The Good Topic

The Good Topic Islam began with the Prophet Muhammad. Islam means "surrender" and its central idea is a surrendering

حضرتــــ ابو ہریرہ رضـــی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریـــم صلی اللہ علیـــہ وسلـــم نے فرمایــا"لاحول ولاقوة الا با...
10/03/2023

حضرتــــ ابو ہریرہ رضـــی اللہ تعالی عنہ
سے مروی ہے
نبی کریـــم صلی اللہ علیـــہ وسلـــم نے فرمایــا
"لاحول ولاقوة الا بالله"
کی کثرتـــ کیــا کرو ،
کیـــوں کہ یہ جنتـــ كے خزانــوں میں سے
ایکـــ اہم خزانــہ ہــے

*محبتیـں چاہتیں  قربتیں  عقیدتیں یہ جذبے وقتی نہیـں ہوتے  ہاں انسان بتا بتا کر جتا جتا کر  آخر تھک کے  خاموش ہو جاتا ہے ...
10/03/2023

*محبتیـں چاہتیں قربتیں عقیدتیں یہ جذبے وقتی نہیـں ہوتے ہاں انسان بتا بتا کر جتا جتا کر آخر تھک کے خاموش ہو جاتا ہے اور خاموشی ہر کوٸی کہاں سمجھ سکتا ہے*

🌹🌹🌹غلطی کا اعتراف کرلینا ایک بہترین خصوصیت ہے، اس سے نفس میں عاجزی پروان چڑھتی ہے اور تکبر کمزور ہوتا ہے اور اپنی خوشی ک...
10/03/2023

🌹🌹🌹غلطی کا اعتراف کرلینا ایک بہترین خصوصیت ہے، اس سے نفس میں عاجزی پروان چڑھتی ہے اور تکبر کمزور ہوتا ہے اور اپنی خوشی کے خاطر دوسرے کی خوشی خاک میں نہ ملاٶ کیونکہ تمہاری وہ خوشی بے کار ہے جس میں کسی کے آنسو شامل ہوں۔🌹🌹🌹

دعاؤں کا رنگ نہیں ہوتا💖مگر جب یہ رنگ لاتی ہیں تو زندگی میں رنگ بھر جاتے ہیں .🌹
09/03/2023

دعاؤں کا رنگ نہیں ہوتا💖
مگر جب یہ رنگ لاتی ہیں تو زندگی میں رنگ بھر جاتے ہیں .🌹

خلوص اور عزت بہت نایاب تحفے ہیں ہر کسی سے ان کی امید نہ رکھوکیونکہ بہت کم لوگ دل کے امیر ہوتے ہیں 🧡
01/03/2023

خلوص اور عزت بہت نایاب تحفے ہیں ہر کسی سے ان کی امید نہ رکھو
کیونکہ بہت کم لوگ دل کے امیر ہوتے ہیں 🧡

*اگر لوگوں کو قرآن کی تاثیر کا علم ہو جائے*  *تو وہ میوزک کے تمام آلات کو کہیں جلا دیں.❤️🥀*
13/02/2023

*اگر لوگوں کو قرآن کی تاثیر کا علم ہو جائے*
*تو وہ میوزک کے تمام آلات کو کہیں جلا دیں.❤️🥀*

✦   ہم میں سے کچھ لوگ دعا ہی نہیــــں کرتے...!!!✦   کچھ لوگ دعا تو کرتے ہیں لیکن صرف زبان سے...!!!✦   کچھ لوگ دل سے دعا ...
13/02/2023

✦ ہم میں سے کچھ لوگ دعا ہی نہیــــں کرتے...!!!

✦ کچھ لوگ دعا تو کرتے ہیں لیکن صرف زبان سے...!!!

✦ کچھ لوگ دل سے دعا کرتے ہیـــں اور اکثر اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کرتے ہیں...!!!

✦ اور کچھ لوگ دعا دل کی گہرائی سے کرتے ہیـــں اور اس دعا کے دوران اللّٰـــــہ کی محبت اور اللّٰـــــہ کے خوف سے آنکھوں سے آنسو بھی نکل آتے ہیـــــں ۔ اور ایسے لوگ اللّٰـــــہ سبحانہ وتعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتے ہیــــں...!!!

سوچئے گا ضرور کہ آپ کن لوگوں میں سے ہیــــں...!!!
🌺🍁🌺🍁🌺🍁🌺

‏یا رب کریم وہ صبر عطا فرما جس کے بعد کبھی حوصلہ نہ ٹوٹےوہ رحمت عطا فرما جو ہمیشہ جاری رہے وہ راستہ دکھا جو تیری رضا کی ...
13/02/2023

‏یا رب کریم وہ صبر عطا فرما جس کے بعد کبھی حوصلہ نہ ٹوٹے
وہ رحمت عطا فرما جو ہمیشہ جاری رہے
وہ راستہ دکھا جو تیری رضا کی طرف جاتا ہو
وہ کامیابی عطا فرما جو تکبر سے پاک ہو
وه رزق عطا فرما جس میں برکت ہو
وہ خیرعطا فرما جو ہم نہیں مانگ سکے
بیشک تو ہی دعائیں قبول فرمانے والا ہے
‏اے ہمارے پروردگار
ہماری رگوں میں دوڑتے خون کو اپنی عبادت کی محنت میں صرف فرما
خشوع و خضوع سے اپنا نام پکارنے کی روش عطا کر دے
سکھ بھری زندگی اور ایمان و اطمینان سے لبریز خاتمہ نصیب کرنا۔
آمین
▪︎أسْـتَـغْـفِـرُ الـلــهَ الـعَـظِـيْــمَ وَأتُــوْبُ إِلَــيْــه

اپنے غموں کو اللہ کے سامنے رکھ دو۔یقین مانو! وہ نہ تو مذاق بناتا ہے، ناں ہی ٹھکراتا ہے، بلکہ محبت سے تھام لیتا ہے۔✨
13/02/2023

اپنے غموں کو اللہ کے سامنے رکھ دو۔
یقین مانو! وہ نہ تو مذاق بناتا ہے، ناں ہی ٹھکراتا ہے، بلکہ محبت سے تھام لیتا ہے۔✨

_‏رشـتــے نبـهـانــے کیـلئـے "وعـدوں اور قـسمـوں" کـی ضرورت نہـیـں.صـرف دو خوبیـوں کی ضرورت هـوتـی ہے "احساس اور اعتماد"...
13/02/2023

_‏رشـتــے نبـهـانــے کیـلئـے "وعـدوں اور قـسمـوں" کـی ضرورت نہـیـں.صـرف دو خوبیـوں کی ضرورت هـوتـی ہے "احساس اور اعتماد" ـ بلا وجہ شک کرنے سے رشتوں کی "ڈور ٹوٹ" بھی سکتی ہے ــــــ_

11/02/2023

. *🍃حجاب میری پہچان🍃
*قسط نمبر1}*

*سوال:* حجاب کس لیے؟
*جواب:* تاکہ تم پہچانی جاٶ اور ستاٸی نا جاٶ
(القران)

