The Qalam TV

11/06/2026

سینئر صحافی آ غا محمد علی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"خوبصورت پاکستان" دی قلم ٹی وی چینل کا نیا معلوماتی سلسلہ۔۔۔۔۔
آ ج پڑھئے اور جانئے
"کٹورہ جھیل"کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ قدرت اپنے کچھ راز دنیا کی نظروں سے دور، بلند پہاڑوں اور خاموش وادیوں میں چھپا کر رکھتی ہے، اور خیبر پختونخوا کی وادی کمراٹ میں واقع کٹورہ جھیل بھی انہی رازوں میں سے ایک ہے۔
جب ایک مسافر کمراٹ کی سرسبز وادی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے سامنے دیودار کے گھنے جنگلات، شور مچاتے جھرنے اور بادلوں سے باتیں کرتے پہاڑ آ جاتے ہیں۔ سفر آگے بڑھتا ہے تو جہاز بانڈہ کے وسیع سبز میدان استقبال کرتے ہیں، جہاں ہوا میں جنگلی پھولوں کی خوشبو اور فضا میں ایک عجیب سی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اصل حیرت ابھی باقی ہوتی ہے۔
کئی گھنٹوں کی دشوار مگر دلکش پیدل مسافت کے بعد اچانک پہاڑوں کے درمیان ایک نیلگوں منظر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ کٹورہ جھیل ہوتی ہے، جو اپنے نام کی طرح ایک بڑے پیالے کی شکل میں بلند چوٹیوں کے دامن میں سجی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے برفیلے پہاڑوں کے درمیان نیلے رنگ کا ایک قیمتی نگینہ رکھ دیا ہو۔
جھیل کا پانی اس قدر شفاف ہوتا ہے کہ اس میں آسمان، بادل اور برف سے ڈھکی چوٹیاں اپنا عکس بناتی نظر آتی ہیں۔ سورج کی روشنی جب پانی پر پڑتی ہے تو جھیل کبھی فیروزی، کبھی زمردی سبز اور کبھی گہرے نیلے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ اس دلکش منظر کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کسی مصور نے اپنے تمام خوبصورت رنگ ایک ہی تصویر میں سمو دیے ہوں۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ کٹورہ جھیل کا پانی اردگرد کے گلیشیئرز سے آتا ہے، اسی لیے یہ ہمیشہ ٹھنڈا اور شفاف رہتا ہے۔ جھیل کے کنارے بیٹھ کر جب انسان پہاڑوں کی خاموشی سنتا ہے تو شہر کا شور، روزمرہ کی مصروفیات اور زندگی کی تھکن کہیں دور رہ جاتی ہے۔
گرمیوں کے موسم میں ہزاروں سیاح اور مہم جو اس جھیل کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ کوئی اس کی خوبصورتی کو اپنے کیمرے میں قید کرتا ہے، کوئی خاموشی سے اس کے کنارے بیٹھ کر قدرت کے نظاروں میں کھو جاتا ہے، اور کوئی اس لمحے کو اپنی زندگی کی یادگار ترین یاد قرار دیتا ہے۔کٹورہ جھیل صرف ایک جھیل نہیں بلکہ قدرت کی لکھی ہوئی ایک ایسی خاموش داستان ہے، جو ہر آنے والے مسافر کو یہ احساس دلاتی ہے کہ پاکستان کے شمالی پہاڑوں میں آج بھی ایسے بے شمار خزانے موجود ہیں جنہیں دیکھ کر انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: "قدرت واقعی اپنے شاہکار تخلیق کرنا جانتی ہے۔"

