What is going on in Nowshera

What is going on in Nowshera لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُااللّٰه
Likes our Page Prmote your Nowshera�

😄نوشہرہ کی عوام کی انوکھی اپیل!سٹریٹ لائٹس تو شاید متعلقہ اداروں کی ترجیحات میں شامل نہیں، اس لیے خویشگی پایان چوک کے عو...
09/06/2026

😄نوشہرہ کی عوام کی انوکھی اپیل!

سٹریٹ لائٹس تو شاید متعلقہ اداروں کی ترجیحات میں شامل نہیں، اس لیے خویشگی پایان چوک کے عوام نے نیا مطالبہ کر دیا ہے کہ شدید گرمی کے پیشِ نظر سٹریٹ لائٹس کے کھمبوں میں پنکھے لگا دیے جائیں!

💡 "روشنی تو ویسے بھی نہیں آ رہی، کم از کم ہوا ہی آ جائے!"

عوام کا کہنا ہے کہ جب لائٹس ٹھیک کروانے والا کوئی نہیں تو کھمبوں کو کسی اور کام ہی میں لے آیا جائے۔ شاید پنکھے لگ جائیں تو رات کے اندھیرے میں بیٹھنے والوں کو گرمی سے کچھ نجات مل جائے۔ 😅

_پان 😄

07/06/2026

نوشہرہ کلاتھ مارکیٹ تہہ بازار میں لگی آگ سے کروڑ کا مال جل کر راک ڈھیر بن گہا

07/06/2026

Nowshera 😭💔

02/06/2026

Da Khobono Dunya ...

01/06/2026

آدمی کے دِل میں بُہت سے منصُوبے ہیں لیکن صِرف خُداوند کا اِرادہ ہی قائِم رہے گا۔

01/06/2026

LAKE VIEW PARK ISLAMABAD

ھم ایک بڑے عالم دین سے محروم ھوگئے۔اللہ تعالٰی شیخ ایدریس صاحب کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے😭😭😭
05/05/2026

ھم ایک بڑے عالم دین سے محروم ھوگئے۔
اللہ تعالٰی شیخ ایدریس صاحب کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے😭😭😭

04/04/2026

ایک تندور والا تھا جو 5 روپے میں روٹی بیچتا تھا اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی اس کی قیمت نہیں بڑھا سکتا تھا۔ تو وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت مجھے روٹی کے 10 روپے کرنے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کہ 30 کی کر دو
تندوری نے کہا بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا
بادشاہ نے کہا اس کی فکر نہ کرو
میرے بادشاہ ہونے کا کیا فائدہ۔تم اپنا منافع دیکھو اور روٹی 30 ​​روپے کی کر دو
اگلے دن اس نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی، شہر میں کہرام مچ گیا لوگ بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ تندور والا ظلم کر رہا ہے 30 روپے کی روٹی بیچ رہا ہے ۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ میرے دربار میں تندوری کو پیش کرو ،وہ جیسے ہی دربار میں پیش ہوا بادشاہ نے غصے سے کہا، تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی؟ یہ رعایا میری ہے، لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو۔ بادشاہ نے تندوری کو حکم دیا کہ تم کل سے آدھی قیمت پر روٹی بیچو گے ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا، بادشاہ کا حکم سن کر عوام نے اونچی آواز میں کہا....بادشاہ سلامت زندہ باد

اگلے دن سے 30 کے بجائے روٹی 15 میں بکنے لگی
عوام خوش، تندوری خوش، بادشاہ بھی خوش........

16/01/2026

Blkul...

15/01/2026

ایک ریٹائرڈ پولیس کمشنر، جو پہلے اپنے سرکاری بنگلے میں رہا کرتے تھے، اب کالونی کے اپنے ذاتی مکان میں آ کر رہنے لگے۔ اُنہیں اپنی حیثیت پر بہت فخر تھا۔

روز شام کو وہ کالونی کے پارک میں چہل قدمی کے لیے آتے، لیکن وہاں آنے والے کسی سے بات نہ کرتے، نہ ہی کسی کی طرف دیکھتے۔ اُنہیں لگتا تھا: "یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں!"

