11/06/2026
سینئر صحافی آ غا محمد علی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"خوبصورت پاکستان" دی قلم ٹی وی چینل کا نیا معلوماتی سلسلہ۔۔۔۔۔
آ ج پڑھئے اور جانئے
"کٹورہ جھیل"کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ قدرت اپنے کچھ راز دنیا کی نظروں سے دور، بلند پہاڑوں اور خاموش وادیوں میں چھپا کر رکھتی ہے، اور خیبر پختونخوا کی وادی کمراٹ میں واقع کٹورہ جھیل بھی انہی رازوں میں سے ایک ہے۔
جب ایک مسافر کمراٹ کی سرسبز وادی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے سامنے دیودار کے گھنے جنگلات، شور مچاتے جھرنے اور بادلوں سے باتیں کرتے پہاڑ آ جاتے ہیں۔ سفر آگے بڑھتا ہے تو جہاز بانڈہ کے وسیع سبز میدان استقبال کرتے ہیں، جہاں ہوا میں جنگلی پھولوں کی خوشبو اور فضا میں ایک عجیب سی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اصل حیرت ابھی باقی ہوتی ہے۔
کئی گھنٹوں کی دشوار مگر دلکش پیدل مسافت کے بعد اچانک پہاڑوں کے درمیان ایک نیلگوں منظر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ کٹورہ جھیل ہوتی ہے، جو اپنے نام کی طرح ایک بڑے پیالے کی شکل میں بلند چوٹیوں کے دامن میں سجی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے برفیلے پہاڑوں کے درمیان نیلے رنگ کا ایک قیمتی نگینہ رکھ دیا ہو۔
جھیل کا پانی اس قدر شفاف ہوتا ہے کہ اس میں آسمان، بادل اور برف سے ڈھکی چوٹیاں اپنا عکس بناتی نظر آتی ہیں۔ سورج کی روشنی جب پانی پر پڑتی ہے تو جھیل کبھی فیروزی، کبھی زمردی سبز اور کبھی گہرے نیلے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ اس دلکش منظر کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کسی مصور نے اپنے تمام خوبصورت رنگ ایک ہی تصویر میں سمو دیے ہوں۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ کٹورہ جھیل کا پانی اردگرد کے گلیشیئرز سے آتا ہے، اسی لیے یہ ہمیشہ ٹھنڈا اور شفاف رہتا ہے۔ جھیل کے کنارے بیٹھ کر جب انسان پہاڑوں کی خاموشی سنتا ہے تو شہر کا شور، روزمرہ کی مصروفیات اور زندگی کی تھکن کہیں دور رہ جاتی ہے۔
گرمیوں کے موسم میں ہزاروں سیاح اور مہم جو اس جھیل کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ کوئی اس کی خوبصورتی کو اپنے کیمرے میں قید کرتا ہے، کوئی خاموشی سے اس کے کنارے بیٹھ کر قدرت کے نظاروں میں کھو جاتا ہے، اور کوئی اس لمحے کو اپنی زندگی کی یادگار ترین یاد قرار دیتا ہے۔کٹورہ جھیل صرف ایک جھیل نہیں بلکہ قدرت کی لکھی ہوئی ایک ایسی خاموش داستان ہے، جو ہر آنے والے مسافر کو یہ احساس دلاتی ہے کہ پاکستان کے شمالی پہاڑوں میں آج بھی ایسے بے شمار خزانے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: "قدرت واقعی اپنے شاہکار تخلیق کرنا جانتی ہے۔"