Ikram Khan

Ikram Khan Live Like Jewel

کتابوں کی محبت میں ایک انشورنس پالیسی ہے جو موت تک خوشی کی ضمانت دیتی ہے۔
25/02/2023

کتابوں کی محبت میں ایک انشورنس پالیسی ہے جو موت تک خوشی کی ضمانت دیتی ہے۔

اردو بازار لاہور میں کسی ایک سرد شام کو مٹر گشتی کے دوران ایک ٹھیلے والے سے یہ کتاب خرید لی تھی۔ وقت کے آنگن میں سرد گرم...
23/07/2022

اردو بازار لاہور میں کسی ایک سرد شام کو مٹر گشتی کے دوران ایک ٹھیلے والے سے یہ کتاب خرید لی تھی۔ وقت کے آنگن میں سرد گرم کی دھوپ سے اس کے پنے سنہری ہو چکے تھے اور اس کے صفحوں سے کنوار پن کی مہک پتا نہیں کب کی جا چکی تھی۔ آخری صفحے پہ مہر سے پتا چلتا ہے کہ یہ کتاب کبھی Beacon School system Library - Liberty Campus کی ملکیت رہی ہو گی۔
2 فروری، 1993 کو کسی عمارہ افتحار نام کی بچی جو کہ نویں کلاس کی طالبہ تھی، لائبریری سے اس کتاب کو ایشو کروایا۔ اس کے بعد ماہم مصطفی اور آمنہ اعجاز بھی مستفید ہوئیں۔ اور آخری بار 2010 میں یہ سارہ آصف کو ایشو کی گئی۔ یوں شاید لائبریری کے سترہ سالوں میں صرف پانچ بچیاں جو اب خواتیں یا آنٹیاں ہوں گی اس کتاب سے لطف اندوز ہوئیں۔ خیر افسوسناک بات ہے۔
۔
بڑی دلچسپ کتاب ہے۔ قصہ زندگی کا ہے اور قصہ انقلاب سے پہلے کے چین کا بھی ہے۔ کردار ایک چینی کسان اور اس کی بیوی ہیں جو ککھ سے سوا لکھ بن جاتے ہیں لیکن سُکھ کا ایک دن بھی نصیب نہیں ہوتا۔ کہانی چینی کلچر کی جزئیات لئے ہوئے ہے اور ناول کی زبان کسی حد تک کلاسیک ہے۔ باوجود اس کے کہ ناول چینی کلچر کا عکس ہے، یہ ایک لافانی اور تمام دنیا کی کہانی ہے۔ آپ پڑھتے ہوئے یہی محسوس کریں گے کے یہ ناول آپ کے گاؤں کے کرداروں پہ ہی مشتمل ہے۔

31/01/2021

ھم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ھیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ھیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ھمیں افسوس ھوتا ہے؟ کیا ھم پریشان ھوتے ھیں؟ کیا ھم سوچتے ھیں کہ ھم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں.. یہی حال کیلے، مالٹے کا ہے..
ھم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ھیں.. حالانکہ ھم نے چھلکے سمیت خریدا ھوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ھوتی..
ھم مرغی خریدتے ھیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ھیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ھیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟.. نہیں..
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکے یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکوۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک.. اتنی معمولی رقم یعنی چالیس روپے میں سے صرف ایک روپیہ.. اور فائدے کتنے زیادہ.. اجر کتنا زیادہ.. برکت کتنی زیادہ

ایک فقیر نے مالدار آدمی سے کہا:اگر مجهے تمہارے گهر میں موت آجائے، تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟مالدار آدمی: تمہیں کفن...
05/04/2020

ایک فقیر نے مالدار آدمی سے کہا:
اگر مجهے تمہارے گهر میں موت آجائے، تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟
مالدار آدمی: تمہیں کفن دیکر دفنا دوں گا-
فقیر بولا: ابهی میں زندہ ہوں' مجهے پہننے کے لیے کپڑے دے دو اور جب مرجاوں تو بغیر کفن کے مجهے دفنا دینا.

یہ ہم لوگوں میں سے بہت سے افراد کی داستان ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں ایک دوسرے کی قدر نہیں کرتے لیکن مرنے کے بعد ایک دوسرے کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر نیکیاں کرنے لگتے ہیں-
اگر قدر کرنا ہے تو زندگی میں کرو.۔۔۔۔❤

اپنے اردگرد نظر رکھیں کوئ بھوکا تو نہیں سو رہا🙂

جب حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے دعا کی کہ اے خدا شمس تبریز کا وقت آخر معلوم ہوتا ہے۔ میرے سینے میں آپ کی محبت ...
04/04/2020

