Press club leepa karnah

Press club leepa karnah وادی لیپہ کے عوام کی آواز ، حقوق کا پاسبان
پریس کلب لیپہ کرناہ.

05/10/2026

وادی لیپہ نوکوٹ خوفناک آتش زدگی اچانک آگ بھڑکنے سے 2 گھر اور 5 دوکانیں دیکھتے ہی دیکھتے چند لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئیں
عوام علاقہ ریکسیو ٹیمیں آگ پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکیں
آۓ روز آگ لگنے کی وجوہات پر عوام علاقہ میں شدید اضطراب
حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
غریب عوام کی ساری زندگی کی جمع پونجی لمحے میں راکھ کا ڈھیر بن گئی





DGPR AJK Digital




05/10/2026

وادی لیپہ نوکوٹ خوفناک آتش زدگی
نوکوٹ ملاں احمد چوک آگ کی لپیٹ میں
دو گھر اور 5 کے قریب دوکانیں جلنے کی اطلاعات عوام کی بڑی تعداد آگ بھجانے موقع پر پہنچ گئی امدادی کارروائیوں میں مصروف ریکسیو 1122 سمیت امدادی ٹیمیں آگ بجھانے کے لئے موقع پر پہنچ گئیں
آگ کی وجہ سے سارا علاقہ رات گئے روشن ہو گیا
تاہم آگ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہر طرف دھواں اور آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں


DGPR AJK Digital

وادی لیپہ گاڑی خراب ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم، مسافر کئی گھنٹے خوار! وادی لیپہ بائی پاس کیوں ضروری ہے؟وادی لیپہ می...
05/10/2026

وادی لیپہ گاڑی خراب ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم، مسافر کئی گھنٹے خوار! وادی لیپہ بائی پاس کیوں ضروری ہے؟

وادی لیپہ میں تھانہ پولیس لیپہ کے قریب ایک گاڑی کا ایکسل خراب ہونے کے باعث سڑک کی تنگی کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو کئی گھنٹوں تک شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وادی لیپہ میں کسی بس، لوڈر ٹرک، جیپ حتیٰ کہ موٹر سائیکل کے خراب ہونے کی صورت میں بھی تنگ سڑک کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہو جاتا ہے۔ وادی لیپہ دنیا کی واحد میں سڑک کو کسی بھی لنک روڈ سے بھی تنگ صرف 12,14,26 میٹر سے کشادہ نہیں جبکہ 24 فٹ سے کم سڑک کسی سرکاری اعداد و شمار میں شمار نہیں کی جاتی

وادی لیپہ کے عوام طویل عرصے سے ایک متبادل اور کشادہ بائی پاس سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے گرلز کالج لیپہ میں ساڑھے چار کلومیٹر طویل لیپہ بائی پاس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا، تاہم اعلان کو تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اور اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود لیپہ بائی پاس کا منصوبہ فائلوں اور اعلانات تک محدود رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصر مدتی حکومت کے دوران بھی اس منصوبے پر عملی پیش رفت نہ ہو سکی، جس کے باعث وادی لیپہ کے عوام آج بھی اسی بنیادی مسئلے سے دوچار ہیں۔

وادی لیپہ کی موجودہ مرکزی سڑک پہلے ہی محدود چوڑائی اور بڑھتے ہوئے ٹریفک کے باعث مسائل کا شکار ہے۔ سڑک پر کسی ایک بڑی گاڑی کے خراب ہونے سے نہ صرف دونوں اطراف ٹریفک رک جاتی ہے بلکہ ایمبولینس، مسافر گاڑیوں، مال بردار ٹرکوں اور موٹر سائیکل سواروں تک کو گزرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیاحتی سیزن اور رش کے اوقات میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔

عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی، بالخصوص سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے نمایاں جماعت سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی وادی لیپہ میں سڑکوں کی تعمیر و بہتری کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا کردار اہم رہا ہے۔ عوام کو امید ہے کہ موجودہ حکومت اس اہم منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

