15/05/2026
میری زندگی، میری زبانی — آخری حصہ ❤️
2023 کی بات ہے، اُس وقت میری عمر 23 سال تھی اور میں قطر میں تھا۔ بہت کوشش کرنے کے باوجود 4،5 مہینے تک مزدوری کا کام بھی نہیں ملا۔ اتنا ڈپریشن میں چلا گیا تھا کہ کیا بتاؤں… کیونکہ اتنی غربت میں اچھی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی میں کچھ نہیں بن سکا تھا۔ آرمی آفیسر بننا میری آخری امید تھی، میرے ماں باپ کا خواب تھا… لیکن وہ بھی پورا نہ ہو سکا اور اوپر سے سرکاری نوکری بھی چھوڑی تھی، 10 لاکھ سے زیادہ پیسے لگا کر قطر آیا تھا، لیکن کئی مہینے گزرنے کے باوجود ایک روپیہ بھی گھر نہیں بھیج سکا تھا۔ ویزا کا قرض الگ تھا… لوگ میرے ماں باپ کو طعنے دیتے تھے: "یہ ہوتا ہے لاڈلے رکھنے کا نتیجہ…یہ لڑکا کسی کام کا نہیں ہے…" تقریباً 6،7 مہینے بعد مجھے ایک ہوٹل میں صفائی کا کام ملا۔ روم، واش روم اور ہوٹل کی صفائی… اور سچ بتاؤں تو میں وہ job بھی خوشی خوشی کرتا تھا، کیونکہ مجھے رزق چاہیے تھا، کام چھوٹا یا بڑا نہیں دیکھتا تھا۔ 3,4 مہینے وہ کام کیا، پھر وہ بھی ختم ہو گیا۔ تقریباً 15 مہینے قطر میں گزارنے کے بعد میرا اقامہ expire ہونے کی وجہ سے پولیس نے پکڑ لیا اور مجھے قطر سے deport کر دیا۔ اُن 15 مہینوں میں میں صرف 50 ہزار روپے گھر بھیج سکا تھا۔
جب پاکستان واپس آیا تو شرمندگی کی وجہ سے گھر بھی نہیں جا سکتا تھا۔ دو دن پشاور کے ہاسٹل میں رہا۔پھر ایک دوست نے سعودی ویزے کا بتایا، ویزہ تو قسطو پر تھا لیکن ٹکٹ اور میڈیکل کے لیے تقریباً 2 لاکھ روپے چاہیے تھے۔ گھر والوں سے مانگنے کی ہمت نہیں تھی… اور نہ ہی اُنہیں بتایا تھا کہ میں سعودی جا رہا ہوں۔ پھر میں نے ہر دوست، ہر جاننے والے سے پیسے مانگے۔ کسی نے دیے، کسی نے نہیں دیے…
لیکن جیسے تیسے کر کے سعودی کا ویزہ لے لیا۔ 15 جون 2024، بڑی عید کی رات تھی جب میں گھر سے سعودی کے لیے نکلا… صرف اس لیے کیونکہ اُس دن ٹکٹ سستا تھا۔ جب سعودی آیا تو جیب میں ایک ریال بھی نہیں تھا۔ ایک دوست ائیرپورٹ لینے آیا، room میں لے گیا۔ اللہ اُس کا بھلا کرے۔ ❤️ پہلے دن سے ہی apply کرنا شروع کر دیا۔
15 دن بعد اقامہ ملا، اور پھر صرف 5 دن بعد پہلی job ملی… سیفٹی آفیسر کی لیکن تنخواہ بہت کم تھی 3000۔ جیسے پہلی salary ملی، کچھ پیسے agent کو دیے اور کچھ اُن دوستوں کو واپس کیے جن سے ادھار لیا تھا۔ 6,7 مہینوں میں تقریباً سارے قرض ختم کر دیے۔ 6,7 مہینے بعد الحمدللہ ایک بہت اچھی کمپنی میں جاب لگی 7000 salary پر۔ میں حیران تھا۔ اور پھر گھر پیسے بھیجنے شروع کیے۔ سب سے پہلے قرض ختم کیے… پھر گھر کے حالات بہتر کیے۔
آج سعودی میں میرے تقریباً 2 سال مکمل ہونے والے ہیں، صرف 8،9 دن باقی ہیں۔ اِن 2 سالوں میں نہ اپنی نیند دیکھی، نہ آرام… نہ کہیں گھومنے گیا، نہ فضول خرچی کی، نہ چھٹی کی۔ بس کام… صرف کام۔ کیوں کہ اللہ نے مجھے اپنی قسمت بدلنے کا ایک موقع دیا ہے اور میں اس کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور الحمدللہ، الحمدللہ… ❤️آج گھر والے بھی سکون میں ہیں، ماں باپ، بہن بھائی سب خوش ہیں۔ میرے لیے یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
میں نے ابھی اپنے ماں باپ کے لیے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا… لیکن اِن شاء اللہ ابھی بہت بڑے plans ہیں۔
اور اِن شاء اللہ اسی طرح محنت کرتا رہوں گا۔
ایک دن ضرور ایسا آئے گا…
جب میرے ماں باپ مجھ پر فخر کریں گے۔ ❤️✨