02/09/2026
بی این پی عوامی کے ڈپٹی ضلعی آرگنائزر حاجی محمد یاسین زہری نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک لسٹ گردش کر رہی ہے جس میں میرا نام بطور اسٹیکر مافیا کے شامل کیا گیا ہے۔ میں اس حوالے سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا اس قسم کے کسی جعلسازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ میں کبھی کسی اسٹیکر مافیا کا حصہ رہا ہوں اور نہ ہی میں نے کسی قسم کی جعلسازی کرکے اسٹیکر حاصل کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بغیر کسی ثبوت کے میرا نام اس فہرست میں شامل کرنا نہ صرف افسوسناک بلکہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور اپنے قائد راجی راہشون میر اسداللہ بلوچ کے سیاسی وژن، اصولوں اور عوامی خدمت کے منشور پر یقین رکھتا ہوں۔ ہماری سیاست کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا، روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ اس لیے کسی بھی جعلسازی پر مبنی سرگرمی کا حصہ بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسی بھی غیر مصدقہ فہرست کی بنیاد پر سیاسی جماعت کے رہنماؤں یا کارکنوں کو اسٹیکر مافیا سے جوڑنا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
بی این پی عوامی کی قیادت اور کارکنوں کو اسٹیکر مافیا سے جوڑنے کی کوشش بھی قابلِ افسوس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی این پی عوامی کی قیادت نے بارڈر کھولنے کے لیے عملی جدوجہد کی اور عام لوگوں کو بارڈر کے ذریعے کاروبار اور روزگار کے مواقع میسر آنے کا راستہ فراہم کیا۔ بارڈر کو عوام کے لیے کھولنے کا مقصد چند مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ ہزاروں عام لوگوں کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا تھا۔ راجی راہشون کے وژن کے تحت بارڈر پر ہر مکتبہ فکر کے افراد نے کاروبار کرکے زندگی کے شب و روز گزارے، آج اگر بڑی تعداد میں غریب، نادار، مسکین اور ضرورت مند لوگ بارڈر کے ذریعے اپنے کاروبار سے وابستہ ہیں تو اس کے پسِ پشت میرے قائد راجی راہشون میر اسداللہ بلوچ کے عوامی پالیسی اور جدوجہد کا کردار ہے۔
لہٰذا ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہتے ہیں کہ اسٹیکرز کی شفاف ویری فیکیشن ضروری ہے مگر اس کی آڑ میں بی این پی عوامی کی پوری قیادت یا اس کے کارکنوں کو بدنام کرنا کسی صورت درست نہیں۔ بی این پی عوامی عوامی حقوق، روزگار، کاروبار اور ترقی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ہماری قیادت اور کارکنوں کو منظم انداز میں بدنام کرنے کی کوئی بھی کوشش حقیقت کے بالکل برعکس ہے بدنام کرنے والے عناصر نے پیکج کے نام پر پورے بارڈر کو یرغمال بنایا ہے روزانہ سیکڑوں گاڑیاں پیکج کی مد میں بارڈر کراس کر رہے رہے اور ان کے پیسے کروڑوں روپے کی صورت میں پنجگور سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں جو کہ پنجگور کے عوام کے ساتھ بڑی زیادتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پیکج مافیا کا احتساب کیا جائے اسکے بعد شفاف ویری فیکیشن عمل میں لائی جائے ناکہ بی این پی عوامی کو بدنام کرنے کی سازش کی جائے۔