ماما اوکے اللہ حافظ میں جا رہی ہوں
اقراء آج بھی تم اس برقعے میں جاٶ گی کیا مسز انور نے ناگواری سے کہا ماما میں ہمیشہ ہی برقعے میں جاتی ہوں کوٸی نٸی بات تو نہیں ہے
اقراء نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا پر اقراء کالج میں کون برقعہ میں جاتا ہے ؟
ماما میں جاٶنگی کوٸی جاٸے نا جاٸے اقراء چپ چاپ اوپر واپس جاو اور یہ برقعہ اور حجاب اتار کر آو اس میں بلکل پینڈو لگتی ہو یہ برقعے وغیرہ صرف اور صرف عالموں کے لیے ہوتے ہیں ہمارے لیے نہیں مسز انور نے حقارت سے کہا بس کریں ماما کیسی دقیانوسی باتیں کررہی ہیں ہم عورتوں کے لیے اللہ پاک نے قرآن میں پردے کا حُکم دیا ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے اقراء نے تحمل سے کہا تو پھر ماں کی فرمانبرداری کا بھی فرمان ہوگا مسز انور نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
ماما میں آپ کی ہر بات مانتی ہوں پر وہ بات نہیں مان سکتی جو دین اسلام کے خلاف ہو اور یہ ماں کی نافرمانی کے زمرے میں نہیں آتا اللہ حافظ
اقراء نے مسز انوار سے کہا پتا نہیں اس لڑکی میں کون سی مولانی آگٸی ہے مسز انور نے اپنی دوسری بیٹی زویا سے کہا ماما چھوڑیں اسے بے کار ہے اس سے بات کرنا زویا نے کہا سہی کہہ رہی ہو مسز انور نے حامی بھری
یہ تھا انور والا جہاں یہ تقریباً روز ہی ہوتا تھا انور کراچی کے جانے مانے بزنس مین اور مسز انور بوتیک اونر تھیں اور دونوں ہی اپنے کام میں فیمس ان کی دو بیٹیاں تھیں اقراء اور زویا اقراء زویا سے ڈیڑھ سال بڑھی تھی اور زویا سے کافی الگ اقراء دین اسلام سے بے حد جڑی ہوٸی اور محبت رکھنے والی اور زویا ان سب سے دور امیر ماں باپ کی بگڑی ہوٸی اولاد میں سے ایک زویا کے بگڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مسز انور نے کبھی اسے ماں کا پیار نا دیا ہمیشہ اپنی اولاد سے دور دور رہی سب کچھ ملازموں پر چھوڑ رکھا تھا مگر اقراء بچپن سے ہی اپنی دادو کے ساتھ زیادہ اٹیج رہی جس وجہ سے دادو نے اسکی تربیت اپنے طریقے سے کی اسے اچھاٸی براٸی اور سہی غلط کا فرق بتایا بتایا تو زویا کو بھی تھا مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ویسے بھی وہ اپنی دادو سے دور دور ہی رہتی تھی جس کی وجہ سے اس کی اور زویا کی تربیت اور رہن سہن میں فرق تھا
کیا بات ہے اقراء موڈ کافی خراب لگ رہا ہے تمہارا؟
لاٸبہ نے اقراء سے پوچھا وہ دونوں ساتھ ہی کالج میں انٹر ہوٸیں تھیں لاٸبہ اقراء کی واحد دوست تھی جوکہ بچپن سے اسکے ساتھ تھی اسکا ساتھ ہونے کی وجہ سے کوٸی اور دوست بنانے کی ضرورت ہی نا پڑی کچھ نہیں لاٸبہ بس آج پھر ماما شروع ہو گٸی تھیں
اقراء نے سامنے دیکھتے ہوٸے کہا ٹینش مت لیا کر سب ٹھیک ہو جاٸے گا دیکھ لینا۔ لاٸبہ نے تسلی آمیز لہجے میں کہا کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ اس کا موڈ کیوں خراب ہے کبھی کبھی مجھے لگتا کہ میں ہی غلط ہوں تم خود ہی دیکھو جب سے میں نے حجاب کرنا شروع کیا سب مجھ سے دور جانے لگ گٸے ہیں سب کی آنکھوں نفرت سے دیکھنے لگی ہے مجھے سب یوں مجھ سے پیش آتے ہیں جیسے میں پتا نہیں کیا ہوں پہلے تو ایسا نہیں تھا نا اقراء کا لہجہ بھیگ چکا تھا بولتے ہوٸے اقراء نا ہی تم غلط ہو نا ہی آنٹی آنٹی کی ماما آٸی مین تمہاری نانو نے انہیں دین اسلام کا زیادہ نہیں بتایا اور پھر شادی کے بعد وہ بھی ایلیٹ کلاس کے لوگوں میں شمار ہوگی جس کی وجہ سے وہ ان سب سے مزید دور ہوگٸ اور اپنی زندگی میں مصروف ہوگٸیں لیکن تمہیں تمہاری دادو نے ہمیشہ اپنے قریب رکھا اور تمہیں ہمارے دین اسلام کے بارے میں نا صرف بتایا بلکہ عمل کرنا بھی سیکھایا اگر تمہاری دادو نا ہوتی تو تم بھی شاید اپنی ماما اور سسٹر کی طرح ہی ہوتی اس لیے اللہ کا شکر ادا کیا کرو اور مایوس نا ہوا کرو ایک دن سب ٹھیک ہو گا بس اللہ پر توکل رکھو اور تمہیں معلوم ہے نا مایوسی کفر ہے
لاٸبہ نے اقراء کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا
ہمممممم سہی کہا مجھے امید ہے ان شاءاللہ ایک دن سب ٹھیک ہوجاٸے گا اقراء نے مسکراتے ہوٸے لاٸبہ کو کہا اس نے لاٸبہ کو تو تسلی دے دی تھی مگر وہ جانتی تھی وہ لوگ ایسے ہی رہنے والے ہیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ہاہاہا یہ دیکھو مولانی کو
تانیہ نے ہنستے ہوٸے اپنے گروپ سے کہا
ارے اتنا ہی منہ چھپانے کا شوق ہے تو گھر میں بیٹھو تمہاری جیسی مولانیوں کی جگہ اسکول کالج اور یونی کے بجاٸے گھروں میں ہوتی ہے ہنہہ
تانیہ کے گروپ کی لڑکی نے اقراء کے گرد گھومتے ہوٸے کہا
اس کی بات سنتے ہی سارا گروپ ہنسنے لگا تانیہ کا گروپ تقریباً کالج میں سب کو ہی تنگ کرتا تھا یہاں تک کہ اس گروپ میں اقراء کی اپنی بہن بھی شامل تھی جو کہ اسے تنگ کرنا کا کوٸی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی تھی
دیکھیے میں آپ سے کوٸی بحث نہیں کرنا چاہتی تو بہتر ہو گا آپ میرا راستہ چھوڑ دیں
اقراء نے زچ ہو کر کہا وہ جس طرف سے جانے کی کوشش کرتی ان کے گروپ کی کوٸی نا کوٸی لڑکی سامنے آجاتی
ہم تو نہیں چھوڑیں گے راستہ کیا کر لو گی
زویا نے آگے بڑھ کر بدتمیزی سے کہا حالانکہ وہ اقراء سے چھوٹی تھی پھر بھی کوٸی لحاظ نہیں
زویا بدتمیزی مت کرو
اقراء نے تنبیہ کرتے ہوٸے کہا
میں نے بدتمیزی کی بھی نہیں ہے
زو جانی ریلیکس ہم دیکھتیں ہیں اسے یو جسٹ کام ڈاٶن
تانیہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا
کیا ہورہا ہے یہاں پر ؟
کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے آپ لوگوں نے ، ساتھ کلاس ہورہی ہے کچھ شرم کر لیں
ٹیچر نے غصے سے سب کو ڈپٹا
میم یہ تانیہ اور زویا نے ہی شور مچایا ہوا ہے بلاوجہ میری فرٸینڈ اقراء کا راستہ روکا ہوا ہے اور تنگ کر رہی ہیں
لاٸبہ نے جلدی سے میم کو شکایت لگاٸی
تنگ تو مجھے لگتا ہے انہوں نے اور ان کی چار گز کی چادر نے کیا ہوا ہے پتا نہیں کیسے کیسے جاہل لوگ کالج آجاتے ہیں
میم نے ناگواری سے اقراء کو دیکھ کر اسکے برقعے اور چادر پر چوٹ کی جو کہ اس نے سلیقے سے برقعے پر اُڑھ رکھی تھی
اقراء بامشکل ہی اپنا غصہ ضبط کر رہی تھی جب برداشت سے باہر ہوا تو وہ وہاں سے چلی گٸی لیکن اسے ہنسنے کی آوازیں ضرور سناٸی دی تھیں
نجانے کیوں لوگوں برقعے اور حجاب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟

ایک دوسری عورت سے حجاب کو لیکر نفرت کرتی ہے جبکہ پردے کا حکم میرے اللّٰه کا ہے اس میں ہمارا انسانوں کا تو عمل دخل نہیں پھر کیوں ہے لوگوں میں جہالت ایسی؟
کہنے کو قرآن سب پڑھتے ہیں مگر سمجھ کر نہیں جبکہ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے قرآن پاک بمع ترجمعہ پڑھ کر دیکھیں کہ اللہ نے سورة احزاب میں کیا ارشاد فرمایا ہے جب پردے کا حکم آیا تھا تو دنیا کی سب سے پاکیزہ عورتوں نے بھی پردہ کیا تھا تو پھر ہم تو اس کے پیروں کی دھول بھی نہیں ہیں نجانے کب یہ لوگ سمجھیں گے برقعہ یا حجاب ان کی حفاظت کے لیے ہے
اقراء نے افسردگی سے سوچا وہ وہاں سے سیدھا سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گٸی حالانکہ یہ نٸی بات نہیں تھی اس کے لیے جب سے اس نے مکمل حجاب شروع کیا تھا سب سے یوں ہی باتیں سنتی آٸی ہے مگر ہر بار اسے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی پہلی بار میں ہوٸی۔
اقراء
لاٸبہ نے اسے پکارہ
ہممممم!!!
اقراء نے فقط ہممم ہی کہا
سوری میری وجہ سے میم
تمہاری کوٸی غلطی نہیں ہے لاٸبہ اس لیے سوری مت کہو
اقراء نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کہا
غلطی تو تمہاری بھی نہیں ہوتی پھر بھی یہ سب لوگ ایسے کرتے ہیں
لاٸبہ نے منہ بسور کر کہا
یار لاٸبہ چھوڑ انہیں لاٸبریری چلتے ہیں۔
اقراء نے اس کا موڈ سہی کرنے کے لیے کہا
مجھے اچھے سے پتا ہے میرا دھیان ہٹانا چاہتی ہو
لاٸبہ نے خفگی سے کہا
افف میری پیاری لاٸبہ اس چھوٹی سی ناک پر غصہ نہیں اچھا لگتا
اقراء نے اس کی خفگی پر مسکرا کر کہا
بہت بدتمیز ہو بجاٸے منانے کے مسکرا رہی ہو
لاٸبہ نے اسے گھور کر کہا
تمہیں اور میں مناٶ
اقراء نے آٸی برو اچکا کر پوچھا
جی بلکل آپ مس اقراء
لاٸبہ نے مس اقراء پر زور دے کر کہا
سوری پر مجھے منانا تو نہیں آتا پر ہاں تمہیں گدگدی ضرور کر سکتی ہوں
اقراء نے مسکراہٹ دباتے ہوٸے کہا
خبردار جو تم نے ایسا کچھ سوچا بھی
لاٸبہ نے جلدی سے سیڑھیاں اترتے ہوٸے کہا
ہاہاہاہاہا ابھی سے ڈر گٸی
اقراء بھی اس کے پیچھے ہی اتری
اقراء نا کرنا پلیز
اچھا یار نہیں کر رہی بس
اقراء نے ہنستے ہوٸے کہا اور دونوں چھوٹی چھوٹی باتوں میں لاٸبریری پہنچ گٸی

