𝑨𝒎𝒊𝒏.𝑲𝒉𝒂𝒑𝑳𝒖𝒗𝒊

𝑨𝒎𝒊𝒏.𝑲𝒉𝒂𝒑𝑳𝒖𝒗𝒊 Gilgit Baltistan Khaplu Northern Area of Pakistan

23/08/2025

Hanjor

08/08/2025

💝 🏔
🇵🇰

08/08/2025

🏔 💚
🇵🇰

28/07/2023

کربلا والوں کی آخری رات
💔

اِنَّ لِلّٰہِ وَاِنَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن

19/12/2021

تاریخ گلگت بلتستان۔۔۔۔

گلگت بلتستان کا ہر بندہ اس کو ضرور پڑھے
صرف ایک دفعہ ۔۔

🌲 🏯 🗻گلگت بلتستان 🗻 🏯🌲

بَلْتِسْتان، پاکستان 🇵🇰 کے شمال میں دو پہاڑی سلسلوں کوہ قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں واقع علاقہ ہے جسے آٹھویں صدی عیسوی تک پلولو کے نام سے جانا جاتا تھا۔
تبت اور لداخ والے اس پورے علاقے کو بلتی اور یہاں کے باشندوں کو بلتی پا (یعنی بلتستان میں بسنے والے لوگ) پکارتے تھے۔ دوسری صدی عیسوی کے محقیقین اس علاقے کو بالتی کے نام سے ذکر کرتے تھے۔ تاریخی حوالے سے بلتستان کے 91فیصد باشندے تبتی نژاد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پولو اس خطے کا قدیمی کھیل رہا ہے اور زمانہ قدیم میں اس علاقے کے لوگوں کو 'پولولو' کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا یہی سبب ہے کہ آج بھی گلگت کے بعض باشندے بلتستان والوں کو اسی نام سے پُکارتے ہیں۔ آخر کار اسلام کی آمد بطور خاص ایرانی مبلغین کے اس علاقے میں آمد اور فارسی اور عربی زبان سے متاثر ہو کر یہ علاقہ بلتستان کے نام سے مشہور ہوا جو آج تک باقی ہے۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت بلتستان کے لوگوں نے اپنی جنگِ آزادی لڑی اور1948ء میں خود پاکستان 🇵🇰 میں شامل ہوئے۔اگرچہ بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ہی انہیں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ستمبر 2009ء میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بلتستان اور گلگت کے خودمختاری کے بل پر دستخط کر دیے جس کے بعد یہ علاقہ کشمیر کی طرح ایک پارلیمنٹ رکھ سکے گا۔ بلتستان کی غالب اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ ایک بڑی تعداد میں نوربخشی مسلمان بھی آباد ہیں۔ سکردو، بلتستان کا سب سے بڑا شہر اور دارالخلافہ ہے۔

جغرافیہ

پاکستان 🇵🇰 کے انتہائی شمال میں دو پہاڑی سلسلے قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں 10 ہزار 118 مربع میل پھیلا ہوا پہاڑی علاقہ بلتستان کہلاتا ہے۔ بلتستان، سکردو، روندو، شگر، کھرمنگ، گلتری اور خپلو کی وادیوں پر مشتمل ہے۔انتظامی لحاظ سے یہ علاقہ دو اضلاع سکردو اور ضلع گانچھے میں منقسم ہے (حال ہی میں مسلم لیگ کی حکومت نے کھرمنگ اور شگر کو بھی ضلع بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا ہے) ۔بلتستان کے جنوب میں کشمیر ، مشرق میں لداخ ،کرگل مغرب میں گلگت اور دیامر جبکہ شمال میں کوہ قراقرم بلتستان کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے جدا کرتے ہیں ۔

