Dr Najeeb Ullah khan

Dr Najeeb Ullah khan Doctor|MBBS |JMC|HMC|LRH|Peshawar

28/06/2025
IV fluids and Medications --:The list of medical terms you provided appears to be a combination of various intravenous f...
27/06/2025

IV fluids and Medications --:

The list of medical terms you provided appears to be a combination of various intravenous fluids and medications. Let's break down each term:

1. IV fluids: Intravenous fluids, which are fluids administered directly into a patient's vein.

2. RL: Ringer's Lactate, a type of balanced electrolyte solution used for intravenous hydration.

3. DNS: Dextrose Normal Saline, an intravenous solution containing a combination of dextrose (glucose) and normal saline (0.9% sodium chloride). It is used for various medical conditions requiring both fluid and glucose replacement.

4. D5: Dextrose 5%, an intravenous solution that contains 5% dextrose (glucose). It is often used for fluid and calorie replacement.

5. D10: Dextrose 10%, an intravenous solution containing 10% dextrose (glucose). It provides a higher concentration of glucose for patients who need more significant caloric support.

6. NS: Normal Saline, a sterile solution of 0.9% sodium chloride in water. It is commonly used for intravenous hydration and to maintain electrolyte balance.

7. Metronidazole: An antibiotic medication used to treat various bacterial and parasitic infections.

8. Mannitol: A diuretic medication used to reduce brain swelling and intraocular pressure. It is also used to promote diuresis in certain medical conditions.

It's essential to note that the use of these medications and intravenous fluids depends on the specific medical condition and the patient's individual needs. Only a qualified healthcare professional should prescribe and administer these substances. If you have any medical concerns or questions, please consult a healthcare professional for proper evaluation and guidance. 👇🏻 🖼️ 📖 🧑🏻‍⚕️ 👩🏻‍⚕️ ❤️ 👍🏻

