The Qalam TV

13/08/2026

ہم زندہ قوم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
جشن آزادی کے موقع پر قلعہ کہنہ قاسم باغ دمدمے پر شاندار آ تش بازی کا مظاہرہ ۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے
دعا گو
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید

اہل وطن کو جشن آزادی بہت مبارک ہو میرے وطن تو ہمیشہ شاد رہے آ باد رہے تجھ میں بسنےوالےخوش رہیں آباد رہیں ایسے ہی جشن اور...
13/08/2026

اہل وطن کو جشن آزادی بہت مبارک ہو
میرے وطن تو ہمیشہ شاد رہے آ باد رہے
تجھ میں بسنےوالےخوش رہیں آباد رہیں
ایسے ہی جشن اور خوشیاں مناتے رہیں
دعا گو ۔۔۔۔
سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید

13/08/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منگلاوار سوات کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ سوات جائیں اور صرف مینگورہ، فضاگٹ، بحرین اور کالام تک محدود رہیں تو ممکن ہے سوات کی ایک بہت اہم تاریخی کہانی آپ سے چھپ جائے۔ مینگورہ سے تقریباً 8 سے 9 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف ایک قدیم بستی آتی ہے جسے منگلاور، منگلور یا Manglawar کہا جاتا ہے۔ یہ موجودہ ضلع سوات کی تحصیل بابوزئی کا علاقہ ہے اور دریائے سوات کے قریب واقع ہونے کے باعث مینگورہ سے اس کا رابطہ بہت آسان ہے۔ تاریخی اعتبار سے منگلاور محض ایک عام قصبہ نہیں بلکہ کبھی سوات کی ایک قدیم سلطنت کا دارالحکومت بھی رہ چکا ہے۔
منگلاور کا ذکر سوات کی تاریخ میں صدیوں پیچھے لے جاتا ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں اس علاقے کو قدیم نام ’’منگلی‘‘ سے بھی جوڑا گیا ہے، جبکہ چینی سیاح شوان زانگ کے سفرنامے سے متعلق آثارِ قدیمہ کی تحقیق میں ’’منگلی‘‘ نام کا ذکر ملتا ہے، تاہم اس قدیم نام کو موجودہ منگلاور سے جوڑنے پر محققین میں مکمل اتفاق نہیں۔ اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ منگلاور کے نام کی قطعی وجہ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، کوئی ایک حتمی تشریح سب محققین کے نزدیک ثابت شدہ نہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ اور زمین ایک دوسرے سے بات کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ منگلاور کبھی سوات کی قدیم سلطنت کا سیاسی مرکز تھا اور یہاں سے حکمرانی کے ادوار گزرے۔ بعد میں یوسف زئیوں کی آمد اور سوات کی سیاسی تاریخ نے اس خطے کی شناخت بدل دی، مگر منگلاور کی تاریخی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی یہاں اور اس کے گردونواح میں بدھ مت دور کے آثار اور چٹانوں پر قدیم نقش و نگار موجود ہیں۔ مشہور ’’شاخورائی بدھا‘‘ کا چٹانی نقش بھی اسی علاقے کی تاریخی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔
منگلاور کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک طرف جدید مینگورہ کے قریب ہے اور دوسری طرف آپ کو فوراً سوات کی پرانی بستیوں، پہاڑوں، دریا اور وادیوں کا احساس ہونے لگتا ہے۔ سرکاری سیاحتی مواد کے مطابق مینگورہ سوات کا مرکزی شہری اور تجارتی مرکز ہے جہاں ہوٹل، ریستوران اور خریداری کی سہولتیں موجود ہیں، جبکہ منگلاور اس شہری مرکز کے بالکل قریب تاریخی اور مقامی ماحول کا ایک الگ رنگ پیش کرتا ہے۔
ملتان سے منگلاور جانے کے لیے سب سے عملی راستہ پہلے موٹروے کے ذریعے اسلام آباد/راولپنڈی کی سمت، پھر پشاور یا مردان کی طرف اور وہاں سے مالاکنڈ پاس عبور کرتے ہوئے بٹ خیلہ، درگئی اور چکدرہ پہنچنا ہے۔ چکدرہ سے سوات کی طرف راستہ اختیار کرتے ہوئے مینگورہ پہنچا جاتا ہے اور مینگورہ سے تقریباً 8 سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر منگلاور آتا ہے۔ سرکاری سوات ٹریول گائیڈ بھی اسلام آباد/راولپنڈی اور پشاور سے مردان، مالاکنڈ پاس، درگئی، بٹ خیلہ اور چکدرہ کے راستے سوات پہنچنے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ملتان سے سفر کرتے ہوئے اگر اپنی گاڑی ہو تو بہتر ہے کہ سفر کو دو مرحلوں میں رکھا جائے، کیونکہ پورا سفر خاصا طویل ہے۔ اگر خاندان کے ساتھ جا رہے ہوں تو اسلام آباد یا مردان کے قریب رات گزار کر اگلی صبح سوات کی طرف روانگی زیادہ آرام دہ رہتی ہے۔ اگر مسلسل سفر کا تجربہ ہو اور ڈرائیور ایک سے زیادہ ہوں تو براہِ راست بھی جایا جا سکتا ہے، مگر شمالی علاقوں کے سفر میں تھکن کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔
منگلاور جانے کے لیے موسم کا انتخاب بھی بہت اہم ہے۔ اگر مقصد سبزہ، خوشگوار موسم، پہاڑ، دریائے سوات اور تاریخی مقامات دیکھنا ہو تو اپریل سے جون بہترین مہینوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ جولائی اور اگست میں بھی وادی سرسبز اور موسم نسبتاً خوشگوار رہتا ہے، لیکن مون سون کے دوران بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور بعض پہاڑی سڑکوں پر عارضی دشواری کا امکان رہتا ہے۔ ستمبر اور اکتوبر بھی خاصے خوبصورت ہوتے ہیں؛ رش نسبتاً کم، موسم معتدل اور سفر زیادہ سکون سے کیا جا سکتا ہے۔ دسمبر سے فروری تک سردی زیادہ ہوتی ہے اور اونچے علاقوں میں برف باری کے باعث سفر کا منصوبہ موسم اور سڑکوں کی صورتحال دیکھ کر بنانا چاہیے۔