جب حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے دعا کی کہ اے خدا شمس تبریز کا وقت آخر معلوم ہوتا ہے۔ میرے سینے میں آپ کی محبت کی آگ کی جو امانت ہے کوئی بندہ ایسا عطا فرما کہ اس کے سینے میں امانت کو منتقل کردوں، کوئی ایسا سینہ عطا کر دے جو اس قیمتی امانت کا اہل ہو، الہام ہوا کہ "اے شمس الدین ! قونیہ جاؤ، میرا ایک بندہ جلال الدین رومی ہے میری محبت کی آگ کی اس امانت کو جو زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہے اس کے سینے میں منتقل کردو، اس کا سینہ اس کے قابل ہے۔ اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ امانت زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان نے انکار کر دیا تھا۔ زمین و آسمان جیسی عظیم القامت مخلوق نے جن امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا، ﷲ کے عاشقوں کے دل نے اسے قبول کرلیا جو ڈیڑھ چھٹانک کا ہے مگر اس کو ڈیڑھ چھٹانک کا نہ سمجھو۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں ؎

در فراخ عرصۂ آں پاک جاں
تنگ آید عرصۂ ہفت آسماں

ﷲ والوں کی جانوں میں، ان کے قلوب میں اتنا پھیلاؤ اتنی وسعت ہے کہ ساتوں آسمان کی وسعت اس کے سامنے تنگ ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ اﷲ کے خاص بندے ہیں۔ ﷲ ان کے قلب میں ایسی وسعت پیدا کردیتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے قیدی معلوم ہوتے ہیں۔

طلاق کا سبب ۔۔۔۔ ؟؟؟کہتے ہیں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سبب معلوم کرنے آئے کہ اُ...
04/04/2020

طلاق کا سبب ۔۔۔۔ ؟؟؟

کہتے ہیں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سبب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کر دوں تو رجوع کیسے کروں گا ..؟؟

لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو ،،،
اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہوگا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!

لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے اس اعرابی نے کہا : اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں ۔۔ !!

یہ تحریر اُن لوگوں کے لیۓ ہے جو اپنی بیوی کی غلطیاں اپنے دوست و احباب کو بتاتے پھرتے ہیں۔

دوسروں کے عیب چھوڑو ؛؛
کبھی اپنے سامنے بھی آئینہ رکھو ۔۔

بادشاہ نے کانچ کے ھیرے اور اصلی ھیرے ایک تھیلی میں ڈال کر اعلان کیا "ھے کوئی جوھری جو کانچ اور اصلی ھیرے الگ کر سکے "شرط...
03/04/2020

بادشاہ نے کانچ کے ھیرے اور اصلی ھیرے ایک تھیلی میں ڈال کر اعلان کیا "ھے کوئی جوھری جو کانچ اور اصلی ھیرے الگ کر سکے "
شرط یہ تھی کہ کامیاب جوھری کو منہ مانگا انعام اور ناکام کا سر قلم کردیا جائے گا ۔ درجن بھر جوھری سر قلم کروا بیٹھے ۔ کیوں کہ کانچ کے نقلی ھیروں کو اس مہارت سے تراشا گیا تھا کہ اصلی کا گمان ھوتا تھا ۔ ڈھنڈھورا سن کر ایک اندھا شاھی محل میں حاضر ھوا۔ فرشی سلام کے بعد بولا کہ میں وہ ھیرے اور کانچ الگ الگ کر سکتا ہوں ۔ بادشاہ نے تمسخر اڑایا اور ناکامی کی صورت میں سر قلم کرنےکی شرط بتائی۔ اندھا ھر شرط ماننے کو تیار ھوا ۔ ھیروں کی تھیلی اٹھائی اور محل سے نکل گیا ۔ ایک گھنٹے بعد حاضر ھوا اس کے ایک ھاتھ میں اصلی اور دوسرے ھاتھ میں کانچ کے نقلی ھیرے تھے ۔ شاھی جوھریوں نے تصدیق کی کہ اندھا جیت گیا ھے ۔ بادشاہ بہت حیران ھوا اس کی حیرت کی انتہا نہ رھی کہ ایک جو کام آنکھوں والے نہ کر سکے وہ کام ایک نابینا کیسے کر گیا ۔ بادشاہ نے اندھے سے دریافت کیا کہ اس نے اصلی اور نقلی کی پہچان کیسے کی؟
اندھا بولا یہ تو بہت آسان ھے "میں نے ھیروں کی تھیلی کڑی دھوپ میں رکھ دی پھر جو تپش سے گرم ھو گئے وہ نقلی تھے اور جو گرمی برداشت کر گئے اور ٹھنڈے رھے وہ اصلی تھے "
بادشاہ نے اندھے کے علم کی تعریف کی اور انعام اکرام سے نواز کر رخصت کیا ۔
اندھے کی رخصتی کے ساتھ ھی میرا غصہ، میری انا اور میرے دماغ کی گرمی بھی رخصت ھو گئی۔
مجھے سمجھ آ گئی کہ برداشت، نرم مزاجی، حلیمی، متانت اور محبت ھی انسایت کی معراج ھے۔ جو گرمی حالات کو سہہ گیا وہ ھیرا جو نہ سہہ سکا وہ کانچ ۔
بانو قدسیہ آپا ناول "راجہ گدھ" میں لکھتی ہیں کہ "جو دباو سہہ جائے وہ ھیرا جو نہ سہہ سکے وہ کوئلہ "
مجھے بابا دین محمد نے آج بہت بڑی بات سمجھائی تھی ۔ میں جان گیا تھا کہ اصلی اور نقلی میں صرف برداشت اور سہہ جانے کا فرق ھے ۔ میں نے پوچھا بابا انسان آخر کب تک برداشت کرے؟کب تک لوگوں کے طعنے سہے؟ کب تک اپنے غصے کو پئے؟ آخر برداشت کی کوئی حد ھوتی ھے۔
بابا مسکرایا اور بولا بیٹا اس وقت تک سہنا ھے جب تک ھیرا نہ بن جاؤ۔
میں نے پوچھا پھر اس کے بعد؟
بابا نے کہا ھیرا بننے کے بعد ھیرے پر کوئی دباؤ، کوئی آگ اور کوئی تپش اثر نہیں کرتی ۔
جس طرح چکنے گھڑے پر پانی نہیں ٹکتا اسی طرح "اصلی" پر کوئی تیر کوئی نشتر کام نہیں کرتا... ۔
Live Like Jewel

