Bazm-e-Simab

Bazm-e-Simab Advocate High Court

14/04/2026

امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے فوری بعد خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برینٹ کروڈ جمعہ کو 96 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر پیر کو 102 ڈالر سے تجاوز کر گیا، جس میں 7 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔

🔍 تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثرات

مارکیٹ میں اس تیزی کی کئی اہم وجوہات ہیں:

· سپلائی کے جھٹکے کا خدشہ: ایران روزانہ تقریباً 1.85 ملین بیرل برآمد کر رہا تھا، جس میں سے زیادہ تر چین جاتا تھا۔ ناکہ بندی اس سپلائی کو ختم کر سکتی ہے جبکہ آس پاس کے ذخائر (SPR) سے رہائی کے باوجود عالمی ذخائر میں 10-14 ملین بیرل یومیہ کی کمی ہو سکتی ہے۔
· خطرے کا پریمیئم (War Premium): "آبنائے ہرمز" سے روزانہ 20 ملین بیرل (عالمی کھپت کا 20%) گزرتا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے صرف ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی بات کہی ہے، لیکن بیمہ اور جوابی کارروائی کے خدشات نے مجموعی ٹریفک کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے قیمتوں میں مزید 12-15 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

⚠️ ممکنہ مستقبل کے منظرنامے۔

ماہرین نے تیل کی قیمتوں کے حوالے سے تین ممکنہ صورتیں پیش کی ہیں:

· سنگین صورت حال (Brent: $115 – $119+): اگر پابندی کو بڑھا کر تمام ٹریفک پر کر دیا جائے یا ایران براہ راست فوجی جوابی کارروائی کرے۔
· بنیادی صورت حال (Brent: $98 – $105): موجودہ پابندی صرف ایرانی بندرگاہوں تک محدود رہے اور مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں۔
· مذاکراتی حل (Brent: $88 – $92): اگر ایران جوہری معاملے پر رضامند ہو جائے اور پابندی ختم کر دی جائے، تو قیمتیں گر سکتی ہیں۔

📉 ایران پر معاشی اثرات

اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا ہے، جہاں 80% زرمبادلہ تیل سے آتا ہے۔ ایران کو روزانہ 435 ملین ڈالر (276 ملین برآمدات + 159 ملین درآمدات) کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈھائی ماہ میں ایرانی ریال کی قدر 42,000 سے بڑھ کر 1.58 ملین فی ڈالر ہو چکی ہے، اور افراط زر 50 فیصد کے قریب ہے۔

یہ اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ آیا پابندی کو سختی سے نافذ کیا جاتا ہے یا یہ محض مذاکراتی دباؤ ہے۔

13/04/2026

نہ ایران اتنا طاقتور ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند رکھ سکے اور نہ ہی امریکہ اتنا کمزور ہے کہ آبنائے ہرمز نہ کھلوا سکے، نہ ٹرمپ اتنا بیوقــوف ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلنے دے۔۔ آبنائے ہرمز کھولنا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں، صرف ڈرامہ بازی چل رہی ہے۔۔ وینزویلا کے تیل کے کنویں ہاتھ میں آنے کے بعد ٹرمپ کی نیت خراب ہو چکی ہے۔۔ ٹرمپ اتنا پاگــل اور احــمق نہیں وہ بہت شاطر ہے، آپ کی سوچ سے بھی زیادہ چالاک ہے، وہ خلیجی تیل کی سپلائی بند کرنا چاہتا ہے چاہے وہ ایران کا تیل ہو یا عربوں کا، ان کی تیل سپلائی بند ہو گی تو ہی امریکہ کا تیل بکے گا اس کا تیل صرف اسی صورت منہ مانگے دام بکے گا جب خلیج کا تیل بند ہو گا۔۔ یہی حقیقت ہے آج مان لیں یا کل وہ آپ کی مرضی ۔۔
ایرانی تیل کے ذخائر پہ حملہ ہوتا ہے نہیں معلوم حملہ آور کون ہے، ایرانی ذخائر تباہ ہوتے ہیں، ایران جواب میں عربوں کے تیل کے ذخائر پہ حملہ کرتا ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آتا۔۔ عرب بہت سمجھداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ جنگ میں نہیں کود رہے جب کہ ٹرمپ کی ازلی خواہش یہی ہے کہ عرب ایران ایک دوسرے کو خوب ماریں اور ایک دوسرے کے تیل کے ذخائر تباہ کریں اور لڑ لڑ کر اپنی معیشت اور اقتصادیات تباہ کر لیں۔۔ اسے معلوم تھا ایران پہ حملہ ہو گا تو ایران عربوں کے ذخائر تباہ کرے گا اور ٹرمپ کا مقصد پورا ہو گا ۔۔۔
چلیں اس کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے آپ غور کریں ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے جزیرہ خارک پہ قبضہ کرے گا اور اسے تباہ کرے گا پھر امریکہ جنگ ختم کر دے گا جس کے لیے اس نے دو ہفتوں کی ٹائم لائن دی ہے۔۔
سوچیئے تیل کے ذخائر پہ قبضہ تو سمجھ آتا ہے تباہ کرنے کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ خطے کو تیل کی دولت سے محروم کر دیا جائے۔۔ تاکہ مستقبل میں تیل کا سب سے بڑا سپلائر امریکہ ہو کوئی اور نہ رہے۔۔ اور ساری دنیا تیل کے لیے امریکہ کی محتاج ہو جائے ۔۔
دو ہفتے مزید آبنائے ہرمز بند رہتا ہے تو تیل 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گا یورپ انرجی کرائسس میں مبتلا ہو جائے گا اور پھر امریکہ اپنا تیل بیچے گا اور نوٹ چھاپے گا ۔

