہاں جانے سے بچ گئے تھے ایسے میں سٹیج پر بیٹھے کمشنر ملتان محترم عامر کریم خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ دراصل وہاں اس لیے ٹرانسفر کیا جاتا ہوگا کہ ان کی اصلاح مقصود ہوگی۔۔۔۔ اس پر حاضرین ہنسنے لگے اس کے بعد نسیم شاہد صاحب نے کہا اپ نے درست کہا ہے شاید وہاں چلا جاتا تو میرا سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ ہو جاتا پھر کہنے لگے کہ محترمہ لبنی عابدی سے یونیورسٹی دور کا تعلق ہے وہ ان کی کلاس فیلو ہیں 1981 کی بات ہے کہ ایک رنگ برنگی گاڑی انتہائی خوبصورت تھی مجھے بے حد پسند تھی اور اس پر میرا دل اگیا تھا اس پر فوری طور پر ہال میں سے پوچھ لیا گیا کہ کیا گاڑی پر ہی آ پ کا دل ایا تھا !!! پھر کہنے لگے جی ہاں گاڑی پر ہی ایا تھا لیکن اپ یہی سمجھ لیں ان کی دوستی بہت پاکیزہ اور بہت اچھی ہے اور وہ ان کی بے پناہ عزت و احترام بھی کرتے ہیں پروفیسر نسیم شاہد صاحب کہنے لگے کہ اس وقت ملتان سنہری دور سے گزر رہا ہے تخریب کے بعد ہی تعمیر ہوتی ہے پہلے جو لوگ نشتر میڈیکل کالج یا ہسپتال کو جانے والے راستے پر تنقید کرتے تھے کہ توڑ پھوڑ دیا ہے اس اہم ترین راستے کو تو اب جا کر دیکھیں کہ کیا خوبصورت کارپیٹڈ روڈ بن گیا ہے میرے محترم دوست ڈاکٹر نجم جمشید صاحب بھی اکثر مجھے فون کر کے کہا کرتے تھے پروفیسر صاحب نشتر روڈ تباہ ہو گیا ہے اج اس روڈ کو دیکھ کر وہ بھی خوش ہوئے ہوں گے میں صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ جب اپ کسی گھر کو جگہ کو بھی توڑ تےپھوڑتے ہیں تب ہی نئی تعمیرات ہوتی ہیں تبھی نئی لک اتی ہے پھر جوش خطابت میں کہنے لگے مجھے بتائیں ملتان کی تاریخ میں کون سا ایسا کمشنر ہے جو ملتان کی تعمیر و ترقی کے لیے 24 ارب روپے کے فنڈز لے کر ائے ہیں اور اج یا کل جلد ان پر تعمیراتی کام مکمل ہو جائیں گے پھر کہنے لگے کہ وہ ایک بات اخر میں ضرور کہیں گے کہ ملتان والوں کو عامر کریم جیسا شخص نہیں ملے گا جو دفتر کی ٹھنڈی ہواؤں میں مزے سے بیٹھ کر کام نہیں کرتا بلکہ دھوپ گھر میں بارش اندھی میں نکل کر فیلڈ میں جاتا ہے اور اپنے شروع کیے گئے منصوبوں پر اس کی گہری نظر ہے اور اس کا یہ جملہ مجھے بھی پسند ہے کہ کام کرنے کے لیے اپنے کمفرٹ زون سے باہر انا ہوگا اس طرح یہ دو گھنٹے تک چلنے والی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی لان میں ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا تھا اور تقریب کے اختتام سے قبل واقع واکاں ٹاکاں شاکا ں کے ممبران نے پانچ پاؤنڈ کا کیک بھی منگوا کر رکھا ہوا تھا جسے کمشنر ملتان عامر کریم خان نے کاٹا اور یہ یادگار محفل اپنے اختتام کو پہنچی ۔۔۔۔ شکریہ محترم پروفیسر نسیم شاہد صاحب
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید

۔
۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Qalam TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share