Noori Media

Noori Media Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noori Media, Digital creator, Deh Bahadar Mohalla Acher, Peshawar.

13/09/2026

ترکی کے صدر رجب طيب اردوگان نے چند ماہ قبل ايک بہت بڑے مجمع ميں تقرير کرتے ہوئے ايک واقعہ سنايا، مجمع نے بہت غور سے اسے سنا۔
ميں آپ لوگوں کو تاريخ کا ايک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ منگول سلطنت کے بانی چنگيز خان کے پوتے کا نام ہلاکو تھا، اس نے بغداد پر قبضہ کيا اور اسے پوری طرح لوٹ ليا۔ بعض حوالوں کے مطابق اس نے دو لاکھ اور بعض کے مطابق چار لاکھ انسانوں کو قتل کيا۔ اس نے بغداد کی ساری قديم مسجديں، مکاتب اور محل ڈھا ديئے۔
يہ ساری قيامتيں ہلاکو نے برپا کيں۔ اسی ظالم حکمراں نے جو بہت دور سے آيا تھا ايک حکم جاری کيا کہ وہ بغداد کے سب سے بڑے عالم سے ملنا چاہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی عالم ہلاکو سے ملنے کے ليے تيار نہيں ہوا، آخر کار کادہان نام کا ايک کم عمر نوجوان جس کی ابھی داڑھی بھی نہيں نکلی تھی اور ايک مدرسے ميں معلم تھا ہلاکو کا سامنا کرنے کے ليے راضی ہو گيا۔
(ميں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس واقعے کو بہت غور سے سيريس ہو کر سنيں۔

ہلاکو سے ملنے کے ليے جاتے ہوئے کادہان نے اپنے ساتھ ايک اونٹ، ايک بکرا اور ايک مرغا بھی لے ليا۔ نوجوان عالم کادہان، ہلاکو کے خيمے کے پاس پہنچا، اور ہلاکو سے ملنے اندر چلا گيا۔
ہلاکو نے نوجوان عالم سے پوچھا: مجھ سے ملنے اور ميرا سامنا کرنے کے ليے بغداد والوں کے پاس تمہارے سوا کوئی اور نہيں تھا؟؟ کادہان نے جواب ديا کہ اگر آپ مجھ سے بڑے سے ملنا چاہتے ہيں تو باہر ايک اونٹ موجود ہے، اگر داڑھی والا چاہتے ہيں تو باہر ايک بکرا موجود ہے، اور اگر بلند آواز والا چاہتے ہيں تو باہر ايک مرغا بھی موجود ہے، آپ جسے چاہيں بلا ليں۔ ہلاکو بھانپ گيا کہ اس کے سامنے کھڑا ہوا شخص کوئی عام آدمی نہيں ہے۔
تب ہلاکو نے اس سے پوچھا، يہ بتاؤ کہ ميرے يہاں آنے کی وجہ کيا ہے؟ نوجوان نے اسے بہت گہرا جواب ديا، اس نے کہا: ہمارے اعمال اور ہمارے گناہ تمہيں يہاں لائے ہيں، ہم نے اللّٰہ کی نعمتوں کی قدر نہيں کی، اس کی نا فرمانيوں ميں آگے بڑھتے گئے۔
دنيا، مال و دولت اور زمين جائيداد ہمارے دلوں ميں رچ بس گئے، اس ليے اللہ نے آپ کو ہمارے پاس اپنا عذاب بنا کر بھيجا ہے تاکہ اس نے ہميں جو نعمتيں دی تھيں وہ ہم سے واپس لے لے۔ يہ جواب سن کر ہلاکو نے دوسرا بڑا عجيب سوال کر ديا، مجھے کون يہاں سے نکال سکتا ہے؟ نوجوان نے جواب ديا: جب ہم نعمتوں کی قدر جان ليں گے، ان کا شکر ادا کرنے لگيں گے، اور آپس کے اختلافات ختم کر ليں گے، تو اس وقت پھر آپ يہاں ہرگز نہيں رہ سکيں گے۔