اے عشق تجھےہم سلام کرتے ہیںقلمبند آج حسرتِ ناکام کرتے ہیںکبھی آؤشام ڈھلے کچھ پل کے لئےداستانِ ہجر کا قصہ تمام کرتے ہیںجن...
11/04/2026

اے عشق تجھےہم سلام کرتے ہیں
قلمبند آج حسرتِ ناکام کرتے ہیں
کبھی آؤشام ڈھلے کچھ پل کے لئے
داستانِ ہجر کا قصہ تمام کرتے ہیں
جنوں کی نہیں ہوس کی بات ہے
جو پیش ہونٹوں کےجام کرتے ہیں
بچی ہیں دو چار جو عشق میں باقی
وہ سانسیں بھی تیرے نام کرتے ہیں
ہم ہی کرتے ہیں اِدھر اُھر کی باتیں
بیاں وہ تو بس الہام کرتے ہیں
بتاکر وصل نبھاتے ہیں رسمِ الوداع
سادہ ہیں آغاز کو انجام کرتے ہیں
کرتے ہیں عشق پھر شریعت کی آڑ میں
وہ خود کو مجھ پہ حرام کرتے ہیں
دِکھا کر میرے گھر کی خستہ حالی
خود کو کامل اور مجھے خام کرتے ہیں
مُدتوں بعددِکھ جاتے ہیں کبھی احباب
سچ ہے یہ بھی مجھ پہ انعام کرتے ہیں
مِلئے مسکرائیے پھر صاف مُکر جائیے
چلو سیماب ہم بھی یہ کام کرتے ہیں

11/04/2026

آج دنیا کے سامنے پاکستان کا جو مثبت اور ایک پُرامن ملک کا تشخص اُبھرا ہے، ہمیں اسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور ہمیں عملی طور پر بھی اس کا ثبوت دیتے رہنا ہوگا۔
ہمارے وہ پاکستانی جو بیرونِ ملک مقیم ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے وطن کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جہاں بھی رہیں، وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، اخلاق، برداشت اور احترام کا مظاہرہ کریں تاکہ پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ ہو۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار اور عمل سے دنیا کو یہ باور کرائیں کہ ہم واقعی ایک پُرامن قوم ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہے کہ پاکستان کو ایک امن پسند ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔

10/04/2026

یدستان
پٹرول 250 سے بڑھا کر385 روپے تک پہنچا دیا گیا، یعنی عوام پر 200 روپے سے زائد کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو کہا گیا کہ یہ جنگ اور عالمی حالات کی وجہ سے ہے۔ لیکن اب جب وہی جنگ بھی ختم ہو چکی ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں واضح طور پر کم ہو رہی ہیں، تب صرف 12 روپے کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کون سا ریلیف ہے؟ یہ عوام کے ساتھ مذاق اور دھوکہ ہے۔ جب اضافہ فوراً عوام تک منتقل کیا گیا تھا تو اب کمی کیوں نہیں؟ اگر ٹرانسپورٹ کرائے اور اشیاء کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں تو اس کی مکمل ذمہ داری اس ناکارہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ عوام اب مزید اس بے حسی اور ناانصافی کو برداشت نہیں کرے گی۔”