آپ اگست میں جانے کا سوچ رہے ہوں تو ایک بات خاص طور پر ذہن میں رکھیں کہ بارش کے بعد پہاڑی علاقوں میں موسم اچانک تبدیل ہو سکتا ہے۔ روانگی سے ایک دن پہلے موسم، سڑکوں اور مقامی انتظامیہ کی تازہ صورتحال ضرور معلوم کر لیں۔ شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، گاڑی کے کاغذات مکمل ہوں، موبائل فون، پاور بینک، ضروری ادویات، چھتری یا بارش سے بچاؤ کا سامان، ہلکی گرم چادر اور مناسب جوتے ضرور رکھیں۔ سوات کے سفر کے لیے سرکاری گائیڈ بھی مسافروں کو شناختی دستاویزات ساتھ رکھنے کا مشورہ دیتی ہے کیونکہ راستے میں معمول کے سیکیورٹی چیک پوائنٹس آ سکتے ہیں۔
منگلاور کے لوگ بنیادی طور پر پشتو بولنے والی مقامی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں کی سماجی زندگی سوات کی روایتی پشتون تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ مہمان نوازی، جرگہ، خاندان اور مقامی برادری کا کردار یہاں کی معاشرت میں نمایاں ہے۔ منگلاور میں تعلیم اور کھیلوں کا بھی رجحان پایا جاتا ہے؛ دستیاب مقامی معلومات میں متعدد تعلیمی اداروں اور کھیلوں، خصوصاً فٹ بال اور کرکٹ، کا ذکر ملتا ہے۔
یہاں آنے والے سیاح کے لیے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ منگلاور صرف تصویر بنوانے کی جگہ نہیں بلکہ تاریخ کو محسوس کرنے کا مقام ہے۔ قدیم بدھ مت کے آثار، پہاڑوں کے درمیان بستیوں کا پھیلاؤ، دریائے سوات کا قرب اور مینگورہ کی شہری زندگی کا ساتھ ساتھ موجود ہونا اسے ایک منفرد مقام بناتا ہے۔ اگر آپ تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو مقامی رہنما لے کر قدیم آثار دیکھنا زیادہ مفید ہوگا، کیونکہ کئی تاریخی مقامات عام سیاح کو پہلی نظر میں دکھائی نہیں دیتے۔
رہائش کے معاملے میں منگلاور خود مینگورہ کے مقابلے میں محدود انتخاب رکھتا ہے، اس لیے خاندان کے ساتھ جانے والے سیاح کے لیے مینگورہ یا سیدو شریف میں ہوٹل لینا زیادہ آسان رہتا ہے۔ مینگورہ سوات کا بڑا شہری مرکز ہے اور یہاں مختلف درجوں کے ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز، ریستوران اور بازار موجود ہیں۔ سرکاری سیاحتی گائیڈ بھی مینگورہ میں روایتی، پاکستانی اور مغربی کھانوں کے ریستوران اور مختلف نوعیت کے ہوٹلوں کی دستیابی کا ذکر کرتی ہے۔کھانے میں سوات کا اپنا ایک مزاج ہے۔ یہاں پشتون طرز کے گوشت، چپلی کباب، تکہ، کڑاہی، پلاؤ، چاول، روٹی، دال اور مقامی سبزیاں عام ملتی ہیں۔ ٹھنڈے موسم میں گرم چائے، قہوہ اور مقامی انداز کے گوشت کے پکوان سفر کی تھکن کم کر دیتے ہیں۔ مینگورہ میں عام پاکستانی کھانوں کے ساتھ فاسٹ فوڈ، پیزا اور دیگر جدید کھانے بھی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ مقامی تجربہ رکھنے والے مسافروں کی حالیہ گفتگو میں مینگورہ اور سیدو شریف کے آس پاس مختلف کباب، بریانی، پیزا اور کیفے کا بھی ذکر ملتا ہے، اس لیے کھانے کے معاملے میں سیاح کو بہت محدود انتخاب کا سامنا نہیں ہوتا۔
البتہ منگلاور کے اندر کسی مخصوص ہوٹل یا ریستوران کا انتخاب کرتے وقت پہلے فون پر کمرے کی دستیابی، صفائی، پارکنگ، گرم پانی، بجلی کا بیک اپ اور فیملی روم کی سہولت ضرور پوچھ لیں۔ خاص طور پر اگست کے سیاحتی موسم میں پیشگی بکنگ بہتر رہتی ہے۔ اگر آپ پرسکون ماحول چاہتے ہیں تو منگلاور کے بجائے مینگورہ سے ذرا باہر یا سیدو شریف میں قیام کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جبکہ خریداری، بازار اور زیادہ کھانے پینے کے اختیارات کے لیے مینگورہ زیادہ آسان ہے۔
منگلاور کا سفر دراصل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب آپ صرف سڑک پر گاڑی نہیں چلاتے بلکہ اس سرزمین کی تاریخ کو بھی پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف آج کا مینگورہ ہے، جس میں بازار، ہوٹل، ٹریفک اور جدید زندگی ہے، اور دوسری طرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر منگلاور ہے جہاں پہاڑوں کے درمیان کھڑی قدیم چٹانیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ سوات کی کہانی صرف آج کے سیاحتی مراکز سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں قدیم تہذیبیں آئیں، بدھ مت نے جڑیں پکڑیں، سلاطین نے حکومت کی، قافلے گزرے اور پھر جدید سوات نے جنم لیا۔
اگر آپ ملتان سے تین یا چار دن کا سفر بنائیں تو پہلے دن ملتان سے اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف سفر، دوسرے دن اسلام آباد سے مالاکنڈ، چکدرہ اور مینگورہ پہنچ کر منگلاور اور قریبی تاریخی مقامات کی سیر، تیسرے دن سیدو شریف، مینگورہ اور فضاگٹ وغیرہ، اور وقت ہو تو اگلے دن بحرین یا کالام کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح منگلاور صرف راستے میں گزرنے والی ایک بستی نہیں رہے گا بلکہ پورے سوات کی تاریخ سمجھنے کا ایک خوبصورت دروازہ بن جائے گا۔