Sharing with caring ❤️

Medical 👍🏻
Manish Kumar Upadhyay

27/06/2025

ہم ڈاکٹرز ہیں… انسان بھی، محبِ وطن بھی

رات کے سوا گیارہ بجے ایک مریض اپنی اہلیہ سمیت ایمرجنسی پہنچتا ہے۔
شکایت: “پٹھوں میں کمزوری ہے، گردن میں کھچاؤ ہے”۔
وائٹلز چیک—فوری خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ میں عارضی دَوا لکھتا ہوں تو وہ بھڑک اٹھتا ہے:
“جب بھی آئیں، آپ سرکاری دوائی نہیں دیتے۔ پھر آپ جیسے ڈاکٹر کا فائدہ؟”
میں سمجھاتا ہوں کہ اس وقت اوپی ڈی اور فارمیسی بند ہے؛ دن میں آکر دستیاب دوا لے لیجیے۔
لیکن موصوف دھمکی دے کر رخصت ہو جاتے ہیں: “تمہارے خلاف درخواست دوں گا!”
میرا جرم؟
میں وہی ڈاکٹر ہوں جو سینکڑوں مریض دیکھ کر اب معدے کی تیزابیت سے بلبلاتا بیٹھا ہوں۔ واپسی پر سوچ رہا ہوں، میڈیکل اسٹور سے اپنے لیے دوائی لیتا جاؤں کیونکہ او پی ڈی بند ہے۔
کیا واقعی یہ میری ذمہ داری ہے کہ اسٹور میں دوائی کا اسٹاک بھی میں ہی چیک کروں اور مطالبے پر شاپر بھر کے بانٹوں؟
اگر دوائی نہ لکھوں تو “ڈاکٹر نے کچھ نہیں کیا!”
اگر باہر کی لکھ دوں تو “کمیشن کھایا!”
گویا مریض خوش نہ ہو تو ڈاکٹر—قصائی، بدنیت، ظالم!
ہر کسی کے پاس ہسپتال جا کر مشکلات اٹھانے کی ایک دکھ بھری داستان ہوتی ہے جو اس کے دل میں ڈاکٹرز کے لیے احترام اور محبت کی بجائے بغض اور نفرت کا بیج بوتی ہیں
طاقت کی ڈرِپ — حقیقت یا فریب؟
ایمرجنسی کا منظر دیکھیے:
ہٹے کٹے، چلتے پھرتے “مریض” آتے ہیں اور کان میں فرماتے ہیں:
“ڈاکٹر صاحب، بہت کمزوری ہے، بس ایک طاقت کی ڈرِپ لگا دیں!”
پوچھیں کون سی “طاقت” چاہیے؟ تو جواب:
“وہی گلوکوز والی، وائٹامن والی… جو فوراً جان میں جان ڈال دیتی ہے!”
سچ یہ ہے کہ “طاقت کی ڈرِپ” کوئی مخصوص میجک سیال نہیں—
▪️ کبھی 5% ڈیکروز سالائن + بی کمپلیکس ڈال لیتے ہیں،
▪️ کبھی نورمل سالائن میں ملٹی وٹامن امپول ملایا جاتا ہے،
▪️ یا Ringer Lactate کو “طاقت” کا نام دے دیا جاتا ہے۔
یہ ڈرِپیں جادو نہیں کرتیں؛بلکہ گاؤں دیہات کے عطائیوں کی خرافات ہیں، ادھر اسٹاف کی پندرہ بیس منٹ لگ جاتے ہیں—وہی وقت جس سے کسی شدید زخمی، کسی اسٹروک یا دل کے دورے کے مریض کی جان بچ سکتی ہے۔
ایمرجنسی کا مطلب زندگی اور موت کے بیچ لڑائی ہونا چاہیے، نہ کہ “توانائی کا انجیکشن”!
ایمرجنسی یا ہر کام کی کھڑکی؟
بی پی چیک، شوگر ٹیسٹ، فالج کا فالو اپ—سب ایمرجنسی پرچی پر۔
لواحقین چاہتے ہیں ڈاکٹر ٹھنڈا پانی بھی لائے، ڈرِپ بھی لگا دے، اور شاپر بھر دوائیں بھی تھما دے۔
ڈاکٹر شدید مریض میں مصروف ہو تو الزام: “بدتمیز ہے، گھور کے دیکھا!”
پھر میڈیا کی بریکنگ، سیاستدان کی ٹویٹ، محکمانہ انکوائری حاضر!
شریف یا بزدل؟
ڈاکٹر شریف النفس ہے—بزدل نہیں۔
عوام اسی شرافت کو کمزوری سمجھ کر بدزبانی پر اتر آتی ہے۔
تھانے میں ایس ایچ او سے زبان درازی کوئی نہیں کرتا—جانتا ہے چھترول طے ہے!
مگر ہسپتال میں ڈاکٹر آسان ہدف نظر آتا ہے۔
حکومت جھوٹے اشتہارات میں شور مچاتی ہے “ہر دوا دستیاب!”، لہٰذا مریض بے قابو توقعات لے کر آتا ہے۔
حقیقت میں بجٹ، پالیسی اور خریداری کرپشن اور نااہلی کی نذر ہو چکے۔
میڈیا ریٹنگ کے لیے سنسنی خیز کونے بیچ دیتا ہے۔
سیاستدان فوٹو سیشن کے لیے ہسپتال پہنچ کر پولیٹیکل سکورنگ کر لیتا ہے، اسمبلی جا کر اپنی تنخواہ چھ گنا بڑھا لیتا ہے۔
نتیجہ؟
ڈاکٹر مریض کو ممکنہ مدّعی سمجھنے لگتا ہے۔
مریض ڈاکٹر کو مسیحا نہیں، کمیشن ایجنٹ۔
بدگمانی کا بیج اگتے اگتے مقدس رشتہ جڑ سے ہل جاتا ہے۔
راستہ کیا ہے؟
1. پالیسی کی سچائی عوام تک پہنچے۔ حکومت صاف بتائے کون سی دوا واقعۃً موجود ہے۔حکومت اپنی ذاتی سیاسی تشہیر کی بجائے صدق دل سے عوام کا سوچے صحت کا بجٹ بڑھایا جائے نئے ڈاکٹرز اور عملہ کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے۔عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق صحت کا بجٹ ملکی جی ڈی پی کا کم ازکم پانچ سے چھ فیصد ہونا چاہیے،بدقسمتی سے پاکستان کبھی تین فیصد سے اگے نہیں بڑھا
2. میڈیا تحقیق کو فریضہ سمجھے۔ سنسنی سے پہلے تصدیق!
3. ہسپتالوں میں تربیت یافتہ سکیورٹی ہو۔ ڈاکٹر خوف سے آزاد ہو کر جان بچا سکے۔
4. ڈاکٹر اپنی آواز بلند کرے۔ شرافت، لیکن عزت پر کوئی سودے بازی نہیں۔
5. مریض شہری بن کر آئے۔ حق مانگے، احسان نہیں؛ ذمہ داری سمجھے، رعایت نہیں۔
6. “طاقت کی ڈرِپ” کی حقیقت عوام کو بتائیں۔ غیرضروری ڈرِپ نے کسی کو طاقت نہیں، صرف خزانہ ضائع کیا ہے۔
کَلَم کا اختتام
ہم ڈاکٹر ہیں، عقل و علم کے سپاہی۔
نرم مزاج ہیں مگر کمزور نہیں۔
اعتماد ٹوٹا تو دوائی سے پہلے رشتہِ انسانیت مرے گا۔
آئیے—ہم سب ہاتھ نہیں، دل جوڑیں۔
ڈاکٹر اور مریض کا مقدس رشتہ پھر سے جِلا بخشیں…
تاکہ ایمرجنسی، واقعی “زندگی بچانے” کی جگہ بنے،
طاقت کی ڈرِپ کا ڈھونگ نہیں! اور شہرت کے بھوکے سیاست دانوں کی عوام سے جھوٹی ہمدردی کا ڈرامہ کرنے کی۔