تبصرہ:
اس وقت مسلمانوں ميں ايک بڑی بيماری يہ پھيلی ہوئی ہے کہ دوسری اقوام پر آنے والی قدرتی آفتوں کو تو وہ پورے يقين کے ساتھ اللہ کا عذاب قرار ديتے ہيں ليکن اپنی حالت کی بے انتہا خرابی کو بھی احتساب کی نگاہ سے نہيں ديکھتے ہيں۔
حالانکہ ہماری تاريخ ميں ايسی بہت سی حکايتيں ہيں جو خود احتسابی کا احساس ابھارتی ہيں۔ رجب طيب اردگان ترک قوم کو ايک نئی اٹھان کے ليے تيار کر رہے ہيں، وہ اس طرح کی حکايتوں کی اہميت کو بخوبی سمجھتے ہيں۔
مسلمانوں کے ليے اس واقعہ ميں بڑا سبق ہے۔ اللہ کے تنبيہی عذابوں کو دوسروں کے يہاں نہيں بلکہ خود اپنے يہاں ديکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ غفلت اور بے عملی کے پردے اور زيادہ دبيز ہو جائيں گے، اور صبحِ اميد اور دور ہوجائے گی۔
لیکن اس ملک کا عام شہری کر کیا سکتا ہے۔ جہاں اکثریت کرپٹ۔ راشی۔ منافع خور۔ بے ایمان ہوں ۔ بس نماز اور تبلیغ کو سارا اسلام سمجھتے ہوں۔ لوٹ مار عام ہو۔ رکھوالے رہزن بن جائیں۔ مسیحا قصائی ہوں۔ قانون نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ اس ملک کو اور اس قوم کو ہلاکو خان سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ بس انتظار کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔

13/09/2026

‏کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ابو طالب بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر تقریباً چودہ برس تھی۔

‏عرب کے داناؤں اور حکیموں میں شمار ہونے والے اکثم بن صیفی کی نظر آپ ﷺ پر پڑی۔ انہوں نے ابو طالب سے کہا:

‏’’اے ابو طالب! تمہارا بھائی تو بہت جلد جوان ہوگیا ہے!‘‘

‏ابو طالب نے فرمایا:

‏’’یہ میرا بھائی نہیں، بلکہ میرے بھائی عبداللہ کے بیٹے ہیں۔‘‘

‏اکثم نے فوراً کہا:

‏’’ابنُ الذَّبیح!‘‘
‏’’ذبیح کے بیٹے!‘‘

‏ابو طالب نے کہا: ’’ہاں۔‘‘

‏اکثم کچھ دیر رسول اللہ ﷺ کو غور سے دیکھتے رہے، پھر ابو طالب سے پوچھا:

‏’’اے ابو طالب! تم اپنے اس نوجوان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘

‏ابو طالب نے جواب دیا:

‏’’ہم اس کے بارے میں بہت اچھا گمان رکھتے ہیں۔ وہ زندہ دل، نہایت سخی اور وفادار ہے۔‘‘

‏اکثم نے کہا:

‏’’اے ابن عبدالمطلب! اس کے علاوہ بھی کچھ بتاؤ۔‘‘

‏ابو طالب نے کہا:

‏’’وہ سختی کے مقام پر مضبوط اور نرمی کے مقام پر نرم ہے، اس کی مجلس باوقار ہے اور اس کی فضیلت نمایاں ہے۔‘‘

‏اکثم نے پھر پوچھا:

‏’’اس کے علاوہ؟‘‘

‏ابو طالب نے کہا:

‏’’ہم اسے دیکھ کر نیک فال لیتے ہیں، اور جس چیز کو اس کا ہاتھ چھو لے، اس میں برکت تلاش کرتے ہیں۔‘‘

‏اکثم نے پھر پوچھا:

‏’’اس کے علاوہ؟‘‘

‏ابو طالب نے کہا:

‏’’ایسا نوجوان اس بات کا مستحق ہے کہ ایک دن لوگوں کی قیادت کرے اور سخاوت و جود میں ممتاز ہو۔‘‘

‏تب اکثم بن صیفی نے کہا:

‏’’لیکن میں اس کے بارے میں کچھ اور کہتا ہوں۔‘‘

‏ابو طالب نے کہا:

‏’’کہیے، اے عرب کے حکیم! بے شک آپ پوشیدہ حقیقتوں کو ظاہر کرنے والے اور شکوک و شبہات کو دور کرنے والے ہیں۔‘‘

‏اکثم نے کہا:

