05/10/2026
وادی لیپہ گاڑی خراب ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم، مسافر کئی گھنٹے خوار! وادی لیپہ بائی پاس کیوں ضروری ہے؟
وادی لیپہ میں تھانہ پولیس لیپہ کے قریب ایک گاڑی کا ایکسل خراب ہونے کے باعث سڑک کی تنگی کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو کئی گھنٹوں تک شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وادی لیپہ میں کسی بس، لوڈر ٹرک، جیپ حتیٰ کہ موٹر سائیکل کے خراب ہونے کی صورت میں بھی تنگ سڑک کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہو جاتا ہے۔ وادی لیپہ دنیا کی واحد میں سڑک کو کسی بھی لنک روڈ سے بھی تنگ صرف 12,14,26 میٹر سے کشادہ نہیں جبکہ 24 فٹ سے کم سڑک کسی سرکاری اعداد و شمار میں شمار نہیں کی جاتی
وادی لیپہ کے عوام طویل عرصے سے ایک متبادل اور کشادہ بائی پاس سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے گرلز کالج لیپہ میں ساڑھے چار کلومیٹر طویل لیپہ بائی پاس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا، تاہم اعلان کو تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود لیپہ بائی پاس کا منصوبہ فائلوں اور اعلانات تک محدود رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصر مدتی حکومت کے دوران بھی اس منصوبے پر عملی پیش رفت نہ ہو سکی، جس کے باعث وادی لیپہ کے عوام آج بھی اسی بنیادی مسئلے سے دوچار ہیں۔
وادی لیپہ کی موجودہ مرکزی سڑک پہلے ہی محدود چوڑائی اور بڑھتے ہوئے ٹریفک کے باعث مسائل کا شکار ہے۔ سڑک پر کسی ایک بڑی گاڑی کے خراب ہونے سے نہ صرف دونوں اطراف ٹریفک رک جاتی ہے بلکہ ایمبولینس، مسافر گاڑیوں، مال بردار ٹرکوں اور موٹر سائیکل سواروں تک کو گزرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیاحتی سیزن اور رش کے اوقات میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی، بالخصوص سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے نمایاں جماعت سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی وادی لیپہ میں سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا کردار اہم رہا ہے۔ عوام کو امید ہے کہ موجودہ حکومت اس اہم منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
لیپہ بائی پاس کی تعمیر کے مطالبے پر عوام علاقہ کی جانب سے ارباب اختیار کو ایک قرارداد بھی پیش کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ساڑھے چار کلومیٹر لیپہ بائی پاس منصوبے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوام نے وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، سابق وزیر حکومت اور موجودہ مسلم لیگی امیدوار اسمبلی چوہدری محمد رشید سمیت حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ لیپہ بائی پاس کی تعمیر کو محض اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے عملی جامہ پہنایا جائے، تاکہ وادی لیپہ آنے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کو ٹریفک کے موجودہ مسائل سے نجات مل سکے اور علاقے میں سیاحت و ترقی کا عمل مزید تیز ہو۔
عوامی حلقوں نے اس کے ساتھ لمنیاں، ریشیاں تا لیپہ سڑک کی حالت بہتر بنانے، سڑک کے اطراف حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور جاری ری کنڈیشنگ کے کام کے معیار کی کڑی نگرانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ناقص تعمیراتی کام کے باعث ہر سال عوام اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ حادثات کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
عوام علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ لیپہ بائی پاس سمیت وادی لیپہ کی تمام اہم سڑکوں کے منصوبوں کو سیاسی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے مکمل کیا جائے، تاکہ عوام کو محفوظ، کشادہ اور بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں اور وادی لیپہ کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عوامی مسائل اور مشکلات میں کمی لائی جا سکے تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکے.
Press club leepa karnah
Mian Shehbaz Sharif
DGPR AJK Digital
PML(N)
Raja Muhammad Farooq Haider Khan
Hafiz Muhammad Abrar Awan
ISPR
Muhammad Iqbal Awan
Kashmir Express Digital