بلتستان تاریخ کے آئینے میں

قدیم تاریخ

اگرچہ قدیم تاریخ میں بلتستان کی تاریخ کے بارے میں کوئی دستاویز موجود نہیں ہے لیکن بعض محققین تاریخی آثار کے مطالعے سے اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ تقریبا 4000 سال قبل از مسیح اس منطقے میں انسانی زندگی کے آثار موجود ہیں۔ بلند و بالا پہاڑ اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے یہ علاقہ مختلف قوموں کے حملوں سے محفوظ رہے ہیں۔ اس وقت بلتستان میں لداخ اور تبت بھی شامل تھا اسطرح یہ منطقہ نسبتا ایک وسیع علاقہ محسوب ہوتا تھا۔ اس کے بعد کسیر کا دور آتا ہے جو ایک مستحکم اور طاقتور حکومت کے مالک تھے۔ یہاں تک کہ آج بھی بلتستان میں ایک افسانہ کے طور پر اس کی داستانیں تعریف کی جاتی ہیں۔ چين کے سفرناموں اور ديگر كتابوں میں بلتستان کی قدیم تاريخ کے بارے میں بہت زیادہ اطلاعات پائے جاتے ہیں۔ان اطلاعات کے مطابق تقریبا سنہ 500عیسوی میں اس منطقے میں ایک عظیم حکمت قائم تھی جسے سلطنت پولولو کہا جاتا ہے اور چین کے حکومتی اسناد میں سنہ 696 عیسوی میں سلطنت پولولو کے سفیر چین کے دربار میں آنے کا ذکر ملتا ہے۔ سنہ 722عیسوی میں تبت کے حکمرانوں کے حملے سے اس سلطنت کا خاتمہ ہوا یوں بلتستان پر تبتیوں کا قبضہ ہوا اور تقریبا سنہ 838 عیسوی تک یہ لوگ بلتستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ مرکز میں تبیوں کے حکومت کے خاتمے کے بعد ہر منطقہ ایک مستقل حکومت کی شکل اختیار کر گئی یوں بلتستان بھی ایک علیحدہ ریاست بن گئی.

راجاؤں کا دور

قلعہ کھرپوچو (سکردو بلتستان کا تاریخی مقام)
بلتستان کے قدیمی فرمانرواوں کو راجا یا رگیلفو کہا جاتا تھا۔ دسویں صدی ہجری میں علی شیر خان مشہور ترین راجا گزرے ہیں۔ علی شیر خان نے استور، چلاس، گلگت اور چترال پر بھی اپنی سلطنت قائم کی اسی وجہ سے انہیں انچن یعنی طاقتور کا لقب دیا گیا اور یوں علی شیر خان انچن کے نام سے مشہور ہے اور سکردو میں موجود قلعہ کھرپوچو علی شیر خان انچن کے دور کا بنا ہوا ہے۔ سنہ 1256 ہجری کو بلتستان کا آخری راجا احمد خان ڈوگروں کے ہاتھوں شکست کھاتا ہے یوں بلتستان ڈگروں کے زیر تسلط چلا جاتاہے اور کشمیر کے ساتھ ملحق ہو جاتا ہے۔ سنہ 1263ہجری امر تسر کے قرارداد کے تحت لداخ میں شامل ہو جاتا ہے اور چونکہ اس وقت برصغیر پر انگلستان کی حکومت تھی یوں یہ علاقہ انگلستان کے زیر تسلط چلا جاتا ہے۔

سنہ ۱۹۴۷ عیسوی میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر جب پاکستان اور ہندستان دو الگ الگ ریاست بن جاتی ہیں تو جمو کشمیر کے مہاراجا نے بلتستان سمیت استور، گلگت، ہنزہ اورنگر اس سارے علاقے کو ہندستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن اس علاقے کے باشندوں نے ایک سال بعد یعنی سنہ 1948 عیسوی کو اس علاقے کو ڈوگروں سے آزاد کرکے باقاعدہ پاکستان 🇵🇰 میں الحاق کا اعلان کیا