11/06/2026

سینئر صحافی آغا محمد علی فرید کی جانب سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سینئر صحافی محترم جمشید رضوانی کو جنم دن کی دلی مبارکباد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج 11 جون کا دن ملتان اور جنوبی پنجاب کی صحافتی برادری کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آج اس شخصیت کا یومِ پیدائش ہے جس نے اپنی محنت، دیانت، جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے صحافت کے میدان میں ایک روشن تاریخ رقم کی۔ جی ہاں، آج سینئر صحافی محترم جمشید رضوانی صاحب کی سالگرہ ہے۔
زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف اپنے لیے نہیں جیتے بلکہ اپنے علم، تجربے اور کردار سے دوسروں کی زندگیوں کو بھی روشن کرتے ہیں۔ جمشید رضوانی صاحب انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کی صحافت میں ان کا نام عزت، اعتماد اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹنگ ہو یا تحقیقی صحافت، حقائق کی تلاش ہو یا عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، انہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
صحافت کے سفر کا آغاز کیا تو یہ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ اسی جذبے، خلوص اور لگن کے ساتھ قلم اور کیمرے کے ذریعے عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبہ تحریک میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے نہ صرف اس خطے کے مسائل کو اجاگر کیا بلکہ صوبے کے حصول کے مطالبے کو ایوانوں تک پہنچانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
ملتان کی تعمیر و ترقی، شہری مسائل کے حل اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے حوالے سے ان کی تجاویز کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ اور عوام دونوں ان کی رائے کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
جمشید رضوانی صاحب کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دوستوں کے دوست اور ہر دل عزیز انسان ہونے کے باعث وہ جہاں بھی جاتے ہیں محبتیں سمیٹ لیتے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا میں ان کی خدمات ایک مکمل داستان ہیں۔ روزنامہ جنگ ملتان اور جیو نیوز ملتان کے بیورو چیف کی حیثیت سے انہوں نے اداروں کو نئی شناخت دی۔ بول نیوز میں ڈائریکٹر آف رپورٹنگ کے فرائض انجام دیئے، امریکہ کے شہر واشنگٹن میں بطور رپورٹر پاکستان کی نمائندگی کی اور رورل ٹی وی ملتان میں ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا بھرپور اظہار کیا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے صحافت کو عبادت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے ہزاروں نوجوانوں کو الیکٹرانک میڈیا کی تربیت فراہم کی۔ آج ملک بھر کے مختلف شہروں اور اداروں میں ان کے شاگرد نمایاں عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ متعدد جامعات میں طلبہ کو صحافت اور الیکٹرانک میڈیا کے موضوعات پر لیکچرز دینا بھی ان کی علمی خدمات کا اہم حصہ ہے۔
صحافتی تنظیموں میں بھی ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ملتان پریس کلب کے مسلسل تین مرتبہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونا ان پر صحافی برادری کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملتان یونین آف جرنلسٹس کے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ساؤتھ پنجاب جرنلسٹس ایسوسی ایشن (سجاج) کے بانی چیئرمین اور یونین آف ڈیجیٹل جرنلسٹس ساؤتھ پنجاب کے بانی ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔
آج بھی وہ اپنی بھرپور صحافتی مصروفیات کے ساتھ ساؤتھ ایشیا ٹو ڈے اور ایک نیوز کے پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں اور ناظرین و قارئین کو معیاری صحافت فراہم کر رہے ہیں۔
محترم جمشید رضوانی صاحب کی سالگرہ کے اس خوشی بھرے موقع پر سینئر صحافی آغا محمد علی فرید اور قلم ٹی وی چینل انتظامیہ کی جانب سے انہیں دل کی گہرائیوں سے جنم دن کی بہت بہت مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوشیوں، عزت، کامیابیوں اور نیک نامی سے بھرپور طویل زندگی عطا فرمائے۔ آپ کا قلم ہمیشہ سچائی، حق اور عوامی خدمت کا علم بلند رکھے، اور آپ کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے۔
سالگرہ مبارک جمشید رضوانی صاحب!
اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور زندگی کے ہر میدان میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین

10/06/2026

تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی (11 تا 12 جون) ⛈️💨
​ملک کے مختلف حصوں میں 11 سے 12 جون کے دوران تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر فوراً اختیار کریں:
​اپنے سولر پینلز کے اسٹینڈز، نٹ بولٹس اور فٹنگ کو اچھی طرح چیک کر کے مضبوط کریں۔ وائرنگ کو محفوظ کریں تاکہ شارٹ سرکٹ نہ ہو۔
​ نازک پودوں اور چھوٹے درختوں کو لکڑی کا سہارا دیں۔ آندھی سے پہلے باغات کو پانی دینے سے گریز کریں تاکہ جڑیں کمزور ہو کر درخت نہ گریں۔
​ آندھی کے دوران چھتوں پر جانے، بجلی کے کھمبوں اور سائن بورڈز کے پاس کھڑے ہونے سے پرہیز کریں۔
​پیشگی احتیاط ہی اصل حفاظت ہے! اس پیغام کو دوسروں کے ساتھ شیئر کر کے اپنوں کو نقصان سے بچائیں۔

بتایا گیا ہے ۔۔۔۔۔ڈیرہ غازیخان  کوٹ چھٹہ میں پولیس کو مطلوب خطرناک  ملزم گرفتاری سے بچنے کے لئے 100 فٹ سے زائد کھجور کے ...
10/06/2026

