11/08/2026
🚨 ہر مسئلے کا حل طلاق نہیں ہوتا...
کنگن پور میں غیرت کے نام پر ہولناک( قت.ل) کا انکشاف سالے نے بہنوئی کو 9 گو.لیاں ما.ر کر ابدی نیند سلا دیا! 🚨
صوبہ پنجاب کے علاقہ کنگن پور میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا اور سنسنی خیز (قت.ل) کا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پندرہ سال قبل ڈاکٹر ندیم کی شادی مریم نامی خاتون کے ساتھ انجام پائی تھی، اور اس طویل عرصه ازدواج میں ان کے ہاں چار بچے بھی پیدا ہوئے۔
بظاہر تو یہ ایک ہنستا کھیلتا خاندان تھا، لیکن اندر ہی اندر تلخیوں کے بادل منڈلا رہے تھے۔ مریم اکثر اپنے میکے جا کر اپنے بھائیوں سے یہ شکوہ کرتی تھی کہ اس کا شوہر ڈاکٹر ندیم اسے( شد.ید ت.شدد) کا نشانہ بناتا ہے اور اس کے غیر عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، جسے اس نے کئی بار رنگے ہاتھوں بھی پکڑا تھا۔
مریم کے بھائیوں بشمول سجاد نے اپنے بہنوئی کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ یا تو بات کو ٹال دیتا یا پھر الٹا بدتمیزی اور مارپیٹ پر اتر آتا۔ 💔
اس کہانی میں مالی معاملات اور مفادات کا جھنجھٹ بھی شامل تھا۔
سجاد سیلنگ کا کام کرتا تھا اور اس کی مالی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی، وہ ایک طرف تو اپنے بہنوئی کے برے کردار کی وجہ سے اسے سخت ناپسند کرتا تھا، تو دوسری طرف وقوعہ سے چند ماہ قبل اس نے ڈاکٹر ندیم سے دو لاکھ روپے قرض لے کر اپنے کاروبار میں لگائے تھے، جس کی بدولت اس کا کاروبار کافی بہتر چل نکلا تھا۔
وہ اس رقم کے عوض ہر ماہ آٹھ ہزار روپے بطور پرافٹ ڈاکٹر ندیم کو ادا کرتا تھا۔
لیکن اندر ہی اندر نفرت بڑھتی گئی، اور سجاد نے اپنے ایک شاگرد کے ساتھ مل کر ایک ہولناک منصوبہ تیار کیا۔
کاروبار اچھا چلنے کی خوشی کا بہانہ بنا کر سجاد نے اپنے بہنوئی ڈاکٹر ندیم کو شہر کی ایک مشہور دکان پر کھانے کی دعوت دی، جسے ڈاکٹر ندیم نے قبول کیا۔
دعوت کے بعد سب نے ہنسی خوشی کھانا کھایا اور واپسی کے لیے روانہ ہوئے، مگر راستے میں ایک سنسان جگہ پر رات کے اندھیرے میں سجاد اور اس کے شاگرد نے بہنوئی ڈاکٹر ندیم پر اندھا دھند فا.ئرنگ کر دی اور 9 گو.لیاں مار کر اسے موقع پر ہی (قت.ل) کر دیا اور فرار ہو گئے۔ 📜
جب مقامی لوگوں کی اطلاع پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو ابتدائی تحقیقات سے ہی یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ یہ کوئی ڈکیتی یا چھینا جھپٹی کی عام واردات نہیں ہے، کیونکہ (مق.تول) ڈاکٹر ندیم اپنی موٹرسائیکل پر ہی اوندھا حالت میں پڑا تھا اور اس کی جیب میں موبائل فون، نقدی، پرس اور شناختی کارڈ بالکل محفوظ اور موجود تھے۔ شناخت کے بعد جب تمام ورثا کو اطلاع دی گئی تو (مق.تول) کے گھر والے اور ملزم سجاد کے گھر والے بھی موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس نے جب یہ کھوج لگائی کہ (قت.ل) سے قبل ڈاکٹر ندیم آخری بار کس کے ساتھ تھا، تو پتہ چلا کہ وہ سجاد کی دعوت پر گیا تھا۔
تفتیش کے دوران جب پولیس نے سجاد کو بلانا چاہا تو وہ غائب ہو چکا تھا اور اس نے رونے دھونے اور گہرے غم کا ڈرامہ رچایا، یہاں تک کہ اس کے بھائیوں نے اس کا ایک خودساختہ اور جعلی( اغ.وا) کا مقدمہ بھی درج کروا دیا۔
لیکن کنگن پور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور کال ریکارڈز کی مدد سے سجاد کو اصل ٹارگٹ بنا لیا اور اسے ایک دور دراز ضلع سے دبوچ لیا۔
پولیس کی سخت تفتیش اور کسٹڈی میں لانے کے بعد بالآخر ملزم سجاد نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ دو لاکھ کے قرض پر ہر ماہ سود اور پرافٹ دیتے دیتے تنگ آ چکا تھا اور ڈاکٹر ندیم اس میں مزید اضافے کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن اصل محرک پیسوں کا لین دین نہیں بلکہ اس کی بہن کی روزمرہ کی پریشانیاں اور ڈاکٹر کی بدکرداری تھی۔
جب پولیس نے اس سے پوچھا کہ اگر بہن اتنی ہی عزیز تھی تو اسے طلاق دلوا کر گھر کیوں نہیں بٹھا لیا، تو ملزم کا انتہائی تلخ جواب تھا: "ہر مسئلے کا حل طلاق نہیں ہوتا، ماں باپ اپنی بیٹیوں کی شادی اس لیے نہیں کرتے کہ پندرہ سال بعد چار بچوں کی ماں بن کر اسے طلاق ہو جائے اور وہ میکے آ بیٹھے۔
اگر ایسا ہو بھی جاتا تو ڈاکٹر کو کھلی چھوٹ مل جاتی اور وہ دوسری شادی کر کے اس کی زندگی بھی تباہ کرتا۔ مجھے اپنے جرم پر ذرا بھی شرمندگی نہیں ہے!" دوسری طرف ملزم کے گرفتار شاگرد کا بھی کہنا تھا کہ استاد کا حکم تھا کہ بہن کی ٹینشن ختم کرنی ہے، اور استاد کا حکم اس کے لیے سر آنکھوں پر تھا، چاہے اس کے لیے اسے کنویں میں ہی کیوں نہ چھلانگ لگانی پڑے۔ 💸
---
Disclaimer: The views and opinions expressed in this post are for informational purposes only, based on initial police investigation reports and statements of the accused. The page administration does not assume any legal responsibility or liability for the accuracy, completeness, or consequences of this content.
..