Afzal Hayat

Afzal Hayat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Afzal Hayat, Digital creator, .

04/12/2025

Zaheer Javed Cheema

04/12/2025

سب کچھ ،🙏
اللہ پر چھوڑ دو وہ ایسے راستے کھوتا ہے،💫
جن کا خیال تک نہیں ہوتا۔🌄@ #

04/12/2025

゚viralシalシ ゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ Aslam Shad Wajahat Khan Lal Bukhsh Rais Asif Jam Nazik Jhullan Rais Abid Chachar

20/11/2025
گھروں میں باورچی خانے بڑے ہوا کرتے تھے ، تب کھڑے ہو کر کھانا پکانے کا رواج نہیں تھا ۔ اور چولہے بھی نیچے فرش پر رکھے جات...
21/12/2024

گھروں میں باورچی خانے بڑے ہوا کرتے تھے ، تب کھڑے ہو کر کھانا پکانے کا رواج نہیں تھا ۔ اور چولہے بھی نیچے فرش پر رکھے جاتے تھے۔ دیہاتی علاقوں میں گیس کی سہولت نہیں تھی تو لکڑیاں جلائی جاتی تھیں ۔ گیس کے چھوٹے سلیںنڈر صرف اشد ضرورت کے تحت ہی استعمال ہوتے تھے ۔ کچن کے ایک طرف دیوار کے ساتھ دبیز چادر ، دری یا پرانا کمبل بچھا دیا جاتا تھا سردیوں کی شاموں ان باورچی خانوں میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی ۔

سب بچے اور گھر والے وہاں بیٹھ جاتے ، وہیں چولہے پر ہنڈیا کی بھنائی ہوتی ، تازہ تازہ روٹیاں سب کے سامنے چنگیر میں اتاری جاتیں اور وہیں بیٹھ کر سب کھاتے تھے ، مونگ پھلی اور چائے کے کئی دور بھی وہیں چلتے ، سردی میں وہ جگہ سب سے گرم اور آرام دہ لگتی تھی ۔ سخت جاڑے میں انگیٹھی میں کوئلے دہکا کر رکھے جاتے اور ہر کسی میں چولہے یا انگیٹھی کے زیادہ قریب بیٹھنے کی دوڑ شروع ہوجاتی ۔ بجلی چلی جاتی تو لالیٹین روشن کی جاتی جن کی روشنی میں دیواروں پر ہاتھ سے ہیولے بنائے جاتے تھے ۔

بچے لکڑی کے چولہوں میں دہکتے انگاروں میں آلو دبا کر ان کو بھون کر کھاتے ، کبھی تو وہ کوئلہ بن جاتے ، بھنے ہوئے آلووں کا سیاہ چھلکا اتار کر نمک لگا کھانا سب سے مزے دار ڈش تھی ۔ ماں سے ہنڈیا کا بھنا ہوا مسالہ فرمائش کرکے نکلوایا جاتا ۔ رات دیر تک محفلیں جمی رہتیں یہاں تک کہ دہکتے کوئلے ٹھنڈی راکھ میں تبدیل ہوجاتے ۔

پھر وقت بدلا ، ہم ماڈرن ہوگئے نئی سہولیات آگئیں ، جدید طرز پر کچن تعمیر ہونے لگے ، گھروں میں سوئی گیس آگئی اور جدید چولہے نصب ہوگئے جن میں کھڑے ہوکر پکانے کی ترتیب بن گئی ۔ آہستہ آہستہ باورچی خانے خالی ہوگئے ، باورچی خانوں میں سامان زیادہ اور مکین کم ہوگئے ۔
ماڈرن ہونا اور ترقی کرنا مثبت چیز ھے مگر وہ جو کہر کی شاموں میں جمنے والی محفلیں تھیں ۔۔۔ وہ خواب و خیال ھو گئیں ۔ اب بھی پرانے گھروں کے غیر آباد باورچی خانے ان مکینوں کو یاد کرتے ہیں ۔ شاید چند گھرانوں میں اب بھی ایسا ھو ۔۔۔۔لیکن اکثر میں نہیں ھے ۔

مچھلی ۔۔۔۔ مچھلی بھی مفید ترین غذا ھے ۔لوگ زیادہ تر مچھلی سردیوں میں کھاتے ہیں ۔ اسکے پیچھے ذھنوں میں نسل در نسل گھسی غل...
19/12/2024