بتایا گیا ہے ۔۔۔۔۔ڈیرہ غازیخان کوٹ چھٹہ میں پولیس کو مطلوب خطرناک ملزم گرفتاری سے بچنے کے لئے 100 فٹ سے زائد کھجور کے درخت پر چڑھ گیا پولیس کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملزم نے نیچے آنے سے انکار کردیا ریسکیو1122 مدد طلب کر لی ۔۔۔۔

دکھ بھری خبر ۔۔۔۔۔۔ اہل ملتان اداس اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے دی قلم ٹی وی یو...
10/06/2026

دکھ بھری خبر ۔۔۔۔۔۔ اہل ملتان اداس
اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل

09/06/2026

سینئر صحافی آ غا محمد علی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناران ویلی بادلوں، پہاڑوں اور جھیلوں کی ایک سحر انگیز کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمالی پاکستان کے دلکش پہاڑی سلسلوں میں ایک ایسی وادی بھی آباد ہے جہاں پہنچ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان زمین پر نہیں بلکہ کسی خوابوں کی دنیا میں آ گیا ہو۔ یہ حسین وادی ناران ہے، جو ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی خوبصورتی کے سحر میں گرفتار کر لیتی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب سورج کی پہلی کرن برف سے ڈھکی چوٹیوں پر پڑتی ہے تو پورا ناران سنہری روشنی میں نہا جاتا ہے۔ دور دور تک پھیلے سرسبز میدان، آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ، اور ان کے درمیان بہتا ہوا دریائے کنہار ایک ایسی دلکش تصویر بناتے ہیں جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
ناران کی طرف جانے والا سفر بھی کسی کہانی سے کم نہیں۔ جوں جوں گاڑی بلندی کی طرف بڑھتی ہے، موسم خوشگوار ہوتا جاتا ہے، ہوا میں خنکی بڑھ جاتی ہے اور ہر موڑ پر قدرت کا ایک نیا شاہکار سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی آبشاریں چٹانوں سے پھوٹتی دکھائی دیتی ہیں تو کبھی بادل اتنے قریب محسوس ہوتے ہیں جیسے ہاتھ بڑھا کر انہیں چھوا جا سکتا ہو۔
اس حسین وادی کا سب سے خوبصورت نگینہ جھیل سیف الملوک ہے۔ نیلے اور شفاف پانی سے بھری یہ جھیل بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ مقامی لوگ آج بھی شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی محبت کی داستان سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چاندنی راتوں میں جھیل کا حسن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جب پرسکون پانی میں پہاڑوں کا عکس دکھائی دیتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے خود ایک شاہکار تصویر تخلیق کر دی ہو۔ناران صرف جھیلوں اور پہاڑوں کا نام نہیں بلکہ یہ مہم جوئی کا بھی مرکز ہے۔ یہاں سے آگے بابو سر ٹاپ کا سفر شروع ہوتا ہے، جہاں کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان بادلوں کے درمیان پہنچ گیا ہو۔ ٹھنڈی ہوائیں، دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے اور نیچے سبز وادیوں کا منظر دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔گرمیوں میں ناران رنگ برنگے جنگلی پھولوں سے سج جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں یہ پوری وادی برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہے۔ درخت، راستے، پہاڑ اور گھر سب برف میں چھپ جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے ایک نئی دنیا تخلیق کر دی ہو۔
ناران ویلی دراصل ایک ایسی زندہ داستان ہے جو ہر آنے والے کو اپنی خوبصورتی، سکون اور قدرتی حسن سے متاثر کرتی ہے۔ یہاں کا ہر پہاڑ، ہر جھیل، ہر آبشار اور ہر ہوا کا جھونکا قدرت کی عظمت کی ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار ناران کی وادیوں میں قدم رکھتا ہے، اس کے دل میں اس حسین سرزمین کی یاد ہمیشہ کے لیے بس جاتی ہے۔

ہزاروں فٹ کی بلندی پر  برف کے نیچے سے اگنے والے یہ پھول ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ جہاں اندھیرا ہے وہاں روشنی بھی ہوگی، ب...
07/06/2026

ہزاروں فٹ کی بلندی پر برف کے نیچے سے اگنے والے یہ پھول ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ جہاں اندھیرا ہے وہاں روشنی بھی ہوگی، بشرطیکہ ہمت، حوصلہ، استقامت اور صبر قائم رہے۔