آزادی کے بعد

کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی جو بلتستان میں واقع ہے
1948ء میں گلگت بلتستان کے عوام نے میجرمحمدحسین کی قیادت میں لڑ کر کشمیر کے مہاراجہ سے اپنے خطے کا قبضہ چھڑایا تھا۔ اسکے بعد رضاکارانہ طور پر پاکستان کیساتھ شمولیت کا اعلان کیا اور اس وقت سے لیکر آج تک پاکستان 🇵🇰 کیساتھ دل و جان سے ہیں اور پاکستان کے تمام مفادات کا اس خطے میں تحفظ کرتے آرہے ہیں۔ یہ علاقہ اپنی Strategic Value کے پیش نظر دنیا کے اہم ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K 2کے علاوہ قطبین کے بعد گلیشیئر کا سب سے بڑا زخیرہ بھی اس علاقے میں موجود ہے جن میں سیاچن گلیشیر، بلتورو گلیشیر اور بیافو گلیشیر مشہور ہیں اس علاقے میں ہے۔یہ علاقہ پاکستان کا واحد خطہ ہے جسکی سرحدیں تین ملکوں سے ملتی ہیں نیز پاکستان 🇵🇰 نے پڑوسی ملک بھارت سے تین جنگیں 48 کی جنگ ،کارگل جنگ اور سیاچین جنگ اسی خطے میں لڑا ہے اس وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم گزرتی ہے۔

لیکن پاکستانی حکومت کی طرف سے ابھی تک انہیں پاکستانی شہری کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بھارت اسے جموں و کشمیر کا حصہ سمجھتا ہے اس لئے اسے متنازعہ علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ 1970ء میں اسے شمالی علاقہ جات کے نام سے ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا دیا گیا۔ 1993ء میں ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق اسے جموں و کشمیر کا حصہ قرار دیا گیا تو یہاں کے باشندوں نے اس کے خلاف شدید مزاحمت کی جس کے باعث سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے منسوخ کردیا۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کے اصرار اور مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے 2009ء میں ایک آرڈیننس کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسے سیلف گورننس علاقہ قرار دے دیا۔ پاکستانی کابینہ کی منظوری اور صدرِپاکستان کے دستخط کے بعد قانونی طورپر پاکستان کا حصہ بنائے بغیر اسے ایک ڈی فیکٹو صوبے کی حیثیت دے دی گئی یعنی صوبے کی طرح کا طرزِ حکومت۔ اس قانون کے پاس ہونے کے بعدیہاں منتخب قانون ساز اسمبلی تشکیل دی گئی۔ دیگر صوبوں کی طرح گورنر، وزیر اعلیٰ، وزراء اورممبران نے انتظام سنبھالا۔ گلگت بلتستان کی علیحدہ سیکرٹریٹ وجود میں آئی اور باقاعدہ چیف سیکرٹری کی تعیناتی ہوئی۔

حال ہی میں چین کے اقتصادری راہداری منصوبے کے اعلان کے بعد اس علاقے کی آئینی حیثیت ایک بار پھر زیر بحث آئی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت پاکستان نے بھی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس علاقے کی آئینی حیثیت کا تعین کرے گی۔