لیپہ بائی پاس کی تعمیر کے مطالبے پر عوام علاقہ کی جانب سے ارباب اختیار کو ایک قرارداد بھی پیش کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ساڑھے چار کلومیٹر لیپہ بائی پاس منصوبے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوام نے وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، سابق وزیر حکومت اور موجودہ مسلم لیگی امیدوار اسمبلی چوہدری محمد رشید سمیت حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ لیپہ بائی پاس کی تعمیر کو محض اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے عملی جامہ پہنایا جائے، تاکہ وادی لیپہ آنے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کو ٹریفک کے موجودہ مسائل سے نجات مل سکے اور علاقے میں سیاحت و ترقی کا عمل مزید تیز ہو۔

عوامی حلقوں نے اس کے ساتھ لمنیاں، ریشیاں تا لیپہ سڑک کی حالت بہتر بنانے، سڑک کے اطراف حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور جاری ری کنڈیشنگ کے کام کے معیار کی کڑی نگرانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ناقص تعمیراتی کام کے باعث ہر سال عوام اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ حادثات کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

عوام علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ لیپہ بائی پاس سمیت وادی لیپہ کی تمام اہم سڑکوں کے منصوبوں کو سیاسی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے مکمل کیا جائے، تاکہ عوام کو محفوظ، کشادہ اور بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں اور وادی لیپہ کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عوامی مسائل اور مشکلات میں کمی لائی جا سکے تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکے.


Press club leepa karnah
Mian Shehbaz Sharif
DGPR AJK Digital
PML(N)
Raja Muhammad Farooq Haider Khan
Hafiz Muhammad Abrar Awan
ISPR
Muhammad Iqbal Awan
Kashmir Express Digital

نایاب تصاویر 1989 میں اس تاریخی مقام کی کھدائی کو دکھاتی ہیں جسے روایتی طور پر مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے...
04/10/2026

نایاب تصاویر 1989 میں اس تاریخی مقام کی کھدائی کو دکھاتی ہیں جسے روایتی طور پر مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جو صفا مروہ کے علاقے کے قریب توسیعی کام کے دوران دریافت ہوا تھا۔اس جگہ کو تصویروں، نقشوں اور تعمیراتی مطالعات کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا اس سے پہلے کہ باقیات کو دوبارہ خاص طور پر تیار کی گئی، صاف ریت سے ڈھانپ دیا گیا۔ یہ جگہ موجودہ مسجد الحرام کمپلیکس کے اندر مروہ گیٹ کے قریب واقع مانی جاتی ہے۔یہ گھر اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا گھر تھا اور وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم حضرت محمد ﷺ اپنی ان سے شادی کے بعد رہے اور جہاں اسلام کے بہت سے اہم ابتدائی واقعات پیش آئے۔دستبرداری: یہ جگہ روایتی طور پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے طور پر پہچانی جاتی ہے، 1989 کی کھدائی اور دستاویزات کی رپورٹس موجود ہیں، لیکن ساتویں صدی کی آثار قدیمہ کی شناخت جدید سائنسی تاریخ سے آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی ہے۔


وادی لیپہ: چنیاں پل کے قریب مرغیوں سے لدی گاڑی حادثے کا شکار، ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ح...
30/09/2026

وادی لیپہ: چنیاں پل کے قریب مرغیوں سے لدی گاڑی حادثے کا شکار، ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

وادی لیپہ  جماعت نہم کے میرپور بورڈ کے نتائج کا اعلان وادی لیپہ کے تقریباً 70 فیصد طلبہ کا نتیجہ خراب آنے پر والدین میں ...
29/09/2026

