03/01/2026
یہ کوئی عام تصویر یا ویڈیو نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر لگا ہوا وہ داغ ہے جسے ہم نظر انداز کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جب کسی کے نجی لمحات ریکارڈ ہو کر لیک ہو جائیں اور پھر تفریح، مزاح یا وائرل ہونے کا ذریعہ بن جائیں، تو اصل مسئلہ صرف دو افراد نہیں رہتے بلکہ پوری سوسائٹی کا ضمیر سوال کے کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
افسوس اس سوچ پر ہے جو گناہ کو تماشا، بےحیائی کو آزادی اور فحاشی کو ماڈرن ہونا سمجھنے لگی ہے۔ افسوس اس بےحسی پر ہے جہاں لوگ یہ نہیں سوچتے کہ آج کسی اور کی ویڈیو لیک ہو رہی ہے، کل کسی کی بیٹی، بہن یا اپنا کوئی قریبی بھی اسی انجام سے گزر سکتا ہے۔ جب غیرت مر جائے اور حیا کو مذاق بنا دیا جائے، تو پھر ایسے مناظر عام ہو جاتے ہیں۔
یہ ویڈیوز نوجوان نسل کے ذہن کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہی ہیں۔ انہیں محنت، علم، کردار اور مقصد کے بجائے وقتی لذت، ہوس اور گمراہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ جو قوم اپنے نوجوانوں کو یہ سب دکھائے گی، وہ ترقی اور انقلاب کے خواب کیسے دیکھ سکتی ہے؟ وہاں صرف زوال، بگاڑ اور فکری اندھیرا ہی جنم لیتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ویڈیو کس نے بنائی یا لیک کس نے کی، اصل سوال یہ ہے کہ ہم سب نے اسے دیکھ کر، شیئر کر کے اور خاموش رہ کر کیا کردار ادا کیا؟ کیونکہ برائی صرف کرنے والے سے نہیں پھیلتی، بلکہ اسے قبول کرنے والوں سے بھی طاقت پکڑتی ہے۔
واقعی، اس قوم کے حال پر دل سے افسوس ہوتا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی، حدود کو نہ پہچانا اور اخلاقی اقدار کو دوبارہ زندہ نہ کیا، تو آنے والا کل اس سے کہیں زیادہ شرمندگی اور پچھتاوے لے کر آئے گا.....