وہ دونوں کتاب پڑھ رہیں تھی جب کوٸی لڑکی ان کے ساتھ آکر بیٹھ گٸی ان دونوں نے ایک نظر اسے دیکھا اور واپس کتاب میں مگن ہوگٸیں مگر اس لڑکی کی نظریں خود پر باخوبی محسوس کر رہی تھیں
اسلام علیکم
وہ جیسے ہی باہر نکلیں تو وہ لڑکی ان کے ہمقدم ہوگی
وعلیکم اسلام
دونوں نے بیک وقت مسکرا کر کہا ان دونوں کا فیس کو نقاب سے ڈھکا ہوا تھا صرف آنکھیں نظر آرہیں تھیں
آپ سے ایک بات پوچھو
اس لڑکی نے بھی ان کی مسکراہٹ محسوس کر کے مسکرا کر کہا
جی جی پوچھیں
اقراء نے خوش دلی سے کہا پہلی بار کالج میں ان سے کسی نے نرم لہجے میں بات کی تھی
آپ کو حجاب میں یوں نہیں لگتا جیسا آپ قید میں ہو؟
سعدیہ نے وہ سوال پوچھا جو کب سے اس کے دماغ میں تھا
پیاری لڑکی حجاب یا پردہ آپ کو قید نہیں کرتا یہ صرف ہماری سوچ ہوتی ہے کہ حجاب یا پردہ ہمیں قید کرتا ہے حجاب کے ساتھ بھی اپنی زندگی ویسے ہی انجواٸے کر سکتے ہے جیسے بنا حجاب کے لیکن جب ہم بنا پردے کے باہر نکلتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور جب ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں تو ہم مشکلوں میں گھیر جاتے ہیں
اقراء نے اسے جواب دیا
سچ میں آپ ویسے ہی جیسے ہم شاپنگ کرتے ہیں گھومتے پھیرتے ہیں آپ بھی ویسے ہی کرتے ہیں؟
سعدیہ نے ایک اور سوال کیا
جی ہاں بہنا ہم بھی گھومتے ہیں شاپنگ کرتے ہیں فنکشن اٹینڈ کرتے ہیں مگر حجاب کے ساتھ
اب لاٸبہ نے اسے جواب دیا
تھینکیو آپ دونوں نے میرے سوالوں کا جواب دیا
سعدیہ نے خوشی سے کہا
پیاری لڑکی تھینکیو نہیں جزاك اللهُ‎ کہا کرو جزاك اللهُ‎ سے ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتیں ہیں اور ہم تو ویسے بھی نیکوں کے محتاج ہیں ہم نامہ اعمال میں ڈھیر ساری نیکیاں لکھوانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہی اپنا نامہ اعمال نیکیوں سے بھر لیں۔
اقراء نے سعدیہ کی جانب دیکھتے ہوٸے کہا جو کہ کالج ڈریس پر، سلیقے سے سر پر ڈوپٹا سجاٸے ہوٸے تھی
جزاك اللہ‎ سویٹ آپی
سعدیہ نے اسکے گلے لگتے ہوٸے کہا تو اقراء اور بھی مسکرا اٹھیں...
❤❤❤❤❤❤❤❤❤ *🍃حجاب میری پہچان🍃*

*قسط نمبر2}*

ایک ویک بعد
سعدیہ یہ کیا پہنا ہوا ہے تم نے؟
معراج نے غصے سے بھری آواز میں کہا سعدیہ کو معراج کالج چھوڑنے جارہا تھا تو اسے کالے برقعے کے ساتھ نقاب حجاب کٸے دیکھ کر معراج بری طرح کھٹکا سعدیہ نے کل ہی لاٸبہ سے کہہ کر برقعہ اسکارف اور نقاب پٹی منگواٸی تھی
بھاٸی برقعہ اور نقاب ہے اور کیا ہے
سعدیہ نے بنا اس کے غصے کو خاطر میں نا لاتے ہوٸے لاٸے کہا کیونکہ اب اسے اپنے رب کو راضی کرنا تھا دنیا کو نہیں تمہیں معلوم ہے نا مجھے نفرت ہے ایسے لوگوں سے اور یہ ہمارا اسٹینڈر نہیں ہے پہلے تم نے ڈوپٹہ لیا میں نے کچھ نا کہا اب یہ سب میں ہرگز برداشت نہیں کرونگا فوراً اتارو اسے معراج نے غصے سے اسکی نقاب پن اتارتے ہوٸے کہا بھاٸی کیا ہوگیا ہے آپکو سعدیہ کے اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوٸے کہا اور واپس نقاب کر لیا پچھلے ایک ہفتے سے وہ بدلی بدلی سی تھی شاید یہ اقراء اور لاٸبہ کی کمپنی کا اثر تھا جو اسے اسکی اصل پہچان کی جانب لا رہیں تھیں تبھی وہ حجاب کے لیے لڑنے کو بھی تیار تھی
مجھے کچھ نہیں ہوا البتہ تم ضرور پاگل ہو گٸی ہو
معراج نے غصہ ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوٸے کہا بھاٸی پاگل تو میں پہلے تھی اب ہی تو سمجھدار ہوٸی ہوں سعدیہ نے اسکی جانب دیکھتے ہوٸے کہا
ہنہہہ سمجھدار نہیں بےوقوف تمہیں جس نے بھی یہ حجاب کا سبق سنایا ہے نا اس نے تمہیں گمراہ کیا ہے تمہاری پہچان چھپانے کے لیے کیا ہے تمہیں زمانہ جہالت کی عورتوں جیسے بنا دیا ہے اور تمہاری سوچ کو بھی ان دقیانوسی عورتوں سے ملا دیا ہے
معراج نے آخری کوشش کرتے ہوٸے کہا جس کے جواب میں سعدیہ نے کچھ نا کہا وہ خاموشی سے بیٹھ گٸی لیکن حجاب کے ساتھ اسکی خاموشی سے معراج کو لگا کہ وہ اس کی باتیں سمجھ گٸی ہے اور وہ دل ہی دل میں خوش ہوا تھا
بھاٸی یہ مت سمجھے گا میں نے آپ کی بات مان لی ہے میں خاموش اس لیے ہوٸی کیونکہ میں بحث کرنا نہیں چاہتی تھی
سعدیہ نے بیگ اٹھا کر باہر نکلتے ہوٸے اس کی غلط فہمی دور کی اور معراج نے پیچھے غصہ سے اسٹیرنگ پر ہاتھ دے مارا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
اقراء آپی سعدیہ نے خوشدلی سے اقراء سے کہا وہ بھی ابھی ابھی آٸی تھے
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
اقراء نے بھی مسکرا کر جواب دیا اور دونوں ہمقدم ہوتیں کالج میں انٹر ہوگٸیں اووو تو یہ ہیں وہ متحرمہ جن کی بدولت میری بہن مجھ سے یوں بات کر کے گٸی ہے اچھا نہیں کیا محترمہ تم نے میری بہن کو ورغلا کر بہت پچھتاو گی دیکھ لینا معراج خود سے ہی بات کرتا گاڑی ریورس لے گیا
اقراء آپی ایک بات پوچھوں؟
سعدیہ جو کہ اپنی کلاس ختم ہوتے ہی اقراء کی کلاس کے سامنے کھڑی ہوگٸی تھی جیسے ہی اقراء باہر آٸی تو فوراً پوچھنے لگی جی ہاں ضرور پوچھو کیا بات ہے؟
اقراء نے آگے بڑھتے ہوٸے کہا چڑیلوں مجھے چھوڑ کر کہاں جارہی ہو؟
لاٸبہ نے ان کے ہمقدم ہو کر غصے سے پوچھا
ہاہاہاہا لاٸبہ اتنا غصہ سعدیہ نے ہنستے ہوٸے کہا
اب مجھے چھوڑ کر آٸی ہو نا اب لنچ کرواو ورنہ بات نا کرو مجھ سے لاٸبہ نے منہ پھولا کر ان سے ایک قدم آگے ہو کر کہا اچھا بھٸی آج لنچ میری طرف سے اور سعدیہ آپ نے کچھ پوچھنا تھا نا شاید؟
اقراء نے لاٸبہ کو کہنے کے ساتھ ہی سعدیہ کو بھی مخاطب کیا جی آپی بیٹھ کر بات کرتے ہیں کہیں سعدیہ نے کہا سہی
تانیہ تم نے نوٹس کیا اب ان دونوں کے ساتھ یہ نٸی پینڈو بھی آگٸی ہے عروا نے اقراء کی جانب اشارہ کرکے عروہ کو مخاطب کیا اوے پتا بھی یہ کون ہے؟
جیسے تم نے پینڈو بولا ہے؟
زویا نے سب کو کہا
کون ؟
سارے گروپ نے بیک وقت کہا شہر کے ٹاپ برنس مین سجاد آفندی کی بیٹی اور معراج آفندی کی اکلوتی بہن
زویا نے بتایا تو سب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی
واٹ تمہارا دماغ سیٹ ہے یہ پینڈو ٹاٸپ گرل معراج آفندی کی بہن ہو ہی نہیں سکتی یقیناً کوٸی مڈل کلاس فیملی کی ہوگی تبھی تو ان طرح منہ چھپاٸے پھر رہی ہے یو نو غریبوں کو تو ویسے بھی منہ چھپانے کی عادت ہے تانیہ نے اتنی بلند آواز سے کہا کہ ساٸیڈ والے ٹیبل پر موجود اقراء سعدیہ اور لاٸبہ تک آواز گٸی زبان سنمبھال کر بات کریں بدتمیزی ہمیں بھی آتی ہے اور کیا تم نے ہم مڈل کلاس سے اسی لیے منہ چھپاتے ہیں چلو ٹھیک ہم مڈل کلاس ہیں لیکن خود کو ڈھانپتے تھے ہم پینڈو ہیں نا اسی لیے ہمیں سمجھ نہیں پر آپ لوگ تو پڑھے لکھے امیر ہیں اسی لیے تو یہ ادھا ادھورا لباس پہنے گھوم رہیں ہیں یو نو ایسا لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کے پاس کچھ نا ہو جو مانگنے والے ہوتے ہیں اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ لوگ غریب ہیں ہم نہیں لاٸبہ نے جلا دینے والی مسکراہٹ سجاٸے کہا لاٸبہ اسکی بات مکمل ہوتے ہی لڑنے ان کے سر پر پہنچ گٸی تھی
تمہارا مطلب ہم بھیکاری ہیں؟
زہرہ نے غصے اور حیرت کی ملی جلی کیفیت سے کہا
اووو تم کتنی انٹیلیجینٹ ہو زویا آخر کو اقراء کی جو بہن ہو تبھی تو میری ان ڈٸریکٹلی بات کو بھی ڈٸریکٹلی سمجھ گٸی ہو لاٸبہ نے آگے بڑھ کر اس کے گال کھینچتے ہوٸے کہا سارا گروپ اسی بات پر شوکٹ تھا کہ زویا اقراء کی بہن ہے
زویا تم اقراء کی بہن ہو سب سے پہلے اریب نے شوک سے نکلتے ہی پوچھا تو لاٸبہ پیچھے ہوگٸی جو بھی تھا جتنا بھی غصہ تھا لیکن ایک غیر مرد سے وہ کوٸی بات نہیں کرنا چاہتی تھی
ہاں بدقسمتی سے میری ہی بڑی بہنخ ہے
زویا حقارت سے کہتی واک آٶٹ کر گٸی
اینڈ مس تانیہ ایم سعدیہ آفندی دی ڈاٹر اوف سجاد آفندی اینڈ دی سسٹر اوف معراج آفندی انڈراسٹینڈ اینڈ مس تانیہ حجاب یا پردہ صرف مڈل کلاس کے لیے نہیں ہے جو آپ لوگوں نے مڈل کلاس کو بدنام کیا ہوا ہے پردہ کرنے کا حکم اللہ پاک نے دنیا کی تمام مسلمان عورتوں کو دیا ہے اور تمہیں معلوم ہے جب آیتِ حجاب نازل ہوٸی تھی نا تو دنیا کی پاک عورتوں نے اس دنیا کے پاک مردوں سے پردہ کیا تھا ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں ان کے سامنے تو پھر یوں اکڑنے کا کیا فاٸدہ سوچنا ضرور میری بات نہیں تو قرآن پڑھنا تمہیں حقیقت خود معلوم ہو جاٸے گی

