30/07/2026
گلگت "گیس پلانٹ کونوداس گلگت حادثہ: فریقین کے درمیان صلح صفائی، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی فضا میں معاملہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر"
مورخہ 15 جولائی 2026ء کو گیس پلانٹ کونوداس، گلگت میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے، جس میں تین جوانوں کی موت واقع ہوگئی تھی، کے حوالے سے آج مورخہ 30 جولائی 2026ء کو منعقدہ اہم اجلاس باہمی اتفاق، صلح صفائی، بھائی چارے اور مکمل ہم آہنگی کی فضا میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
یہ کامیابی جناب چیئرمین اے آئی جی اعظم صاحب کی قیادت میں پبلک افیئرز اینڈ سکیورٹی کمیٹی کی گزشتہ ایک ہفتے کی مسلسل محنت، دانشمندانہ کاوشوں اور انتھک کوششوں کا نتیجہ تھی۔ اجلاس حسبِ سابق وزیرِ ورکس جناب محمد نسیم صاحب کی رہائش گاہ، بسین، میں منعقد ہوا، جس میں پبلک افیئرز اینڈ سکیورٹی کمیٹی کے علاوہ آغا خان ایجوکیشن سروسز کے ڈپٹی جنرل منیجر، لیگل ایڈوائزر اور دیگر ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز انتہائی خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوا۔ سابق وزیر گلگت بلتستان اسمبلی جناب حیدر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ماحول میں ایسے المناک حادثات بعض اوقات خاندانی دشمنیوں کا سبب بن جاتے ہیں، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اس موقع پر تمام فریقین نے بردباری، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اسماعیلی ریجنل کونسل کے وفد، الواعظ کریم خان صاحب، سابق چیف انجینئر غلام مرتضیٰ صاحب اور دیگر مقررین کی مثبت گفتگو، نیز ہز ہائینس پرنس رحیم آغا خان کی انسانیت اور فلاح و بہبود کے عالمی مشن سے متاثر کن رہنمائی نے ماحول کو خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ سابق ڈی آئی جی وصل خان صاحب اور وزیرِ ورکس جناب محمد نسیم صاحب کی مؤثر سفارت کاری اور مصالحتی کوششوں سے دونوں فریقین کے درمیان اعتماد بحال ہوا اور دشمنی کے خدشات ختم ہوگئے۔
اس موقع پر مولانا محفوظ اللہ نے ڈوڈوشال کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ جان بوجھ کر نہیں، بلکہ ایک افسوسناک اتفاقیہ سانحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی دنوں میں مختلف افواہوں اور سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ اطلاعات کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا، تاہم اسماعیلی کونسل کے وفد کی آمد، ان کے مخلصانہ رویے اور مسلسل رابطوں کے نتیجے میں تمام غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندانوں نے نہایت فراخ دلی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حادثے میں ملوث ڈرائیور کو فی سبیل اللہ معاف کردیا ہے اور آئندہ کے لیے اسے اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔
الواعظ کریم خان صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سانحے نے ہمیں بھی شدید رنج و غم سے دوچار کیا۔ ہماری خواہش تھی کہ حادثے کے فوراً بعد ڈوڈوشال پہنچ کر لواحقین کے غم میں شریک ہوں، تاہم خراب موسم اور سڑکوں کی بندش کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محبت، برداشت اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔
اجلاس کے اختتام پر اسماعیلی کونسل اور آغا خان ایجوکیشن سروسز کے نمائندوں نے دیامر کی روایات کے مطابق دعائیہ کلمات پیش کیے، مرحومین کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور دونوں برادریوں کے درمیان دائمی محبت، اخوت اور بھائی چارے کے لیے دعا کی، جسے دونوں فریقین نے قبول کیا۔
متاثرہ خاندانوں کی جانب سے ڈوڈوشال کے استاد جناب یاسین، جن کے اکلوتے بیٹے کا اس حادثے میں انتقال ہوا تھا، نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ہم یہاں مختلف سوچ کے ساتھ آئے تھے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں اسماعیلی کونسل کے مخلصانہ رویے، مسلسل ملاقاتوں اور خلوصِ نیت کو دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا کہ اس حادثے میں کسی قسم کی بدنیتی یا دشمنی شامل نہیں تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حادثاتی موت تھی۔ ہمارا ڈرائیور کے ساتھ کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں۔ ہم اسے دل کی گہرائیوں سے معاف کرتے ہیں اور وہ آج سے ہمارا بھائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ دیامر کے عمائدین، سابق وزیر حیدر خان، موجودہ وزیر محمد نسیم صاحب، اسماعیلی کونسل اور تمام مصالحتی کمیٹی کے ارکان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے بروقت کردار ادا کرکے دشمنی کے خدشات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا اور نفرت کے ماحول کو محبت، اخوت اور بھائی چارے میں تبدیل کردیا۔