Al Abbas TV

Al Abbas TV Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Abbas TV, Digital creator, Muzaffarabad.

العباس ٹی وی | Al Abbas TV
نورِ ولایت کی روشنی میں 🌙

ہم پیش کرتے ہیں مجالسِ امام حسینؑ، تلاوتِ قرآنِ مجید، اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات پر مبنی روحانی و علمی مواد۔

📺 Follow کریں تاکہ روزانہ روحانی و دینی مواد سے فیضیاب ہوں۔

18/06/2026

`3 محرم الحرام`

شیخ عباس قمی نفس المہموم میں لکھتے ہیں کہ دو محرم کو آپؑ کے کربلا وارد ہونے کی اطلاع ابن زیاد ملعون کو ملی تو اس نے قاصد کے ذریعے آپؑ کو ایک خط بھیجا جس کا متن یوں تھا

اما بعد!
اے حسین! مجھے خبر ملی ہے کہ تم کربلا پہنچ گئے ہو مجھے امیر المومنین یزید نے لکھا ہے کہ گاؤ تکیہ لگا کر آرام سے نہ بیٹھوں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاوں جب تک تمہیں لطیف و خبیر پروردگار سے ملحق نہ کر دوں
البتہ بچنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ تم میری اور یزید کی اطاعت کر لو

یہ خط جب قاصد کے ذریعے امام حسینؑ تک پہنچا تو آپؑ نے اسے پڑھ کر زمین پر پھینک دیا اور فرمایا
وہ مخلوق کیسے نجات پا سکتی ہے جو خالق کے عذاب و ناراضگی کے عوض مخلوق کی رضا مندی خرید لے

قاصد نے جب آپ سے اس لعین کے خط کا جواب طلب کیا تو آپ نے اس سے فرمایا
میرے پاس اس کے لیے کوئی جواب نہیں ہے. اب اس پر عذاب خدا حتمی ہو چکا ہے

قاصد واپس گیا اور اسے حسینؑ کے جواب اور حالات سے باخبر کیا.

وہ ملعون یہ سن کر سخت غضبناک ہوا اور دربار میں موجود عمر ابن سعد ابن ابی وقاص کی طرف دیکھ کر بولا
جا کر پہلے حسین سے لڑو پھر "رے" چلے جانا .جہاں گورنری تمہارا انتظار کررہی ہے

جب ابن سعد نے عذر خواہی کی کوشش کی تو ابن زیاد کہنے لگا
اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو ہمارا عہدنامہ واپس کردو جو ہم نے “رے” کی گورنری کے سلسلے میں تمہیں دیا تھا

ابن سعد ڈرا کہیں کہ اس سے “رے” کی گورنری کا پروانہ واپس نہ لے لیا جاۓ

پس بولا
مجھے سوچنے کی مہلت دے دو

ابن زیاد نے اسے مہلت دے دی اور وہ اپنے گھر آیا شیخ مفید کے مطابق ابن سعد نے گھر آ کر اپنے قریبی لوگوں سے اس بارے میں مشورہ طلب کیا تو سب نے اسے اس خطرناک مہم سے باز رہنے کی تلقین کی

حمزہ بن المغیرہ جو اس کا بھانجا تھا بولا
مامو جان! آپ کو اللہ کا واسطہ ہے آپ حسینؑ کی طرف لڑنے کی نیت سے نہ جاییے گا کیونکہ اس سے آپ گناہگار ہوں گے اور صلہ رحمی کو بھی قطع کرنے کا سبب بھی بنیں گے اللہ کی قسم پوری دنیا کی بھی حکومت آپ کو مل جاۓ تب بھی آپ خون حسینؑ کے بدلے اسے قبول نہ کریں ایسا نہ ہو کہ آپ کل اللہ سے اس حال میں ملاقات کریں کہ آپ کے ذمے حسینؑ کے ناحق خون کا سوال ہو

(عمرو سعد بن ابی وقاص صحابی رسول کا بیٹا تھا جو قریشی تھے. اس بناء پر بنوہاشم اور ان میں قرابت بنتی تھی)

