Nankana.com

Nankana.com Breaking news. Real stories. Honest reporting. Stay updated 24/7 with fast, reliable, and fact-based

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب میں نیو جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کو چیمبرز کی تقسیم کے حوالہ سے چوہدری خادم حسین سدھو...
16/05/2026

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ننکانہ صاحب میں نیو جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کو چیمبرز کی تقسیم کے حوالہ سے چوہدری خادم حسین سدھو ممبر پنجاب بار کونسل کے زیر صدارت الاٹمنٹ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ جس میں ممبران کمیٹی علی ناصر قادری صدر بار ،کامران چھینہ سیکرٹری بار ، راے معمر قذافی نے شرکت کی ۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیمبرز کی تقسیم بہت جلد اور شفاف طریقہ سے مکمل کر دی جائیگی

11/05/2026
پولیس کے بغیر معاشرہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ہے ۔پولیس کا ڈر نہ ہو غدر مچ جائے ۔پولیس ہی تحفظ کی علامت ہے ۔میں اس...
03/05/2026

پولیس کے بغیر معاشرہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ہے ۔پولیس کا ڈر نہ ہو غدر مچ جائے ۔پولیس ہی تحفظ کی علامت ہے ۔میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ ہماری پولیس اپنا کردار احسن طریقہ سے ادا کر رہی ہے ۔اصل مسئلہ ادارہ میں کچھ کالی بھیڑوں کا ہے جو اس کا امیج برباد کر رہی ہیں ۔اور دوسرا سنگین مسئلہ خود احتسابی کا فقدان ، ناقص نظام ہے ۔ پولیس میں خود احتسابی کا نظام ادارہ جاتی ہونے کی بجائے شخصی صوابدید پر مبنی ہے جہاں سزا و جزا کا فیصلہ ایک فرد یعنی ضلعی سربراہ ،رینج سربراہ یا صوبائی سربراہ کی پسند و نا پسند اور طبعیت مزاج کے گرد گھومتا ہے ۔اس نظام میں کہیں غیر ضروری سزائیں دی جاتی ہیں اور کہیں واضح غلطیوں کے باوجود کوئی احتساب نہیں ہوتا ۔
آپ نے سنا ہو گا کہ فلاں مجاز افسر نے اپنے فلاں ماتحت کو پہلے سب انسپکٹر سے اے ایس آئی ۔۔پھر ہیڈ کانسٹیبل ، پھر کانسٹیبل اور آخر میں محکمہ سے برخاست کر دیا ۔اور یہ تمام احکامات ایک ہی سانس میں فرمائے ہیں ۔ اور آپ کے مشاہدہ میں یہ بھی آیا ہو گا کہ فلاں آفیسر کرپٹ ،ظالم،بدتمیز،مکروہ شکل ،کرتوت بھی کافراں، کئی قتل کھا کر بھی افسران کی آنکھ کا تارا بنا بیٹھا ہے۔
چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس میں احتساب کو شخصی اختیارات سے نکال کر منظم اجتماعی طرز پر تشکیل دیا جائے جس میں سب کو برابری کی بنیاد پر سزا و جزا ہو ۔ نہ کوئی بے گناہ ماتحت ناجائز رگڑا جائے اور نہ کوئی بااثر بچ سکے ۔اگر سسٹم یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا کہ مس کنڈکٹ ہوا تو کوئی بچ نہیں سکے گا تو واضح مثبت تبدیلی نظر آئے گی۔اس معاملہ میں میرے مشاہدہ میں سینکڑوں واقعات ہیں صرف ایک کا ذکر کروں گا ۔ایک افسر کی بیگم صاحبہ کو سرکاری خانسامے کے ہاتھوں کی بنی کھیر بہت پسند تھی اس افسر سے جس کو کام پڑ جاتا تو وہ خانسامے سے رابطہ کرلیتا ۔ کام کی نوعیت و سنگینی چاہے کو بھی ہوتی خانسامہ کہتا کہ آپ کا کام ہو جاے گا آپ ایک کلو چاول ،پانچ کلو چوانوواں (خالص) دودھ کا بندوست کرلیں ۔اور واقعی کام ہو بھی جاتا چاہے شوہر افسر نے باہر اس کام کو کرنے میں دھو دھو کے جواب دیا ہو چاہے بھرے مجمع میں بھڑک تک مار رکھی ہو کہ ۔۔۔بچیا محکمے وچ توں رئیں گا یا میں رواں گا ۔۔۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ قتل جیسے سنگین مقدمات میں تفتیش کو پولیس میں اجکل بڑی سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے ، اور اس میں کوئی ڈنڈی نہیں ماری جا سکتی( تاہم ڈنڈا مارے جانے کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے ) کیونکہ ڈی پی او کی اجازت سے تفتیش مکمل کی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود ناقص تربیت، پیشہ ورانہ کمزوری، مبینہ جانبداری اور نگرانی کے فقدان کے باعث تفتیشی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران، خصوصاً ڈی پی او اور دیگر سپروائزری افسران کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قتل جیسے حساس کیسز کی تفتیش پر گہری نظر رکھیں، مگر بعض کیسز میں یہ نگرانی مؤثر دکھائی نہیں دیتی۔اکثر و پیشتر تفتیشی افسران پہلے اپنی مرضی کا نتیجہ اور بعد میں اس کے مطابق شواہد اکٹھا کرتے ہیں ۔
وکیل ابنِ فاروق کے قتل کا مقدمہ بھی اسی بحث کو تقویت دیتا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ ایک جھگڑے کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں پیش آیا، جس میں انہیں جان سے محروم کر دیا گیا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش شروع ہوئی، مگر بعد ازاں اس تفتیش کے متعلق چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں
عدالت نے مقدمے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی، تاہم اپنے فیصلے میں ابتدائی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ تفتیشی افسر بابر حسین (ایس آئی) کی جانب سے اہم شواہد کو نظر انداز کیا گیا اور کئی بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق تفتیش میں آزاد گواہوں کو شامل نہ کرنا، اہم زمینی ریکارڈ کو مقدمے کا حصہ نہ بنانا، بعض برآمدگیوں کا حقائق کے منافی ہونا، شناختی دستاویزات کو شامل نہ کرنا اور قتل کے مبینہ ہتھیار کی عدم برآمدگی جیسے سنگین نقائص سامنے آئے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسے مقدمات میں مدعی اور گواہان تفتیشی افسر کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، اس لیے شفاف اور قانون کے مطابق تفتیش ناگزیر ہے۔
اسی بنیاد پر عدالت نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ننکانہ صاحب کو ہدایت کی کہ وہ تفتیشی افسر کے خلاف محکمانہ انکوائری کریں۔ مقتول کے والد ریاست علی کی جانب سے دی گئی درخواست جس میں عدالتی ریمارکس کا حوالہ دیا گیا ہےاور حسب ہدایات عدالت تفتیشی افسر کیخلاف ثابت شدہ نقائص کے مطابق کاروائی کی استدعا کی گئی ہے اور ایک ماہ گزرنے کے باوجود اس حکم پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔بلکہ عملدرآمد تو کیاتاحال درخواست دہندہ کو بلایا تک نہیں گیا
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ناقص تفتیش کے باعث مدعی کو مجبوراً عدالت میں پرائیویٹ شکایت دائر کرنا پڑی، جہاں انہیں اپنے ہی تفتیشی افسر کے خلاف جرح کر کے کیس ثابت کرنا پڑا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے ملزمان کو سزا سنائی۔
یہ معاملہ صرف ایک کیس یا ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اس سے تفتیشی نظام کی مجموعی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر عدالتی احکامات کے باوجود ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی جائے تو اس سے نہ صرف انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ آئندہ کیسز میں بھی ایسی خامیوں کے دہرانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ناقص تفتیش ملزمان کی ڈھال بن جاتی ہے
اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے اور شفاف احتساب کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ تفتیشی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور قتل جیسے مقدمات میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ننکانہ بار کے موجودہ عہدیداران کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے اور مقتول نوجوان وکیل کے مظلوم والد کی مدد کرنی چاہئیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں

پنجاب پولیس کا شہریوں کے ساتھ برتاؤ و رویہ میں تبدیلی تمام حکومتوں کی ترجیحات میں شامل رہا ہے لیکن ہمیشہ ناکامی کا سامنا...
01/05/2026

پنجاب پولیس کا شہریوں کے ساتھ برتاؤ و رویہ میں تبدیلی تمام حکومتوں کی ترجیحات میں شامل رہا ہے لیکن ہمیشہ ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑا کیونکہ کسی حکمران نے رویہ بدلنے کیلئے یونیفارم کے کپڑے کے رنگ کو بدل کر حل نکالنے کی ناکام کوشش کی تو کسی نے ڈگریوں والی بھرتی کر کے کاغذوں کے ٹکڑوں پر اندھا اعتماد کر کے منہ کی کھائی ۔ کسی نے سوچا ان کی ٹریننگ ہونی چاہیے اور چھوٹے بدتمیزوں کو درست کرنے کیلئے انہی میں سے بڑے بدتمیزوں کے حولے کر دیا الغرض سب زور وشور سے ڈول نکالتے رہے کتا کسی نے نہیں نکالا ۔۔۔
ملا نصیر الدین گدھے پر الٹا بیٹھے تھے کسی نے وجہ پوچھی کہنے لگے پیچھے دھیان رکھنا ہے پوچھنے والے نے کہا کہ سامنے کون دھیان رکھے گا ملا بولے وہ گدھے کی ذمہ داری ہے
موجودہ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے بھی پولیس اور اس محکمہ کے متعلق معاملات کو ترجیحاً حل کرنے کی کوششیں کی ہیں اور کچھ اقدامات نے عوام کی نظروں میں کامیابی اور مقبولیت بھی حاصل کی ہے ۔ اور جرائم میں واضح کمی نظر آئی ۔ گلیوں بازاروں میں خواتین کو ان کے دور حکومت میں جو تحفظ حاصل ہوا وہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔
چند روز قبل انہوں نے پنجاب پولیس کے رویہ کو درست کرنے کے لیے حکم جاری کیا کہ پولیس افسران شہریوں کو ؛جناب ؛آپ ؛محترم اور میڈم کے القابات سے پکاریں گے اصل میں آج کی تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ ان سے مطالبہ ہے کہ وہ یہ حکم واپس لے لیں اس کی وجہ ننکانہ کے تھانہ میں ہونیوالہ ایک واقعہ ہے
ضلع ننکانہ صاحب کے ایک تھانہ میں مورخہ 27 اپریل بوقت تقریباً 6بجیشام ایس ایچ او صاحب (المعروف ٹوتھ برش) کے سامنے ایک شہری پیش کیا جاتا ہے تو ایس ایچ او صاحب نے وزیراعلی کے حکم پر پوری جان لگا کر عمل کرتے ہوئے فل پیار بھرے انداز میں شہری کو جنااااااااب کہ کر مخاطب کیا تو شہری پولیس کے رویہ کو ہضم نہ کر پایا اور اس حیران کن تبدیلی کی تاب نہ لاتے ہوئے خوشی کے مارے چکرا کر اس کا وہیں کھڑے کھڑے پیشاب نکل گیا وہ بھی بڑا والا ۔۔۔۔۔
شہری کے اس فعل کے باعث تھانہ کا ماحول بھی (رویہ تبدیلی کی طرح) تھوڑا تبدیل ہو گیا ۔ کار سرکار میں مداخلت بھی ہوئی ۔ دیگر لوگوں کیساتھ ساتھ ایس ایچ او کو بھی بھاگنا پڑا ۔۔اور بقیہ عوامی خدمت کیلئے ان کو کافی دیر ویٹنگ روم میں بیٹھنا پڑا ۔ شہری پر ناجائز اسلحہ لہرانے (نکالنے ) کا مقدمہ درج کردیا گیا حالانکہ یہ ناجائز نہیں بلکہ قدرتی اسلحہ ہے ۔۔۔۔