The News Analysis

The News Analysis The News Analysis an authentic page, committed to bring you quality & updated news with analysis.

Please Share for awareness!!
30/01/2024

Please Share for awareness!!

29/01/2024
29/01/2024

یہ محلے کے کونسلر کا الیکشن نہیں کہ آپ سوچو کہ ساڈی گلی بنوا دتی سو , میرے کزن دی شادی تے آیا سی یا فوتگی تے آیا سی لہٰذا ووٹ اس کو دے دیتے ہیں !
یہ قومی الیکشن ہے .یہاں آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے اپنے علاقہ میں آصف علی زرداری کو ووٹ دینا ہے ,نواز شریف کو یا وہ جس کو بے گناہ جیل میں بند کیا عمران خان کو ووٹ دینا ہے!!
آخری بات، ووٹ اتنے ڈالنے ہیں کہ دھاندلی کر کے بھی نہ جیت سکیں!

ووٹ فار کپتان!!

21/12/2023

ٹُر گئے یار مُحبتاں والے لے گئے نال ای ہاسے
دل نئیں لگدا محمد بخشا اَسیں جائیے کیڑے پاسے

دکھیئے دی گل دکھیا جانے سکھیئے نوں کی خبراں
سجن جناں دے موت نے مارے او روندے تک تک قبراں

ڈیگر ڈھلی تے شاماں پئیاں لوک گھراں نوں آئے
او نئی آئے پرت محمد جیڑے آپ ہتھی دفنائے

ٹر گئے نیں یار دلاں دے وطنوں چک مهاراں
اجڑی بستی نظریں آوے کنڈ دتی جد یاراں

لے او یار حوالے رب دے میلے چار دناں دے
اس دن عید مبارک هو سی جس دن فیر ملاں گے

میاں محمّد بخش ؒ

20/11/2023

انڈیا نے ہارنا نہیں تھا بس اس غلطی فہمی میں مارا گیا کہ

"ساڈی اُتے گل ھو گئی اے"
غیر سیاسی

14/10/2023

میکڈونلڈ کے بجانی ہے تو پاکستانی طریقے

1: میکڈونلڈ کے آؤٹ لیٹ پر جاکر بھاری آرڈر کریں، جب وہ آرڈر تیار کرنا شروع کریں تو وصول کیے بغیر روانگی فرمائیں۔
2: آن لائن میکڈونلڈ سے خوب بھاری آڈر کرکے موبائل ہی سوئچ آف کر دیں۔
3: إن کے فون نمبر پر کال کر کر کے جینا حرام کریں۔

آپ مزید تجاویز بھی شامل کرسکتے ہیں۔🙂

آجکل ہر جگہ ہر وقت ہر بندہ دو سوال کر رہا ہے 1۔ ماسٹراں دا کی رولا اے2۔ ماسٹراں دا کی بنیا اےمیں آج ان دو سوالات کے جواب...
13/10/2023

