16/08/2026
کیا یہ بناوٹی حب الوطنی نہیں؟
تحریر:آغاسفیرحسین ک
اظمی، چئیرمین شہدائے وطن میڈیاسیل۔
قارئین!اگست آتا ہے تو پورا ملک سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتا ہے۔ گلیاں، بازار، عمارتیں اور گاڑیاں قومی پرچموں سے آراستہ ہوتی ہیں، ملی نغمے فضا میں گونجتے ہیں، سوشل میڈیا پر وطن سے محبت کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے اور ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے سنائی دیتے ہیں۔ یہ منظر بلاشبہ خوبصورت ہے، کیونکہ وطن سے محبت انسان کی فطری اور قابلِ احترام وابستگی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حب الوطنی صرف ایک دن کے نعروں، جھنڈوں، ملی نغموں اور جذباتی پیغامات کا نام ہے؟
اگر اگلے ہی روز ہم وہی سڑکوں پر کچرا پھینکیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں، ٹیکس چوری کو ذہانت سمجھیں، سفارش کو حق سمجھیں، سرکاری وسائل کو ذاتی ملکیت تصور کریں، میرٹ کو پامال کریں، جھوٹ بولیں، ملاوٹ کریں، رشوت دیں اور لیں، تو ہمیں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے۔ کیونکہ وطن سے محبت کا اصل امتحان جشن کے دن نہیں بلکہ عام دنوں میں ہوتا ہے۔
پاکستان سے محبت کا مطلب پاکستان کے شہریوں کی شخصی وشہری آزادی کاتحفظ بھی ہے۔اس لئے اہم اداروں میں گروہی،علاقائی،قبیلائی،لسانی،مسلکی تعصب و تنگ نظری کاکینسرموجودنہ ہو۔یہ بات یقینی بنارہے ہیں؟؟
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ آزادی کے بعد تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ہم نے بے شمار کامیابیاں بھی حاصل کیں، مشکلات کا مقابلہ بھی کیا، ایٹمی صلاحیت حاصل کی، دفاعی میدان میں اپنی جگہ بنائی، باصلاحیت سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، فوجی، کھلاڑی، فن کار اور دنیا بھر میں اپنی شناخت بنانے والے پاکستانی پیدا کیے۔پھرہم اپنی اجتماعی صلاحیت کے مقابلے میں وہ معاشی، علمی، صنعتی اور ادارہ جاتی ترقی کیوں نہ حاصل کر سکے جس کی توقع ایک آزاد قوم سے کی جاتی تھی؟
میں ہی نہیں جوبھی نیک نیتی سے اس پہلوپربات کرے ،تویہ پاکستان سے دشمنی نہیں، پاکستان سے حقیقی محبت کا اظہار ہے۔اورپھران سے زیادہ محب وطن کون ہوسکتا، جنہوں نے روزگارنہیں بلکہ وطن سے محبت کے جذبوں کو اپنی قومی ذمہ داریوں کےلئے بطور سیڑھی بنالیا،اور پاکستان کے امن ،سلامتی،ترقی و استحکام کےلئے کمربستہ ہوئے۔اپنائیں جگردیا،جوانیاں دیں،بلکہ جب جب وقت پڑا، جانیں بھی دیدیں۔
یوم آزادی منانادرحقیقت اپنے اس کردارکا اعلان ہونا چاہیے کہ ہمیں احساس اور ادراک ہے کہ وطن عزیزپاکستان کےلئے ہماری اپنی اپنی سطع پرکیاذمہ داریاں ہیں؟تب ہی یہ دن تجدیدعہدکا ذریعہ ہوسکتا ہے،جھنڈا ہاتھ میں ہو، مگر ذمہ داری دل میں بھی ہو۔ہم اکثر حب الوطنی کو جذبات کے ساتھ جوڑتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ قومیں حب الوطنی کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ایک طالب علم اگر ایمانداری سے تعلیم حاصل کرتا ہے، ایک استاد اگر پوری دیانت سے پڑھاتا ہے، ایک ڈاکٹر اگر مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے، ایک مزدور اگر محنت سے کام کرتا ہے، ایک تاجر اگر ملاوٹ اور دھوکے سے بچتا ہے، ایک صحافی اگر سچائی اور ذمہ داری سے خبر دیتا ہے، ایک سرکاری افسر اگر میرٹ پر فیصلہ کرتا ہے اور ایک سیاست دان اگر قومی خزانے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرتا تو یہ سب حب الوطنی کی عملی شکلیں ہیں۔صرف پرچم لہرانا آسان ہے؛ اپنے کردار کو قومی پرچم کے معیار کے مطابق بنانا مشکل ہے۔