11/08/2026

کولمبیا میں زلزلہ
وڈیو کلپ دیکھیں

10/08/2026

کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ
عمارتیں زمین بوس ہوگئیں

09/08/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیودی پٹسر وادی کاغان کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ وادیٔ کاغان کے انتہائی شمال میں، ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا کے للسرڈیودی پٹسر نیشنل پارک میں واقع ایک بلند پہاڑی جھیل ہے۔ یہ عام سیرگاہ نہیں بلکہ باقاعدہ ٹریکنگ کی منزل ہے۔ ملتان سے اگر کوئی مسافر وادیٔ کاغان کی طرف نکلے تو یہ سفر صرف ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کا نام نہیں رہتا بلکہ راستے میں پاکستان کے بدلتے ہوئے موسم، پہاڑ، دریا، جنگلات اور برف پوش چوٹیوں کی ایک ایسی داستان شروع ہوجاتی ہے جس کا آخری باب ڈیودی پٹسر جھیل کے نیلگوں پانی کے کنارے جا کر کھلتا ہے۔
ملتان سے روانگی کے بعد لاہور یا موٹروے کے راستے اسلام آباد کی طرف سفر کیا جاسکتا ہے، پھر اسلام آباد سے ہزارہ موٹروے کے ذریعے ایبٹ آباد اور مانسہرہ کی سمت سفر جاری رہتا ہے۔ مانسہرہ سے بالاکوٹ، کاغان، ناران اور پھر جالکھڈ کی طرف N-15 سڑک سفر کو وادی کے اندر لے جاتی ہے۔ اسلام آباد سے ناران کا راستہ تقریباً 280 کلومیٹر کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے، اگرچہ موسم، ٹریفک اور سڑک کی صورت حال کے باعث وقت میں خاصا فرق آسکتا ہے۔
ناران پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شہر کی مصروف زندگی پیچھے رہ گئی ہو۔ دریائے کنہار ساتھ ساتھ چلتا ہے، پہاڑ قریب آتے جاتے ہیں اور راستہ بالآخر جالکھڈ اور بیسال کی طرف بڑھتا ہے۔ بیسال وہ اہم مقام ہے جہاں سے ڈیودی پٹسر جھیل کا اصل پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے آگے عام سیاحوں والی پکی سڑک ختم ہوجاتی ہے اور قدرت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
ڈیودی پٹسر جھیل سطح سمندر سے تقریباً 3,800 میٹر کی بلندی پر واقع بتائی جاتی ہے اور اس کے گرد برف پوش پہاڑ ایک قدرتی حصار بناتے ہیں۔ جھیل کا پانی سبز مائل نیلا دکھائی دیتا ہے، جبکہ اردگرد کے برفیلے پہاڑ اور بلند و بالا چوٹیاں اسے ایک خواب ناک منظر بنا دیتی ہیں۔
اس جھیل تک پہنچنے کے لیے بیسال سے تقریباً 18 کلومیٹر کا ٹریک بتایا جاتا ہے اور مختلف ذرائع کے مطابق پیدل سفر عموماً 5 سے 8 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ لے سکتا ہے۔ راستے میں کھلے سبز میدان، پہاڑی نالے، چراگاہیں اور بلند وادیوں کے مناظر آتے ہیں۔ اسی لیے یہ جگہ ایسے لوگوں کے لیے زیادہ موزوں ہے جو باقاعدہ ٹریکنگ اور پہاڑی سفر کا تجربہ رکھتے ہوں۔
ڈیودی پٹسر نام کے بارے میں مختلف مقامی تشریحات ملتی ہیں۔ ایک معروف تشریح میں ’’دودی‘‘ کو سفید، ’’پٹ‘‘ کو پہاڑ اور ’’سر‘‘ کو جھیل سے جوڑا جاتا ہے، یعنی برف پوش سفید پہاڑوں میں واقع جھیل۔ ایک دوسری روایت اسے دودھ جیسے سفید پانی یا سفید پہاڑوں کے عکس سے منسوب کرتی ہے۔ اس لیے نام کے بارے میں ایک ہی قطعی تاریخی تشریح بیان کرنا مناسب نہیں، البتہ اس نام کا تعلق علاقے کے برف پوش پہاڑوں سے ضرور جوڑا جاتا ہے۔
یہاں کے مقامی لوگوں کی زندگی شہروں سے بالکل مختلف ہے۔ وادیٔ کاغان کے پہاڑی علاقوں میں مقامی آبادی کا تعلق عموماً پہاڑی معیشت، مویشی پالنے، چھوٹے کاروبار، سیاحت اور موسمی نقل مکانی سے رہا ہے۔ ہندکو اور گوجری سمیت مقامی زبانیں سننے کو ملتی ہیں اور اردو بھی عام طور پر سمجھی جاتی ہے۔ گرمیوں میں چراگاہیں آباد ہوجاتی ہیں، مویشیوں کے ساتھ چرواہے بلند علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور سیاحوں کی آمد سے مقامی کاروبار میں بھی رونق پیدا ہوجاتی ہے۔
