The Khakha Rajputs Times

The Khakha Rajputs Times خبریں! KHAWRA MUZAFFARABAD JAMMU KASHMIR

30/07/2026

مزاحمت کار زندہ باد

HIL ACADEMY AMBORE CHATTAR ADMISSIONS are open for the 2026-27 academic Session.
28/05/2026

HIL ACADEMY AMBORE CHATTAR
ADMISSIONS are open for the 2026-27 academic Session.

Khakha Rajputs Times  Digital Newspaper
28/05/2026

Khakha Rajputs Times

Digital Newspaper

کھکھہ راجپوت ٹائمز:کھاوڑہ : مہلم چڑکپورہ واقعہ سے پیدا ہونے والی فضا کے  بعد  کھکھہ راجگان کی مشاورتی میٹنگ کے انعقاد کا...
09/04/2026

کھکھہ راجپوت ٹائمز:
کھاوڑہ : مہلم چڑکپورہ واقعہ سے پیدا ہونے والی فضا کے بعد کھکھہ راجگان کی مشاورتی میٹنگ کے انعقاد کا امکان
کھکھہ راجگان تعلیم یافتہ ، غریب پرور اور مظلوم کی حمایت کرنے والا قبیلہ ہے۔
مگر کچھ برداریاں بغض راجگان میں مبتلا ہیں اور صحیح غلط کو دیکھے بغیر راجگان کے خلاف متحد ہو جاتی ہیں۔
حالیہ واقعہ کے بعد جس طرح کھکھہ راجگان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ، غلط بیانیہ اور نفرت انگیز مواد سوشل میڈیا پر پھیلایا جارہا ہے اس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا!

کھکھہ راجپوت ٹائمز : اہل علاقہ ٹھیریاں کا کہنا ہے کہ مہلم چڑکپورہ پیش آنے والے واقعہ پر غلط بیانیہ اور جھوٹا پروپیگنڈا پ...
03/04/2026

کھکھہ راجپوت ٹائمز :
اہل علاقہ ٹھیریاں کا کہنا ہے کہ
مہلم چڑکپورہ پیش آنے والے واقعہ پر غلط بیانیہ اور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا گیا۔

سوشل میڈیا پر ایسا بیانیہ پھیلایا گیا کہ اہل ٹھیریاں ہی اصل قصور وار ہیں ۔
مہلم کے رہائشیوں کی گھٹیا حرکت کو لفظ سیلفی کو گھٹیا ترین بنا کر چھپانے کی کوشش کی گئی ۔
سوشل میڈیا پر لفظ سیلفی کو گناہِ کبیرہ کے مقابل لا کھڑا کردیا گیا۔

سیکٹری ہائر ایجوکیشن اور ان کی بہن کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیا گیا، مقامی افراد کی جانب سے ان کے ہمراہ مردوں پر تشدد کیا گیا ۔

پولیس تھانہ سیول سیکٹریٹ کے اہلکار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مہلم پہنچے تو معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے موبائل فون بجنے لگے۔

راجہ شوکت حیات اپنے فرزند کے ہمراہ چمنکوٹلی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے جن کو مہلم کے رہائشی علی عمر چوہدری نے روکا اور معاملہ کو حل کروانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا ۔
معاملہ کو حل کرنے کے لیے راجہ شوکت حیات نے راجہ امتیاز احمد خان سے رابطہ کیا ، راجہ امتیاز خان کو معاملہ حل کرنے کے لیے بلایا گیا ۔

معاملہ پر بات چیت شروع ہونے سے پہلے کچھ افراد میں تو تو میں میں ہو گئی ، جس کی وجہ سے کچھ نوجوان لڑ پڑے ، یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب کچھ افراد کی جانب سے ملزمان کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
چند نوجوان آپس میں لڑ پڑے ،معززین ٹھیریاں نے ٹھیریاں کے نوجوانوں کو لڑائی سے روکا اور اسی دوران موضع مہلم میں فائرنگ کی گونج سنائی دینے لگی ۔
چوہدری فیاض نے ڈسٹرکٹ کونسلر یوسی چڑکپورہ سے ذاتی رنجش کی بنیاد پر تنور گرم کرنے کی کوشش کی اور جس کا نتیجہ ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا۔
چوہدری فیاض کے ساتھیوں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ۔
(پولیس اہلکار نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے ، اس کے مطابق وہ چوہدری فیاض کے ساتھیوں کی گولیوں کا شکار ہوا ہے)
مہلم کے رہائشیوں نے ٹھیریاں سے آئے ہوئے افراد پر حملہ کردیا ،کراس فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کی زد میں آکر ایک راہگیر بشیر مغل جانبحق ہوگئے ۔

