Misgar TIME's - مسگر

Misgar TIME's  - مسگر This page is owned by Misgar Time's مسگر۔ team. We are establishing local news and entertainment.

The Beautiful Misgar Valley of Gojal...
Misgar Valley is one of the most beautiful and geographically important regions of Gilgit-Baltistan. Misgar is home to the Mintika pass that connects Pakistan with China. The historic Kilik pass is also located in Misgar and it leads travelers to Afghanistan. The historic “Kalam Darchi Fort” [Fort of the Naked Saint], constructed by the Britishers to keep a

watch on Russian and Chinese advances, is also located in Misgar. The fort is in a dilapidated condition and demands the attention of relevant authorities. Hardly any valley in Gojal holds such jewels of history and is yet so little explored as Misgar. About 15km northwest of Sost, Misgar is the last permanently inhabited valley in Gojal with
passes leading to China and Afghanistan. This strategic location bestowed on the area an
important role in history. In the late 19th century, during the time of the Great Game, Misgar
marked the last outpost of the British empire and served as a busy dispatching and telegraph
station. Long before that, however, Misgar had already been a notable trading hub: the wide and
snow free Kilik and Mintaka Passes were frequently crossed by pilgrims and traders coming from
China along the ancient Silk Route

نامور Spanish Hunter Mr. Emanuel Arturo نے اپنی مہم کے دوران منٹکا، مسگر میں ایک شاندار  Himalayan ibexکو کامیابی کے سات...
07/12/2025

نامور Spanish Hunter Mr. Emanuel Arturo نے اپنی مہم کے دوران منٹکا، مسگر میں ایک شاندار Himalayan ibexکو کامیابی کے ساتھ شکار کیا۔ یہ غیرمعمولی ٹرافی — جو تقریباً 50 انچ پر مشتمل ہے — ہماری وادی کے ناقابلِ یقین جنگلی حیات کے حسن اور منفرد شکار کے تجربے کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ کامیابی نہ صرف مسگر کے عالمی معیار کے شکار کے ماحول کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ہماری وادی کو پائیدار ٹرافی ہنٹنگ اور وائلڈ لائف ٹورازم کے لیے ایک اعلیٰ مقام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔
ایسے ایونٹس مقامی اور ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی براہ راست فائدہ پہنچاتی ہے:
✅ مقامی کمیونٹی کو — روزگار کے مواقع، گائیڈز اور پورٹرز کی آمدنی میں اضافہ، اور لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری
✅ تحفظِ جنگلی حیات کی کوششوں کو — جن سے ماحول کا توازن برقرار رہتا ہے
✅ پاکستان کی مجموعی معیشت کو — خاص طور پر شمالی علاقہ جات میں سیاحت اور عالمی سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے
یہ کامیاب شکار مسگر کمیٹی کی انتھک محنت اور مسگر کی پوری کمیونٹی کے بھرپور تعاون سے ممکن ہوا۔ ان کی ٹیم ورک، مہمان نوازی اور ذمہ دارانہ کوششوں نے مہمان شکارچی کے لیے ایک محفوظ، منظم اور یادگار تجربہ یقینی بنایا۔
مسگر ہمیشہ کی طرح روشن ہے — قدرت کی حفاظت، پائیدار ترقی، اور دنیا بھر کے مہمانوں کا دل سے استقبال کرتے ہوئے۔ 🌿🇵🇰




















Mr. Emanuel Arturo successfully hunt a majestic Himalayan ibex during his hunt in Mintaka, Misgar. This remarkable troph...
06/12/2025

Mr. Emanuel Arturo successfully hunt a majestic Himalayan ibex during his hunt in Mintaka, Misgar. This remarkable trophy, measuring around 50 inches, highlights the region’s incredible wildlife and hunting experience.

انا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَمحمّد ایاز ولد علی مُحمّد (مرحوم) مختصر علالت کے بعد آج اس فانی دنیا سے رخصت فرم...
27/11/2025

انا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
محمّد ایاز ولد علی مُحمّد (مرحوم) مختصر علالت کے بعد آج اس فانی دنیا سے رخصت فرما چکے ہیں۔
مرحوم ایک نیک دل، بااخلاق اور سماجی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والے انسان تھے۔
میت نماز جنازہ و تدحفین آج دوپہر ان کے آبائی گاؤں مسگر میں ادہ کی جاۓ گی ۔
اللہ ربّ العزّت سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے،
ان کے درجات بلند کرے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
ساتھ ہی تمام لواحقین کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ہنزہ کی فضا میں زہر… آخر ذمہ دار کون؟تحریر: اقبال عیسیٰ خان26 نومبر 2025ہنزہ، جو اقوامِ متحدہ کے UNSDGs کے مطابق پائیدار...
26/11/2025