اس کی تو تعزیرات پاکستان میں کوئی دفعہ نہیں دیکھی ۔۔۔دفعہ کرو ۔۔۔ اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ اس واقع سے یہ بات تو ثابت ہو چکی وزیراعلی پنجاب کی یہ پالیسی تو مکمل ناکام ہو چکی ہے کیونکہ پنجاب پولیس کے رویہ میں اتنی بڑی اور تیزی سے تبدیلی ہماری برداشت سے باہر ہے ۔۔وارہ نہیں کھا رہی ۔۔۔۔۔جیسا کہ روز پانی والا دودھ پینے والوں کو کبھی خالص دودھ پلا دیں تو ان کا پیٹ خراب ہو جاتا ہے
وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اس حکم کو واپس لے لیں اور ہمیں ہماری پہلے والی پنجاب پولیس واپس لوٹا دیں۔۔۔۔ اس کے ہم عادی بھی ہو چکے تھے اور ہمیں ان کی مکمل سمجھ بھی تھی ۔۔ ہمیں لگتا تھا کہ ہم ان کے کچھ لگتے ہیں ۔ہمیں شدت سے اس پولیس کی یاد آرہی ہے ۔۔۔ کبھی کبھار ان کا وہ پانجہ فٹ کرنا ۔۔اور پیار سے جوت پھیرنا کہ والد کی مار یاد آ جاتی تھی۔۔۔۔۔اتے جاتے پورے مان سمان کیساتھ بڑے بزرگوں والی گالیاں تاکہ دماغ خراب نہ ہو جائے۔۔۔۔ ہماری اپنی فلاح و بہبود کے مدنظر ہماری جیبوں پر نظر رکھنا اور ٹٹولتے رہنا ۔۔۔۔جب دل کرے اپنا ہی گھر سمجھ کر ان کا ہمارے گھروں میں تشریف لانا ۔۔۔ہمیں تھانوں جیسی گندی جگہوں سے دور رکھنے کیلیے دہائیوں کی محنت اور مشقت سے بنایا گیا ماحول ۔۔۔۔۔ وہ ایس ایچ او کا ہماری تربیت و ڈسپلن سکھانے کے پیشِ نظر جب مرضی کرسی سے اٹھا دینا ۔۔۔ وہ تھانہ کے محرروں سے چھپ چھپ کر ملاقاتیں ۔۔واقعی ہی آپ کے حکم سے تو سب بدل گیا ۔قسم سے اپنی پرانی پولیس کی یادیں رلا دیتی ہیں من حیث الحجوم ہمیں یہ پولیس قطعاً قبول نہیں ۔ وزیراعلی صاحبہ آپ سے گذارش ہے کہ پولیس کے رویہ میں تبدیلی آپ ہم پر چھوڑ دیں ۔ پہلی بات کہ ہم بھی اپنے بڑے بزرگوں کی طرح اس والی پرانی پولیس کے عادی ہو چکے ہیں دوسرا یہ کہ ہم سیکھ چکے ہیں بلکہ یہ ہنر ہمارے ڈی این اے میں پیوست ہو چکا ہے کہ ہم جب چاہیں ان کا رویہ بوقت ضرورت تبدیل کر لیں ۔ ان کا رویہ روپیہ سے فوری ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ بانی پاکستان کا احترام ہم سے زیادہ پنجاب پولیس میں پایا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ صوبہ میں دیگر مسایل پر توجہ دیں ۔یہ والا سرے سے ہمارا مسئلہ ہے ہی نہیں ۔ہمارے باپ دادا ہمیں اس کا جو حل بتا گئے ہیں ہماری عمر بھی اسی میں کٹ چکی ہے اب ہم یہی صاف شفاف اور دو جمع دو ۔چار والا ماحول آئیندہ نسلوں کو دینے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ خدارا اس تبدیلی کو آپ بھول جائیں اس کے اثرات و نتائج خوشگوار نہ ہیں ۔۔کم از کم ان سے ملاقات کر کے ہمارا پیشاب تو نہیں نکلتا تھا ۔ البتہ تراہ ضرور نکلتا رہتا تھا اور وہ تو 1947 سے ہی نکل رہا ہے