سعدیہ کہتے ہی لاٸبہ کے ساتھ اقراء کے پاس آگٸی غصے کی شدت سے اس کا منہ سرخ ہورہا تھا
تھوڑا کنٹرول بھی کر لیا کرو اتنا غصہ اچھا نہیں ہے
اقراء نے انہیں پانی تھما کر کہا تھا تو دونوں اسے غصے سے دیکھنے لگیں یار کیا ہوگیا ہے مجھ معصوم کو یوں تو نا دیکھو میرا ننھا سا دل ہے کہیں تم لوگوں کے غصے سے فیل نا ہوجاٸے اقراء نے ڈرنے کی ایکٹینگ کرتے ہوٸے کہا تو دونوں ہنس پڑیں اقراء آپی یہ دقیانوس کیا ہے ؟
سعدیہ نے چھٹی کے وقت اس سے پوچھا کیونکہ وہ تینوں آج لیٹ ہی جانے والیں تھیں پریکٹیکل کی وجہ سے دقیانوس ایک رومن شہشناہ کا نام تھا جوکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً دو سو برس بس حکمران ہوا تھا وقت لوگوں کی اکثریت عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھی اور لوگ رومن دیوی دیوتاؤں اور بت پرستی سے بیزار ہو چکے تھے دقیانوس نے بزور طاقت رومن مذہب اور بت پرستی کو رائج کرنا چاہا اور اصحابِ کہف جن کا ذکر سورة کہف میں ہے انکا واقعہ بھی دقیانوس کی حکومت میں پیش آیا تھا اصحاب کہف اُسی زمانہ کے نوجوان تھے جنہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت اور دقیانوس کے مظالم سے بچنے کیلئے ایک غار میں پناہ لی اور نجانے کتنے برسوں تک وہ وہیں پر رہے
ویسے عام فہم میں دقیانوس کا مطلب پرانا یا قدیم ہوتا ہے یعنی پرانی اور قدیم سوچ کے حامل انسان کو بھی دقیانوس کہا جاتا ہے رومن شہنشاہ دقیانوس نے ایک متروک اور جہالت بھرے مذہب کو دوبارہ لاگو کرنا چاہا تھا اس لئے اس کا نام ایک محاورہ (دقیانوسی باتیں) یا پہچان بن گیا ایسے لوگوں کے لئے جو پرانی اور جہالت کی رسوم اور سوچ کے حامی ہوتے ہیں
اقراء نے مکمل تفصیل سے بتاتے ہوٸے کہا وہ تینوں کینٹن والی ساٸیڈ پر موجود سیڑھیوں پر بیٹھی ہوٸیں تھی اور ہر آتا جاتا شخص انہیں عجیب نظروں سے دیکھتا گزر جاتا جیسے کوٸی عجوبہ ہو کوٸی مگر وہ سرے سے ہی لوگوں کو نظر انداز کر رہیں تھیں
تو آپی حجاب کرنے والوں کو دقیانوس کیوں کہتے ہیں؟
سعدیہ نے اپنے دماغ میں چلنے والا سوال پوچھا
جیسا کہ میں نے بتایا کہ دقیانوس کا مطلب ہوتا ہے پرانی یا قدیم سوچ کے حامل انسان حجاب کرنے والی عورتوں کو دقیانوسی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ عرب کی مسلمان عورتوں کی طرح پردہ کرتی ہیں وہ عورتیں جو کہ رب کے حکم کو مان کر پردہ کرتی تھیں وہ دنیا داری نہیں جانتی تھیں مگر دین جانتی تھیں کیونکہ وہ قرآن کو پڑھتی تھی اسے زندگی کا حصہ بناتی تھی وہ حجاب کی اس آیت کو فولو کرتی تھی
اے پیغمبرﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ جب باہر نکلا کریں تو اپنے چہروں پر چادر لٹکایا کریں یہ چیز ان کے لیے موجبِ شناخت و امتیاز ہو گی تو کوٸی انہیں عزہ (تکلیف) نہ دے گا بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے
(سورة الحزاب : آیت نمبر ٥٩)
مگر آج کی عورتیں قرآن کے بجاٸے فیشن کو فولو کرتی ہیں اور اگر کوٸی قرآن کو فولو کرے تو اسے دقیانوسی کہنے لگ جاتے ہیں مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ خود زمانہ جہالیت کی عورتوں کی طرح کھلے منہ گھومتیں ہیں اور دقیانوسی سوچ کی حامل حجاب والیوں کو کہتے ہیں اصل میں وہ خود اس سوچ کے حامل ہوتے ہیں جس سوچ کی حامل زمانہ جہالت کی عورتیں تھیں آیت حجاب آتے ہی دنیا کی پاک باز عورتوں نے سب سے پہلے پردہ کیا تھا اور پھر سب نے جس چیز کا حکم میرے اللہ نے قرآن میں دیا ہے وہ غلط یا دقیانوس نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن صرف ہمارا ماضی نہیں ہے ہمارا حال اور ہمارا مستقبل ہے قرآن تو پھر یہ دقیانوس یا پرانا کیسے ہوا ؟
بس یہی وجہ ہے حجاب کو دقیانوس کہتے ہیں کہ وہ زمانہ جاہلیت کے بعد کی عورتوں کی طرح جب چاروں سو دین کی روشنی پھیل چکی تھی ان عورتوں کی طرح خود کو ڈھانپتی ہیں اور لوگ انہیں پرانی سوچ کے حامل (دقیانوس) کہتے ہیں
افسوس صد افسوس اقراء نے آخری بات افسردگی سے کہی اور پانی پینے لگی لاٸبہ اور سعدیہ ہی نہیں اور بھی بہت سی لڑکیاں وہاں کھڑی سن رہیں تھیں کچھ تو سمجھ چکی تھیں اس کی باتیں تو کچھ سر جھٹک کر آگے بڑھ گٸیں...!!!.....*