مَیں سویا ہوا ہوں میرا بیدار ہے کیسا مجھ پہ ہی تان لی چوکیدار ہے کیساہو جن کی سرشت میں آگے ہی آگے بڑھنااُن کو وفا شعاروں...
10/04/2026

مَیں سویا ہوا ہوں میرا بیدار ہے کیسا
مجھ پہ ہی تان لی چوکیدار ہے کیسا
ہو جن کی سرشت میں آگے ہی آگے بڑھنا
اُن کو وفا شعاروں سے سروکار ہے کیسا
دیتا ہے سبق مجھ کو دستار فروشی کا
دیکھو تو ذرا آکے میرا سردار ہے کیسا
پسِ دیوار نہیں ہے سرِدیوار میرا قاتل
اس بات پہ حیراں ہوں انکار ہے کیسا
انجامِ عشق جہاں میں ہے بچھڑنا ٹھہرا
پھر سب کامحبت پہ یہ انحصارہے کیسا
اِدھر دل اکیلا اُدھرلاکھوں حَسین چہرے
سپاہی معرکہِ عشق میں برسرِپیکار ہے کیسا
جینا پڑتا ہے یہاں غمِ عاشقی اُٹھا کر
اس دنیا میں دل لگانادُشوار ہے کیسا
زمیں کھودی پھر کھود کر برابر کردی
یکطرفہ محبت کا پیشہ بھی بیکار ہے کیسا
سرِآئینہ ہمدردی پسِ آئینہ ہے گھات
اس دور کے غم خواروں کامعیار ہے کیسا
ایک عدد دل چاہیے بغرضِ دلداریءِ دل
کل اِک اخبار میں چَھپا یہ اشتہار ہے کیسا
سچ جھوٹ میں اور جھوٹ کوسچ میں بدلا
حق وباطل کی ہیرا پھری یہ اخبار ہے کیسا
نہ تیر ہی نظر آیا نہ زخم ہی کھُل پایا
نگاہ کی کمان سےکِیا گیا وار ہے کیسا
میری جاں کو نباہ کے بدلے ضامن رکھ کر
پھراب جان لینے پر ہی تیرا اصرار ہے کیسا
حَسیں اگر چاند کہلاتا ہے اکِ داغ کے ساتھ
نشانِ تِل سے خالی ہے تیرارُخسار ہے کیسا
تُو تو پھول تھا پھر ہم کو تُو چُبھا کیوں ظالم
بتا پھولوں میں اٹکا ہوا یہ خار ہے کیسا
حقیقت کی پیتا ہوں ساقی مجاز پہ لعنت
شامل تیری محفل میں سیماب بادہ خوار ہے کیسا

شاعر۔سید طاہر ہاشمی سیماب
اشاعت۔بزمِ سیماب فیس بُک پیج





10/04/2026

مسلمانوں کے اتحاد کی اس وقت شدید ضرورت ہے۔ فضول اور فرقہ واریت کی باتیں کرنے والے یا مسلمانوں کے خلاف بغض رکھنے والے ہی اصل آستین کے سانپ ہیں۔ نرم لہجہ اور مہذب گفتگو زیادہ مناسب ہے۔ ایران پاکستان کے غیر متزلزل کردار پہ پاکستان کا شکریہ ادا کر رہا ہے اور کراؤن پرنس محمد بن سلیمان کے تدبر اور تحمل کا اعتراف ساری دنیا کر رہی ہے جو کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ گہرے مراسم کی مرہون منت ہے مگر سمجھ سے بالا تر ہے کہ کچھ کج فہم اور جذباتی لوگ فرقہ پرستی کے خ*ل سے باہر ہی نہیں آ رہے۔ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں موجودہ کشیدگی کےدوران سعودی قیادت کی جانب سے تحمل اور دانشمندی کے مظا...
07/04/2026

وزیرِاعظم شہباز شریف نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں موجودہ کشیدگی کےدوران سعودی قیادت کی جانب سے تحمل اور دانشمندی کے مظاہرے کو سراہا: اعلامیہ

07/04/2026

ایران کی سعودی عرب میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنانے کی تصدیق
پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے جبیل میں ایک پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پر حملہ کیا، یہ بیان ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور میزائل حملہ ایران میں پیر کے روز پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیا گیا۔