آج بھابھی جی نے امی جی سے پوچھا یہ میرا ٹوتھ پیسٹ اچانک ختم کیسے ہوگیا۔۔بڑے بھائ نے تائیوان سے منگوایا تھا۔۔ تو ایک مجھے...
03/04/2020

آج بھابھی جی نے امی جی سے پوچھا یہ میرا ٹوتھ پیسٹ اچانک ختم کیسے ہوگیا۔۔

بڑے بھائ نے تائیوان سے منگوایا تھا۔۔ تو ایک مجھے بھی دیا تھا۔۔ مائکے گئ تھی تو پورا فل تھا اب آدھے سے بھی کم ہوگیا ہے۔۔

امی جی نے لا علمی کا اظہار کیا۔۔ بیٹے ہم نے کیا کرنا ہے ان فرنگیوں کی چیزوں کا۔۔

میں چور بنا سنتا رہا کہ اس پر لاطینی اور تائیوانی زبان میں کچھ لکھا تو تھا لیکن پتہ نہیں کیا تھا۔۔

افسوس اس بات کا نہیں کہ میں نے اسے استعمال کیا۔۔ دکھ اس بات کا ہے کہ پچھلے پندرہ دن سے جسے فیش واش سمجھکر چہرے پر گھس گھس کر گلو بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ ٹوتھ پیسٹ نکلا۔۔

مار اوۓ ڈپٹی مار۔۔

03/04/2020
جھلم  کے مشہور شا ندارچوک کے پاس ایک آٹھ دس سال کا بچہ گھر میں سلے ہوئے کپڑے کے ماسک بیچ رہا تھا۔ میں نے یوں ہی اس سے پو...
03/04/2020

جھلم کے مشہور شا ندارچوک کے پاس ایک آٹھ دس سال کا بچہ گھر میں سلے ہوئے کپڑے کے ماسک بیچ رہا تھا۔ میں نے یوں ہی اس سے پوچھا۔۔۔
"کتنے کا دو گے بھئی؟"
کہنے لگا۔۔۔ "آپ کے لیے تیس کا"
میں نے پوچھا۔۔۔" میرے لیے کیوں؟ میرے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں"
جواب آیا۔۔۔ "آپ بیس روپے دے دیں۔ اس سے کم نہیں۔"
میں نے نہ جانے کس ترنگ میں آ کر کہا۔۔۔
" بھئی میرے پاس تو بیس روپے بھی نہیں ہیں۔ تو کیا کروں؟"

اس نے کہا کہ آپ مفت لے جائیں۔ جب کبھی پیسے ہوں تو دے دینا۔
میں اس جواب سے بہت حیران ہوا۔ اور استفسار کیا کہ ماں تمہیں لڑے گی نہیں کہ مفت کیوں دے آئے؟
بچے کے جواب نے مجھے سر تا پاء لرزا دیا۔ کہنے لگا۔۔۔

"نہیں۔۔۔ امی نے کہا تھا کہ اگر کسی کے پاس پیسے نہ ہوں تو اسے ویسے ہی دے دینا۔ اتنی وبا پھیلی ہوئی ہے۔"
اللہ اکبر۔۔۔