#خدمت خلق

💧✨ What Happens If You Drink THIS Detox Water for 14 Days?Your belly might just thank you later!🥒 Quick Detox Water Reci...
21/06/2025

💧✨ What Happens If You Drink THIS Detox Water for 14 Days?
Your belly might just thank you later!

🥒 Quick Detox Water Recipe (for Fat Burn & Bloating Relief)

You’ll Need:

2 slices of cucumber

½ lemon, thinly sliced

½ lime, thinly sliced

5–6 fresh mint leaves

1-inch piece ginger, thinly sliced or crushed

1 liter (4 cups) of water

Steps:

Add all ingredients to a glass jar or bottle.

Pour in water, stir, and let it infuse overnight in the fridge.

Sip it throughout the next day — especially on an empty stomach.

⚠️ Disclaimer: Not a substitute for meals. Avoid overuse if you have acidity or citrus sensitivity. Drink max 1–1.5 liters/day.

💡 Bonus Tip: For faster results, combine with a light morning walk or yoga. Repeat fresh every day for 14 days for best detox effect!

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی بانی  لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی بانی وائسرائے ہند  لارڈ ریڈنگ(1921تا 1926) کی بیوی تھیں 1924 می...
01/06/2025

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی بانی

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی بانی وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ(1921تا 1926) کی بیوی تھیں

1924 میں پشاور سیر کرنے آئیں ،شہر کی سیر کرنے کے بعد واپس قلعہ بالا حصار میں اپنی رہائش گاہ کی طرف جارہی تھیں کہ گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئیں۔ ان کو ایجرٹن ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں علاج معالجے کی کم سہولیات کو دیکھا تو بہت افسردہ ھوئیں۔ اس کا علاج بعد میں سی ایم ایچ پشاور کینٹ میں ہوا۔ تاہم اس نے تہیہ کرلیا کہ پشاور میں ہسپتال قائم کرے گی
چنانچہ اس کے شوہر وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ جب 1926 میں ریٹائر ھوا تو یہ خاتون دہلی سے واپس پشاور آئیں اور ہسپتال کے لئے عطیات جمع کرنا شروع کیا۔

کل ایک ملین روپے اکٹھے کیے اس رقم میں سےانہوں نے 52000 ہزار روپے اپنی طرف سے عطیہ کئے اور اہل پشاور کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا تحفہ دے گئیں۔ ہسپتال نے 1927 میں کام شروع کیا۔[حاصل مطالعہ: ڈاکٹر فخرالاسلام]

19/04/2025

ضروری ہدایات :

اہم اطلاع: انجیکشن سیفٹریاکسون (Ceftriaxone) کے استعمال کے بارے میں
براہ کرم نوٹ کریں:

انجیکشن سیفٹریاکسون کو کسی بھی کیلشیم والی ڈرپ (جیسے Ringer’s یا Hartmann’s) کے ساتھ استعمال نہ کریں۔ اگر سیفٹریاکسون کیلشیم والے محلول کے ساتھ مل جائے تو خطرناک قسم کی جھاگ یا سفید مادہ (precipitate) بن سکتا ہے، جو مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

خصوصاً neonates (نوزائیدہ بچوں) میں یہ خطرہ اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔

کیا کریں؟
سیفٹریاکسون کو صرف ان محلولوں میں استعمال کریں:

Dextrose 2.5%

Dextrose 5%

Dextrose 10%

Normal Saline (Sodium Chloride 0.9%)۔

نوٹ :یہ پیغام اپنے پیارو ں کے ساتھ شیر کریں

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Najeeb Ullah khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr Najeeb Ullah khan:

Share