15/11/2025
🕌 ’عشق حقیقی‘ کی پکار: یہ میلہ ہے یا بے حیائی کا پلیٹ فارم؟ 💔
بِسْمِ ﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
میرے عزیز بھائیو اور بہنو، میں آج ایک بہت ہی نازک اور تکلیف دہ موضوع پر آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تیسرا سالانہ میلہ ہے جو ہمارے گاؤں میں لگا ہے، لیکن میں نے اس سے مکمل دوری اختیار کی ہے اور یہ قدم اٹھاتے ہوئے میں بالکل حق بجانب ہوں۔
حقیقت جس سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں
مجھے اچھی طرح معلوم ہے، بلکہ میں ایسے کئی لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، جن کا میلے میں آنے کا مقصد تفریح یا دُکان داری نہیں ہوتا۔ وہ صرف اور صرف ایک صنف نازک کی تلاش میں اِرد گِرد گشت کرتے ہیں۔
اور بات صرف وہیں ختم نہیں ہوتی! ہمارے معاشرے میں ایک اور تکلیف دہ حقیقت بھی سرایت کر چکی ہے:
کئی جوان لڑکے اور لڑکیاں گھروں سے ہی رابطے میں جاتے ہیں اور پھر اس میلے کے ہجوم کو چھپنے کا پردہ بنا کر ملتے ہیں۔
اس میلے کی بھیڑ اتنی کثیر اور غفلت بھری ہوتی ہے کہ وہاں دین و اخلاق کی دھجیاں اڑانے والے ہر عمل کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
یہ جگہ تفریح کا ذریعہ کم اور دین اور شرم و حیا کی تباہی کا پلیٹ فارم زیادہ بن چکی ہے۔
میں اپنے اس موقف پر کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔ مجھے یاد ہے جب میں مظفرآباد کے ایک میلے میں زندگی میں پہلی دفعہ دوستوں کے ساتھ گیا تھا۔ وہاں جو منظر میں نے دیکھا، اس کے بعد میں نے عہد کر لیا کہ کسی بھی ایسے میلے میں دوبارہ جانا گوارا نہیں کروں گا، چاہے وہ مظفرآباد کا ہو یا ہمارے نزدیک پٹہکہ کا میلہ ہو۔میں دو سال پٹہکہ میں موجود ہونے کے باوجود میلے سے دور رہا اس لیے میں 100 پرسنٹ یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ اس میلے میں کیا کچھ ہوتا ہے اور کیا کچھ نہیں ہوتا البتہ میلے میں جانے والے لوگوں سے میری گفت و شنید ہوئی جن کی باتوں نے بالکل واضح کر دیا کہ جو میں سوچ رہا ہوں ٹھیک ہے۔اور پھر ایسے بھی لوگوں کے ساتھ میری ملاقاتیں ہوئیں جن کا مقصد صنف نازک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ (پونڈی)کے سوا کچھ نہیں۔
حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
"شرم و حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والا ہے۔"
جب ہم دین سے ہٹ کر بے حیائی کو قبول کرتے ہیں تو ہماری آخرت داؤ پر لگ جاتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ ہمارے بہت سے شریف لوگ، اپنے دینی غیرت اور خاندانی وقار کی وجہ سے، اس ماحول پر افسردہ ہیں، دُکھی ہیں، لیکن وہ کچھ بول نہیں پا رہے۔حتی کہ وہ اپنے گھر کے بچوں کو روک بھی نہیں سکتے۔
ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے خاندان کو، خاص طور پر اپنی جوان نسل کو، دین کی مضبوط رسی سے باندھیں اور ان مقامات سے دور رکھیں جہاں نظریں بے قابو ہو جاتی ہیں اور دل گناہ کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
ہمارا حقیقی عشق صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہونا چاہیے! اس عارضی اور تباہ کن تفریح کو چھوڑ کر اپنے دین اور گھر کی پاکیزگی پر توجہ دیں۔
’عشق حقیقی‘ کے قارئین سے ایک سوال: کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ ہمیں اپنے معاشرے کو ایسے بے حیا پلیٹ فارمز سے محفوظ کرنا چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ آواز دور تک جائے۔
#پاکیزگی