وادی لیپہ جماعت نہم کے میرپور بورڈ کے نتائج کا اعلان وادی لیپہ کے تقریباً 70 فیصد طلبہ کا نتیجہ خراب آنے پر والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے، والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہیں، ان کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، بچوں کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے بڑے خواب دیکھتے ہیں، لیکن جب رزلٹ سامنے آتا ہے تو والدین افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے، والدین کا کہنا ہے کہ اساتذہ معاشرے کا ایک قابل احترام شعبہ ہیں اور استاد کا بنیادی کام بچوں کو تعلیم دینا اور ان کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ہے، لیکن اگر سکولوں کا نظام درست نہ ہو اور بچوں کو مطلوبہ انداز میں تعلیم نہ دی جائے تو پھر بچوں کا مستقبل کیسے بہتر ہو سکتا ہے، ہر رزلٹ کے بعد بچوں یا والدین کو ذمہ دار قرار دینا مسئلے کا حل نہیں، سوال یہ ہے کہ بچے سکول میں کس ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انہیں کس حد تک توجہ دی جا رہی ہے، وادی لیپہ کے بہت سے والدین خود زیادہ تعلیم یافتہ نہیں اور وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے معاملات میں اساتذہ اور سکول کے نظام پر اعتماد کرتے ہیں، بچہ گھر آ کر صرف اتنا بتاتا ہے کہ آج میرا پیپر اچھا ہوا تو والدین خوش ہو کر اس کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہیں، انہیں تعلیمی نظام کی خامیوں کا اندازہ نہیں ہوتا، اس لیے اساتذہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچوں پر بھرپور توجہ دیں، انہیں سمجھائیں اور ان کی کمزوریوں کو دور کریں، والدین کا کہنا ہے کہ استاد کا مقام اس لیے بلند ہے کہ وہ نئی نسل کی تربیت اور مستقبل سنوارنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، تعلیمی اداروں میں اگر تدریس کے بجائے دیگر معاملات، گروپ بندی یا غیر ضروری سرگرمیوں کو اہمیت دی جائے گی تو سب سے زیادہ نقصان بچوں کے مستقبل کا ہوگا، والدین نے متعلقہ تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی لیپہ کے سکولوں کے تعلیمی نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

جنگ کا آخری دن22 ستمبر 1965 پاک بھارت جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کا اہم دن تھا۔ اسی دن دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ناف...
28/09/2026

جنگ کا آخری دن

22 ستمبر 1965 پاک بھارت جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کا اہم دن تھا۔ اسی دن دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوئی۔ آج کا دن تاریخی معرکۂ ڈوگرئی کی یاد بھی تازہ کرتا ہے، جہاں پاک فوج نے لاہور کے دفاع میں ناقابلِ فراموش شجاعت کی مثالیں قائم کیں۔

کہا جاتا ہے کہ 6 ستمبر کی صبح ٹھیک 3 بج کر 45 منٹ پر ہندوستان کی جانب سے واہگہ پر ایک گولہ آکر گرا، جسے بھارت کی جانب سے پہلا فائر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد سے یہ جنگ 17 دن جاری رہی۔ اس دوران ہماری فوج نے دشمن کے 1600 مربع میل پر قبضہ کرلیا تھا۔

اس موقع پر ایس جے سی پی پوسٹ پر موجود پلاٹون کمانڈر محمد شیراز چوکنا ہوگئے اور پوسٹ پر بھارت کی جانب سے مزید فائرنگ شروع ہوگئی۔ محمد شیراز نے جوابی فائرنگ کی اور یوں دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا، جو ستمبر کی تاریخی جنگ کی ابتدا تھی۔ لڑائی اتنی شدید ہوگئی کہ بھارتی فوجیوں نے قریب آکر دستی بم بھی پھینکنے شروع کردیے۔

اسی اثناء میں محمد شیراز دشمن کی گولیوں سے شہید ہوکر جنگِ ستمبر کے ’’پہلے شہید‘‘ کا اعزاز حاصل کرگئے۔ جنگ کے داستانوں میں پڑھا ہے کیپٹن جرجیس ناگی جنگ کے آخری شہید تھے۔ لیکن ریکارڈ کے مطابق کیپٹن محمد جرجیس ناگی کی شہادت 6 مارچ 1966 درج ہے، اس لیے انہیں 1965 کی جنگ کا آخری شہید کہنا درست نہیں بنتا۔

اس جنگ میں کامیابی کی ایک خاص بات یہ رپورٹ کی جارہی ہے کہ اس میں قومی یکجہتی بہت زبردست تھی۔ یہ بات اب بڑی عجیب اور ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ ستمبر کی جنگ نے پورے ملک میں جرائم صفر کر دیے تھے، کسی کا کسی سے جھگڑا نہیں تھا۔ نادانی اور ناتجربہ کاری کے باعث پرجوش عوام واہگہ کی سرحد کی طرف رواں تھے، جنہیں بڑی مشکل سے شالیمار باغ اور باغبانپورہ تک روکا گیا۔