ڈیودی پٹسر کے بالکل قریب ناران جیسی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ کی سہولت موجود نہیں۔ یہی اس علاقے کی اصل کشش بھی ہے اور سب سے بڑا چیلنج بھی۔ جھیل کے قریب باقاعدہ ہوٹل یا عام ریسٹورنٹ پر انحصار نہیں کیا جاسکتا؛ عموماً ٹریک پر خیمہ، کھانا، پانی اور دوسری ضروری اشیا کا انتظام پہلے کرنا پڑتا ہے۔ بعض مسافر بیسال سے سامان لے جانے کے لیے مقامی گھوڑے یا خچر بھی استعمال کرتے ہیں۔
اس لیے بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ رات ناران میں قیام کیا جائے اور اگلے مرحلے کے لیے ضروری سامان وہیں مکمل کیا جائے۔ ناران میں مختلف درجے کے ہوٹل موجود ہیں، مثلاً The Sarai Hotel & Resort Naran، Mount Feast Hotel Naran، Snow Crest Lodges اور Mount Hayat Hotel Naran جیسے مقامات دستیاب ہیں۔ کھانے کے لیے ناران میں مختلف ریسٹورنٹ بھی موجود ہیں، جن میں Moon Restaurant شامل ہے۔
لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ناران کا ہوٹل اور جھیل کے قریب کا قیام دو بالکل مختلف تجربے ہیں۔ ناران میں آرام دہ کمرہ، گرم کھانا اور بنیادی سہولتیں مل سکتی ہیں، جبکہ ڈیودی پٹسر کی طرف سفر میں خیمہ، سلیپنگ بیگ، گرم لباس، بارش سے بچاؤ کا سامان، ذاتی ادویات، خشک خوراک اور پانی جیسی چیزیں پہلے سے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اس سفر کی تیاری میں سب سے اہم چیز موسم ہے۔ پہاڑوں کا موسم اچانک بدل سکتا ہے، اس لیے روانگی سے پہلے مقامی انتظامیہ، مقامی گائیڈ یا قابل اعتماد ٹریکنگ آپریٹر سے راستے، موسم، برف، بارش اور ٹریک کی موجودہ حالت معلوم کرنا چاہیے۔ عموماً اس علاقے کا ٹریکنگ سیزن موسم گرما سے ابتدائی خزاں تک رہتا ہے، جبکہ سرد موسم میں برف اور راستے کی دشواری بہت بڑھ سکتی ہے۔
بیسال سے آگے سفر کرتے ہوئے جلد بازی مناسب نہیں۔ پہاڑی نالوں کو عبور کرتے وقت احتیاط، گروپ کے ساتھ رہنا، اکیلے آگے نہ نکلنا، مناسب جوتے پہننا اور مقامی رہنمائی حاصل کرنا سفر کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔ اونچائی بھی ایک اہم عامل ہے؛ جس شخص کو بلند پہاڑی علاقوں میں چلنے کی عادت نہ ہو اسے اپنے جسم کی کیفیت پر توجہ دینی چاہیے اور غیر معمولی طبیعت خراب ہونے کی صورت میں سفر جاری رکھنے کے بجائے واپس آنے کو ترجیح دینی چاہیے۔
ڈیودی پٹسر کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں پہنچنے کے لیے انسان کو آسان راستہ نہیں ملتا۔ شاید یہی مشکل اس جھیل کی کشش کو اور بڑھا دیتی ہے۔ کئی گھنٹوں کی پیدل مسافت، سبز میدان، پہاڑی نالے، خاموش وادیاں اور برف پوش چوٹیوں کے درمیان چلتے ہوئے جب اچانک سامنے نیلے سبز پانی کی ایک جھیل نمودار ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پہاڑوں نے اپنے سینے میں کوئی نیلا آئینہ چھپا رکھا تھا۔
یہ ان مقامات میں سے ہے جہاں منزل سے زیادہ راستہ یاد رہتا ہے۔ ناران کی رونق سے نکل کر بیسال کی خاموشی، پھر پیدل سفر، راستے کے سبز میدان، بلند پہاڑ اور آخر میں ڈیودی پٹسر کا پرسکون پانی—یہ پورا سفر ایک ایسی کہانی بن جاتا ہے جسے واپس آنے کے بعد بھی انسان بار بار سنانا چاہتا ہے۔
اگر وادیٔ کاغان میں کوئی ایسا مقام تلاش کیا جائے جہاں قدرت نے انسان سے تھوڑی محنت کے بدلے بہت بڑا انعام رکھا ہو تو ڈیودی پٹسر یقیناً ان مقامات میں شامل ہوگا۔ یہاں جانے والا صرف ایک جھیل نہیں دیکھتا، بلکہ پاکستان کے بلند پہاڑی حسن، مقامی زندگی، چراگاہوں، برف پوش چوٹیوں اور خاموش فطرت کا ایک ایسا منظر دیکھتا ہے جو عام سیاحتی مقامات سے بالکل مختلف ہے۔اہم بات: ڈیودی پٹسر کو عام ناران کی سیر سمجھ کر نہ جائیں؛ یہ باقاعدہ بلند پہاڑی ٹریک ہے۔ پہلے ناران تک آرام دہ قیام، پھر بیسال سے ٹریکنگ کی منصوبہ بندی زیادہ مناسب ہے۔