یہ رپورٹ اس سے قبل اے ایف پی نیوز ایجنسی کی جانب سے بھی سامنے آئی تھی جنھوں نے عینی شاہدین سے بات کی۔

اے ایف پی کے مطابق حملے کے نتیجے میں کمپلیکس میں آگ لگی اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دن کے آغاز میں کئی ایرانی میڈیا اداروں، بشمول فارس، نور، اور تسنیم نے بھی آگ لگنے کی رپورٹ دی اور ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کمپلیکس میں آگ دکھائی گئی۔

07/04/2026

الجبیل پر حملہ گویا سعودی عرب کی معیشت پر براہ راست حملہ ہے ، اور اس حملے کے بعد " امریکی اڈوں " والا بیانیہ بھی دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔ کیونکہ حملہ جس صنعتی کامپلیکس پر کیا گیا ہے وہ سعودی کمپنی ہے نہ کہ کوئی غیر ملکی ۔ تہران یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا بیان ابھی پڑھ رہا تھا جس میں موصوف نے کہا ہے کہ ایران ان تمام عرب ممالک کی تنصیبات ، پاور پلانٹس ، پانی کے پلانٹس پر بہت بڑا حملہ کرنے جا رہا ہے اور ان کے عوام کو چاہیے کہ وہ سارے علاقے خالی کر دیں ۔۔۔۔۔
اس حملے کے نقصانات سامنے آنے کے بعد ہی سعودی عرب کے ردعمل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ فی الوقت تو اس علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔
ٹرمپ کے ایرانی تنصیبات پر حملے کی دھمکی اور ڈیڈ لائن ختم ہونے میں آج کا دن باقی ہے
آج رات الجبیل پر ہونے والا حملہ گویا ایران کی طرف سے ایک پیشگی اقدام کہا جا سکتا ہے ، لیکن کیا اس سے ایران کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے ؟ ۔۔۔
یقیناً نہیں ، بلکہ اس سنگین اقدام سے پاکستان جیسے ممالک جو مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف ہیں ، ان کو بھی مشکلات کا سامنا ہو گا ۔۔۔