اسی دوران ہمارے سیاسی قائدین کا کردار بھی بہت اہم اور قومی جذبے سے سرشار تھا۔ اسی سال اس وقت کے صدر ایوب خان نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ مادرِ ملت فاطمہ جناح کو اپنے تیار کردہ طریقِ انتخاب کے تحت دھاندلی سے شکست دی تھی۔ وہ متحدہ اپوزیشن کی متفقہ امیدوار تھیں اور کل جماعتی اتحاد نے اس پر سخت احتجاج کیا تھا۔

ایوب خان سے تعلقات کشیدہ تھے، لیکن تب نہ ضد تھی نہ کوئی انا کا مسئلہ۔ جب دشمن ملک پر چڑھ آیا تو ساری اپوزیشن نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) کی تجویز پر چل کر ایوب خان کے پاس گئی اور تمام تر انتخابی تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

پھر چشمِ فلک نے جہاں ہماری مسلح افواج کی جرأت، بہادری اور جذبۂ شہادت کو دیکھا، وہاں پاکستانیوں کی محبت کے مظاہرے بھی ہوئے۔ جدھر سے فوجی گزرتے، ان کا نعروں سے استقبال کیا جاتا اور ہاروں اور پھولوں سے لاد دیا جاتا۔

سپاہیوں نے بھی شجاعت و جرأت کی نئی داستانیں رقم کیں تو شاعروں نے لہو گرمادینے والا کلام لکھا۔ عام افراد کا حوصلہ ساتویں آسمان پر اس وقت دیکھا گیا جب 80 سال کا ایک عام بوڑھا گھر سے خندق کھودنے نکلا۔ مائیں اور بہنیں مصلے پر بیٹھ کر دعا گو رہیں اور پوری قوم یک جان و یک قالب ہوگئی۔ اس عظیم جذبے کا اظہار ہوا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

تمام پاکستانی میدانِ جنگ میں کود پڑے تھے۔ اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضاکار، مزدور، کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی:

’’اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، اب وقتِ شہادت ہے آیا‘‘۔

ایک بات یاد رکھنے والی ہے کہ 1965 میں فریقین کے پاس اسلحہ اور فوجی ٹیکنالوجی کی وہ صلاحیت نہیں تھی جو آج موجود ہے۔ آج کے دور میں جتنے جدید آلات، میزائل اور اسلحہ موجود ہیں، اگر اب جنگ ہو تو شاید 17 روز تک چل بھی نہ سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس خطے میں بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی صلاحیت کے مالک ہیں اور دونوں کے پاس جدید میزائل سسٹم بھی موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 1965 میں زیادہ جدید طیارے نہیں تھے۔ پاکستان کے پاس ایف-16 طیارے اس جنگ کے وقت موجود نہیں تھے۔ اُس دور میں پاکستانی فضائیہ کے اہم لڑاکا طیاروں میں ایف-86 سیبر بھی شامل تھے، جنہوں نے جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔

میجر عزیز بھٹی واہگہ اٹاری کے محاذ پر چھ روز تک بھارت کے ٹینکوں اور توپوں کے پرخچے اڑاتے رہے۔ ان کے سینئر آفیسر نے انہیں کہا بھی کہ ’’راجا صاحب، آپ تھک گئے ہیں، آپ آرام فرمالیں اور آپ کی جگہ کسی دوسرے جوان کو متعین کردیتے ہیں‘‘، مگر راجا عزیز بھٹی شہید کی خاکِ وطن سے محبت نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔ آخرکار اسی محاذ پر کندھے پر گولا لگنے سے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

رپورٹس کے مطابق 6 ستمبر کو جوں ہی بھارت نے حملہ کیا تو پہلے ہی دن اس کے 800 فوجی جان سے گئے۔ 12 ستمبر کو بھارت نے 600 بھاری ٹینکوں کے ساتھ چونڈہ (سیالکوٹ) کے محاذ پر اچانک زبردست حملہ کردیا تھا، مگر چونڈہ کے محاذ کو پاکستانی فوج نے بھارتی ٹینکوں کا تاریخی اور عالمی قبرستان بنا دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اس پاک بھارت جنگ میں بھارت کے 9500 فوجی جان سے گئے، اور پاکستان کے 1033 سپاہی شہید ہوئے، جب کہ ہمارے زخمیوں کی تعداد 2171 تھی، جبکہ بھارت کے 11000 فوجی شدید زخمی ہوئے اور 1700 سے زائد لاپتہ ہوگئے تھے۔ اس پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے 165 ٹینک اور 14 طیارے تباہ ہوئے، جب کہ بھارت کے 475 ٹینک اور 110 طیارے تباہ ہوئے۔