‏’’تمہارے اس بھتیجے کو اللہ نے کسی معمولی کام کے لیے پیدا نہیں کیا۔ یہ عرب کو چاروں طرف سے ہلا کر رکھ دے گا؛ اپنے ہاتھ سے ان کی باطل قوتوں کو توڑے گا اور اپنے قدموں سے ان کے راستوں کو روندے گا۔ پھر انہیں ایک ایسی چراگاہ کی طرف بلائے گا جہاں خیر کی فراوانی ہوگی، اور ایسے چشمے کی طرف لے جائے گا جہاں ہدایت کا صاف پانی ہوگا۔ جو شخص اس کی دعوت کی طرف لپکے گا، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جو اس سے منہ موڑے گا، وہ ہلاکت سے دوچار ہوگا۔‘‘

‏اکثم بن صیفی جب مکہ سے واپس اپنے بیٹوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے انہیں وہ سب کچھ بتایا جو انہوں نے مکہ میں دیکھا تھا، اور رسول اللہ ﷺ سے اپنی ملاقات کا واقعہ بھی سنایا۔

‏پھر انہوں نے قسم کھا کر کہا:

‏’’اللہ کی قسم! یہ نوجوان نبی ہے۔ اگر یہ اس وقت ظاہر ہوا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا تو میں ضرور اس کی مدد کروں گا، اور اگر یہ میری وفات کے بعد مبعوث ہوا تو تم پر لازم ہے کہ اس کی پیروی کرنا اور اس کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا۔‘‘

‏پھر جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو اکثم بن صیفی اپنے بیٹوں کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوگئے۔ اس وقت وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔

‏لیکن راستے ہی میں ان کی موت کا وقت آ پہنچا۔

‏انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا:

‏’’مجھے یہیں چھوڑ دو اور تم آگے بڑھو، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچو۔‘‘

‏ان کے ایک بیٹے نے کہا:

‏’’ہم آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے؛ پہلے آپ کو دفن کریں گے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔‘‘

‏اکثم نے فرمایا:

‏’’نہیں! تم رسول اللہ ﷺ تک پہنچو۔ میری طرف سے انہیں سلام کہنا، اور میرے جسم کو پرندوں یا کیڑوں کے لیے چھوڑ دینا؛ آخر دونوں کے لیے یہ جسم یکساں ہے۔‘‘

‏چنانچہ ان کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔

‏کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا:

‏’’ابھی تمہارے والد کو دفن کیا جا رہا ہے۔‘‘

‏اور پھر ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

‏﴿وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾

‏’’اور جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور کشادگی پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے راستے ہی میں موت آ جائے، تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

‏— سورۃ النساء، آیت 100

Hadees Mubarak of the day
13/09/2026

Hadees Mubarak of the day

11/09/2026

🚨 **یمن میں بڑی پیش رفت! حوثیوں کا موخا بندرگاہ پر قبضہ، سعودی فضائی حملوں کے بعد جنگ پھر بھڑک اٹھی**

🇾🇪 **صنعاء — یمن میں کئی برس بعد لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔** حوثی فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع اہم **موخا بندرگاہ** پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

⚔️ **موخا کیوں اہم ہے؟**
موخا یمن کے مغربی ساحل پر **باب المندب** کے قریب واقع ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی انتہائی اہم عالمی تجارتی گزرگاہ کے قریب ہے۔ تاہم موخا پر قبضے کا مطلب یہ نہیں کہ حوثیوں نے **باب المندب پر مکمل کنٹرول** حاصل کر لیا ہے۔

🔥 **پانچ روزہ شدید لڑائی**
رپورٹس کے مطابق حالیہ پانچ روز کی لڑائی میں **کم از کم 276 افراد ہلاک** ہوئے ہیں۔ تاہم جنگی حالات کے باعث ہلاکتوں کے اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے۔

✈️ **سعودی فضائی حملوں میں تیزی**
حوثی حکام کے مطابق **الجوف، مأرب، حدیدہ، تعز، البیضاء اور صعدہ** سمیت مختلف علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

⚠️ **جیل پر حملے کا دعویٰ**
شمالی صوبہ الجوف کے دارالحکومت **الحزم** میں حوثیوں کے زیرِ انتظام ایک جیل پر حملے کے بعد کم از کم **23 افراد کی ہلاکت** کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا ہے، تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس مخصوص حملے کی ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

🚀 **سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے بھی جاری**
حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق **ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران** میں ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر **73 افراد زخمی** ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

🇸🇦 سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ اسے اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی تنصیبات کے دفاع کا حق حاصل ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

🌍 **عالمی تجارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی؟**
موخا اور باب المندب کا علاقہ عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر لڑائی مزید پھیلتی ہے تو **بحیرۂ احمر، عالمی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت** پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