06/08/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنزہ وادی کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برف سے ڈھکی ہوئی بلند و بالا چوٹیاں، نیلے آسمان کے نیچے چمکتے گلیشیئر، شفاف دریا، سرسبز باغات، خوبانی اور چیری کے درخت، مسکراتے ہوئے لوگ اور سکون سے بھرپور فضائیں… یہ سب مل کر پاکستان کے شمال میں واقع ہنزہ وادی کی ایسی تصویر بناتے ہیں جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اپنے تمام رنگ ایک ہی جگہ سجا دیے ہوں۔ گلگت بلتستان کے شمالی حصے میں واقع ہنزہ وادی سطح سمندر سے تقریباً آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر آباد ہے اور دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔
ملتان سے ہنزہ جانے کے کئی راستے ہیں۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا راستہ ملتان، لاہور، اسلام آباد، حسن ابدال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بشام، داسو، چلاس، گلگت اور پھر شاہراہِ قراقرم کے ذریعے کریم آباد ہنزہ پہنچتا ہے۔ یہ سفر سڑک کے ذریعے تقریباً 1,050 سے 1,150 کلومیٹر بنتا ہے اور ٹریفک و موسم کے مطابق 18 سے 22 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لے سکتا ہے۔ دوسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسلام آباد سے گلگت یا اسکردو کی پرواز لے کر وہاں سے سڑک کے ذریعے ہنزہ پہنچا جائے، جس سے سفر کافی آرام دہ ہو جاتا ہے۔ہنزہ کا نام کہاں سے آیا، اس بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اس وادی کے قدیم حکمران خاندان اور یہاں آباد قدیم قبیلوں کی نسبت سے اس علاقے کو ہنزہ کہا جانے لگا۔ کچھ مؤرخین اسے قدیم مقامی زبان کے ایک لفظ سے جوڑتے ہیں، جس کا تعلق اس سرزمین کی شناخت سے تھا۔ اگرچہ اس نام کی ایک متفقہ تاریخی وجہ موجود نہیں، لیکن صدیوں سے یہی نام پوری دنیا میں اس حسین وادی کی پہچان بن چکا ہے۔
ہنزہ کے لوگ اپنی مہمان نوازی، شائستگی، دیانت داری اور خوش اخلاقی کے لیے مشہور ہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ بروشسکی، شینا اور وخی زبانیں بولتے ہیں، جبکہ اردو بھی بخوبی سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ مقامی لوگ تعلیم کو بہت اہمیت دیتے ہیں، اسی لیے خواندگی کی شرح پاکستان کے کئی علاقوں سے زیادہ ہے۔ ان کی سادہ زندگی، صاف ستھرا ماحول، متوازن خوراک اور پیدل چلنے کی عادت اکثر سیاحوں کو متاثر کرتی ہے۔
ہنزہ کی خوبصورتی صرف پہاڑوں تک محدود نہیں بلکہ یہاں کے تاریخی قلعے، جھیلیں اور وادیاں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ Baltit Fort سات سو سال سے زیادہ پرانا شاہکار ہے، جبکہ Altit Fort اپنی قدامت اور منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے بے حد مشہور ہے۔ Attabad Lake کا فیروزی پانی، Passu Cones کی نوکیلی چوٹیاں، Khunjerab Pass، Eagle's Nest اور حسینا گاؤں ہر آنے والے کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتے ہیں۔
ہنزہ میں ہر بجٹ کے مطابق رہائش دستیاب ہے۔ کریم آباد، عطاآباد جھیل اور پاسو کے اطراف چھوٹے گیسٹ ہاؤسز سے لے کر معیاری ہوٹل موجود ہیں۔ کم بجٹ والے مسافر مناسب قیمت پر آرام دہ قیام حاصل کر سکتے ہیں جبکہ بہتر سہولیات کے خواہشمند افراد کے لیے اعلیٰ معیار کے ہوٹل بھی دستیاب ہیں۔ مقامی ریسٹورنٹس میں پاکستانی، چائنیز اور روایتی ہنزہ کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ خوبانی سے تیار کی جانے والی اشیاء، مقامی روٹی، چپشورو، یاک کے دودھ سے بنی بعض غذائیں اور خشک میوہ ضرور چکھنا چاہیے۔
اگر آپ ہنزہ کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو روانگی سے پہلے ہوٹل کی پیشگی بکنگ کر لینا بہتر ہے، خاص طور پر سیاحتی موسم میں۔ شناختی دستاویزات، گرم کپڑے، آرام دہ جوتے، سن گلاسز، سن اسکرین، پاور بینک، بنیادی ادویات اور نقد رقم ساتھ رکھیں کیونکہ بعض علاقوں میں اے ٹی ایم اور موبائل سگنل محدود ہو سکتے ہیں۔ موسم اور شاہراہِ قراقرم کی صورتحال معلوم کر کے ہی سفر شروع کریں۔
ہنزہ جانے کا بہترین وقت اپریل سے جون تک ہے، جب پھول اور باغات پوری بہار پر ہوتے ہیں۔ جولائی اور اگست میں موسم خوشگوار رہتا ہے اور زیادہ تر مقامات کھلے ہوتے ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر میں خزاں کے سنہری، سرخ اور نارنجی رنگ پوری وادی کو ایک خوابناک منظر میں بدل دیتے ہیں، جبکہ دسمبر سے فروری تک برف باری کے شوقین افراد کے لیے یہ علاقہ سفید جنت کا منظر پیش کرتا ہے، اگرچہ اس دوران بعض راستے بند بھی ہو سکتے ہیں۔
ہنزہ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت، تاریخ، ثقافت اور سکون کا ایسا حسین امتزاج ہے جہاں پہنچ کر وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ صبح کی پہلی کرن جب برف پوش پہاڑوں پر پڑتی ہے، شام کے وقت سورج کی سنہری روشنی وادی کو جگمگا دیتی ہے، اور رات کو بے شمار ستارے آسمان پر ایسی محفل سجاتے ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار ہنزہ کی گلیوں، باغات، جھیلوں اور پہاڑوں کی سیر کر لیتا ہے، اس کے دل میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