ہندوستانی ائیر فورس کے 117 طیارے زمین بوس کیے جانے کی بھی رپورٹس ملتی ہیں۔ ہمارے ہیرو ایم ایم عالم نے 7 ستمبر 1965 کو ایک ہی فضائی کارروائی میں پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ ان میں آخری چار طیارے انتہائی مختصر وقت میں مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ یہ کارنامہ پاکستان میں آج بھی ایم ایم عالم کی جنگی شہرت کا نمایاں حصہ سمجھا جاتا ہے۔

تو دوسری طرف اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی، اسکواڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالدین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کردیا کہ حرمتِ وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔

یاد رہے کہ ستمبر 65 کی 17 روزہ جنگ کے اختتام پر 22 ستمبر کو جنگ بندی نافذ ہوئی۔ ایک دور میں 6 ستمبر کو یومِ دفاع کے موقع پر سرکاری چھٹی بھی ہوتی تھی، تاہم بتدریج اس میں سست روی آتی رہی، جو شاید خارجہ پالیسی کا تقاضا تھا۔

آج سوال یہ بنتا ہے کہ اس وقت جس طرح اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا، عوام نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اپنی فوج کو سپورٹ کیا، تو کیا آج یہ یکجہتی نظر آتی ہے؟

Dr-Seraj Swati

Mian Shehbaz Sharif
28/09/2026

Mian Shehbaz Sharif

پاکستان سے انڈین فضائی حدود کا سفر بھی پرسکون تھا۔ لیکن لینڈنگ سے کچھ دیر قبل یہ بدقسمت طیارہ کھٹمنڈو کے تری بھون انٹرنی...
28/09/2026

پاکستان سے انڈین فضائی حدود کا سفر بھی پرسکون تھا۔ لیکن لینڈنگ سے کچھ دیر قبل یہ بدقسمت طیارہ کھٹمنڈو کے تری بھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہمالیہ کی پہاڑی سے جا ٹکرایا۔ حادثے میں کوئی مسافر بھی زندہ نہ بچ سکا۔
پڑھیے: https://bbc.in/4ypyZKy

اسسٹنٹ کمشنر لیپہ کا نوکوٹ بازاروں کا اچانک معائنہ، غیر معیاری و زائد المیعاد اشیاء کے خلاف کارروائی وادی لیپہ: اسسٹنٹ ک...
28/09/2026

اسسٹنٹ کمشنر لیپہ کا نوکوٹ بازاروں کا اچانک معائنہ، غیر معیاری و زائد المیعاد اشیاء کے خلاف کارروائی

وادی لیپہ: اسسٹنٹ کمشنر لیپہ نے ہمراہ متعلقہ سٹاف اور تھانہ پولیس لیپہ، یونین کونسل نوکوٹ کے مختلف بازاروں کا اچانک معائنہ کیا۔ اس موقع پر مختلف دکانوں پر دستیاب اشیائے خوردونوش کے معیار، قیمتوں اور زائد المیعاد اشیاء کی پڑتال کی گئی۔

دورانِ معائنہ غیر معیاری، مضرِ صحت اور زائد المیعاد اشیائے خوردونوش کی فروخت پر متعدد دکانداران کو جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ بعض دکانداران کو آئندہ کے لیے سختی سے وارننگ بھی جاری کی گئی۔

کارروائی کے دوران مضرِ صحت پاپڑ سمیت دیگر غیر معیاری اشیائے خوردونوش ضبط کر کے تلف کرنے کے لیے تحویل میں لے لی گئیں۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لیپہ نے دکانداران کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اشیائے خوردونوش مقررہ نرخوں پر فراہم کی جائیں اور غیر معیاری، مضرِ صحت یا زائد المیعاد اشیاء کی فروخت سے ہر صورت اجتناب کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی صحت اور اشیائے ضروریہ کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


Address

Muzaffarabad
164

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Press club leepa karnah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share