❥─━━═•✵⊰••⊱✵•─━━═❥....!!
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤ *🍃حجاب میری پہچان🍃*

*قسط نمبر3*

ہاٸے اقراء جیسے ہی گھر میں داخل ہوٸی تو اسکے چچا زاد کزن نے اسکا راستہ روک کر کہا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
سجاول بھاٸی
اقراء نے بلند آواز میں سلام کیا اور آگے بڑھنے لگی مگر سجاول دوبارہ راستے میں آگیا کیا یار ہر وقت اسلامی بہن بنی رہتی ہو لگتی ہی نہیں ہو ہمارے خاندان کی بلکہ پرانے وقتوں کی بزرگ لگتی ہو سجاول نے اسے مزاقاً کہا
سجاول بھاٸی میں آپ سے فضول بات نہیں کرنا چاہتی راستہ چھوڑیں میرا اقراء نے غصہ کو ضبط کرتے ہوٸے کہا ورنہ اسکا دل تو دو چار تھپڑ لگانے کا کر رہا تھا
راستہ تو ایک ہی شرط پر چھوڑو گا کہ تم بنا حجاب کے ہمارے ساتھ گیم کھیلو گی سجاول نے باقی کزنز کی جانب دیکھ کر کہا بکواس اپنی بند کریں اور حد میں رہیں دوبارہ ایسی بکواس سے پرہیز کریں ورنہ اچھا نہیں ہو گا آپ کے لیے اقراء نے غصے سے کہا اپنی والدہ کو ہنستے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نمی آٸی تھی مگر کوٸی دیکھ نا پایا ڈبل نقاب پٹی کی وجہ سے
لو اس میں کون سی بکواس کی اس نے؟
آخر کو تمہارا منگیتر ہے اور تم اسی سے منہ چھپاتی رہتی ہو مسز انور نے اس کے پاس آکر کہا تو سجاول پیچھے ہوگیا ویسے بھی ہم مسلمان ہیں ہی جنتی تو پھر ان سب کا کیا فاٸدہ؟
جاٸیں گے تو ہم جنت میں ہی سب آخر کا ہمارے نبی ﷺ ہماری سفارش کریں گے خود اور ویسے بھی اللّٰه بخشنے والا ہے مسز انور نے کہا اور نقاب پٹی کی جانب ہاتھ بڑھایا ماما بے شک اللّٰه بخشنے والا مہربان ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم دنیا جہان کے گناہ کرتے رہیں اور کہتے رہیں اللّٰه بخشنے والا ہے اللّٰه اسے بخشتے ہیں جو اللّٰه سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اسے نہیں جو مرتے دم تک صرف یہ کہتے رہتے ہیں اللّٰه بخشنے والا ہے اللّٰه پاک اسے نہیں بخشتے جو اس کے بندوں کو بلاوجہ دکھ اور تکلیف دیتے ہیں اور آپ لوگ اس سے خود ہی سوچ لیں ان کا کیا حال ہو گا جو اللّٰه کے احکامات پورے کرنے سے روکتے ہیں یا مشکلیں کھڑی کرتے ہیں ان لوگوں کے راستے میں جو اپنے رب کو راضی کرنے نکلتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ سجاول بھاٸی نا محرم ہیں میرے لیے کیونکہ نا ہی وہ آپ کا خون ہیں نا ہی میرے سگے بھاٸی ٹھیک ہے آپ لوگ سجاول بھاٸی کو میرا منگیتر کہتے ہیں پر میں اس منگنی کو نہیں مانتی میری نظر میں اس منگنی کا کوٸی وجود نہیں میں نے جتنا بھی پڑھا ہے آج تک اسلام کے بارے میں میں نے ہمیشہ نکاح کا پڑھا ہے نا کہ منگنی جیسی فضول رسموں کے بارے میں پڑھا ہے منگنی ایک فضول کی رسم ہیں جو بے حیاٸی کا گھر ہے منگنی کے بعد لڑکا لڑکی یوں سمجھتے ہیں کہ وہ بس شادی شدہ ہیں اور گناہ کرتے رہتے ہیں اللّٰه کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں پھر جب کچھ غلط ہوتا ہے تو رب یاد آجاتا ہے اگر پہلے ہی اس کی باتیں احکامات مانے جاٸیں تو پھر ایسا دن نہیں دیکھنا پڑے گا اس لیے بہتر ہوگا مجھے ان سب چیزوں سے دور رکھیں اقراء نے نم آواز میں کہا اور آخر میں ہاتھ جوڑتی چلی گٸی سجاول پیچھے غصے سے پاگل ہورہا تھا اور مسز انور بھی غصے سے اسکی پُشت کو گھورنے لگیں
میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ تم کچھ نہیں کر سکوں گے اس باجی جی کا وہ تو تمہیں منگیتر ماننے سے بھی انکار کرگٸی آآہ بہت برا ہوا تمہارے ساتھ زویا نے سجاول کو افسوس مصنوٸی افسوس کرتے ہوٸے کہا
تم چُپ ہی رہو اور اسے تو میں اچھے سے دیکھ لونگا میری بات کا انکار کر کے اچھا نہیں کیا اس نے
سجاول نے غصہ سے پاس پڑا گلدان پٹختے ہوٸے کہا
نا اتنا غصہ اچھا نہیں ہے نا ہونے والے جیجو
زویا نے مزید جلتے پر تیل کا کام کیا زویا لاٸبہ کی باتوں کا غصہ یوں سجاول کو مزید طیش دلا کر اتار رہی تھی
تاٸی امی جلد سے جلد مجھے شادی کرنی ہے اقراء سے پھر میں بھی دیکھتا ہوں آخر کب تک اس دو گز کے کپڑے کو لے کر اکڑتی ہے ایسی کہانی مٹاٶ گا نا اس حجاب کی کہ یاد رکھے گی سجاول نے مسز انور کو مخاطب کیا جب تم چاہو آسکتے ہو برات لے کر مجھے کوٸی اعتراض نہیں ہے
مسز انور نے مسکراتے ہوٸے کہا کیسی ماں تھی وہ کہ اپنی ہی بیٹی کی زندگی کو برباد کرنا چاہتی تھی زرا پرواہ نہیں تھی اپنی بیٹی کی اسکی خوشیوں کی زرہ نا سوچا کہ اسکا یہ فیصلہ اقراء کی زندگی میں کیا طوفان لاسکتا ہے