05/08/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
مدیان سوات کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملتان سے مدیان تک کن راستوں سے سفر کیاجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی انسان ایسی جگہ کی تلاش میں نکلتا ہے جہاں شور کی جگہ خاموشی بولتی ہو، جہاں بلند و بالا پہاڑ آسمان سے باتیں کرتے ہوں، جہاں دریا کی لہریں ہر آنے والے کا استقبال کرتی ہوں، اور جہاں لوگوں کی محبت سفر کی تمام تھکن لمحوں میں دور کر دے۔ پاکستان کے خوبصورت خطۂ سوات میں واقع مدیان بھی ایسی ہی ایک جنت نظیر بستی ہے، جو ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔
اگر آپ ملتان سے اس حسین مقام کی طرف روانہ ہوں تو سفر کا آغاز پنجاب کے سرسبز میدانوں سے ہوتا ہے۔ موٹروے کے آرام دہ راستے آپ کو اسلام آباد کی طرف لے جاتے ہیں، پھر مردان، ملاکنڈ، چکدرہ اور منگورہ سے گزرتے ہوئے سڑک آہستہ آہستہ پہاڑوں کے دامن میں داخل ہو جاتی ہے۔ جیسے ہی بحرین سے آگے بڑھتے ہیں، دریائے سوات کا نیلگوں پانی مسلسل آپ کے ساتھ ساتھ بہتا محسوس ہوتا ہے۔ پہاڑوں سے اترتے جھرنے، سرسبز ڈھلوانیں اور ٹھنڈی ہوائیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ آپ ایک نئی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔ تقریباً بارہ گھنٹوں کے اس سفر کے بعد مدیان اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ آپ کا استقبال کرتا ہے۔
مدیان صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ محبت، سادگی اور خلوص کا دوسرا نام ہے۔ یہاں کے لوگ نہایت مہمان نواز، خوش اخلاق اور نرم گفتار ہیں۔ زیادہ تر لوگ پشتو، توروالی، گاوری اور گوجری زبانیں بولتے ہیں، لیکن سیاحوں سے اردو میں بھی خوش دلی سے بات کرتے ہیں۔ ان کی روزمرہ زندگی کھیتی باڑی، ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش، چھوٹے کاروبار، دستکاری اور سیاحت سے وابستہ ہے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور رویوں میں اپنائیت ہر آنے والے کو اپنا سا محسوس کراتی ہے۔
مدیان کا بازار اپنی الگ ہی رونق رکھتا ہے۔ یہاں مقامی دستکاری، گرم شالیں، خشک میوہ جات، شہد اور یادگاری اشیاء آسانی سے مل جاتی ہیں۔ بازار میں چلتے ہوئے ہر طرف پہاڑوں کی خوشبو، دریائے سوات کی مدھم آواز اور مقامی لوگوں کی سادگی ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جو مدتوں یاد رہتا ہے۔
اگر کھانے کی بات کی جائے تو مدیان کی تازہ ٹراؤٹ مچھلی پورے سوات میں مشہور ہے۔ دریا سے پکڑی گئی یا فارمز میں تیار کی گئی یہ مچھلی مختلف انداز میں پکائی جاتی ہے، جس کا ذائقہ سیاح کبھی نہیں بھولتے۔ اس کے علاوہ روایتی پشتون کھانے، باربی کیو، چپلی کباب، کڑاہی، چاول اور دیگر مقامی پکوان بھی ہر ذائقے کے شوقین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
رہائش کے لیے بھی مدیان میں ہر بجٹ کے مطابق ہوٹل، گیسٹ ہاؤس اور فیملی ریزورٹس موجود ہیں۔ دریا کے کنارے واقع کئی ہوٹل ایسے ہیں جہاں صبح آنکھ کھلتے ہی سامنے بہتا دریا، سرسبز پہاڑ اور ٹھنڈی ہوا آپ کے دن کا آغاز یادگار بنا دیتے ہیں۔ البتہ گرمیوں، عید کی چھٹیوں اور سیاحتی موسم میں ہوٹل پہلے ہی بھر جاتے ہیں، اس لیے پیشگی بکنگ کر لینا بہتر رہتا ہے۔
اگر آپ مدیان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو چند ضروری تیاریوں کو نظر انداز نہ کریں۔ اپنی گاڑی کی مکمل جانچ کروا لیں، شناختی کارڈ، نقد رقم، پاور بینک، ابتدائی طبی امداد کا سامان، بارش سے بچاؤ کی چیزیں، گرم کپڑے اور آرام دہ جوتے ضرور ساتھ رکھیں۔ اگر آگے کالام یا دیگر بالائی علاقوں تک جانا ہو تو روانگی سے پہلے موسم اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کر لینا دانشمندی ہے۔
مدیان کی سیر کے لیے اپریل سے جون کا موسم نہایت دلکش ہوتا ہے، جب ہر طرف ہریالی اور پھولوں کی بہار ہوتی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک موسم خوشگوار رہتا ہے اور دریا اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے، اگرچہ بارشوں کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ اکتوبر میں خزاں کے سنہری رنگ وادی کو ایک منفرد حسن عطا کرتے ہیں، جبکہ دسمبر سے فروری تک برف باری پورے علاقے کو سفید چادر اوڑھا دیتی ہے، اگرچہ اس دوران شدید سردی اور بعض اوقات سڑکوں کی بندش کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔مدیان کی اصل خوبصورتی صرف اس کے پہاڑ، دریا یا بازار نہیں بلکہ وہ سکون ہے جو یہاں کی فضا میں گھلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ شام کے وقت جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈوبنے لگتا ہے، دریائے سوات کی لہریں سنہری روشنی میں چمکتی ہیں اور ٹھنڈی ہوا چہرے کو چھوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے اپنی تمام خوبصورتی ایک ہی جگہ سمو دی ہو۔ مدیان سے واپسی پر ہر مسافر اپنے ساتھ صرف تصویریں نہیں بلکہ ایسی یادیں لے کر لوٹتا ہے جو برسوں بعد بھی دل میں تازہ رہتی ہیں، اور یہی یادیں اسے ایک بار پھر اس حسین وادی کی طرف کھینچ لاتی ہیں۔