📌 **پسِ منظر:**
یمن کی جنگ 2014 میں حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں جنگ میں شامل ہوا۔ 2022 کی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی میں کمی آئی تھی، لیکن حالیہ واقعات نے دوبارہ وسیع جنگ کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

🔴 **Noori Media | یمن کی جنگ پر تازہ ترین صورتحال کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔**

پیارے نبی ﷺ کے روضۂ مبارک کے پاس سے چار پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان کو پکڑ لیا۔  انہوں نے بنا کوئی بات کیے فوراً اس نو...
11/09/2026

پیارے نبی ﷺ کے روضۂ مبارک کے پاس سے چار پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان کو پکڑ لیا۔ انہوں نے بنا کوئی بات کیے فوراً اس نوجوان کے پیچھے سے رسی ڈال کر اس کے دونوں ہاتھ باندھ دیے۔ نوجوان پولیس والوں سے پوچھنے لگا، ”تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ میں نہ تو چور ہوں اور نہ ڈاکو، پھر میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو؟!“
دور سے ایک بزرگ شخص یہ پورا واقعہ دیکھ رہے تھے۔ تب وہ قریب آ کر پولیس والوں سے بولے، ”میں اس نوجوان کو جانتا ہوں۔“
پولیس والوں نے ان سے پوچھا، ”آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟“
بزرگ نے کہا، ”میں اسے دیکھتا ہوں کہ یہ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے روضے کے سامنے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر درود پڑھتا ہے، سلام عرض کرتا ہے اور روتا بھی ہے۔ تم لوگوں نے اسے گرفتار کیوں کیا ہے؟ کیا یہ چور ہے؟“
نوجوان البانیہ کا شہری تھا اور اس کی عمر تقریباً 35 یا 36 سال ہوگی۔ اس کے سر پر گھنے اور گھنگھریالے بال تھے اور چہرے پر ہلکی داڑھی تھی۔
پولیس نے کہا، ”نہیں، یہ چور نہیں ہے۔ یہ نوجوان البانیہ کا رہنے والا ہے۔ وہ پچھلے چھ سال سے مدینہ میں رہ رہا ہے، جبکہ یہاں رہنے کے لیے اس کے پاس کوئی دستاویزات (ویزہ/اقامہ) نہیں ہیں۔ ہم پچھلے چھ سال سے اسے پکڑ کر البانیہ بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن ہر بار پکڑنے کے بعد یہ ہم سے بھاگ جاتا ہے۔ ہم اسے ہر بار مسجدِ نبوی ہی سے پکڑتے ہیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ اس بار اسے دیکھتے ہی فوراً رسی سے باندھنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا!“
بزرگ نے پولیس والوں سے پوچھا، ”اب تم اسے لے کر کیا کرو گے؟“
انہوں نے کہا، ”ریاست کا قانون لاگو کریں گے۔ ہم اسے ابھی پکڑ کر جہاز میں بٹھا دیں گے اور پھر یہ البانیہ چلا جائے گا.....“
نوجوان اس وقت رو رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ شاید اب اسے واقعی رسول اللہ ﷺ کی مسجد چھوڑنی پڑے گی! رسول ﷺ کی یادوں سے جڑے مدینہ شہر کو چھوڑنا پڑے گا!
کچھ دیر سوچنے کے بعد نوجوان پولیس والوں سے کہنے لگا، ”دیکھیے بھائی، میں یہاں چوری، ڈکیتی، لوٹ مار یا کسی کے ساتھ دھوکہ دہی نہیں کرتا۔ میں یہاں اللہ کے رسول ﷺ کی محبت کے کھنچاؤ کی وجہ سے آیا ہوں۔ اس کے علاوہ میرا کوئی دنیاوی مقصد نہیں ہے۔“