ایک دن وہ بینچ پر بیٹھے تھے، تب ایک بوڑھا شخص آ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔

لیکن کمشنر صاحب نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی بولتے رہے – کہ وہ کتنے بڑے عہدے پر تھے، ان کی کتنی عزت تھی، اور وہ کتنے اہم شخص ہیں…
وہ کہنے لگے، "میں یہاں اس لیے رہتا ہوں کیونکہ یہ میرا ذاتی گھر ہے!"

کچھ دن یہی ہوتا رہا۔ وہ بوڑھا صرف خاموشی سے سنتا رہا۔

آخر ایک دن اُس بوڑھے نے کہنا شروع کیا:

"سنیے کمشنر صاحب! بلب ہوتا ہے نا – جب تک جلتا ہے، تب تک اہم ہوتا ہے۔
لیکن ایک بار فیوز ہو جائے، تو چاہے وہ ۱۰ واٹ کا ہو یا ۱۰۰ واٹ کا – سب برابر ہو جاتے ہیں۔
دکھنے میں وہ بلب تو رہتا ہے، لیکن روشنی نہیں دیتا۔"

"میں یہاں پچھلے پانچ سال سے رہ رہا ہوں، لیکن میں نے آج تک کسی کو نہیں بتایا کہ میں دو بار ممبر آف پارلیمنٹ رہ چکا ہوں۔"

یہ سنتے ہی کمشنر صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

بوڑھا آگے بولا:

"آپ کے دائیں طرف جو ورما جی بیٹھے ہیں، وہ ریلوے میں جنرل مینجر تھے۔
سامنے جو راؤ صاحب بیٹھے ہنستے ہوئے بات کر رہے ہیں – وہ آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل رہ چکے ہیں۔
اور کونے میں جو سفید کپڑوں میں صاحب بیٹھے ہیں – وہ خلائی تحقیقاتی ادارے کے چیئرمین تھے۔
لیکن اِن میں سے کسی نے بھی کبھی کسی کو یہ نہیں بتایا۔"

"میری بس ایک بات ہے: ہم سب یہاں – آپ سمیت – فیوز بلب ہیں!
جب بجلی چلی جاتی ہے تو پولیس کمشنر اور پولیس کانسٹیبل – سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں!"

"طلوع ہوتا سورج اور غروب ہوتا سورج – دونوں خوبصورت ہوتے ہیں۔
لیکن لوگ صرف طلوع ہونے والے سورج کو سلام کرتے ہیں۔
غروب ہونے والے کو کوئی نہیں پوچھتا۔
یہ حقیقت ہے جسے ماننا ہی پڑتا ہے۔"

"ہم جو عہدوں، عزت، اختیار میں جیتے ہیں – وہ ہماری اصل شناخت نہیں ہوتے۔
وہ سب عارضی ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم اسی کو زندگی سمجھ لیں،
تو یاد رکھیں – ایک دن یہ سب ختم ہونے والا ہے۔"

"شطرنج میں بادشاہ، وزیر، اونٹ، گھوڑا، پیادہ – ان کی اہمیت صرف کھیل کے دوران ہی ہوتی ہے۔
ایک بار کھیل ختم ہوا، تو سب ایک ہی ڈبے میں رکھے جاتے ہیں۔
ڈبہ بند!"

"آج کا دن پرسکون ہے، اس کا شکر ادا کریں۔
دعا کریں کہ کل بھی سکون سے گزرے۔"

**"اور آخر میں...
چاہے ہمیں کتنے ہی سرٹیفیکیٹ، میڈل یا ایوارڈز کیوں نہ ملے ہوں –
زندگی کے اختتام پر ہمیں ایک ہی سرٹیفیکیٹ ملتا ہے…
'موت کا سرٹیفیکیٹ!'

Address

Nowshera

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when What is going on in Nowshera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to What is going on in Nowshera:

Share