قوم کی بات کرتے ہو۔۔۔
ایک ماں جس نے فاقوں سے مجبور ہو کر کپڑوں کے ماسک سی سی کر اپنے معصوم سے بچے کو چوراہے پر مزدوری کے لیے بھیجا۔ اس نے یہ سوچ کر کہ وبا کے دنوں میں کوئی ضرورت مند ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کے پاس ماسک خریدنے کے پیسے نہ ہوں۔ تو اسے بغیر قیمت دینے کا سبق سکھا کر بھیجا۔

قوم کی بات کرتے ہو۔۔۔
اس قوم کی مائیں ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئیں کہ عبد القادر جیلانی رحہ جیسے نہ سہی ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے بچے پیدا نہ کر سکیں۔ جنہیں بس ایک ہی سبق آتا ہے اور وہ سچ کا ہے۔

قوم کی بات کرتے ہو۔۔۔
یہ قوم غربت اور بھوک سے لڑتے ہوئے بھی دوسروں کا احساس کرنا نہیں بھولتی۔

آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف قوم، قوم ہو رہی ہے۔ ہماری قوم یہ، ہماری قوم وہ۔۔۔ہر بات میں ہر وقت قوم کو لتاڑنے والے یاد رکھیں۔ ابھی اس میں وہ دم خم ہے کہ کرونا جیسی وبا کا سامنا ایک درد دل رکھنے والے انسان کے طور پر کر سکے۔

میں اس تذکرے کو چھوڑ دیتا ہوں کہ بچے کی مدد کی یا نہیں۔ صرف اتنا کہوں گا اس پر آشوب دور میں چند بے حس لوگوں کا راگ الاپنے کی بجائے ایسی ماؤں اور ایسے بیٹوں کے کردار کو سلام پیش کرو جو ہماری قوم کا فخر ہیں کیونکہ یہ وقت منفی نہیں مثبت سوچ کو فروغ دینے کا ہے۔

گر تو سمجھ پائے میری بات۔۔۔

ایک صاحب تھے جو شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی۔ آخر ایک لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ بھیج دیا۔ لڑ...
03/04/2020

ایک صاحب تھے جو شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی۔ آخر ایک لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ بھیج دیا۔ لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ھو گئی۔ پہلی یہ کہ ھمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے۔ دوسرے یہ کہ ھمیشہ دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے۔
شادی ھو گئی۔ بابا جی جوانوں میں ھی بیٹھتے اور گپیں لگاتے۔ جوان ظاہر ھے صرف لڑکیوں کی اور پیار محبت کی ھی باتیں کرتے ھیں۔ منڈیوں کے بھاؤ سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ھوتی اور نہ ھی ایسے موضوعات سے انہیں کچھ لینا دینا۔ باباجی کا موڈ ھر وقت رومینٹک رھتا۔ گھر جاتے تو ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر گھر میں دھم سے کود جاتے۔
آخر ایک دن بابا جی کے پرانے جاننے والے مل گئے۔ وہ انھیں گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گئے۔ اب وھاں کیا باتیں ھونا تھیں۔ یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ھوں۔ بیٹھ کر نماز پڑھتا ھوں۔ یار میرا تو وضو ھی نہیں رھتا۔
۔ میری تو بھائی جان ریڑھ کی ھڈی کا مہرہ کھل گیا ھے ، ڈاکٹر کہتا ھے کہ جھٹکا نہ لگے۔ یار مجھے تو نظر ھی کچھ نہیں آتا ، کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا۔ ڈرپ لگی ھے تو جان بچی ھے۔ بابا جی جوں جوں ان کی باتیں سنتے گئے توں توں ان کا مورال زمین پر لگتا گیا۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخاست ھو گئی اور بابا جی گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ھوگئے۔
گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی دیوار کے بجائے وہ دیوارِ چین لگی۔ ھمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے۔ آخر ماڈل تو دونوں کا ایک ھی تھا۔ بابا جی نے کنڈی کھٹکھٹائی۔ کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ۔ اندر سے بیوی بولی:
"اسی لیے بولا تھا کہ جوانوں میں بیٹھا کر۔ لگتا ھے آج بڈھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ھے اسی لئے ھمت جواب دے گئی ھے"۔

:
انسان کبھی بھی بوڑھا نہیں ھوتا اس کی مجلس اسے بوڑھا کر دیتی ھے۔ ماھرین نفسیات لکھتے ھیں کہ معلم اسی لئے جلد بوڑھے نہیں ھوتے کہ وہ بچوں کی مجلس میں رھتے ھیں۔ یوں وہ ماحول ان پر ٹائم اینڈ سپیس کے اثرات کو نیوٹرل کر دیتا ھے۔

Address

Peshawar

Telephone

+923045733158

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ikram Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ikram Khan:

Share

Category