آجکل ہر جگہ ہر وقت ہر بندہ دو سوال کر رہا ہے
1۔ ماسٹراں دا کی رولا اے
2۔ ماسٹراں دا کی بنیا اے
میں آج ان دو سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گا
سب سے پہلے تو یہ اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ دو طاقتور ادارے چھوڑ کر باقی تمام ملازمین کا مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ملازمین کو نوکری دیتے وقت آئین نے جو حقوق دیے تھے اب وہ تمام حقوق ختم کیے جا رہے ہیں
گریڈ ایک کے سویپر سے لے کر گریڈ بیس کے افسر تک ہر بندہ نوکری کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک اپنی اصل تنخواہ سے کٹوتی کرواتا ہے کہ جب ریٹائر ہوں گا تو ریٹائرمنٹ ملے گی، جس سے اپنی بیٹی کی شادی کر لوں گا یا اپنے بوسیدہ مکان کی مرمت کر لوں گا، اب حکومت یہ حق ختم کر رہی ہے
ایک انسان کوئی بزنس کرتا ہے تو وہ بزنس اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے اور اس کے بعد نسل در نسل منتقل بھی ہوتا جاتا ہے اور پھیلتا بھی جاتا ہے، ایک سرکاری ملازم اپنی آدھی زندگی تعلیم میں اور پھر ساٹھ سال تک کی عمر اپنے محکمہ کو دیتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب بوڑھا ہو جاؤں گا تو گورنمنٹ میرا سہارہ بنے گی، اُنکی پینشن اب ختم ہو رہی ہے
جب سب ملازمین کا مسئلہ ہے تو ٹیچر کیوں احتجاج کر رہے ہیں، باقی محکمے کیوں نہیں، اُسکا جواب یہ ہے کہ ساڑھے سات لاکھ فوج کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ تعداد اساتذہ کی ہے، وہ سب متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے احتجاج کر رہے ہیں
اب سوال یہ کے سکولز کی تالہ بندی کر کے بچوں کا تعلیمی حرج کیوں کیا جا رہا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب کسی نشئی کو نشہ پورا کرنے کے لیے پیسے نہیں ملتے تو وہ گھر کی چیزیں بیچنا شروع کر دیتا ہے ایسا ہی معاہدہ سیاسی جماعتوں نے آئی ایم ایف سے کیا ہے کہ قومی اثاثہ جات اور ادارے بیچ کر ڈالر اُدھار لیں گے اور پھر لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جائیں گے.
سرکاری سکولوں میں صرف سفید پوش لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں، جن کے پاس ضرورت سے تھوڑی سی بھی زیادہ آمدن ہوتی ہے وہ اپنے بچے مقامی پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں اور اگر حالات اچھے ہوں تو ضلع کے بہترین پرائیویٹ اداروں میں لے جاتے ہیں جہاں کی داخلہ فیس کم از کم تیس ہزار ہوتی ہے، یہ باتیں میں فرضی کہانیاں نہیں بنا رہا میں نے نوکری کی ابتدا ضلع کے دو بہترین اداروں سے کی اور اب 2 سال ہو گئے ہیں سرکاری ملازمت کو.
حکومت کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ سرکاری اسکولز کو بیچ دو، اُن کے انکار کے بعد ( کہ ہم عوام میں جانے کے قابل نہیں رہیں گے) جاتے جاتے اُن سے یہ قانون پاس کروایا گیا کہ نگران حکومت اپنے فرض الیکشن کروانے کے علاوہ ہر وہ کام کر سکتی ہے جس کی پہلے آئین میں اجازت نہیں تھی. نگران حکومت اپنے ٹاسک کو پورا کرتے ہوئے سرکاری اسکولز کو غیر ملکی این جی اوز کو بیچ رہی ہے، جو اپنی مرضی کی فیسیں لیں گی اور اپنی مرضی کا سلیبس پڑھائیں گی ، جہاں ایک طرف روح ایمانی کا خاتمہ اور دوسری طرف سفید پوش لوگوں کے لیے تعلیم دلوانا نہ ممکن ہو جائے گا، اس طرح کی بھیڑ بکریوں اور ان پڑھ طبقے کو بیوقوف بنانا آسان ہوگا جیسا کہ پچھلے چھہتر سال سے ہو رہا ہے,..

نگران حکومت کو کوئی پوچھنے والا تو ہے نہیں، نہ انہیں دوبارہ سے حکومت ملنے کی طمع، جس کو دیکھتے ہوئے یہ لحاظ رکھیں، سب کی منجی ٹھوک کے جاتے رہیں گیں.

تو پھر احتجاج کس کو کرنا چاہیے؟ کیا تعلیم صرف ملازمین نے اپنے بچوں کو دلوانی ہے؟
اگر تو باقی عوام بھیڑ بکریاں ہیں تو پھر واقعی ماسٹراں دا رولا اے
منقول

, , , , , , , ,

10/09/2023

بھارت نے جی ٹوئنٹی کانفرنس میں خطے کا نقشہ ہی بدل ڈالا ہے، پاکستانی اور چائنیز میڈیا کو سانپ سونگا ہوا ہے، ایسا جھٹکا لگا ہے کہ اب پاکستان اور چائنہ کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اس نقصان کا ازالہ کیسے کریں گے، اربوں کھربوں کی پاک چین انویسٹمنٹ ڈوب چکی ہے

بھارت نے سی پیک سے دس گَنا بڑا اکنامک کاریڈور کا افتتاح کردیا ہے، جس کا نام بھارت نے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کاریڈور رکھا ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، روس، ترکی جیسے بڑے ممالک بھارت کے بزنس پارٹنرز ہیں

اس اکنامک کاریڈور کے علاوہ جی ٹوینٹی کانفرنس میں جو دیگر گیم چینجر معاہدے ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں

• برطانیہ کا بھارت کے ساتھ "ٹیکس فری ٹریڈ" کا معاہدہ
• سعودی عرب کا دو لاکھ بھارتیوں کو سعودیہ میں نوکری دینے کا اعلان
• ترکی کا بھارت کو جدید ڈرون دینے کا معاہدہ
• امریکہ کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا سفارت خانہ بنانے کا معاہدہ

سی پیک کی ویلیو صفر ہوگئی ہے، پاکستان اور چین بس اب سی پیک سے "جگا ٹیکس" ہی وصول کر سکتے ہیں، دنیا اب تجارت کیلئے بھارتی بندر گاہیں استعمال کریگی