مچھلی ۔۔۔۔ مچھلی بھی مفید ترین غذا ھے ۔لوگ زیادہ تر مچھلی سردیوں میں کھاتے ہیں ۔ اسکے پیچھے ذھنوں میں نسل در نسل گھسی غلط فہمی ھے کہ مچھلی ،، گرم ،، ہوتی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طب یونانی کے نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو مچھلی میں ،، کرمی ،، کا نام و نشان نہیں ، اسی لیے لوگ اسے طرح طرح کے ،، گرم مصالحے ،، لگا کر اور تیل میں تل کر کھاتے ہیں ۔
مچھلی کھانے سے آپکو جو ،، گرمی ،، کی علامات محسوس ہوتی ہیں وہ ان مصالحہ جات کی وجہ سے ہوتی ہیں ورنہ تو مچھلی گنے کے رس سے بھی ،، ٹھنڈی ،، ہوتی ھے ۔
نہیں یقین تو مچھلی کو بغیر مصالحہ جات اور بیسن وغیرہ کے ، سٹیم کے ذریعے پکا کر ، کھائیں ، نتیجہ آپکے سامنے ہوگا ۔
مچھلی میں پوٹاشیم، فولاد، آئیوڈین، پروٹین، وٹامن اے،وٹامن 12 ، وٹامن ڈی ،سلینیئم،فاسفورس اور میگنیشئم پایا جاتا ہے۔اس میں پروٹین 60%، فیٹ 10%، وٹامن 181% 12،وتامن اے 50% ، سلینئیم 67% ، فاسفورس 33% اور میگنشیم 16 % موجود ہوتا ہے۔
یہ غذائی تناسب اسے مفید ترین غذا بناتا ھے ۔ لیکن ھم جو فش فرائی وغیرہ کھاتے ہیں اس میں یہ غذائی اجزاء ختم ہو جاتے ہیں ۔
مچھلی کا گوشت بہت نرم ہوتا ہے ، ہلکی سی بھاپ میں پک جاتا ھے۔ اسے زیادہ پکانے یا تلنے سے اسکی غذائیت کم ہو جاتی ھے۔
مچھلی کے فوائد حاصل کرنے ہیں تو ، مچھلی کو آپ گھر میں ہلکے نمک مصالحہ میں پکا کر کھائیں یا سٹیم یا گرل کر لیں ۔
بہت پرانی بات ھے ان دنوں مچھلی کے شکاری دسمبر اور جنوری کے مہینے میں دریاؤں کے کنارے ڈیرے ڈال دیتے تھے اور رات بھر مچھلی کا شکار کرتے تھے ۔ کبھی کبھی میں بھی چلا جایا کرتا تھا ۔ وہ یوں کرتے تھے کہ۔مچھلی کا پیٹ چاک کرکے اندر سادہ مرچ مصالحہ لگاتے اور پھر اسے کھال اور چانوں سمیت کیلے کے پتوں میں لپیٹ کر ، ریت میں دفن کر دیتے ، پھر اسکے اوپر چولہا بنا کر آگ جلاتے اور چاول پکاتے ۔ جب چاول پک جاتے تو اسی دوران نیچے دبی مچھلی بھی پک چکی ہوتی تھی ، وہ اسے نکالتے اور اسے چاول کے ساتھ کھاتے۔ اس طرح کی پکی ہوئی لذیذ مچھلی میں نے زندگی بھر نہیں کھائی۔
ھاں ۔۔۔۔۔۔یہ بھی یاد رکھیں کہ بازار سے ھمیشہ تازہ مچھلی ہی خریدیں ۔ مچھلی اور دودھ کی شیلف لائف ایک جتنی ہے یعنی جتنی دیر میں کچا دودھ فریزر سے باھر پڑا پڑا خراب ہونے لگتا ھے اتنی ہی دیر میں مچھلی بھی گلنے سڑنے لگتی ھے ۔
تازہ مچھلی کی پہچان یہ ہے کہ اسکی آنکھوں کے ڈیلے ابھرے ہوئے ہوتے ہیں ، باسی مچھلی جسمیں گلنے سڑنے کا عمل شروع ہو چکا ہو اسکی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی ہوتی ہیں ۔
تازہ مچھلی کے گلپھڑے شوخ سرخ ہوتے ہیں باسی مچھلی کے سیاسی مائل۔
اسی طرح اگر مچھلی کے جسم کو انگلی سے دبائیں تو مچھلی کی جلد میں گڑھا نہیں پڑے گا ، اگر گڑھا پڑ جائے تو وہ باسی مچھلی ھے ۔
باسی مچھلی جو گلنے سڑنے لگ چکی ہو اسکے فوائد تو کچھ بھی نہیں نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔
فرائی مچھلی بیچنے والے اول تو بازار سے گلی سڑی مچھلیاں سستے داموں خریدتے ہیں ، پھر انہیں تیز مرچ مصالحے لگا کر دو تین دن کیلیے رکھ دیتے ہیں ۔ ان مصالحوں کی وجہ سے مچھلی کی بدبو ختم ہو جاتی ھے اور مچھلی کا پانی نچڑ جاتا ھے ، اور مصالحہ جات کا ذائقہ مچھلی کے اندر تک گھسی جاتا ھے ، پھر یہ حنوط شدہ مچھلی ، بیسن لگا کر گندے تیل میں فرائی کر کے بیچ دیتے ہیں ۔
ایسی فرائی مچھلی کا جو چٹخارہ آپکو محسوس ہوتا ھے وہ مصالحہ جات کا ہوتا ھے نہ کہ مچھلی کا ۔
یاد رکھیں کہ مچھلی میں موجود بہت سے منرلز اور وٹامنز تو مچھلی کو مصالحہ جات لگانے اور اسکا پانی نچڑ جانے کے ساتھ ہی نکل جاتے ہیں ۔ وٹامن اے ، ڈی اور کے اور کچھ دیگر منرلز مچھلی کو تلنے کے دوران ، تیل میں حل ہو کر نکل جاتے ہیں ۔ تو آپکو کیا غذائیت ملی ؟؟؟
بہتر یہی ہے کہ چٹخاروں کے نشے سے نکلیں ، تازہ مچھلی لیں ، گھر میں سالن پکائیں ، روسٹ کریں یا سٹیم کریں ، اور قدرت کی اس عظیم نعمت سے فایدہ اٹھائیں ۔

28/02/2024


Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afzal Hayat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Afzal Hayat:

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share