وہ لطیفہ تو سنا ہی ہو گا کہ جب جوئے کے اڈے پر پولیس نے چھاپہ مارا تو ایک جواری پولیس کے گرفتار کرنے سے پہلے ہی پھرتی سے بھاگ نکلا اور باہر جا کر پولیس کی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔تھانیدار کاروائی کے بعد واپس آیا تو حیرانگی سے اس ملزم کو مخاطب ہوا ۔۔اوے تینوں بڑی جلدی اے ۔۔۔ وہ بولا ۔۔۔سر جی جلدی والی گل نئیں میں پچھلی واری کھلو کے گیا سی ۔۔۔ سو ہمیں جیسے تیسے سیٹ مل جاتی ہیں ہم سے یہ نہ چھینیں ۔۔۔۔ ہم خوش ہیں بس ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں آپ کا احسان ہو گا

جناب محترم جابر جاوید رامے ایڈووکیٹ صدر شاہکوٹ بار کا ڈی پی او ننکانہ کو حوالاتیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ...
30/04/2026

جناب محترم جابر جاوید رامے ایڈووکیٹ صدر شاہکوٹ بار کا ڈی پی او ننکانہ کو حوالاتیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خط قابل تحسین عمل ہے

ننکانہ صاحب: سینئر وکیل کے قتل کیس میں بیٹے سمیت چار ملزمان کو عمر قید، تین بریننکانہ صاحب میں 2024 میں پیش آنے والے سین...
01/04/2026

ننکانہ صاحب: سینئر وکیل کے قتل کیس میں بیٹے سمیت چار ملزمان کو عمر قید، تین بری
ننکانہ صاحب میں 2024 میں پیش آنے والے سینئر وکیل ملک ساجد علی قمر اعوان شہید کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جس میں عدالت نے مقتول کے بیٹے سمیت چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب فاروق انور نے منگل کے روز فیصلہ سناتے ہوئے ملزم زین، مراد، عباس اور قیوم نظر عرف بابو کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی۔ جبکہ مقدمے میں نامزد ملزم خالد، زاہد اور مسمات عظیم بی بی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔
تھانہ سٹی ننکانہ صاحب میں درج مقدمہ کے مطابق یہ واقعہ 24 اپریل 2024 کو پیش آیا، جب سینئر وکیل ملک ساجد علی قمر اعوان اپنے بہنوئی وقاص انتظار کے ہمراہ دفتر سے گھر جا رہے تھے۔ بائی پاس روڈ، لاہور موڑ کے قریب مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر جاں بحق ہو گئے۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان موٹر سائیکلوں اور گاڑی پر سوار ہو کر آئے اورمقتول کی اہلیہ مسمات عظیم بی بی نے حملے کے دوران مبینہ طور پر للکارا مارا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ملک ساجد علی اور وقاص انتظار موقع پر دم توڑ گئے جبکہ ملزمان فرار ہو گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق اس قتل کی وجہ 2021 میں تھانہ سید والا میں درج دوہرے قتل کا بدلہ بتائی گئی تھی، جس میں غلام محی الدین عرف ٹھانہ اور غلام علی قتل ہوئے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک ملزم اکبر دورانِ سماعت وفات پا گیا تھا۔

Address

Nankana Sahib Muhala Purana Nankana
Nankana Sahib

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nankana.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share