ہنزہ کی فضا میں زہر… آخر ذمہ دار کون؟
تحریر: اقبال عیسیٰ خان
26 نومبر 2025
ہنزہ، جو اقوامِ متحدہ کے UNSDGs کے مطابق پائیدار ماحولیاتی نظام، صاف پانی، صحت مند معاشرے اور ذمہ دارانہ کھپت و پیداوار جیسے اہداف کی عملی مثال ہونا چاہیے تھا، آج خود ماحولیاتی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ WHO کی عالمی رہنما ہدایات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ فضائی آلودگی، خصوصاً وہ آلودگی جو کچرے کو کھلے عام جلانے سے پیدا ہوتی ہے، انسانی صحت کے لیے سب سے خطرناک ماحولیاتی خطرات میں شمار ہوتی ہے۔ مگر ہنزہ میں یہ آلودگی روزمرہ معمول بن چکی ہے۔ ڈونگداس کے مقام پر احمد آباد، فیض آباد اور سلمان آباد کے سامنے مسلسل کچرا جلانے کا عمل نہ صرف WHO کی گائیڈ لائنز، بلکہ EPA کے ماحولیاتی قواعد و ضوابط کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بڑھتی ہوئی سیاحت، غیر متوازن ترقی، ناقص میونسپل پلاننگ اور بڑھتے ہوئے ٹھوس فضلے نے ہنزہ کے قدرتی ماحول کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان اور خصوصاً گلگت بلتستان پہلے ہی ماحولیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر خطوں میں شامل ہیں، مگر ہنزہ, اپنی غیر معمولی سیاحتی لوڈ، کمزور ضلعی انتظام اور غیر تربیت یافتہ ویسٹ مینجمنٹ کے باعث، اس بحران کا سب سے بڑا نشانہ بن چکا ہے۔ ڈونگداس کے مقام پر جلنے والا کچرا پورے ہنزہ کی فضا کو آلودہ کر دیتا ہے، مگر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے احمد آباد، سلمان آباد اور فیض آباد ہیں، جہاں عوام روزانہ زہریلے دھوئیں میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔
کچرا جلانے سے پیدا ہونے والے ڈائی آکسنز، کاربن مونو آکسائیڈ، بلیک کاربن اور مائیکرو پارٹیکلز WHO کے مطابق انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں، اور ان کے اثرات سانس کی بیماریوں، دمے، پھیپھڑوں کے انفیکشن، دل کے امراض اور کینسر تک پھیل سکتے ہیں۔ ہنزہ جیسے تنگ، ہوادار مگر گھیرے ہوئے وادی نما خطے میں یہ آلودگی زیادہ دیر رکی رہتی ہے، جس سے بچوں، بزرگوں اور مریضوں میں بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ فطرت بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہتی؛ پہاڑوں پر بیٹھنے والا بلیک کاربن گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو تیز کرتا ہے، روشنی کی عکاسی کم کرتا ہے، نباتاتی حیات کو متاثر کرتا ہے اور ماحول کے پورے توازن کو بدل دیتا ہے۔
سیاحت، جو ہنزہ کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس آلودگی سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ دھوئیں سے دھندلی فضائیں، بدبودار ماحول، گندگی کے ڈھیر اور غیر منظم فضلہ–یہ سب ہنزہ کی عالمی شناخت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ UNSDGs کے مطابق پائیدار سیاحت اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ماحول کا تحفظ اولین ترجیح ہو، مگر ہنزہ میں سیاحت کا بوجھ بڑھا دیا گیا، اور ماحول بچانے کا نظام کمزور ہی چھوڑ دیا گیا۔ یوں ہنزہ کی اصل پہچان، صاف فضا، نیلا آسمان، برف پوش پہاڑ، شفاف پانی، خطرے میں پڑ چکی ہے۔
اس صورتِ حال کا حل تنقید نہیں، پالیسی اور عمل ہے۔ EPA گائیڈ لائنز کے مطابق کھلے عام کچرا جلانا مکمل طور پر ممنوع ہونا چاہیے، اور اس کی جگہ جدید Solid Waste Management سسٹم، ری سائیکلنگ، کمپوسٹنگ اور سائنٹیفک لینڈ فلنگ جیسے طریقے اپنانے ضروری ہیں۔ UNSDGs کے ہدف 11 اور 12 کے مطابق مقامی حکومتوں، کمیونٹیز اور نجی شعبے کو مل کر ذمہ دارانہ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قائم کرنا ہوگا۔ بائیو ڈیگریڈیبل مصنوعات کا فروغ، کمیونٹی آگاہی، سیاحتی مقامات پر سخت ضابطے، اور رہائشی علاقوں میں ماحول دوست متبادل طریقہ کار فوری ضرورت ہیں۔ WHO گائیڈ لائنز کے مطابق ہوا کے معیار کی مسلسل مانیٹرنگ، بچوں اور حساس طبقات کے لیے حفاظتی اقدامات، اور کمیونٹی کی تعلیم و آگاہی بھی لازمی ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک مقام یا چند گاؤں کا نہیں بلکہ ہنزہ کے مستقبل کا ہے۔ اگر آج کچرے کے شعلوں کو نہ روکا گیا تو کل یہ شعلے ہنزہ کی فضا، اس کی صحت، اس کی معاشی بنیادوں اور اس کی فطری پہچان کو راکھ میں بدل دیں گے۔ ہنزہ کی خوبصورتی، اس کی فضائیں اور اس کی اگلی نسلیں ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ ہمیں ماحول بچانے کے اُس راستے کا انتخاب کرنا ہوگا جو UNSDGs کی روح کے مطابق ہے، ورنہ یہ دھواں صرف پہاڑوں کو نہیں، ہمارے مستقبل کو بھی دھندلا دے گا۔

Best Regards,
Iqbal Essa Khan
[email protected]

Address

Hunza
Northern Areas

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Misgar TIME's - مسگر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Misgar TIME's - مسگر:

Share