کیاہم گزرے79برسوں میں سمجھ سکے ہیں کہ وطن سے محبت کا مطلب،کسی سیاستدان وحکومت سے اندھی محبت نہیں۔شخصیات آتی جاتی ہیں ،حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بھی اتار چڑھاو کا شکاربنتی رہتی ہیں مگر ملک اور قوم باقی رہتے ہیں۔ ایک محب وطن شہری حکومت کی اچھی پالیسی کو سراہا سکتا ہے اور غلط پالیسی پر سوال بھی اٹھا سکتا ہے۔ تنقید اگر اصلاح کے لیے ہو تو وہ حب الوطنی کے خلاف نہیں بلکہ جمہوری ذمہ داری ہے۔
پاکستان کوایسے نعروں سے زیادہ ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو علم، تحقیق، انصاف، میرٹ اور پیداوار کو فروغ دیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان عظیم ملک ہے؛ ہمیں انہیں ایسا پاکستان بنانے کے قابل بھی بنانا ہے جس پر وہ واقعی فخر کر سکیں۔دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے صرف قومی ترانے نہیں گائے؛ انہوں نے لیبارٹریاں قائم کیں، یونیورسٹیاں بنائیں، صنعتیں کھڑی کیں، تحقیق میں سرمایہ کاری کی، ہنر مند افرادی قوت تیار کی، قانون کی بالادستی قائم کی اور اپنے اداروں کو مضبوط کیا۔
ہمیں بھی اپنی جمہوری قیادت یہ بتائے کہ ہمارے تعلیمی ادارے تحقیق کے مراکز کیوں نہیں بن رہے،ہمارے نوجوان روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے کو کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ ہماری معیشت بار بار قرضوں اور مالی بحرانوں کا شکار کیوں ہوتی ہے؟ ہمارے سرکاری ادارے عوام کو سہولت دینے کے بجائے اکثر بوجھ کیوں بن جاتے ہیں؟ اور ہماری سیاست قومی منصوبہ بندی کے بجائے ذاتی، گروہی اور انتخابی مفادات کے گرد کیوں گھومتی ہے؟ان سوالات سے فرار اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسلام علم، عدل، دیانت، امانت، انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے مذہب کو جہالت، نفرت، فرقہ واریت یا دوسروں کی تحقیر کے لیے استعمال کرنا نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ دین کی حقیقی روح کے مطابق۔۔۔۔۔۔۔ہمیں مذہبی شعور اور جدید علم کو ایک دوسرے کا مخالف بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون بنانا ہوگا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مسجد بھی آباد ہو، یونیورسٹی بھی؛ جہاں قرآن کا احترام بھی ہو اور سائنس کی تحقیق بھی؛ جہاں اخلاق بھی ہو اور جدید ٹیکنالوجی بھی؛ جہاں ایمان کے ساتھ عقل، کردار کے ساتھ علم اور جذبات کے ساتھ ذمہ داری بھی موجود ہو۔
دنیا میں بہت سے ممالک نے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ جنوبی کوریا نے صنعتی اور تکنیکی ترقی کے ذریعے اپنی معیشت بدل دی، چین نے بڑے پیمانے پر صنعتی، سائنسی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کی، بھارت نے خلائی پروگرام سمیت متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھائی، جبکہ اسرائیل نے ٹیکنالوجی، زراعت، دفاعی تحقیق اور طبی سائنس میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ان ممالک کے راستے، سیاسی نظام، حالات اور چیلنجز ایک جیسے نہیں تھے، اس لیے محض موازنہ کافی نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ قومیں اپنی صلاحیت کو اداروں، تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کے ذریعے نتائج میں تبدیل کرتی ہیں۔پاکستان کے پاس بھی باصلاحیت نوجوان، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، زرعی زمین، سمندر، معدنیات اور بے شمار امکانات موجود ہیں۔ سوال وسائل کی کمی سے زیادہ ان کے مؤثر استعمال کا ہے۔