03/08/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسٹا سکردو کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملتان کی گرم فضاؤں سے نکل کر جب انسان شمالی پاکستان کے برف پوش پہاڑوں کی طرف سفر کرتا ہے تو راستے بدلنے کے ساتھ ساتھ موسم، مناظر اور احساسات بھی بدل جاتے ہیں۔ انہی دل موہ لینے والے مقامات میں ایک خوبصورت مقام وسٹا اسکاردو (Vista Skardu) بھی ہے، جو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں واقع ایک جدید سیاحتی مقام اور رہائشی ریزورٹ ایریا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں سے قراقرم کے فلک بوس پہاڑ، دریائے سندھ کی وادی اور اسکردو کے دلکش نظارے ایک ہی جگہ سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
ملتان سے وسٹا اسکاردو جانے کے دو بڑے راستے ہیں۔ اگر وقت کم ہو تو ملتان سے اسلام آباد اور وہاں سے براہِ راست اسکردو کی پرواز بہترین انتخاب ہے۔ موسم صاف ہو تو تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز میں اسکردو پہنچا جا سکتا ہے۔ دوسرا راستہ سڑک کے ذریعے ہے، جہاں ملتان سے لاہور یا اسلام آباد، پھر حسن ابدال، مانسہرہ، بشام، داسو، چلاس اور جگلوٹ سے ہوتے ہوئے اسکردو روڈ پر سفر کیا جاتا ہے۔ یہ سفر تقریباً 20 سے 24 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لے سکتا ہے، مگر راستے کے پہاڑ، دریا اور وادیاں ہر لمحہ یادگار بنا دیتے ہیں۔
وسٹا اسکاردو کی تاریخی حیثیت کا تعلق اسکردو کی قدیم سرزمین سے جڑا ہوا ہے۔ اسکردو صدیوں تک بلتستان کی ایک اہم ریاست رہا، جہاں بلتی تہذیب، تبتی ثقافت اور اسلامی روایات نے مل کر ایک منفرد تمدن کو جنم دیا۔ قلعہ کھرپوچو، قدیم شاہی خاندان، قدیم تجارتی راستے اور شاہراہِ ریشم سے قربت اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ آج کا وسٹا اسکاردو اگرچہ جدید انداز میں تعمیر کیا گیا مقام ہے، لیکن اس کے اردگرد کی زمین ہزاروں برس کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
"وسٹا" دراصل انگریزی زبان میں Vista کا مطلب ہوتا ہے "دور تک پھیلا ہوا خوبصورت منظر"۔ چونکہ اس مقام سے اسکردو کی وادی، برف پوش پہاڑ اور قدرتی مناظر ایک وسیع زاویے سے دکھائی دیتے ہیں، اس لیے اس کا نام "وسٹا اسکاردو" رکھا گیا، یعنی ایسا مقام جہاں سے دلکش نظارے ہر سمت دکھائی دیں۔
اسکردو اور اس کے اطراف کے لوگ اپنی مہمان نوازی، سادگی، دیانت داری اور نرم مزاجی کے لیے مشہور ہیں۔ بلتی زبان یہاں کی مقامی زبان ہے، تاہم اردو بھی عام طور پر سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ مقامی لوگ سیاحوں کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں اور ان کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہاں کا مقامی کھانا بھی اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے، جس میں بلتی روٹی، مقامی گوشت، یخنی، چپ شورو، مومو اور مختلف روایتی پکوان شامل ہیں۔
وسٹا اسکاردو اور شہر اسکردو میں ہر بجٹ کے مطابق ہوٹل، گیسٹ ہاؤس اور ریزورٹس موجود ہیں۔ لگژری ہوٹلوں سے لے کر مناسب کرائے والے صاف ستھرے گیسٹ ہاؤس تک آسانی سے مل جاتے ہیں۔ اسی طرح ریسٹورنٹس میں پاکستانی، چائنیز، فاسٹ فوڈ اور مقامی بلتی کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ سیاحتی موسم میں اکثر ہوٹل مکمل بک ہو جاتے ہیں، اس لیے پیشگی بکنگ کرنا دانشمندی ہے۔
اگر آپ وسٹا اسکاردو جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کچھ ضروری انتظامات پہلے ہی کر لینے چاہئیں۔ ہوٹل کی بکنگ پہلے سے کروائیں، گرم کپڑے ضرور ساتھ رکھیں کیونکہ گرمیوں میں بھی راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ آرام دہ جوتے، ضروری ادویات، شناختی دستاویزات، موبائل پاور بینک اور نقد رقم بھی ساتھ رکھیں، کیونکہ بعض علاقوں میں اے ٹی ایم یا موبائل سگنلز محدود ہو سکتے ہیں۔ اگر اپنی گاڑی پر جا رہے ہوں تو گاڑی کی مکمل سروس اور بریکوں کی جانچ ضرور کروائیں۔
وسٹا اسکاردو کی سیر کے لیے بہترین وقت مئی سے ستمبر تک سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران موسم خوشگوار، راستے زیادہ تر کھلے اور باغات سرسبز ہوتے ہیں۔ اپریل میں بہار کے پھول دل موہ لیتے ہیں جبکہ اکتوبر میں خزاں کے سنہری رنگ وادی کو ایک نئی خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔ اگر برف باری دیکھنے کا شوق ہو تو دسمبر سے فروری کے درمیان سفر کیا جا سکتا ہے، لیکن اس دوران شدید سردی اور بعض راستوں کی بندش کا امکان بھی رہتا ہے۔
وسٹا اسکاردو کے قریب کئی مشہور سیاحتی مقامات بھی موجود ہیں، جن میں شانگریلا ریزورٹ، اپر کچھورا جھیل، لوئر کچھورا جھیل، دیوسائی نیشنل پارک، قلعہ کھرپوچو، سدپارہ جھیل، شگر قلعہ، سرمق راک اور دریائے سندھ کے دلکش کنارے شامل ہیں۔ ان مقامات کی سیر کے بغیر اسکردو کا سفر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔
جب شام کے وقت سورج برف پوش چوٹیوں کے پیچھے ڈھلنے لگتا ہے، ٹھنڈی ہوا پہاڑوں سے اتر کر وادی میں پھیلتی ہے اور دور تک پھیلے ہوئے قدرتی مناظر سنہری روشنی میں نہا جاتے ہیں تو وسٹا اسکاردو اپنے نام کا حقیقی مطلب سمجھا دیتا ہے۔ یہاں آ کر محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے اپنی بہترین مصوری انہی پہاڑوں، جھیلوں اور وادیوں میں سجا رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار یہاں آنے والا مسافر واپسی پر اپنے ساتھ صرف تصاویر ہی نہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے خوبصورت یادیں بھی لے کر جاتا ہے۔