سجاول وہاں سے غصے سے تن فن کرتا نکل گیا اور باقی سب واپس اپنے کاموں میں متوجہ ہو گٸے
امی امی کہاں ہیں؟
سعدیہ نے گھر آتے ہی شور مچانا شروع کردیا
کیا ہوگیا ہے سعدیہ کیوں شور مچا رہی ہو
نجمہ بیگم نے کہا ماما آپ بھاٸی کو اچھے سے سمجھا دیں کہ وہ میرے معاملات سے دور رہیں میں نے کبھی ان کی زندگی میں کوٸی انٹر فیر نہیں کیا تو وہ کیوں کر رہے ہیں ؟
مسٸلہ کیا ہے ان کا آخر ؟
سعدیہ نے اپنے غصہ کو ضبط کرتے ہوٸے کہا وہ والدہ سے بدتمیزی یا غصے سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی
ہوا کیا ہے ؟
کون سے معاملات؟
نجمہ بیگم نے اس کے سرخ فیس کو دیکھتے ہوٸے حیرت سے کہا بھاٸی مجھے حجاب سے منع کر رہے ہیں میں گناہوں کو چھوڑ کر سہی راستے پر جارہی ہوں تو وہ میرے راستے میں کانٹے بیچھا رہے ہیں مجھے روک رہے ہیں آج بھی واپسی میں مجھے سناتے رہے ہیں کہ میں غلط ہوں جبکہ غلط ان کی سوچ ہے آپ جانتی ہیں نا یہ رب کا حکم ہے ہر مسلمان عورت کے لیے اور بات اب بھاٸی کو بھی آپ ہی سمجھاٸیں سعدیہ نے ایک غصے سے بھری نظر معراج پر ڈال کر کہا جس پر وہ تلملا اٹھا نجمہ بیگم نے سعدیہ کی بات سن کر اسے غور سے دیکھا تو وہ برقعے میں بے حد خوبصورت لگی تھی اور دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری سعدیہ بیٹا آپ کمرے میں جاو چینج کرو میں کھانا لگواتی ہوں
نجمہ بیگم نے اسکی پشانی پر بوسہ دے کر کہا وہ خوش تھیں بہت وہ ایسے ہی تو دیکھنا چاہتی تھیں سعدیہ کو جی ماما اور جزاك اللهُ‎ مجھے سمجھنے کے لیے سعدیہ نے کہا اور جاتے جاتے معراج کو سماٸل پاس کر کے گٸی جس کا صاف مطلب تھا اب بولیں ماما بجاٸے اسکو سمجھانے کے آپ نے اسے بھیج دیا ہے معراج نے سعدیہ کے جاتے ہی پوچھا
کیا سمجھاٶ اسے؟
نجمہ بیگم نے ایسے کہا جیسے کوٸی بات ہوٸی ہی نا ہو
واہ آپ بھول بھی گٸیں ہیں سعدیہ کو برقعے سے منع کریں ورنہ میرے ساتھ نا بھیجا کریں معراج نے حیرت سے کہا میں اسے نہیں روکو گی کیونکہ وہ غلط کام نہیں کر رہی مگر تمہیں ضرور سمجھاٶ گی کہ مت دخل اندازی کرو دین کے کاموں میں چلنے دو اسے اس راہ پر جہاں سے اسکا رب راضی ہوگا تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تھا مگر تم ہو کہ اس طرح راہوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہو اور دوسری بات تم نہیں لے کے جانا چاہتے تو میں خود یا تمہارے بابا چھوڑ دیں گے لیکن اسے روکوں گی نہیں نجمہ بیگم نے آرام سے اسے سمجھایا اور کھانا لگانے چلیں گٸیں میرے سارے گھر کو میرے خلاف ورغلانا شروع کردیا ہے سب کو میں ہی غلط لگ رہا ہوں مس اقراء بہت بڑی غلطی کر رہی ہو بہت غلط معراج غصے سے لاٶنچ میں چکر کاٹ رہا تھا وہ آج ہی اقراء کی ساری انفرمیشن نکلوا چکا تھا معراج آجاٶ اب نجمہ بیگم نے اسے آواز دی ماما میری میٹنگ ہے میں جارہا ہوں باٸے معراج کہتے ہی نکل گیا
یااللہ میری مدد فرما میرے مالک مجھے صبر عطا فرما میرے اللہ میری مشکلوں کو ختم فرما میرے اللہ جب کوٸی غلط کام کرتا ہے تو دنیا اسکی راہ میں مشکلیں کھڑی نہیں کرتی مگر جب کوٸی سہی کام یا سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے تو کیوں یہ دنیا اسکی راہوں میں روکاوٹیں کھڑی کرتی ہے راہوں میں کانٹے بیچھاتی ہے اپنے ہی تکلیف دیتے ہیں سیدھی راہ پر چلنے پر میرے اللہ میرے سفر کو آسان فرما اور مجھے سیدھی راہ سے نا بھٹکنے دینا مجھے ہمیشہ *اھدنا الصراط المستقیم* پر چلا اور میرے حق میں بہتری فرما آمین
اقراء کمرے میں آتے ہی وضو کر کے نمازِ ظہر کے لیے کھڑی ہوگی اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور رب سے دعا مانگنے لگی بے شک وہ رب ہی سب کی سنتا ہے جو دلوں کا حال بھی بہت اچھے سے جانتا ہے وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو اور دنیا اس کے بجاٸے ایک دوسرے سے مانگتی ہے تو دنیا یہ لوگ اسے دھتکار دیتے ہیں مگر میرا رب نہیں دھتکارتا بلکہ وہ کہتا ہے مجھ سے مانگ مجھے پکار جب بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے تو رب خوش ہوتا ہے کہ میرے بندے نے مجھے پکارہ ہے مجھ سے کچھ مانگا ہے اس لیے جو مشکل ہو رب سے مانگو دنیا والوں سے نہیں...
❥─━━═•✵⊰••⊱✵•─━━═❥
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤ *🍃حجاب میری پہچان🍃*

*قسط نمبر4*

اقراء تم ٹھیک تو ہو نا؟
لاٸبہ نے اقراء کو کافی دیر سے خاموش پا کر پوچھا
ہممم میں ٹھیک ہوں
اقراء نے سر کو جنبش دے کر کہا تو پھر خاموش کیوں ہو؟
لاٸبہ نے دوبارہ پوچھا بس ہلکا سا سر درد ہے اس لیے خاموش ہوں اقراء نے دور درختوں کی جانب دیکھتے ہوٸے کہا جہاں خزاں کے موسم کی بدولت درخت چھڑ چکے تھے لاٸبہ نے بھی اسکی نظروں کا تعاقب کیا اور درختوں سے گرتے پتوں کو دیکھنے لگی سعدیہ ابھی تک نہیں آٸی تھی وہ دونوں آج جلدی آگٸیں تھیں
خزاں کا موسم کتنا عجیب ہوتا ہے نا درختوں کے ساتھ ساتھ دلوں کو بھی ویران کردیتا ہے لاٸبہ نے کہا
ہممم ہوتا تو عجیب ہے لیکن ہمیں ایک سبق بھی دیتا ہے کہ جب مشکل وقت آتا ہے نا تو اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جیسے درخت پر لگے پتے خزاں میں درخت کی ٹہنیوں کو ویران کر کے ساتھ چھوڑ کر چھڑ جاتے ہیں اور درخت پھر تنہا کھڑا رہتا ہے
اقراء نے جھک کر پاس پڑا زرد پتہ اُٹھا کر کہا سہی کہا بلکل لاٸبہ نے اسکی بات میں ہاں ملاٸی
اسلام علیکم اکیلے اکیلے کیا باتیں ہو رہیں ہیں
اس سنجیدہ ماحول میں سعدیہ کی چہکتی آواز گونجی
وعلیکم السلام نہیں کچھ خاص نہیں یوں ہی لاٸبہ اور اقراء نے پہلے سلام کا جواب دیا پھر لاٸبہ نے کہا آپی آپ کو پتا ہے آج میں بہت خوش ہوں؟
سعدیہ نے خوشی سے جھومتے ہوٸے کہا اور ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گٸی ماشاء اللّٰه اللّٰه پاک ایسے ہی خوش رکھے آمین
اقراء نے مسکراتے ہوٸے کہا
اب یہ بھی بتا دو کہ خوش کیوں ہو ؟
لاٸبہ نے بے صبری سے پوچھا تو دونوں اسکی بے صبری پر مسکرا اُٹھیں پہلے تو میں نے کل سے اب تک کی تمام نمازیں پڑھیں ہیں اور قرآن پاک بھی پڑھا اور سمجھ سمجھ کر پڑھا ہے اور دوسری بات یہ کہ میری امی نے مجھے پردہ کرنے سے کچھ نہیں کہا بلکہ انہوں نے مجھے کچھ اور بھی باتیں بتاٸیں ہیں
سعدیہ نے دونوں کو خوشی سے بتایا ماشاءاللہ دونوں نے بیک وقت نماز پڑھنے اور قرآن پڑھنے پر کہا ہت خوب سعدیہ مطلب کہ آپ نے پہلا پڑاو مکمل کر لیا اور اپنی والدہ کو نا صرف حجاب کے لیے منایا بلکہ ان سے سیکھا بھی چلو اب یہ بھی بتاو کیا سیکھا؟
اقراء نے سعدیہ سے پوچھا
میری امی نے بتایا کہ جہنم میں سب سے زیادہ عورتیں ہونگی اور شیطان نے عورتوں کو اپنا لشکر کہا ہے اس کا مطلب یہ کہ شیطان مردوں کی نسبت عورتوں سے زیادہ گناہ کرواتا ہے
حضرت بن صالح فرماتے ہیں کہ شیطان عورتوں کو خطاب کر کے کہتا ہے کہ اے عورتوں تم میرا آدھا لشکر ہو اور میرے ایسے تیر ہو کہ جس کو تمہاری وجہ سے مارتا ہوں وہ نشانے سے خطا نہیں کرتا اور تم میری بھید کی جگہ ہو اور میری حاجت پوری کرنے میں قاصد کا کام دیتی ہو (تلبیس ابلیس ص ٣٩)
سعدیہ نے اپنی والدہ کی بات دہراتے ہوٸے کہا بلکل درست فرمایا عورتیں شیطان کا جال ہیں اور انہیں کی وجہ سے اکثر گناہ کرواتا ہے
اقراء نے اس کی بات میں ہامی بھری
چلیں گروانڈ میں بیل لگ گٸی ہے؟
لاٸبہ نے کہا اور تینوں اپنی بکس اُٹھاتی چلیں گٸیں اقراء جاتے جاتے وہ پتہ وہیں بینچ کے اوپر رکھ گٸی جیسے وہ ہاتھ میں تھامے ہوٸے تھی
فسٹ پریڈ آج اسلامیات کا تھا سعدیہ کا سعدیہ فسٹ ایٸر کی اسٹوڈنٹ تھی اور اقراء لاٸبہ انٹر کی
السلام علیکم ٹیچر
تقریباً تمام اسٹوڈنٹس کے کھڑے ہو کر کہا کچھ اسٹوڈنٹ خاموش بیٹھے رہے جیسے دیکھ کر مس آرفہ کو بُرا لگا مگر وہ اگنور کر گٸیں
وعلیکم السلام
مس آرفہ نے باقی اسٹوڈنٹس سے کہا اٹینڈس لیتے وقت مس آرفہ کو اچھا لگا تھا سعدیہ کو باحجاب دیکھ کر پوری کلاس میں وہ واحد تھی جو حجاب کٸے ہوٸے تھی وہ بھی مکمل آج جو بات میں بتاٶ گی وہ یہ ہے جو پہلے سلام نا کرے اس کو اجازت مت دو مس آرفہ نے کلاس کے حالات دیکھتے ہوٸے کہا کچھ اسٹوڈنٹ کلاس میں ایکٹیو تھے تو کچھ بے زار حدیث میں ہے ایسے شخص کو اجازت نا دو جو اسلام میں پہل نا کرے مس آرفہ نے آج کی اچھی بات کا آغاز کرتے ہوٸے کہا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کوٸی تمہارے پاس آٸے اور بغیر سلام کے اندر آنے کی اجازت طلب کرے تو ایسے شخص کو اندر آنے کی اجازت مت دو یہی قرآن مجید سے بھی مفہوم ہوتا ہے
اسی طرح اگر کوٸی سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب نا دینا بھی غلط ہے اور اخلاقیات کے بھی خلاف ہے
مس آرفہ نے کہا اور بک سے مین ٹاپک پڑھانے لگیں ساتھ وقفے وقفے سے کوٸی نہ کوٸی سوال بھی پوچھ لیتی وہ تینوں بریک ٹاٸم میں اپنی پسندیدہ جگہ سیڑھیوں پر موجود تھیں اور کوٸی نہ کوٸی وقفے سے بات کرلیتی یا ایک دوسرے سے ہنسی مزاق اقراء آپی ایک بات پوچھوں؟
سعدیہ نے کہا سعدیہ پوچھ لیا کرو جو پوچھنا ہو اجازت ضروری نہیں ہے ہر بار اقراء نے مسکرا کر کہا جی ٹھیک ہمیں پردہ کس کس سے کرنا چاہیے؟
سعدیہ نے سوال کیا ہمممم اچھا سوال ہے ہمیں پردہ ان سے کرنا چاہیے جو نامحرم ہیں اور ان سے نہیں جو محرم ہیں محرم وہ ہے جس سے آپ پردہ نہیں کرتے یعنی والد بھاٸی ماموں والدہ اور والدہ کا باپ شوہر اور شوہر کا باپ شوہر کے باپ سے اس صورت میں پردہ کرنا ضروری ہے جب آپ کو لگے کہ اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے ورنہ اگر اچھی صفت کا ہے تو پردہ ضروری نہیں پر اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ننگے سر ہی اس کے سامنے چلے جاٶ سر کو اچھے سے ڈھانپ کر جاٶ اور نامحرم وہ ہیں جس سے پردے کا حکم قرآن میں آیا ہے یعنی چچا زاد ماموں زاد خالہ زاد پھوپھو زاد اور باقی تمام مرد سواٸے محرم رشتوں کے سمجھ آٸی یا نہیں؟

