21/05/2026
اسلامی تاریخ کی سب سے خطرناک واردات
یہ اسلامی تاریخ کی سب سے خطرناک واردات ہے جو جناب ابوطالب علیہ السلام کے ایمان پر ڈالی گئی۔ صرف ایک واحد روایت کی بنیاد پر نہ صرف ابوطالب بلکہ رسول اللہ ﷺ کے پورے خاندان کو کافر ٹھہرایا گیا۔
---
حدیث ملاحظہ فرمائیے
روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے آخری وقت چچا ابوطالب سے کہا:
> "چچا! آپ کلمہ پڑھ لیجیے تاکہ میں آپ کی شفاعت کر سکوں۔"
اور ابوطالب نے کہا:
> "میں اپنے باپ عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔"
---
اس روایت کا خطرناک پہلو
اس ایک روایت کے ذریعے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے چچا، دادا اور والدین سب ’’کافر‘‘ تھے۔
اگر ابوطالب "عبدالمطلب کے دین پر" کہہ کر کافر ٹھہرے تو لازمی طور پر عبدالمطلب بھی کافر قرار پائے۔
پھر یہ داغ سیدہ آمنہ (رسول ﷺ کی والدہ) اور حضرت عبداللہ (رسول ﷺ کے والد) تک جا پہنچتا ہے۔
گویا رسول اللہ ﷺ کا پورا خاندان (نعوذ باللہ) کفر میں پیش کیا گیا۔
---
راوی کی چھان بین
یہ روایت صرف مُسیّب بن حَزْن یا ان کے بیٹے سعید بن مسیب (تابعی) سے منقول ہے۔
اس کے علاوہ کوئی صحابی یا معتبر راوی اس واقعے کو بیان نہیں کرتا۔
مسیب بن حزن نہ تو اس وقت مسلمان تھے اور نہ ہی وہ ابوطالب کی وفات کے وقت وہاں موجود تھے۔
وہ ابوطالب کی وفات (10 نبوی) کے تقریباً 30 سال بعد اسلام لائے۔
تو سوال یہ ہے:
کیا رسول اللہ ﷺ کے گھر کے اندر، اس نازک وقت میں، ایک مشرک غیر متعلقہ شخص موجود ہو سکتا تھا؟
کیا یہ ممکن ہے کہ پورے خاندان، بیٹوں، بیٹیوں اور قریبی اصحاب کے ہوتے ہوئے صرف ایک ایسے راوی کی خبر معتبر مانی جائے جو اس وقت خود مسلمان ہی نہ تھا؟
---
قرآن کے دلائل
قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کے آباء و اجداد کی عظمت واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
1. سورۃ الشعراء 219:
> وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ
"اور آپ کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ سجدہ گزاروں کی پشتوں میں گردش کرتے رہے۔"
🔹 مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا نسب پاک اور موحدین میں منتقل ہوتا رہا۔
2. سورۃ البقرہ 133:
> قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلهاً وَاحِدًا
"ہم تیرے رب اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے رب کی عبادت کرتے ہیں جو ایک ہی خدا ہے۔"