02/08/2026

سینئر صحافی پیر آغا محمدعلی فرید کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیری میڈوز ناگا پربت کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی قلم ٹی وی فیس بک پیج اور دی قلم ٹی وی یو ٹیوب چینل کا معلوماتی سلسلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیری میڈوز دنیا کی خوبصورت ترین اور مسحور کن جگہوں میں سے ایک ہے، جسے قدرتی حسن، سکون اور برف سے ڈھکی چوٹیوں کا دلکش امتزاج کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ نانگا پربت (دنیا کی نویں سب سے اونچی اور قائل چوٹی) کے دامن میں واقع ایک انتہائی شاداب اور سرسبز میدان ہے۔اس حسین وادی کا نام "فیری میڈوز" یعنی "پریوں کا میدان" ایک جرمن کوہ پیما نے رکھا تھا۔ وہ اس جگہ کے بے مثال حسن، خاموشی اور رات کو برفانی چوٹیوں پر چاندنی کے سحر انگیز نظاروں سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے کہا کہ یہ انس و جن کی نہیں بلکہ پریوں کی رہنے کی جگہ ہے۔ مقامی لوگ اسے "جوٹ" کہتے ہیں، لیکن اب یہ دنیا بھر میں فیری میڈوز کے نام سے ہی مشہور ہے۔
اگر آپ ملتان سے فیری میڈوز کے خوابناک سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تو سفر کا آغاز موٹروے M-4 اور M-2 سے ہوتا ہے جو آپ کو اسلام آباد تک لے جاتی ہے۔ اسلام آباد سے آگے آپ کے پاس دو خوبصورت راستے ہوتے ہیں۔ پہلا اور آسان راستہ ہزارہ موٹروے سے ہوتے ہوئے مانسہرہ، بشام اور داسو کے ذریعے شاہراہِ ریشم (Karakoram Highway) پر جاتا ہے۔ دوسرا اور انتہائی دلکش راستہ بالاکوٹ، ناران، کاغان، بابوسر ٹاپ اور چلاس سے ہوتا ہوا شاہراہِ ریشم سے ملتا ہے (یہ راستہ گرمیوں میں بابوسر ٹاپ کھلنے پر استعمال ہوتا ہے)۔ دونوں راستے آگے جا کر "رائیکوٹ برج" (Raikot Bridge) پر ختم ہوتے ہیں۔ رائیکوٹ برج وہ مقام ہے جہاں سے عام گاڑیاں رک جاتی ہیں اور سنسنی خیز جیپ کا سفر شروع ہوتا ہے۔ فور بائی فور (4x4) جیپ کے ذریعے دشوار گزار اور تنگ پہاڑی راستے پر تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا سفر کر کے آپ "تاتو گاؤں" (Tattu Village) پہنچتے ہیں۔ تاتو گاؤں سے فیری میڈوز تک کا باقی ماندہ راستہ تقریباً 3 سے 4 گھنٹے کا پیدل ٹریک (Trek) ہے، جو لوگ پیدل نہیں چل سکتے وہ وہاں سے گھوڑے کرائے پر لے سکتے ہیں۔
فیری میڈوز جانے کے لیے سب سے بہترین اور موزوں ترین مہینے مئی سے ستمبر تک کے ہوتے ہیں۔ ان مہینوں میں موسم انتہائی خوشگوار ہوتا ہے، راستے کھلے ہوتے ہیں اور وادی کی سچی خوبصورتی کھل کر سامنے آتی ہے۔ جون، جولائی اور اگست میں یہاں سیاحوں کا کافی ہجوم ہوتا ہے۔ اگر آپ کو برف باری، شدید سردی اور خاموشی پسند ہے تو اکتوبر کا مہینہ بھی بہترین ہے، لیکن نومبر سے اپریل تک شدید برف باری کے باعث راستے بند یا انتہائی خطرناک ہو جاتے ہیں۔
چونکہ یہ ایک دشوار گزار اور اونچائی پر واقع مقام ہے، اس لیے یہاں جانے کے لیے کچھ پیشگی انتظامات اور تیاری بے حد ضروری ہے۔ سفر پر نکلنے سے پہلے اپنے پاس گرم کپڑے، بارش سے بچنے کے لیے رین کوٹ، مضبوط اور آرام دہ ٹریکنگ شوز، واٹر پروف جلاڈ، فرسٹ ایڈ باکس، ٹارچ، پاور بینک اور ضروری ادویات لازمی رکھیں۔ رائیکوٹ برج سے آگے موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتے (صرف ایس سی او / ایس کام کا سم کارڈ بعض جگہوں پر چلتا ہے)، اس لیے ضروری ہے کہ اپنے گھر والوں کو پہلے ہی اطلاع دے کر جائیں۔ اس کے علاوہ یہاں کوئی اے ٹی ایم (ATM) مشین نہیں ہے، اس لیے رائیکوٹ برج یا گلگت/گلگت روڈ سے ہی حسبِ ضرورت نقد رقم (Cash) ساتھ لے کر جائیں۔
فیری میڈوز میں رہائش اور کھانے پینے کے لیے لکڑی کے خوبصورت کوٹیجز، کاٹیج رومز اور ٹینٹ (Tents) کی سہولت موجود ہے۔ یہاں کے ہوٹل اور ریسٹورنٹ اگرچہ لگژری یا فائیو اسٹار معیار کے نہیں ہیں، لیکن وہ بنیادی سہولیات سے آراستہ اور انتہائی صاف ستھرے ہیں۔ کھانا سادہ، تازگی سے بھرپور اور ذائقہ دار ہوتا ہے جہاں آپ کو دال، چاول، کڑاہی اور گرم چائے آسانی سے مل جاتی ہے۔ بجلی کی سہولت زیادہ تر سولر پینل یا جنریٹر کے ذریعے صرف رات کے وقت چند گھنٹوں کے لیے فراہم کی جاتی ہے، اور گرم پانی کی سہولت بھی محدود یا بالٹی کے ذریعے ملتی ہے، لیکن اس بے مثال قدرتی ماحول میں یہ سادہ سہولیات بھی کسی لگژری سے کم نہیں لگتیں۔یہاں کے مقامی لوگ، جنہیں شنا (Shina) قبیلے سے جوڑا جاتا ہے، انتہائی مہمان نواز، سادہ، محنتی اور راست باز ہیں۔ سخت اور دشوار گزار پہاڑی زندگی کے باوجود ان کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ اور لہجے میں مٹھاس ہوتی ہے۔ وہ سیاحوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور اپنے علاقے کی ثقافت و روایات پر فخر کرتے ہیں۔
فیری میڈوز صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کی آغوش میں چند دن گزارنے کا ایک ایسا تجربہ ہے جو انسان کو زندگی بھر یاد رہتا ہے۔ رات کو جب آسو پاس سناٹا چھا جاتا ہے، نانگا پربت کی عظیم الشان چوٹی چاندنی میں چمکتی ہے اور سامنے کیمپ فائر (Campfire) کی دھیمی آنچ پر مقامی موسیقی گونجتی ہے، تو انسان واقعی محسوس کرتا ہے کہ وہ پریوں کی ہی کسی نگری میں آ گیا ہے۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Qalam TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share