بہت سے سنجیدہ لوگوں کومیرے الفاظ "مصنوعی حب الوطنی"پرتجسس ہے ،جنہیں باور کروادیتاہوں کہ مصنوعی حب الوطنی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں زبان پر پاکستان اور عمل میں ذاتی مفاد ہو۔
ہم نے دیکھا اس بارآزادکشمیرجن سرکاری انتظامی افسروں نے مختلف اضلاع میں قومی پرچم لہرایا، مگر ان افسران میں وہ لوگ شامل ہیں جوریاست کے داخلی امن کوحکمت کیساتھ بحال رکھنے سے زیادہ ،دفاعی اداروں کیخلاف ذہن سازی کا ذریعہ ہیں ۔۔۔۔۔۔اسی طرح جومذہبی لیبل کیساتھ مختلف اداروں میں اثرورسوخ چاہتاہے تاکہ اسکی دکان چلتی رہے ،مگروہ معاشرے میں علامتی کرداراپنائے رہے،وہ کسی کا،دوست نہیں ۔یہ صرف لفظوں کے جادو دکھاسکتاہے۔
جب کوئی ذمہ دارحیثیت میں قومی مفاد کی بات کرتا ہے مگر اپنی علی کردار سے و
لوگوں میں وطن کی محبت نہیں بڑھاتا،تو وہ دشمن سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتاہے۔لہذاحقیقی حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ پہلے بااختیار لوگ اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں۔چودہ اگست کو جشن ضرور منائیں۔ پرچم بھی لہرائیں، ملی نغمے بھی سنیں، شہداء اور بانیانِ پاکستان کو بھی یاد کریں، بچوں کو آزادی کی اہمیت بھی بتائیں، اپنے ضمیر سوال ضرورکریں"میں پاکستان کے لیے کیا کر رہا ہوں؟کیا میں اپنے کام میں دیانت دار ہوں؟کیا میں قانون کی پابندی کرتا ہوں؟کیا میں اپنے بچوں کو سوال کرنے، تحقیق کرنے اور محنت کرنے کی تربیت دیتا ہوں؟
کیا میں اختلافِ رائے کو برداشت کرتا ہوں؟کیا میں اپنے سے کمزور شہری کے حقوق کا احترام کرتا ہوں؟کیا میں قومی وسائل کو امانت سمجھتا ہوں؟کیا میں اپنے ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں؟اگر ان سوالات کے جواب مثبت ہیں تو یقین کیجیے، آپ کا ایک عام سا روزمرہ عمل بھی حب الوطنی ہے۔اگر ایسانہیں توازن فکر کیجئے، موت،قبر، حشرمیں کیاجواب دینگے؟؟
ہمیں ایسا پاکستان جوعدالتی انصاف کی130 کی عالمی درجہ بندی میں 124ویں درجہ پر نہیں بلکہ ٹاپ ٹین میں نظرآئے۔ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں پرچم صرف چھت پر نہ ہو بلکہ کردار میں بھی نظر آئے؛ جہاں قومی ترانہ صرف تقریبات میں نہ بجے بلکہ اس کے الفاظ ہماری اجتماعی زندگی میں محسوس ہوں؛ جہاں تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ تحقیق اور تخلیق کا راستہ بنے؛ جہاں سیاست اقتدار کی جنگ کے بجائے عوامی خدمت کا نام ہو؛ جہاں عدالت، پولیس، انتظامیہ، پارلیمان، میڈیا اور تعلیمی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔یادرکھیں ،پاکستان کو جذبات سے نہیں، جذبات کو عمل میں تبدیل کرنے سے طاقت ملے گی۔
بااختیار اورفیصلہ سازقوتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف ماضی کے قصے سنائیں گے یا ان کے لیے بہتر مستقبل بھی تعمیر کریں گے۔ ہم انہیں صرف یہ کہیں گے کہ پاکستان عظیم تھا، یا ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں گے جسے وہ اپنے بچوں کے سامنے فخر سے عظیم کہہ سکیں؟
یہ بھی یادرہے،حقیقی حب الوطنی یہ نہیں کہ ہم پاکستان کو ہر حال میں عظیم قرار دیں؛ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم پاکستان کو عظیم بنانے کے لیے اپنے حصے کے فرائض اداکریں۔ یہی وہ آئینہ ہے جس میں اب اگلے سال 14 اگست "یوم آزادی"پر سب سے پہلے اپنا چہرہ دیکھنادیکھیں۔
Show quoted text
Error Icon
Recipient inbox full
Your message couldn't be delivered to [email protected]. Their inbox is full, or it's getting too much mail right now.