اقراء نے اسے بتا کر پوچھا جی آپی بہت بہت جزاك اللهُ‎ میں رات سے سوچ رہی تھی کہ پردہ کس کس سے ضروری ہے آپ نے ہمیشہ کی طرح میرے اس سوال کا بھی جواب دے دیا جو بھی سوال ہو پوچھ لیا کرو بنا ہچکچاٸے اقراء نے کہا یار لاٸبریری چلیں؟
لاٸبہ نے اداسی سے کہا جو کافی دیر سے کہیں نظریں جماٸے ہوٸے تھی
کیوں کیا ہوا؟
اقراء نے اس کی آواز میں اداسی محسوس کر کے کہا
کچھ نہیں بس بور ہورہی ہوں لاٸبہ نے خود کو کمپوز کر کے کہا اچھا اوکے چلتے ہیں
اقراء نے کہا تو دونوں اُٹھ گٸیں ابھی بامشکل تین سے چار قدم ہی چلیں ہوگٸیں کہ زویا اقراء کے سامنے آگٸی
ہاٸے ماٸی سسٹر زویا نے کہا تو اقراء نے کوٸی جواب نا دیا اوپس سوری میں تو بھول گٸی کہ تم ایک نیک خاتون ہو جو ہاٸے کے بجاٸے سلام کرتی ہے سو مس اقراء السلام علیکم
زویا نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا اقراء نے لبوں کو ہلکی ہی جنبش دے کر جواب دیا ویسے سعدیہ آفندی اور لاٸبہ خان تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری پیاری دوست اقراء کی نیکسٹ منتھ شادی ہے
زویا نے ان کے گرد گھوم کر کہا جہاں لاٸبہ اور سعدیہ پر یہ خبر بم بن کر گری تھی ویسا ہی حال کچھ اقراء کا بھی تھا
کیا بکواس ہے یہ زویا اب؟
اقراء نے کچھ دیر بعد غصے سے دبی دبی آواز میں پوچھا لو اس میں بکواس کون سی ہے یہ تو حقیقت ہے کہ تمہاری شادی سجاول سے ہورہی ہے وہ بھی اگلے ماہ کل ہی تو میرے سامنے ماما نے یہ فیصلہ کیا ہے کیا تمہیں معلوم نہیں زویا نے آخر میں مصنوٸی حیرت سے پوچھا اقراء تو سجاول کا نام سنتے ہی سکتے میں چلی گٸی تھی وہ کیسے ایک ایسے شخص سے شادی کر سکتی ہے جو اسے بے حجاب کرنا چاہتا ہے
سجاول بھاٸی سے شادی اقراء نے صدمے سے دوچار کیفیت سے کہا اوو کم آون اقراء اب تو سجاول بھاٸی سوٹ نہیں کرتا تمہاری زبان پر منگنی تک تو پھر بھی ٹھیک تھا پر شادی ہونے والی ہے اب بھی بھاٸی زویا نے طنزیہ لہجہ میں کہا اقراء کے دل نے شدت سے دعا مانگی تھی کہ یا اللہ ایسا نا ہو یہ جھوٹ ہو ایسا ہوا تو اس کی پوری زندگی برباد ہو جاٸے گی اور آخرت بھی جب ہم اپنے رب کو شدت سے یاد کرتے یا دعا مانگتے ہیں تو عموماً ایک دم سے مانگی گٸی دعا قبول ہوجاتی ہے اب نجانے اقراء کی دعا قبول ہوٸی تھی یا نہیں اقراء بنا زویا کو جواب دیے وہاں سے چلی گٸی لاٸبہ اور سعدیہ بھی اسکے پیچھے ہی چلیں گٸیں اونہہہ ٹوٹ جاٸے گی تمہاری یہ اکڑ بھی کچھ ہی دنوں میں زویا نے اسکی پشت پر نظریں جماٸے حقارت سے کہا اقراء تم نے مجھے بھی نہیں بتایا کہ تمہاری شادی ہورہی ہے ؟
لاٸبہ نے حیرت اور صدمے سے ملی جلی کیفیت میں کہا
آپی میں تو آپ کو اپنے گھر لانے کا سوچ رہی تھی ہمیشہ کے لیے میں نے ماما سے بھی بات کی تھی مگر آپ کی تو شادی ہونے والی ہے سعدیہ نے افسردگی سے اپنا غم بیان کیا اقراء نے ان دونوں کی باتوں کا کوٸی جواب نا دیا
یار اقراء کچھ بولو گی یا یوں ہی منہ پر تالا لگا کر رکھو گی؟
لاٸبہ نے اس کے خاموش رہنے پر چڑ کر کہا پلیز لاٸبہ سعدیہ فلحال خاموش ہوجاٶ اقراء نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کہا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو ديكهیں
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤ *🍃حجاب میری پہچان🍃*

