06/08/2026
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنزہ وادی کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برف سے ڈھکی ہوئی بلند و بالا چوٹیاں، نیلے آسمان کے نیچے چمکتے گلیشیئر، شفاف دریا، سرسبز باغات، خوبانی اور چیری کے درخت، مسکراتے ہوئے لوگ اور سکون سے بھرپور فضائیں… یہ سب مل کر پاکستان کے شمال میں واقع ہنزہ وادی کی ایسی تصویر بناتے ہیں جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اپنے تمام رنگ ایک ہی جگہ سجا دیے ہوں۔ گلگت بلتستان کے شمالی حصے میں واقع ہنزہ وادی سطح سمندر سے تقریباً آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر آباد ہے اور دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔
ملتان سے ہنزہ جانے کے کئی راستے ہیں۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا راستہ ملتان، لاہور، اسلام آباد، حسن ابدال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بشام، داسو، چلاس، گلگت اور پھر شاہراہِ قراقرم کے ذریعے کریم آباد ہنزہ پہنچتا ہے۔ یہ سفر سڑک کے ذریعے تقریباً 1,050 سے 1,150 کلومیٹر بنتا ہے اور ٹریفک و موسم کے مطابق 18 سے 22 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لے سکتا ہے۔ دوسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسلام آباد سے گلگت یا اسکردو کی پرواز لے کر وہاں سے سڑک کے ذریعے ہنزہ پہنچا جائے، جس سے سفر کافی آرام دہ ہو جاتا ہے۔ہنزہ کا نام کہاں سے آیا، اس بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اس وادی کے قدیم حکمران خاندان اور یہاں آباد قدیم قبیلوں کی نسبت سے اس علاقے کو ہنزہ کہا جانے لگا۔ کچھ مؤرخین اسے قدیم مقامی زبان کے ایک لفظ سے جوڑتے ہیں، جس کا تعلق اس سرزمین کی شناخت سے تھا۔ اگرچہ اس نام کی ایک متفقہ تاریخی وجہ موجود نہیں، لیکن صدیوں سے یہی نام پوری دنیا میں اس حسین وادی کی پہچان بن چکا ہے۔
ہنزہ کے لوگ اپنی مہمان نوازی، شائستگی، دیانت داری اور خوش اخلاقی کے لیے مشہور ہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ بروشسکی، شینا اور وخی زبانیں بولتے ہیں، جبکہ اردو بھی بخوبی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ مقامی لوگ تعلیم کو بہت اہمیت دیتے ہیں، اسی لیے خواندگی کی شرح پاکستان کے کئی علاقوں سے زیادہ ہے۔ ان کی سادہ زندگی، صاف ستھرا ماحول، متوازن خوراک اور پیدل چلنے کی عادت اکثر سیاحوں کو متاثر کرتی ہے۔
ہنزہ کی خوبصورتی صرف پہاڑوں تک محدود نہیں بلکہ یہاں کے تاریخی قلعے، جھیلیں اور وادیاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ Baltit Fort سات سو سال سے زیادہ پرانا شاہکار ہے، جبکہ Altit Fort اپنی قدامت اور منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے بے حد مشہور ہے۔ Attabad Lake کا فیروزی پانی، Passu Cones کی نوکیلی چوٹیاں، Khunjerab Pass، Eagle's Nest اور حسینا گاؤں ہر آنے والے کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتے ہیں۔
ہنزہ میں ہر بجٹ کے مطابق رہائش دستیاب ہے۔ کریم آباد، عطاآباد جھیل اور پاسو کے اطراف چھوٹے گیسٹ ہاؤسز سے لے کر معیاری ہوٹل موجود ہیں۔ کم بجٹ والے مسافر مناسب قیمت پر آرام دہ قیام حاصل کر سکتے ہیں جبکہ بہتر سہولیات کے خواہشمند افراد کے لیے اعلیٰ معیار کے ہوٹل بھی دستیاب ہیں۔ مقامی ریسٹورنٹس میں پاکستانی، چائنیز اور روایتی ہنزہ کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ خوبانی سے تیار کی جانے والی اشیاء، مقامی روٹی، چپشورو، یاک کے دودھ سے بنی بعض غذائیں اور خشک میوہ ضرور چکھنا چاہیے۔
اگر آپ ہنزہ کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو روانگی سے پہلے ہوٹل کی پیشگی بکنگ کر لینا بہتر ہے، خاص طور پر سیاحتی موسم میں۔ شناختی دستاویزات، گرم کپڑے، آرام دہ جوتے، سن گلاسز، سن اسکرین، پاور بینک، بنیادی ادویات اور نقد رقم ساتھ رکھیں کیونکہ بعض علاقوں میں اے ٹی ایم اور موبائل سگنل محدود ہو سکتے ہیں۔ موسم اور شاہراہِ قراقرم کی صورتحال معلوم کر کے ہی سفر شروع کریں۔
ہنزہ جانے کا بہترین وقت اپریل سے جون تک ہے، جب پھول اور باغات پوری بہار پر ہوتے ہیں۔ جولائی اور اگست میں موسم خوشگوار رہتا ہے اور زیادہ تر مقامات کھلے ہوتے ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر میں خزاں کے سنہری، سرخ اور نارنجی رنگ پوری وادی کو ایک خوابناک منظر میں بدل دیتے ہیں، جبکہ دسمبر سے فروری تک برف باری کے شوقین افراد کے لیے یہ علاقہ سفید جنت کا منظر پیش کرتا ہے، اگرچہ اس دوران بعض راستے بند بھی ہو سکتے ہیں۔
ہنزہ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت، تاریخ، ثقافت اور سکون کا ایسا حسین امتزاج ہے جہاں پہنچ کر وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ صبح کی پہلی کرن جب برف پوش پہاڑوں پر پڑتی ہے، شام کے وقت سورج کی سنہری روشنی وادی کو جگمگا دیتی ہے، اور رات کو بے شمار ستارے آسمان پر ایسی محفل سجاتے ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار ہنزہ کی گلیوں، باغات، جھیلوں اور پہاڑوں کی سیر کر لیتا ہے، اس کے دل میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