03/02/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں تمہیں ایک ایسے مرغ کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین میں ہیں اور گردن عرشِ الٰہی کے نیچے جھکی ہوئی ہے، اور وہ مسلسل یہ کہہ رہا ہے:
“اے میرے رب! تو کتنا عظیم ہے۔”
تو اسے جواب دیا جاتا ہے:
“یہ بات وہ شخص نہیں جانتا جو میری جھوٹی قسم کھاتا ہے۔”
حوالہ: السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث نمبر: 3101
یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی بے مثال عظمت اور اس کی کبریائی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ایک ایسی مخلوق کا ذکر فرما رہے ہیں جو جسامت میں انتہائی عظیم ہے، مگر اس کے باوجود اللہ کے سامنے سراپا عاجزی ہے اور مسلسل اس کی بڑائی بیان کر رہی ہے۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی ہر بڑی سے بڑی مخلوق بھی اللہ کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔
حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ اللہ کی عظمت کو حقیقت میں وہ لوگ نہیں پہچانتے جو اس کے نام کی بے حرمتی کرتے ہیں، خاص طور پر وہ جو اللہ کی جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔ اللہ کا نام اتنا عظیم ہے کہ اس کے سامنے آسمانوں جیسی مخلوق بھی عاجز ہے، پھر انسان کا اس نام کو جھوٹ کے ساتھ جوڑ دینا انتہائی خطرناک غفلت ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی بات منوانے، کسی نقصان سے بچنے یا کسی دنیاوی فائدے کے لیے یہ کہہ دے: “اللہ کی قسم” حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا ہو، تو وہ شاید اسے معمولی بات سمجھے۔ مگر حقیقت میں وہ اللہ کے عظیم نام کو اپنے حقیر فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ اگر اس کے دل میں واقعی اللہ کی عظمت ہوتی تو وہ کبھی جھوٹی قسم کھانے کی جرأت نہ کرتا۔
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے نام کا ادب اور احترام ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ جو بندہ اللہ کی عظمت کو پہچان لیتا ہے، وہ نہ صرف جھوٹی قسم سے بچتا ہے بلکہ بلا ضرورت قسم کھانے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ اللہ کی بڑائی دل میں ہو تو زبان خود بخود سنبھل جاتی ہے۔