پولیس والوں نے کہا، ”نہیں، یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے۔ آپ کو لازماً اپنے وطن واپس جانا ہوگا۔ ریاست کے قانون کے مطابق غیر ملکیوں کو بنا اجازت یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔“
پولیس والے نوجوان کو لے کر مسجدِ نبوی سے باہر نکل گئے۔ راستے میں نوجوان نے ان سے کہا، ”کیا آپ میری ایک آخری گزارش پوری کریں گے؟“
پولیس والوں نے اس کی گزارش سنی اور اسے اجازت دے دی۔
تب نوجوان نے سبز گنبد کی طرف دیکھتے ہوئے پُردرد آواز میں کہا:
هل هكذا كان الإتفاق بيننا؟!
”یا رسول اللہ! کیا ہمارے درمیان معاہدہ ایسا ہی ہوا تھا؟!
اے اللہ کے رسول! میں آپ کا پڑوسی بنوں گا، اسی امید میں اپنی دکان، کاروبار اور والدین کو چھوڑ کر یہاں آیا تھا، لیکن اب یہ لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دے رہے۔“
یہ کہتے کہتے وہ نوجوان زمین پر گر پڑا۔
پولیس والوں نے کہا، ”ہم نے سوچا کہ نوجوان جان بوجھ کر زمین پر گر رہا ہے۔ وہ بے ہوش ہونے کا ناٹک کر رہا ہے اور شاید پھر سے بھاگنے کی کوشش میں ہے۔“
کچھ دیر بعد پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو زمین سے اٹھایا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ واقعی بے ہوش تھا۔ اس کے چہرے پر پانی چھڑکنے کے باوجود نوجوان میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔ ان میں سے ایک نے کہا، ”شاید اسے فالج کا دورہ یا دل کا دورہ پڑا ہے۔ فوراً ایمبولینس بلاؤ۔“
ایمبولینس آئی اور نوجوان کو ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد کہا، ”یہ نوجوان تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔ اب اس میں سانس باقی نہیں ہے۔“
پولیس اہلکار تب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کہنے لگے، ”اللہ کی قسم، ہم اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے لیے اس کی سچی اور گہری محبت کے جذبے کو نہ پہچان سکے۔“
اس کے بعد غسل اور نمازِ جنازہ کے بعد نوجوان کو ایمبولینس کے ذریعے جنت البقیع لے جایا گیا اور وہیں اس کی تدفین عمل میں آئی۔
البانیہ روانہ کیا جانے والا وہ نوجوان ہمیشہ کے لیے جنت البقیع کی مٹی میں سما گیا۔ وہ دنیا والوں کے لیے رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کی ایک لازوال مثال چھوڑ گیا۔
~ عربی سے ترجمہ شدہ۔ ~ منقول تحریر/پوسٹ
یہ تحریر رسول اللہ ﷺ کی محبت اور ایک شخص سے وابستہ ایک جذباتی واقعے پر مبنی ہے۔ یہ مواد عربی سے ترجمہ شدہ اور سوشل میڈیا/ذرائع ابلاغ پر دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد صرف ایمانی جذبات اور دلی عقیدت سے جڑی ایک داستان شیئر کرنا ہے۔
پیارے نبی ﷺ کے روضۂ مبارک کے پاس سے چار پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان کو پکڑ لیا۔ انہوں نے بنا کوئی بات کیے فوراً اس نوجوان کے پیچھے سے رسی ڈال کر اس کے دونوں ہاتھ باندھ دیے۔ نوجوان پولیس والوں سے پوچھنے لگا، ”تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ میں نہ تو چور ہوں اور نہ ڈاکو، پھر میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو؟!“