بھانجے کی بات سن کر ابن سعد بولا
تم فکر نہ کرو میں ایسا نہ کروں گا

لیکن پوری رات یہ بدبخت غور و فکر میں رہا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے پس یہ شعر پڑھتا جاتا تھا
(کیا میں رے کی حکومت کا خیال ترک کردوں جب کہ یہ میری دلی آرزو ہے یا اس کے عوض قتل حسین جیسا مذموم عمل انجام دوں ؟ اور مجھے علم ہے کہ اس کے بعد آگ ہی میرا ٹھکانہ ہے
لیکن میں کیا کروں "رے" کی حکومت میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے)

صبح کو یہ بد بخت ابن زیاد لعین کے پاس آیا اور کہا

تم نے سب کے سامنے مجھے گورنری دینے کا وعدہ کیا تھا لہذا مناسب یہی ہے کہ مجھے یہ عہد نامہ دے ہی دو. رہا حسین سے جنگ کرنا تو اس مہم کیلیے میرے علاوہ کوفہ میں اور بھی سرکردہ لوگ ہیں

پھر چند ایک سرکردہ افراد کے نام بھی لیے تو ابن زیاد بولا
میں نے تم سے کوئی راے طلب نہیں کی تمہیں اگر "رے" کی گورنری چاہیئے تو جاو پہلے حسین سے جنگ کرو پھر جب وہاں سے فارغ ہو کر آو تو ہم تم سے اپنا کیا ہوا عہد ضرور پورا کریں گے ورنہ ہمارا تقرر نامہ واپس کردو ہم کسی اور کو تمہاری جگہ اس مہم پر بھیں دیں گے

عمر ابن سعد کے نفس امارہ نے اسے اس قدر بہکایا کہ اس قلیل دنیا کے حصول کی خاطر وہ اس امر عظیم کے ارتکاب پر آمادہ ہو گیا

بلا شبہ مرسل اعظم ص نے برحق ارشاد فرمایا
"حب الدنیا راس کل خطیئة"
یعنی دنیا کی (جاہ و مال و زین و زینت) کی محبت تمام برائیوں کی بنیاد ہے

اس وجہ سے بندہ ہر قسم کے عظیم گناہوں کا ارتکاب کرلیتا ہے

پس یہ خبیث ابن زیاد سے مخاطب ہوا اور کہا
میں حسین سے جنگ پر آمادہ ہوں

اس کے بعد یہ لعین سگ دنیا چار ہزار کی فوج لے کر کوفہ سے کربلا کی طرف آ نکلا.

ابن سیرین کہتے ہیں کہ امیر المومنین علی ابن ابیطالب۴ نے بہت عرصہ قبل عمرو بن سعد کو جب وہ ابھی ایک نوجوان تھا کہا تھا

" افسوس ہے تجھ پر اے ابن سعد! ایک دن آئے گا جب تجھے اتش جہنم اور جنت میں سے اختیار دیا جاے گا تو تم اس دن جہنم کو پسند کرو گے

کربلا پہنچنے کے بعد عمر بن سعد نے امام حسین۴ کی طرف ایک قاصد بھیجا تاکہ وہ یہاں آنے کا مقصد جان سکے۔ آپ نے واضح فرمایا:

"میں یہاں خود سے نہیں آیا، بلکہ تمہارے کوفہ کے لوگوں نے مجھے خطوط لکھ کر بلایا ہے۔ اگر اب وہ اپنے عہد سے پھر گئے ہیں اور مجھے نہیں چاہتے، تو میں واپس لوٹ جانے کے لیے تیار ہوں۔"

جب عمر بن سعد نے یہ جواب ابنِ زیاد کو لکھ بھیجا، تو ابنِ زیاد نے صلح کی ہر پیشکش کو مسترد کر دیا اور حکم دیا کہ امام حسینؑ سے یزید کی بیعت لی جائے، ورنہ جنگ کی جائے۔

3 محرم ہی وہ دن تھا جب عمر بن سعد کے لشکر نے امام حسین علیہ السلام کے قافلے کو دباؤ میں لینے کے لیے ان کے خیموں کو نہرِ فرات سے دور ہٹانے کا حکم دیا، تاکہ پانی پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ اگرچہ باقاعدہ پانی 7 محرم کو بند ہوا، لیکن اذیّت اور گھیراؤ کا آغاز اسی دن سے ہو گیا تھا

(1) نفس المہموم 189-190-191-
(2) الکامل 4/ 53
(3) تذکرہ الخواص-141
(4) البحار 44/ 383-384
(5) الارشاد -210۔

Address

Muzaffarabad

Telephone

+923456920699

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Abbas TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share