LEARN MORE
The response was:
552 5.2.2 The recipient's inbox is out of storage space and inactive. Please direct the recipient to https://support.google.com/mail/?p=OverQuotaPerm a640c23a62f3a-c21234bff20sor214034366b.1 - gsmtp
Show quoted text
Show quoted text
Show quoted text
Hide quoted text
ایکس وائس پریذیڈنٹ صررآل کشمیرنیوز پیپرز سوسائٹیAKNS
03465370114
From: Journalist Agha Safeer Hussain
.............. ............. ......... ................
کیا یہ بناوٹی حب الوطنی نہیں؟
تحریر:آغاسفیرحسین ک
اظمی، چئیرمین شہدائے وطن میڈیاسیل۔
قارئین!اگست آتا ہے تو پورا ملک سبز ہلالی پرچموں سے سج جاتا ہے۔ گلیاں، بازار، عمارتیں اور گاڑیاں قومی پرچموں سے آراستہ ہوتی ہیں، ملی نغمے فضا میں گونجتے ہیں، سوشل میڈیا پر وطن سے محبت کے پیغامات کی بھرمار ہو جاتی ہے اور ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے سنائی دیتے ہیں۔ یہ منظر بلاشبہ خوبصورت ہے، کیونکہ وطن سے محبت انسان کی فطری اور قابلِ احترام وابستگی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حب الوطنی صرف ایک دن کے نعروں، جھنڈوں، ملی نغموں اور جذباتی پیغامات کا نام ہے؟
اگر اگلے ہی روز ہم وہی سڑکوں پر کچرا پھینکیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں، ٹیکس چوری کو ذہانت سمجھیں، سفارش کو حق سمجھیں، سرکاری وسائل کو ذاتی ملکیت تصور کریں، میرٹ کو پامال کریں، جھوٹ بولیں، ملاوٹ کریں، رشوت دیں اور لیں، تو ہمیں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے۔ کیونکہ وطن سے محبت کا اصل امتحان جشن کے دن نہیں بلکہ عام دنوں میں ہوتا ہے۔
پاکستان سے محبت کا مطلب پاکستان کے شہریوں کی شخصی وشہری آزادی کاتحفظ بھی ہے۔اس لئے اہم اداروں میں گروہی،علاقائی،قبیلائی،لسانی،مسلکی تعصب و تنگ نظری کاکینسرموجودنہ ہو۔یہ بات یقینی بنارہے ہیں؟؟
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ آزادی کے بعد تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ہم نے بے شمار کامیابیاں بھی حاصل کیں، مشکلات کا مقابلہ بھی کیا، ایٹمی صلاحیت حاصل کی، دفاعی میدان میں اپنی جگہ بنائی، باصلاحیت سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، فوجی، کھلاڑی، فن کار اور دنیا بھر میں اپنی شناخت بنانے والے پاکستانی پیدا کیے۔پھرہم اپنی اجتماعی صلاحیت کے مقابلے میں وہ معاشی، علمی، صنعتی اور ادارہ جاتی ترقی کیوں نہ حاصل کر سکے جس کی توقع ایک آزاد قوم سے کی جاتی تھی؟
میں ہی نہیں جوبھی نیک نیتی سے اس پہلوپربات کرے ،تویہ پاکستان سے دشمنی نہیں، پاکستان سے حقیقی محبت کا اظہار ہے۔اورپھران سے زیادہ محب وطن کون ہوسکتا، جنہوں نے روزگارنہیں بلکہ وطن سے محبت کے جذبوں کو اپنی قومی ذمہ داریوں کےلئے بطور سیڑھی بنالیا،اور پاکستان کے امن ،سلامتی،ترقی و استحکام کےلئے کمربستہ ہوئے۔اپنائیں جگردیا،جوانیاں دیں،بلکہ جب جب وقت پڑا، جانیں بھی دیدیں۔
یوم آزادی منانادرحقیقت اپنے اس کردارکا اعلان ہونا چاہیے کہ ہمیں احساس اور ادراک ہے کہ وطن عزیزپاکستان کےلئے ہماری اپنی اپنی سطع پرکیاذمہ داریاں ہیں؟تب ہی یہ دن تجدیدعہدکا ذریعہ ہوسکتا ہے،جھنڈا ہاتھ میں ہو، مگر ذمہ داری دل میں بھی ہو۔ہم اکثر حب الوطنی کو جذبات کے ساتھ جوڑتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ قومیں حب الوطنی کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ایک طالب علم اگر ایمانداری سے تعلیم حاصل کرتا ہے، ایک استاد اگر پوری دیانت سے پڑھاتا ہے، ایک ڈاکٹر اگر مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے، ایک مزدور اگر محنت سے کام کرتا ہے، ایک تاجر اگر ملاوٹ اور دھوکے سے بچتا ہے، ایک صحافی اگر سچائی اور ذمہ داری سے خبر دیتا ہے، ایک سرکاری افسر اگر میرٹ پر فیصلہ کرتا ہے اور ایک سیاست دان اگر قومی خزانے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرتا تو یہ سب حب الوطنی کی عملی شکلیں ہیں۔صرف پرچم لہرانا آسان ہے؛ اپنے کردار کو قومی پرچم کے معیار کے مطابق بنانا مشکل ہے۔