سعودی شاہی محل میں سناٹا چھا گیا... جب کراچی کے ایک غریب کاریگر نے کروڑوں ریال کا چیک ٹھکرا کر ایک ایسی شرط رکھ دی، جس ن...
10/09/2026

سعودی شاہی محل میں سناٹا چھا گیا... جب کراچی کے ایک غریب کاریگر نے کروڑوں ریال کا چیک ٹھکرا کر ایک ایسی شرط رکھ دی، جس نے خود سعودی حکام کی آنکھیں بھی نم کر دیں!
یہ ناقابلِ یقین اور ایمان افروز کہانی 82 سالہ حاجی ایوب کی ہے، جو قیام پاکستان کے وقت ہجرت کر کے کراچی (بنارس ٹاؤن) آئے تھے۔ 1980 میں سعودی حکومت نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کے لیے دنیا بھر سے ماہر ترین کاریگروں کو بلوایا۔ 40 نامور کاریگروں کے درمیان جس شخص کے ہاتھ کے بنے ڈیزائن کو چنا گیا... وہ کراچی کا یہی غریب بنارسی کاریگر تھا!
1982 میں جب غلاف تیار ہو گیا تو سعودی حکام نے حاجی ایوب کو خصوصی شاہی مہمان بنا کر بلایا اور انہیں ان کی محنت کے بدلے منہ مانگے مالی معاوضے کی پیشکش کی۔
لیکن حاجی ایوب نے کہا: "مجھے آپ کے ریال نہیں چاہییں... اگر دینا ہی ہے تو مجھے اپنے گنہگار ہاتھوں سے خانہ کعبہ کے اندر غلاف چڑھانے کی اجازت دے دیں!"
ان کی یہ سچی تڑپ دیکھ کر حکام نے فوراً اجازت دے دی۔ جب حاجی ایوب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو ہیبت اور جلال سے ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ کہتے ہیں کہ جب وہ پرانا غلاف اتار کر نیا نصب کر رہے تھے، تو کعبے کے اندر کی تیز خوشبو اور ان کے آنسوؤں کی جھڑی نے نئے غلاف کے ریشم کو بھگو دیا تھا!
جس کعبے کے اندر جانے کو دنیا کے طاقتور ترین بادشاہ ترستے ہیں، وہاں کراچی کے ایک غریب کاریگر نے سجدہ ریز ہو کر وہ مقام پایا جو صرف نصیب والوں کو ملتا ہے۔
بے شک وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، وہ جسے چاہے اپنے در کا بنا لے. سبحان اللّٰہ See less

10/09/2026

🚨 **مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا بڑا امتحان — کیا پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے میدان میں اترے گا؟**

یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی ایک بڑی لہر کے ذریعے حملہ کیا ہے۔ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت اہم علاقوں میں فوجی اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق **73 افراد زخمی ہوئے۔**

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب **پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ** ابھی بالکل نیا ہے۔

📌 **معاہدے کی سب سے اہم شق کیا ہے؟**

7 اگست 2026 کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے تحت تینوں ممالک نے اصولی طور پر طے کیا کہ **ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔**

اب حوثیوں کے سعودی عرب پر تازہ حملوں نے اس معاہدے کے سامنے پہلا بڑا عملی سوال کھڑا کردیا ہے:

**کیا پاکستان فوجی طور پر سعودی عرب کے دفاع میں جائے گا؟**

🇵🇰 **اسلام آباد کا جواب فی الحال واضح ہے: نہیں۔**

پاکستان نے ابھی یمن میں فوج بھیجنے، حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے یا کسی براہِ راست جنگی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔

لیکن ساتھ ہی پاکستان یہ بھی واضح کرچکا ہے کہ اگر مکہ معاہدے کے تحت کسی مرحلے پر مشترکہ دفاعی ردعمل کی ضرورت پڑی تو پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

یعنی موجودہ پالیسی کو ایک جملے میں یوں سمجھیں:

**"سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کھڑا ہے، لیکن فی الحال یمن کی جنگ میں براہِ راست داخل ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا۔"**

🇹🇷 **ترکی بھی اس معاہدے کا اہم فریق ہے۔**

31 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ فوجی قیادت نے استنبول میں پہلی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس کیا، جس میں مشترکہ دفاعی صلاحیت، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

⚠️ **اصل دلچسپ سوال اب یہ ہے:**

اگر حوثیوں کے حملے سعودی سرزمین پر مزید بڑھتے ہیں، سعودی فوجی یا تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچتا ہے، یا جنگ یمن سے نکل کر سعودی عرب کے اندر ایک بڑے اور مسلسل تنازع کی شکل اختیار کرتی ہے—

تو کیا **"ایک پر حملہ، سب پر حملہ"** والی مکہ معاہدے کی شق عملی طور پر فعال ہوگی؟

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں اس نئے دفاعی اتحاد کی اصل طاقت واضح کرے گا۔

اور ایک اور اہم نکتہ:

پاکستان نے مکہ معاہدے کو سرکاری طور پر **دفاعی نوعیت کا** قرار دیا ہے، کسی ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع اور deterrence کو مضبوط کرنا ہے۔

🔥 **یعنی ابھی جنگ میں پاکستان کی انٹری نہیں ہوئی — لیکن اگر سعودی عرب پر حملے ایک نئی سطح تک پہنچتے ہیں تو مکہ معاہدے کا اصل امتحان شروع ہوسکتا ہے۔**

**Noori Media کا سوال:**
آپ کے خیال میں اگر سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے مزید شدید ہوگئے تو کیا پاکستان کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عملی فوجی مدد دینی چاہیے؟

👇 اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

09/09/2026

مناظره د وهابي سره

Address

Deh Bahadar Mohalla Acher
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noori Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Noori Media:

Shortcuts

Share