زبان و ادب

بلتی زبان تبتی زبان کا ایک جز ہے۔ یہ زبان بلتستان، تبت، لداخ، كارگل، بوٹان، سكم اور نپال کے شمال میں مختصر تفاوت کے ساتھ بولی جاتی ہے۔ مختلف مناطق میں لہجے کے اعتبار سے تفاوت ضرور پائی جاتی ہے لیکن تحریر میں پہلے کوئی تفاوت نہیں پائی جاتی تھی۔
محققین کے مطابق بلتستان اچھے تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔ سید عباس كاظمی صاحب اس بارے میں لکھتے ہیں: بلتستان ایک اچھے اور ترقیافتہ معاشرے کا نمونہ اور غنی فرہنگ و تمدن کا حامل ہے۔
كیسر کے زمانے میں بلتستان میں اشتراکی اور اجتماعی نظام رائج تھا۔ ہر محلے میں ایک مخصوص مقام هلچنگره ہوا کرتا تھا جہاں پر لوگ جمع ہو کر اپنے روزمرہ زندگی اور سماجی کاموں کے اہم فیصلے کیا کرتے تھے. پانی کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس عللاقے میں بہترین آبپاشی کا نظام موجود تھا۔ مختلف موسوں میں مختلف تہواریں برگزار ہوتی تھیں۔ جن میں جشن نوروز،(شمسی سال کا آغاز اور بہار کی آمد پر) ستروب لا،(گندم اور جو کے فصل میں دانے پرنے کی مناسبت سے) اونگ دق،(گندم اور فصل کی کاشت ختم ہونے اور غلہ جمع کرنے کی مناسبت سے) برق بب، نورپهب (گرمیوں کے آخر میں مال موشیوں کو پہاڑوں سے نیچے لانے کی مناسبت سے) اور كهاستون (موسم سرما کی پہلی برفباری کی مناسبت سے)معروف ہے۔ ان تہواروں میں بلتی زبان میں مختلف نوعیت کے غزل وغیرہ گائے جاتے تھے۔ مزید تفصیلات: بلتستان کا تہذیب و تمدن اسلام کی آمد کے بعد بلتستان میں مختلف مناسبتوں پر مذہبی تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائے جانے لگے۔ ان مذہبی تہواروں میں چودہ معصومین کے ولادت اور شہادت کے ایام میں انکے اعیاد و وفیات، خاص طور پر سال میں دو دفعہ محرم الحرام اور اسد عاشورا کی مناسبت سے ایام عزاداری، جشن عید غدیر، جشن ولادت امام حسین(3 شعبان العظم)، جشن برات (15 شعبان المعظم)، اور جشن مولود کعبہ (تیرہ رجب المرجب) بڑے عقیدت اور احترام سے منائے جاتے ہیں جن میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں اور بلتی زبان میں مراثیے، نوحے اور قصائد کے ذریعے ان محافل کو برگزار کرتے ہیں۔ اصل مضمون: بلتستان میں مذہبی رسومات
بلتستان میں اسلام کی آمد

اسلام☪ کی اشاعت سے قبل بلتستان بدھ مت کے مذہب کے پیرو تھے لیکن بعد میں اسلامی مبلغین کی آمد سے یہ علاقہ اسلام☪ کی نور سے منور ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق سید علی ہمدانی (۷۱۴ـ۸۷۶) نے بلتستان کا سفر کیا یہیں سے بلتستان میں اسلام☪ کی اشاعت شروع ہوئی۔ بلتستان کے بعض قدیمی مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں لکڑی کے دروازے سرینگر میں موجود معروف شاہ ہمدان مسجد کے دروازے کی طرح بنایا گیا ہے جو اس علاقے میں انکی خدامات کی عکاسی کرتی ہے۔ میر سید علی ہمدانی کے بعد کجھ عرصہ تبلیغ دین کا سلسلہ تعطل کا شکار رہا اس کے بعد میر شمس الدین عراقی جو بت شکن کے نام سے معروف ہے، کی آمد سے اس علاقے میں اسلام ☪ تیزی سے پھیل گیا یہاں تک کہ اب بلتستان کی آبادی 100 فیصد مسلمان ہیں جن میں تقریبا 85 فیصد شیعہ، 10 فیصد نوربخشی اور 5 فیصد سنی اور اسماعیلی موجود ہیں۔

Copied

Send a message to learn more

💚
03/12/2021

💚

20/08/2021

Ghanche | Youm e Ashura 2021 | Khanqa Mualla Khaplu | Juloos | NoorBakhshia

Muharram ul Haram 1443 - 2021
10/08/2021

Muharram ul Haram 1443 - 2021

18/07/2021

Khaplu Palace locally known as Yabgo Khar is an old fort and palace located in Khaplu, in the Gilgit-Baltistan region of northern Pakistan.
Country
Pakistan
Coordinates
35°9′6″N 76°20′7″E
Elevation
2,600 metres (8,500 ft)
Completed
1840
Renovated
2011
Owner
Yabgo Raja (1840–2005)
Serena Hotel (2005 – present)
Khaplu
City in Gilgit Baltistan, Pakistan
Pakistan Tourism Pakistan Travel & Culture
The Karakoram Club Thoqsikhar Khaplu

Address

Northern Areas

Telephone

+923466086745

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝑨𝒎𝒊𝒏.𝑲𝒉𝒂𝒑𝑳𝒖𝒗𝒊 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share