کیاہم گزرے79برسوں میں سمجھ سکے ہیں کہ وطن سے محبت کا مطلب،کسی سیاستدان وحکومت سے اندھی محبت نہیں۔شخصیات آتی جاتی ہیں ،حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بھی اتار چڑھاو کا شکاربنتی رہتی ہیں مگر ملک اور قوم باقی رہتے ہیں۔ ایک محب وطن شہری حکومت کی اچھی پالیسی کو سراہا سکتا ہے اور غلط پالیسی پر سوال بھی اٹھا سکتا ہے۔ تنقید اگر اصلاح کے لیے ہو تو وہ حب الوطنی کے خلاف نہیں بلکہ جمہوری ذمہ داری ہے۔
پاکستان کوایسے نعروں سے زیادہ ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو علم، تحقیق، انصاف، میرٹ اور پیداوار کو فروغ دیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان عظیم ملک ہے؛ ہمیں انہیں ایسا پاکستان بنانے کے قابل بھی بنانا ہے جس پر وہ واقعی فخر کر سکیں۔دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے صرف قومی ترانے نہیں گائے؛ انہوں نے لیبارٹریاں قائم کیں، یونیورسٹیاں بنائیں، صنعتیں کھڑی کیں، تحقیق میں سرمایہ کاری کی، ہنر مند افرادی قوت تیار کی، قانون کی بالادستی قائم کی اور اپنے اداروں کو مضبوط کیا۔
ہمیں بھی اپنی جمہوری قیادت یہ بتائے کہ ہمارے تعلیمی ادارے تحقیق کے مراکز کیوں نہیں بن رہے،ہمارے نوجوان روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے کو کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ ہماری معیشت بار بار قرضوں اور مالی بحرانوں کا شکار کیوں ہوتی ہے؟ ہمارے سرکاری ادارے عوام کو سہولت دینے کے بجائے اکثر بوجھ کیوں بن جاتے ہیں؟ اور ہماری سیاست قومی منصوبہ بندی کے بجائے ذاتی، گروہی اور انتخابی مفادات کے گرد کیوں گھومتی ہے؟ان سوالات سے فرار اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسلام علم، عدل، دیانت، امانت، انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے مذہب کو جہالت، نفرت، فرقہ واریت یا دوسروں کی تحقیر کے لیے استعمال کرنا نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ دین کی حقیقی روح کے مطابق۔۔۔۔۔۔۔ہمیں مذہبی شعور اور جدید علم کو ایک دوسرے کا مخالف بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون بنانا ہوگا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مسجد بھی آباد ہو، یونیورسٹی بھی؛ جہاں قرآن کا احترام بھی ہو اور سائنس کی تحقیق بھی؛ جہاں اخلاق بھی ہو اور جدید ٹیکنالوجی بھی؛ جہاں ایمان کے ساتھ عقل، کردار کے ساتھ علم اور جذبات کے ساتھ ذمہ داری بھی موجود ہو۔
دنیا میں بہت سے ممالک نے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ جنوبی کوریا نے صنعتی اور تکنیکی ترقی کے ذریعے اپنی معیشت بدل دی، چین نے بڑے پیمانے پر صنعتی، سائنسی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کی، بھارت نے خلائی پروگرام سمیت متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھائی، جبکہ اسرائیل نے ٹیکنالوجی، زراعت، دفاعی تحقیق اور طبی سائنس میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ان ممالک کے راستے، سیاسی نظام، حالات اور چیلنجز ایک جیسے نہیں تھے، اس لیے محض موازنہ کافی نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ قومیں اپنی صلاحیت کو اداروں، تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کے ذریعے نتائج میں تبدیل کرتی ہیں۔پاکستان کے پاس بھی باصلاحیت نوجوان، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، زرعی زمین، سمندر، معدنیات اور بے شمار امکانات موجود ہیں۔ سوال وسائل کی کمی سے زیادہ ان کے مؤثر استعمال کا ہے۔
