27/09/2026
شاباش کاشف خان!
جب کالی بھیڑیں بلبلا اٹھیں، تو سمجھو چرواہا ایماندار ہے
کہتے ہیں کہ کسی معاشرے یا علاقے میں قانون کی بالادستی اور پولیس افسر کی ایمانداری کا اندازہ لگانا ہو، تو وہاں کے شہریوں سے زیادہ وہاں کے جرائم پیشہ افراد کے چہروں کو دیکھنا چاہیے۔ اگر جرائم پیشہ افراد سکون کی نیند سو رہے ہوں، تو سمجھ لیں کہ قانون سو رہا ہے، اور اگر وہ سڑکوں پر آ کر واویلا مچا رہے ہوں، تو یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ وہاں تعینات افسر ایماندار، نڈر اور اپنے فرض سے مخلص ہے۔
آجکل کچھ ایسا ہی منظر نامہ تھانہ نظام پور کے علاقے میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جب سے ایس ایچ او نظام پور کاشف خان نے چارج سنبھالا ہے، انہوں نے جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا کے خلاف ایک ایسی بے لچک مہم شروع کی جس نے ان ناسوروں پر زمین تنگ کر دی۔ ماضی میں جو عناصر سفارش اور رشوت کے بل بوتے پر قانون کو موم کی ناک بنا دیا کرتے تھے، کاشف خان کی دیانت داری کے سامنے ان کی ہر چال ناکام ہو گئی۔ جب رشوت کے لفافے کام نہ آئے اور نہ ہی کسی بڑے کی سفارش کا اثر ہوا، تو اپنی دکانیں بند ہوتے دیکھ کر یہ مافیا بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ آج اگر نظام پور کے بھتہ خور اور منشیات فروش کاشف خان کے خلاف سڑکوں پر نکل کر واویلا مچا رہے ہیں، تو یہ ان کی ایمانداری کا سب سے بڑا ثبوت ہے!
محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام، بالخصوص آئی جی پی ، ار پی او اور ڈی پی او صاحب کے لیے یہ صورتحال گہری توجہ کی متقاضی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افسرانِ بالا ان جرائم پیشہ عناصر کے جھوٹے اور من گھڑت پروپیگنڈے پر کان دھرنے کے بجائے کاشف خان کا ماضی کا شاندار ریکارڈ نکال کر دیکھیں۔ کاشف خان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ جہاں بھی رہے، انہوں نے ہمیشہ جرائم کا قلع قمع کیا، محکمے کا سر فخر سے بلند کیا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا۔ ان کا بے داغ ماضی اور بہترین سروس ریکارڈ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ وقت جرائم پیشہ مافیا کی بلیک میلنگ میں آنے کا نہیں، بلکہ کاشف خان جیسے فرض شناس، دلیر اور نڈر افسر کا ماضی کا ریکارڈ دیکھ کر ان کی داد رسی کرنے کا ہے۔
اعلیٰ افسران کو چاہیے کہ وہ اس مخلص افسر کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی پیٹھ تھپتھپائیں اور جرائم کے خلاف جنگ میں ان کی پشت پناہی کریں۔ جب محکمہ اپنے ایسے جگر والے اور ایماندار افسران کی داد رسی کرے گا، تو اس سے نہ صرف فورس کا مورال بلند ہوگا بلکہ قانون شکن عناصر کو بھی یہ واضح پیغام جائے گا کہ ایمانداری کی سزا نہیں بلکہ جزا ملتی ہے