05/06/2026

سینئر صحافی آغا محمد علی فرید کی جانب سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترم صحافی اشرف جاوید کو جنم دن مبارک ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج 6 جون کا دن ہے۔ کیلنڈر پر یہ ایک عام تاریخ دکھائی دیتی ہے، لیکن ملتان کی صحافتی برادری کے لیے یہ دن خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آج ایک ایسی شخصیت کا جنم دن ہے جس نے اپنی محنت، قابلیت، دیانت داری اور عوامی مسائل سے وابستگی کے ذریعے صحافت کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ یہ دن محترم اشرف جاوید صاحب کی سالگرہ کا دن ہے۔
صحافت کی دنیا میں قدم رکھنا آسان ضرور لگتا ہے، مگر اس راہ پر ثابت قدم رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ راتوں کی جاگتی آنکھیں، وقت کی پابندی، خبر کی تلاش میں طویل سفر، عوامی مسائل کی نشاندہی اور سچائی کی تلاش میں مسلسل جدوجہد ہی ایک صحافی کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔ اشرف جاوید صاحب نے اپنی عملی زندگی میں انہی اصولوں کو اپنا شعار بنایا۔
ملتان کے صحافتی حلقوں میں جب بھی صحت کے شعبے کی رپورٹنگ کا ذکر ہوتا ہے تو اشرف جاوید صاحب کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں کے مسائل ہوں، مریضوں کی مشکلات ہوں، طبی سہولیات کی کمی ہو یا عوامی صحت سے متعلق اہم معاملات، انہوں نے ہمیشہ اپنی قلمی طاقت کے ذریعے ان مسائل کو اجاگر کیا۔ ان کی رپورٹس نہ صرف خبر بنتی ہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے لیے ایک آئینہ بھی ثابت ہوتی ہیں، جس میں وہ اپنی کارکردگی کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔
یہ سفر ایک دن میں طے نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، بے شمار آزمائشیں اور مسلسل جدوجہد شامل ہے۔ روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ جنگ جیسے معتبر قومی اخبارات سے وابستگی نے ان کی صحافتی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ آج وہ روزنامہ اوصاف میں سینئر رپورٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نہایت خلوص اور دیانت داری سے نبھا رہے ہیں۔
لیکن اشرف جاوید صاحب کی اصل خوبصورتی صرف ان کی صحافت نہیں، بلکہ ان کی شخصیت بھی ہے۔ عاجزی، انکساری، شائستگی اور محبت ان کے کردار کا حصہ ہیں۔ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق سے پہچانے جاتے ہیں۔ چھوٹے صحافی ہوں یا سینئر شخصیات، سب کے ساتھ احترام اور خلوص کا رشتہ قائم رکھنا ان کی فطرت ہے۔
مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ صحافت کے اس ہنگامہ خیز ماحول میں جہاں مقابلہ، دباؤ اور مصروفیات عام بات ہیں، وہاں اشرف جاوید صاحب کی مسکراہٹ، نرم مزاجی اور دوستانہ رویہ ایک خوشگوار احساس پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک اچھے صحافی ہی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر ماضی کی بہت سی یادیں ذہن کے دریچوں پر دستک دیتی ہیں۔ نیوز روم کی مصروفیات، خبروں پر گفتگو، صحافتی مسائل پر تبادلہ خیال اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے بے شمار لمحات، سب ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ یادیں گواہی دیتی ہیں کہ اشرف جاوید صاحب نے ہمیشہ اپنے کردار، اپنی محنت اور اپنی سچائی سے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔
سالگرہ دراصل صرف عمر میں ایک سال کے اضافے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس سفر کا جشن ہے جو انسان نے اپنی محنت، اپنے کردار اور اپنی کامیابیوں کے ذریعے طے کیا ہوتا ہے۔ اشرف جاوید صاحب کی زندگی کا یہ سفر یقیناً قابلِ فخر ہے، اور دعا ہے کہ آنے والے برس ان کے لیے مزید کامیابیاں، خوشیاں اور عزتیں لے کر آئیں۔
میں، سینئر صحافی آغا محمد علی فرید، دل کی گہرائیوں سے اپنے محترم دوست، قابل فخر صحافی اور ہر دلعزیز شخصیت اشرف جاوید صاحب کو جنم دن کی بے شمار مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کاملہ، خوشیوں بھری طویل زندگی، عزت، کامیابی، رزقِ حلال میں برکت اور دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے۔ آپ کا قلم ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کرتا رہے، اور آپ اسی طرح صحافت کے میدان میں نئی کامیابیوں کی داستانیں رقم کرتے رہیں۔
جنم دن مبارک ہو اشرف جاوید صاحب!
اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
#

اطلاع فوتگی
05/06/2026

اطلاع فوتگی

04/06/2026

ملتان میں آ ج بھی آ ندھی شروع ۔۔۔۔ گردآلود ہوائیں چلنے لگیں ۔۔۔۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Qalam TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share