*قسط نمبر 5*

اقراء گھر پہنچی تو سجاول پوری فیملی کے ساتھ آیا ہوا تھا سب ہنسنی خوشی باتوں میں مصروف قہقہے لگا رہے تھے اقراء سب کو سلام کر کے وہاں سے چلی گٸی
حد ہے اس لڑکی میں زرا تمیز نہیں ہے کہ منگیتر اور سسرال والے آٸیں ہوٸے ہیں تو زرا کچھ دیر بیٹھ ہی جاٶں سجاول کی والدہ نے مسز انور سے شکوہ کیا
بس کیا کہہ سکتے ہیں اسے یہ ایسی ہی ہے
مسز انور نے غصے سے بھرے لہجے میں کہا کوٸی نا میرا بیٹا سدھار دے گا ساری اکڑ ختم کردے گا کیوں سجاول سہی کہا نا؟
سجاول کی والدہ نے کہا اور آخر میں سجاول سے پوچھا
جی بلکل درست کہا سجاول نے خباثت سے ہنس کر کہا تو وہ دونوں بھی ہنس دیں
آپی آپ سجاول بھاٸی سے شادی کبھی مت کرنا وہ آپ کی زندگی برباد کر دیں گے
سجاول کی چھوٹی بہن جو کہ سب کی باتیں سن کر کچھ دیر اقراء کے کمرے میں اس سے بات کرنے آٸی تھی اسے نماز پڑھتا دیکھ کر رک گٸی جیسے ہی اقراء نے سلام پھیرا تو فوراً اس نے کہا میں جانتی ہو انعم کہ تمہارا بھاٸی میری زندگی برباد کر دے گا اس لیے صرف رب سے دعا ہی کر سکتی ہوں اور کچھ نہیں اقراء نے ایک نظر دس سالہ انعم کو دیکھ کر افسردگی سے کہا
تو آپی اللّٰه تعالیٰ آپکی بات سن لیں گے؟
انعم نے اس کے پاس بیٹھ کر معصومیت سے پوچھا
ہاں انعم اللّٰه میری بات سنے گے اللّٰه اپنے بندوں کی ہر بات سنتے ہیں
اقراء نے اسکی داہنی گال پر ہاتھ رکھ کر کہا میں اللّٰه سے بات کروں گی تو وہ سنیں گے؟
انعم نے دوبارہ سوال کیا جی بلکل سنیں گے تم باتیں کر کے تو دیکھو اللّٰه کو اپنا دوست بنا لو وہ تمہاری ہر بات سنیں گا اور راستہ بھی دیکھاٸے گا
اقراء نے اسے مسکرا کر کہا آپی پھر میں اللّٰه سے بات کرونگی وہ آپکی شادی بھاٸی سے نا ہونے دیں اور آپ بھی اللّٰه سے بات کرنا میں چھت پر آسمان کو دیکھ کر اللّٰه سے باتیں کرنے جا رہی ہوں آپ بھی آجاٸیے گا
انعم نے سر ہلا ہلا کر کہا اور بھاگ کر چھت کی جانب جانے لگی
یااللہ میری مدد فرما میرے مالک میرے حق میں جو بہتر ہے وہ عطا کر یااللہ میری راہوں کو آسان فرما اگر یہ تیری جانب سے آزماٸش ہے تو مجھے اس میں کامیاب کر یااللہ میں ایک ایسے شخص سے کیسے شادی کر سکتی ہوں جو مجھے تیری رضا سے دور کرنا چاہتا ہے جو مجھے گناہوں کی دنیا میں لانا چاہتا ہے جو مجھ سے میری پہچان میرا حجاب دور کرنا چاہتا ہے ایک مسلمان عورت کی پہچان اسکے زیور سے نہیں اسکے حجاب سے ہے اور وہ یہ پہچان ختم کرنا چاہتا ہے یااللہ ایسے لوگوں سے حفاظت فرما ہر لڑکی کی میرے مولا حفاظت فرما
اقراء نے انعم کے جاتے ہی اپنے رب کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھا دیے جو سب کی سنتا ہے آنسو سے تر آنکھیں لیے وہ رب العالمین سے مانگ رہی تھی خود کے لیے دنیا سے نہیں مانگا بس اپنے رب سے مانگ جو عطا کرنے کے بعد دنیا والوں کی طرح رسوا نہیں کرتا اقراء نے نماز ادا کرنے کے بعد اپنے بابا کو ویڈیو کال کی جو انہوں نے فوراً ہی اُٹھا لی تھی اسکا مطلب تھا وہ انتظار کررہے تھے اقراء کی کال کا
السلام علیکم بابا
اقراء نے بات کا آغاز ہی سلام سے کیا
وعلیکم السلام کیسی ہے میری شہزادی؟
انور نے سلام کا جواب دے کر پوچھا
الحمداللہ ٹھیک بابا آپ کیسے ہیں؟
اقراء نے جواب دے کر انکا حال احوال پوچھا
اللہ کا شکر ٹھیک ٹھاک انور نے کہا چھوٹی موٹی باتوں کے بعد اقراء نے ان سے وہ بات پوچھی جو وہ پوچھنا چاہتی تھی
بابا آپ کب آٸیں گے؟
اقراء نے اپنے والد سے فون پر بات کرتے ہوٸے کہا اقراء کے والد جو کہ ایک بزنس ٹور کی وجہ سے باہر تھے دو ہفتوں سے میری شہزادی بس ایک دو دن اور ہیں پھر آجاؤں نگا انور نے پیار سے کہا بابا جلدی آجاٸیں پلیز
اقراء نے تقریباً روتے ہوٸے کہا بچے بات کیا ہے آپ رو کیوں رہی ہیں؟
انور نے پریشانی سے پوچھا بابا وہ ماما میری شادی سجاول بھاٸی سے اقراء کہتے ہی رونا شروع ہوگٸی وہ اتنی کمزور نا تھی پر سامنے جان لٹانے والا باپ تھا جس کے سامنے وہ دنیا کی کمزور لڑکی بن جاتی تھی ہر بات شٸیر کر سکتی تھی رو سکتی تھی ان کے سامنے
اقراء بچے آپ فکر نہ کریں ایسا کچھ نہیں ہوگا جب تک میں زندہ ہوں میں کل ہی آتا ہوں اور آپ کی شادی ہرگز اس آورہ شخص سے نہیں ہونے دونگا انور اس کی ادھوری بات سے ہی سمجھ چکے تھے کہ اب انکی واٸف کیا نیا مسئلہ کھڑی کر چکی ہیں اسی لیے اقراء کو کچھ دیر وہ سمجھا کر فون رکھ چکے تھے اب اقراء بھی مطمٸین سی تھی اسے پتا تھا اس کا باپ اسکی طاقت اسکے ساتھ ہے
ماما آپکو پتا ہے اقراء آپی کی شادی طے ہوگٸی ہے
سعدیہ نے افسردگی سے کہا وہ جب سےکالج سے آٸی تھی تب سے ہی افسردہ تھی
شاید یہی لکھا ہوا تھا بس اللہ پاک اس کے نصیب اچھے کرے آمین
نجمہ بیگم نے سعدیہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوٸے کہا
پر ماما اقراء آپی خوش نہیں ہیں مجھے لگتا ہے آپی کی شادی ان کی مرضی کے جانے بنا ہورہی ہے یا یوں کہنا سہی ہوگا کہ آپی کی مرضی کے خلاف شادی کر رہے ہیں
سعدیہ نے کہا یہ تو غلط بات ہے کہ اس کی رضامندی نہیں لی گٸی حالانکہ ہمارا اسلام زبردستی شادی کی اجازت نہیں دیتا چاہے لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کی رضامندی لینا ضروری ہوتا ہے لیکن آج کل بڑے فیصلہ کر دیتے ہیں اور پھر اس فیصلے تو پتھر کی لکیر بنا دیتے ہیں بڑوں کے کئی فیصلے عموماً درست ہوتے ہیں مگر کافی بار درست نہیں بھی ہوتے ہمارا اسلام کہتا ہے لڑکی اور لڑکے کی رضامندی لو کیونکہ ان دونوں نے زندگی گزارنی ہے مگر کہاں سمجھتے ہیں یہ بات سب
نجمہ بیگم نے جواب دیا تو ماما اسلام میں جب ہے تو لوگ کیوں نہیں مانتے؟
سعدیہ نے پوچھا ہم مسلمان اسلام پر عمل کرنے کیلیے اس دنیا میں آۓ ہیں مگر ہر شخص اگر اسلام کی بتاٸی باتوں پر عمل کرنے لگ جاٸے تو یہ دنیا جنت نا بن جاٸے
نجمہ بیگم نے کہا ان سے کچھ دور کھڑا کوٸی ان کی باتوں کو غور سے سننے میں مصروف تھا ساتھ ہی کچھ دماغ میں چل بھی رہا تھا جس پر عمل کرنے کے لیے اس نے اپنے قدم سجاد (سعدیہ کے والد) کی جانب قدم بڑھا دیے جوکہ اسٹڈی میں فاٸلز میں الجھے ہوٸے تھے
السلام علیکم آپی کیسی ہیں آپ؟
سعدیہ نے اقراء سے ملتے ہوٸے کہا
وعلیکم السلام الحمدللہ ٹھیک اور آپ کیسی ہو؟
اقراء نے جواب دیا آج وہ کافی ریلکس تھی اسے یقین تھا کہ اللہ نے جو بھی اسکی قسمت میں لکھاہے
بہترین لکھا ہوگا اللہ کے بعد اسے اپنے والد پر یقین تھا کہ وہ اسے کچھ غلط نہیں ہونے دیں گے
میں بھی ٹھیک سعدیہ نے جواب دیا اقراء آپی کیا پردہ صرف باہر آتے جاتے ہی کرنا چاہیئے گھر میں نہیں؟
سعدیہ نے پوچھا گھر میں بھی ہمیں خود کو ڈھانپنا چاہیے کیونکہ ہمارے آس پاس بہت سے شیاطین ہوتے ہیں اور شیاطین ہم انسانوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اس لیے ہمیں گھر میں اپنے سر کو اور بالوں کو ڈوپٹے سے ڈھانپ کر رکھنا تاکہ شیاطین کی ہم پر بری نظر نا پڑے
اقراء نے کہا ہممم سہی کہا آپی اور گھر میں بھاٸی یا بابا بھی تو ہوتے ہیں بے شک وہ محرم ہیں لیکن ان کے سامنے بھی ہمیں اپنا سر ڈھانپنا چاہیے
سعدیہ نے کہا بلکل اقراء نے اس کی بات میں ہامی بھری
السلام علیکم گرلز کیا باتیں ہورہی ہیں
لاٸبہ نے سلام کر کے پوچھا
وعلیکم السلام
دونوں نے جواب دیا کچھ نہیں بس ایسے ہی پردے کا سمجھا رہی تھی
اقراء نے کہا اچھا جی لاٸبہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گٸی
کوٸی نفوس ان تینوں کو دیکھ رہا تھا اور بہت ہمت کرکے ان تک بات کرنے کے لیے سامنے کھڑا ہوا
لاٸبہ کا اسے دیکھتے ہی غصے سے منہ بن گیا سعدیہ کا بھی
السلام علیکم آٶ تانیہ بیٹھو
اقراء نے دونوں کو گھور کر تانیہ سے کہا
وعلیکم السلام جی
تانیہ تھوڑی بہت کنفیوز تھی ان تینوں سے آج لاٸبہ اور سعدیہ نے اقراء کے اشارے پر اسے جگہ دی وہ اقراء مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا؟
تانیہ نے بات کا آغاز کیا جی جی پوچھیں اقراء نے مسکرا کر کہا وہ وہ میں بھی آپ کی طرح حج

Address

Narowal

Opening Hours

Monday 02:30 - 17:00
Tuesday 03:30 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Good Topic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Good Topic:

Share