میں یہ سمجھتا ہوں کہ بھارت نے تجارتی، سفارتی اور معاشی میدان میں پاکستان اور چائنہ کو بدترین شکست دے دی ہے

خیر، ہمیں ان باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں، ہم عمران خان کو ٹھکانے لگانے اور سوشل میڈیا سے نمٹنے کیلئے ٹاسک فورس بنانے میں مصروف ہیں 🫡
Copied

07/09/2023

ایک نالائق شخص وزیر تعمیرات بن گیا۔ وہ اتنا نالائق تها کہ اسے رشوت وصول کرنے کا بهی سلیقہ نہیں تها۔

اس کے پاس ایک ٹهیکیدار آیا اور ایک فائل پر منظوری کے عوض بیس لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔ وزیر نے آؤ دیکها نہ تاؤ‘ جهٹ سے فائل منگوائی اور اس پر Approved لکھ دیا۔

اب فائل منظور ہو گئی مگر ٹهیکیدار کہیں نظر ہی نہیں آیا۔

دو چار دن انتظار کرنے کے بعد وزیر بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے؟

اسی اثنا میں اس کے چپڑاسی نے اپنے وزیر کا اُترا ہوا چہرہ اور طبیعت کی بے کلی دیکھ کر اندازہ لگایا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ وہ وزیر کے پاس آیا اور رازداری سے کہنے لگا حضور!
ہوں تو میں چپڑاسی مگر کافی عرصہ سے یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ مجهے اپنی پریشانی کی وجہ بتائیں میں کوئی حل نکال دوں گا۔

وزیر نے کہا فائل اپروو کر دی ہے مگر اب ٹهیکیدار ہاتھ نہیں آرہا۔

چپڑسی نے کہا فائل واپس منگوا لیں۔ وزیر نے کہا اب اس پر کٹنگ کس طرح کروں؟

چپڑاسی نے کہا جناب پریشان نہ ہوں کوئی کٹنگ نہیں ہو گی۔

فائل واپس آئی۔ چپڑاسی نے کہا آپ اس Approved سے پہلے Not لکھ دیں۔ مقصد پورا ہو جائے گا اور کوئی کٹنگ وغیرہ بهی نہیں ہو گی۔

وزیر نے ایسا ہی کیا۔ اب ٹهیکیدار کو پتہ چلا تو بهاگا بهاگا آیا اور بیس لاکھ روپے کا بریف کیس پکڑایا۔

اب وزیر پهر پریشان ہو گیا اور پهر چپڑاسی کو بلایا کہ اب کیا کروں؟

چپڑاسی بولا جناب عرصہ ہوا یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ نے فائل پر جہاں Not لکها ہے وہاں ''T‘‘ کے بعد ''E‘‘ لگا دیں۔

یعنی Not کو Note بنا دیں۔ اب یہ ہو گیا

Note Approved

وزیر نے ایسا ہی کیا اور من کی مراد پائی۔

شنید ہے کہ بہت سے محکمے وزراء نہیں چپڑاسی چلا رہے ہیں کیوں کہ ان کا تجربہ اور آئی کیو بہت سے وزراء سے بہتر اور زیادہ ہوتا ہے...!!!
Copied

سر جی وہ جگہ تو بلکل بجلی کے بل سے پھٹ گئی ہے ۔۔۔!!🤣
06/09/2023

سر جی وہ جگہ تو بلکل بجلی کے بل سے پھٹ گئی ہے ۔۔۔!!🤣

06/09/2023

‏شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے 16 ماہ میں میڈیا کو 9 ارب 60 کروڑ روپے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کو ایک ارب 23 کروڑ روپے کے اشتہارات دیئے، سیکرٹری اطلاعات نے تفصیل سینیٹ قائمہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیں،

31/08/2023

سو، چار سو روپے بچانے کے لئے پٹرول پمپوں پر بلا کا رش ہے جانتے ہیں اس سے کیا ہوگا دس لٹر ڈلوانے والا 100 روپے بچا لے گا اور 20 لٹر والا 200 روہے، پٹرول پمپ مالکان بھی چھکا مارنے کو تیار بیٹھے ہیں...ایک اس پر خوش ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے سے پہلے ہی داؤ لگا کر ٹنکی بھروا لی اور معرکہ سر کر لیا دوسرا دیسی مرغ کی کڑاھی کا ڈکار مار کر کہے گا کہ پمپ کے ٹنک میں لاکھ لٹر بچا لیا تھا دس لاکھ کی دیہاڑی لگ گئی....قوم اسی میں بغلیں بجاتی رہی گی اور بجانے والے ہماری بجاتے رہیں گے، بس اتنی کہانی ہے!

Address

Okara

Telephone

+923410069041

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The News Analysis posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share