راجہ شوکت حیات ، جن کو چوہدری علی عمر نے سیکٹری ہائر ایجوکیشن کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر ثالثی کا کردار ادار کرنے کے لیے روکا تھا ، ان پر چوہدری علی عمر کے بیٹوں نے فائرنگ کر کے زخمی کیا ۔

چوہدری مراد اور صغیر مغل نے تھانہ سیول سیکٹریٹ میں مقتول کے ورثاء کی جانب سے یکطرفہ ایف آئی آر درج کرائی ، جس میں ایسے اشخاص کے نام بھی شامل ہیں جو وہاں موجود ہی نہ تھے ۔
چوہدری مراد نے برادری ازم کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت گھٹیا اقدام اٹھایا ، صغیر مغل جسکا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ، چوہدری مراد کے ہاتھوں استعمال ہورہا ہے ۔
مقتول کے ورثاء غیر جانبدارانہ کاروائی کی حمایت کے بجائے ایک ہی گروہ کو ٹارگٹ کرنے کی حمایت میں شریک ہو گئے۔
بے قصور لوگوں کی گرفتاریوں کے لیے سڑکیں بند کی گئیں ۔
ایف آئی آر میں درج 9 ناموں سے 3 افراد تھانہ پولیس سٹی کی حراست میں ہیں ،مہلم کے رہائشیوں کے خلاف تین ایف آئی آر درج ہیں مگر اسپیکر اسمبلی کے دباؤ کی وجہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ۔۔۔
شفاف تحقیقات کے مطالبہ کے بجائے ایک گروہ کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے ۔ عوام حقائق سے مکمل لا علم ہے یا بغض راجگان میں ایسا جان بوجھ کر کیا جارہا ہے ۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کیوں منظرعام پر نہیں لائی گئی ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبہ کے بجائے کیوں اہل ٹھیریاں کے خلاف یکطرفہ کاروائی کی جارہی ہے ؟؟؟
کیا گولی پر لکھا ہوا تھا کہ وہ کس جانب سے آئی ہے ؟؟؟
بغض راجگان اور غلط فہمیوں کا شکار لوگ ، گزشتہ عرصہ میں ایک گروہ اور عوامی ایکشن کمیٹی مدمقابل کھڑے ہوئے تھے ، کچھ لوگ اسی معاملہ کو ذہنوں میں لیے اس کا تعلق اس واقعہ سے جوڑ رہے ہیں ، حقائق جانے بغیر سوشل میڈیا پر غلط بیانیہ پھیلا رہے ہیں ، منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں جو قابل مذمت ہے ۔
عوام سے اپیل سے وہ حقائق دیکھیں ، غلط بیانیہ کو نہ پھیلائیں ۔
مہذب شہری ہونے کا ثبوت دینے ہوئے یکطرفہ کاروائی کی حمایت کے بجائے مخالفت کریں اور غیر جانبدرانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں۔

31/03/2026

کھکھہ راجپوت ٹائمز
کھاوڑہ: چڑکپورہ روڈ بند
مہلم چڑکپورہ میں کراس فائرنگ میں قتل ہونے والے بشیر مغل کے ورثاء کا احتجاج ، چڑکپورہ روڈ بند