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں...
11/01/2026

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں امرتسر کے نواحی علاقے ”ترن تارن“ میں پیدا ہوئے۔ بنیادی اعتبار سے نظام کا تعلق ایک غریب لوہار خاندان سے تھا۔بوڑھی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بیٹے نظام کو تعلیم دلوا رہی تھی۔گھر میں نظام کی ایک جوان بہن بھی تھی،انگریز حکومت کے اہلکاروں کا مفلس کسانوں پر ظلم دیکھ کر نظام اکثر اسی سوچ میں گم رہتا کہ عام لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ چنانچہ وہ انگریز کا ایک خاموش مخالف بن گیا اور ابتدائی طور پر اپنی ہی بھٹی میں ہتھیار بنانا شروع کر دیے ۔تلواریں ، برچھیاںا ور چھرے بناتا اور جمع کرتا رہا ۔ ایک رات جب وہ کہیں سے واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی ماں مرچکی ہے اور جوان بہن کے کپڑے تارتار ہیں۔ استفسار پربہن نے بتایا کہ تمہارے بعد انگریز پولیس افسر سپاہیوں کے ساتھ آیا تھا،اس نے گھر کی تلاشی لی اور تمہارے ہتھیار ڈھونڈ لیے ،ماں کو اس قدر مارا کہ وہ مرگئی۔ میں نے مزاحمت کی کوشش کی، تو مجھے بھی بری طرح زودکوب کیا۔نظام کے لئے یہ واقعہ اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔اسی رات اس نے اپنی بہن کو ساتھ لے جا کے اپنے دوست محمد شفیع سے شادی کردی اور خود گھر بار چھوڑ کر ایک ویران حویلی میں پناہ لے لی جو آج بھی ککراں والی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔دوسری رات نظام تھانے پہنچا اور انگریز پولیس افسر کو قتل کردیا جس نے اس کی ماں کا خون کیا تھا اور اسکی بہن کی بے عزتی کی تھی ، پھر یہ فرار ہوگیا۔اگلی صبح جب انگریز پولیس افسر کے ق۔تل کی خبر علاقے میں پھیلی تو لوگ خوشی سے دیوانے ہو گئے،کیونکہ یہ انگریز پولیس افسر عورتوں کی بے حرمتی کرتا اور غریب کسانوں سے بیگار لیتا تھا۔انگریز پولیس افسر کے قتل پر ابھی لوگ خوش ہورہے تھے کہ سینئر سپرٹنڈنٹ پولیس رونالڈ کے ق۔ت۔ل کی اطلاع آگئی ۔اس کے بعد انگریز حکومت کے لئے نظام لوہارایک چیلنج بن گیا۔پولیس اسکے پیچھے تھی ۔انہی دنوں ایک روز نظام لوہار کی ملاقات اپنے علاقے کے مشہور باغی سوجا سنگھ کی ماں سے ہوئی جو بین کرتی جا رہی تھی۔ نظام نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سوجھا سنگھ کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے۔نظام نے تسلی دی اور خود سوجھا سنگھ کو چھڑانے کے لئے ”ٹبہ کمال چشتی“کی طرف چل پڑا۔ پولیس سے مقابلے کے بعد نظام لوہار نے سوجھا سنگھ کو چھڑا لیا۔اس پر سوجھا سنگھ کی ماں نے نظام لوہار کو اپنا بیٹا بنا لیا ا ور وہ اسی کے پاس رہنے لگا۔اس کے بعد نظام لوہار اور سوجھا سنگھ نے مل کر اوپر تلے انگریزوں کے چار اعلیٰ افسروں کو ق۔ت۔ل کر ڈالا۔ دونوں نے انگریز حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا اور علاقے کو بانٹ کر کسانوں کو ساتھ ملانے کے لئے راتوں کو گاؤں گاؤں پھرنے لگے۔آخر کار فیصلہ ہوا کہ میلوں اور عرسوں میں جاکر انگریز پولیس افسروں کو یہ کہہ کر ق۔ت۔ل کیا جائے گا کہ پنجاب سے نکل جاؤ۔اب نظام لوہار انگریز پولیس کے لئے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا،مگر سوجاسنگھ کی ماں کی بیماری کا سن کر واپس حویلی آگیا۔وہاں پہنچ کر نظام کو معلوم ہوا کہ سوجھا سنگھ ساتھ والے گاؤں ”جٹاں دا کھوہ“ کی ایک لڑکی چھیما ماچھن سے پیار کرنے لگا ہے۔نظام کو یہ بات پسند نہ آئی اس نے چھیماماچھن کو بلا کر سمجھایا کہ توسوجھاسنگھ سے پیارکرنا چھوڑ دے، کہ پیار محبت انسان کو بزدل بنا دیتے ہیں اس پر چھیما نے سوجھا سنگھ کو نظام لوہار کے خلاف بھڑکایا تو وہ نظام کے خلاف ہوگیا۔اس نے دس ہزار روپے اور چار مربع زمین کے لالچ میں تھانہ بھیڑیالہ میں اطلاع کردی کہ نظام لوہار آج ہمارے گھر میں ہوگا اور کل واپس کالا کھوہ چلا جائے گا۔نظام لوہار جس کمرے میں سویا ہوا تھا پولیس نے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا اور چند سپاہی چھت پر چڑھ کمرے کی چھت کو توڑنے لگے۔ نظام کو پتہ چل گیا،اس نے خوب مقابلہ کیا مگر اسکے پاس گو۔لیاں بہت کم تھیں چنانچہ جلد وہ انگریز پولیس کی گو۔لیوں کا نشانہ بن گیا ۔یہ 1877 کا سال تھا پنجاب کے بہادر اور دلیرہیرو کے آخری دیدار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔حکومت نے اعلان کر دیا،جو مسلمان نظام کے جنازے میں شریک ہو گااسے دو روپے ادا کرنے ہوں گے۔اس طرح 35ہزار روپے اکٹھے ہوگئے۔نظام کی قبر پر لوگوں نے اتنے پھول ڈالے کہ قبر پھولوں کاپہاڑ بن گئی۔نظام قصور شہر کے بڑے قبرستان میں دفن ہے۔جب سوجھا سنگھ کی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے نے مخبری کرکے نظام لوہار کو مروایا ہے تو اس ماں نے سوجھا سنگھ کو خود اپنے ہاتھ سے برچھی مار کر ق۔ت۔ل کر ڈالا اور کہا میں تمہیں کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی،تم نے نظام کی مخبری کرکے پنجاب کے ساتھ غداری کی۔

16/12/2025

Address

Nankana Sahib

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm-e-Simab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share