بہت سے سنجیدہ لوگوں کومیرے الفاظ "مصنوعی حب الوطنی"پرتجسس ہے ،جنہیں باور کروادیتاہوں کہ مصنوعی حب الوطنی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں زبان پر پاکستان اور عمل میں ذاتی مفاد ہو۔
ہم نے دیکھا اس بارآزادکشمیرجن سرکاری انتظامی افسروں نے مختلف اضلاع میں قومی پرچم لہرایا، مگر ان افسران میں وہ لوگ شامل ہیں جوریاست کے داخلی امن کوحکمت کیساتھ بحال رکھنے سے زیادہ ،دفاعی اداروں کیخلاف ذہن سازی کا ذریعہ ہیں ۔۔۔۔۔۔اسی طرح جومذہبی لیبل کیساتھ مختلف اداروں میں اثرورسوخ چاہتاہے تاکہ اسکی دکان چلتی رہے ،مگروہ معاشرے میں علامتی کرداراپنائے رہے،وہ کسی کا،دوست نہیں ۔یہ صرف لفظوں کے جادو دکھاسکتاہے۔
جب کوئی ذمہ دارحیثیت میں قومی مفاد کی بات کرتا ہے مگر اپنی علی کردار سے و
لوگوں میں وطن کی محبت نہیں بڑھاتا،تو وہ دشمن سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتاہے۔لہذاحقیقی حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ پہلے بااختیار لوگ اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں۔چودہ اگست کو جشن ضرور منائیں۔ پرچم بھی لہرائیں، ملی نغمے بھی سنیں، شہداء اور بانیانِ پاکستان کو بھی یاد کریں، بچوں کو آزادی کی اہمیت بھی بتائیں، اپنے ضمیر سوال ضرورکریں"میں پاکستان کے لیے کیا کر رہا ہوں؟کیا میں اپنے کام میں دیانت دار ہوں؟کیا میں قانون کی پابندی کرتا ہوں؟کیا میں اپنے بچوں کو سوال کرنے، تحقیق کرنے اور محنت کرنے کی تربیت دیتا ہوں؟
کیا میں اختلافِ رائے کو برداشت کرتا ہوں؟کیا میں اپنے سے کمزور شہری کے حقوق کا احترام کرتا ہوں؟کیا میں قومی وسائل کو امانت سمجھتا ہوں؟کیا میں اپنے ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں؟اگر ان سوالات کے جواب مثبت ہیں تو یقین کیجیے، آپ کا ایک عام سا روزمرہ عمل بھی حب الوطنی ہے۔اگر ایسانہیں توازن فکر کیجئے، موت،قبر، حشرمیں کیاجواب دینگے؟؟
ہمیں ایسا پاکستان جوعدالتی انصاف کی130 کی عالمی درجہ بندی میں 124ویں درجہ پر نہیں بلکہ ٹاپ ٹین میں نظرآئے۔ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں پرچم صرف چھت پر نہ ہو بلکہ کردار میں بھی نظر آئے؛ جہاں قومی ترانہ صرف تقریبات میں نہ بجے بلکہ اس کے الفاظ ہماری اجتماعی زندگی میں محسوس ہوں؛ جہاں تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ تحقیق اور تخلیق کا راستہ بنے؛ جہاں سیاست اقتدار کی جنگ کے بجائے عوامی خدمت کا نام ہو؛ جہاں عدالت، پولیس، انتظامیہ، پارلیمان، میڈیا اور تعلیمی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔یادرکھیں ،پاکستان کو جذبات سے نہیں، جذبات کو عمل میں تبدیل کرنے سے طاقت ملے گی۔
بااختیار اورفیصلہ سازقوتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف ماضی کے قصے سنائیں گے یا ان کے لیے بہتر مستقبل بھی تعمیر کریں گے۔ ہم انہیں صرف یہ کہیں گے کہ پاکستان عظیم تھا، یا ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں گے جسے وہ اپنے بچوں کے سامنے فخر سے عظیم کہہ سکیں؟
یہ بھی یادرہے،حقیقی حب الوطنی یہ نہیں کہ ہم پاکستان کو ہر حال میں عظیم قرار دیں؛ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم پاکستان کو عظیم بنانے کے لیے اپنے حصے کے فرائض اداکریں۔ یہی وہ آئینہ ہے جس میں اب اگلے سال 14 اگست "یوم آزادی"پر سب سے پہلے اپنا چہرہ دیکھنادیکھیں۔