25/03/2026

کھکھہ راجپوت ٹائمز
کھاوڑہ : اہل علاقہ ٹھیریاں کا کہنا ہے سوشل میڈیا پر غلط بیانیہ پھیلایا جارہا ہے ۔اہل علاقہ ٹھیریاں تعلیم یافتہ، معاملہ فہم اور مظلوموں کا ساتھ دینے والے لوگ ہیں ۔ بغض راجگان کا شکار لوگ معاملہ پر غلط بیانی کررہے ہیں ۔
معاملہ کی تحقیقات کے بغیر لوگ سوشل میڈیا پر یکطرفہ بیانیہ پھیلا رہے ہیں ۔
اس واقعہ میں ایک قیمتی جان چلی گئی اور اصل مجرموں کو سخت ترین سزا ملنی چائیے ۔ مرحوم کو انصاف ملنا چائیے، مرحوم کے ورثاء کو چائیے کہ وہ معاملہ کی شفاف تحقیقات کروائیں ۔
بغض راجگان میں کئی لوگ غلط بیانیہ کو سپورٹ کررہے ہیں جو کہ افسوس کن بات ہے۔ عوام کو چائیے کہ وہ مخصوص گروپ کو سپورٹ کرنے کے بجائے معاملہ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں۔

24/03/2026

کھکھہ راجپوت ٹائمز
کھاوڑہ : مہلم چڑکپورہ میں پیش آنے والے واقعہ پر اہل ٹھیریاں اور کھکھہ برادری کا بیان جاری

مورخہ 23 مارچ کو محترمہ تہذیب النساء صاحبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی وجہ سے نفری پولیس تھانہ سیول سیکٹریٹ مہلم کے مقام پر پہنچ چکی تھی ، اہل ٹھیریاں سے کچھ شخصیات نے معاملہ کو حل کرنے کی غرض سے مہلم کا رخ کیا ، جہاں پر مہلم کے مقامی افراد کی جانب سے نازیبا رویہ اختیار کیا گیا اور وارڈ کونسلر چوہدری فیاض اور ساتھیوں نے جرگہ کی غرض سے آنے والوں پر فائرنگ کر ڈالی ، جس سے پولیس کے دو اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے اور ایک راہگیر بشیر مغل صاحب جانبحق ہو گئے ، اس حوالے سے زخمی ہونے والے پولیس اہلکار نے بھی اپنا بیان دیا ہے کہ وہ فیاض چوہدری کے ساتھیوں کی فائرنگ کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں ۔
مگر پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کراس فائرنگ میں دونوں طرف کے افراد کے نام شامل ہیں اور بشیر مغل صاحب کے قتل کی ایف آئی آر کھکھہ برادری کے خلاف درج کی گئی ہے ۔ ایک طرف کراس فائرنگ اور دوسری طرف قتل کا الزام ہم پر کیوں لگایا جارہا ہے ؟
فیاض چوہدری کے ساتھیوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے زد میں آکر بشیر مغل صاحب شہید ہو گئے ۔ ہمارا ورثا اور مغل برادری کو پیغام ہے کہ اس معاملے پر شفاف تحقیقات کروائی جائیں ۔
ہمارا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ فیاض چوہدری اور ساتھیوں کے خلاف جلد از جلد ایف آئی آر درج کرتے ہوئے معاملہ کی شفاف تحقیقات کرے۔
ہم انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے اور اگر ہم پر خون ثابت ہو گیا تو انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں گے ۔ اسپیکر اسمبلی کے دباؤ کی وجہ سے یکطرفہ کاروائی کی جارہی ہے اور معاملے کو غلط رخ دیا جارہا ہے ۔ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اصل قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو کوہالہ اور سرینگر روڈ بند کر دی جائیں گیں ۔
ہمارا بشیر مغل مرحوم کے ورثاء کو واضع پیغام ہے کہ مرحوم کو انصاف دلانے کے لیے ہم آپ کا بھر پور ساتھ دیں گے اور ہمارا تعاون جاری رہے گا ۔

24/03/2026

کھکھہ راجپوت ٹائمز
کھاوڑہ : مہلم چڑکپورہ ، دو پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی اور ایک جانبحق
عینی شاہدین کے مطابق وارڈ کونسلر چوہدری فیاض کے ساتھیوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے دو پولیس اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہو گئے اور راہگیر فائرنگ کی زد میں آکر جانبحق ہو گیا ۔
اہل علاقہ کا معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

Address

Muzaffarabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Khakha Rajputs Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Khakha Rajputs Times:

Shortcuts

Share

Category