Peshawar Brilliant City

Peshawar Brilliant City اگر آپ کا تعلق پشاور سے ہے تو آپ کو ضرور یہ پیج لائک کرنا

یہ کسی غریب، لاوارث انسان کی قبر نہیں…یہ اس شخص کی آخری آرام گاہ ہے جس کے پاس دنیا کی مہنگی ترین زمینوں پر محلات تھے… مگ...
02/02/2026

یہ کسی غریب، لاوارث انسان کی قبر نہیں…
یہ اس شخص کی آخری آرام گاہ ہے جس کے پاس دنیا کی مہنگی ترین زمینوں پر محلات تھے… مگر اپنی قبر کے لیے ایک گز زمین سے زیادہ نہ لے سکا۔

یہ وہ انسان تھا جو لندن، پیرس اور جنیوا جیسے شہروں میں
20 عالی شان عمارتوں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کا مالک تھا۔
اس کی کمپنی میں 70 ہزار لوگ ملازمت کرتے تھے۔
اس کے گھر میں سینکڑوں ملازمین اور خدام موجود رہتے تھے۔

📊 2008 میں عالمی جریدہ فوربس نے اس کی دولت کا تخمینہ
14 ارب ڈالر لگایا تھا۔

🚢 اس کی ملکیت میں 33 آئل کیریئر جہاز تھے۔
یہ اس کے عروج کا وقت تھا —
دولت… شہرت… اعزازات… اختیار… سب کچھ اس کے قدموں میں تھا۔

عرب ممالک میں رہنے والے خوب جانتے ہیں
الخرافی کمپنی کتنی بڑی سلطنت تھی۔

لیکن پھر…
💔 ایک ہارٹ اٹیک آیا
اور موت نے اسے ایک لمحے کی مہلت بھی نہ دی۔

اس کچی قبر کے مکین کو دنیا
ناصر الخرافی کے نام سے جانتی ہے۔
کویت میں پیدا ہوا… قاہرہ میں وفات پائی…
اور آخرکار مٹی کے ایک سادہ گڑھے میں اتر گیا۔

اے انسان…!
جو اپنی دولت، شہرت اور جوانی پر ناز کرتا ہے
یاد رکھ…

آخرکار
✔️ نہ محل ساتھ جائے گا
✔️ نہ بینک بیلنس
✔️ نہ اختیار

منزل سب کی یہی مٹی ہے۔
بخدا… اس انجام سے کوئی فرار نہیں۔

17/01/2026

پاکستانی کی آرمی عالمی رینکنگ میں 7 سے چوتھے نمبر پر آگئی ہے جبکہ انڈین 9 سے 12 پر چلے گئے پہلے پر امریکہ 2 پر روس 3 پر چائنا ہے

گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق (1982 سے 1998 کے درمیان) پاکستان کے عالم چنا دنیا کے سب سے طویل القامت شخص تھے۔ عالم چن...
16/01/2026

گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق (1982 سے 1998 کے درمیان) پاکستان کے عالم چنا دنیا کے سب سے طویل القامت شخص تھے۔ عالم چنا کا قد 7 فٹ 7 انچ لمبا تھا۔ عالم چنا کا تعلق ایک غریب سندھی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی ان کے گھرانے کے مرد روایتی طور پر سہون شریف کے مشہور صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر معمولی ملازمین تھے۔ 1978 میں سالانہ عرس کے دوران مزار کے بیرونی حصے میں لگائی گئی کسی ایک سرکس کے مالک نے عالم چنا کو سرکس میں ملازمت کی پیش کش کی۔ عالم چنا مزار پر ہفتے میں صرف 15 روپے کما رہے تھے! لہٰذا جب سرکس والوں نے انہیں ماہانہ 160 روپے کی پیش کش کی تو انہوں نے فوراً پیش کش قبول کرلی۔ سرکس نے عالم چنا کو مقامی اسٹار میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے سرکس کے ساتھ سندھ کے ہر کونے کا سفر کیا۔ چھوٹے قد کے دو جوکرز حسب معمول اپنا کرتب دکھاتے، جس دوران انہیں صرف ان کے درمیان اینٹری لینی ہوتی۔ وہ چلتے ہوئے اندر آتے اور ان جوکرز کو اوپر اٹھانا شروع کرتے تھے (جو خود کو یوں محسوس کرتے کہ جیسے وہ اس دیو ہیکل شخص سے بچ کر بھاگ رہے ہوں)۔ عالم چنا انہیں جھپٹ کر پکڑ لیتے اور اپنے کندھوں پر رکھ دیتے تھے۔ 1981 میں ایک شخص نے عالم چنا کو سرکس میں دیکھ کر گنیز بُک آف ورلڈ رکارڈز کے ایڈیٹرز کو خط لکھا۔ خط کے ساتھ انہوں نے سرکس میں عالم چنا کی کھینچی ہوئی کچھ تصاویر بھی بھیج دیں۔ کچھ مہینوں بعد گنیز سے کچھ افسران سندھ کے دار الخلافہ کراچی آئے اور وہاں سے وہ سہون پہچے جہاں انہوں نے عالم چنا سے ملاقات کی اور ان کا قد ناپا۔ اس وقت ان کا قد 7 فٹ 7 انچ ناپا گیا تھا۔ برطانیہ واپسی پر انہوں نے عالم چنا کا نام دنیا کے سب سے طویل القامت انسان کے طور پر درج کر لیا۔ یہ خبر سب سے پہلے مقامی سندھی اخباروں میں شائع ہوئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں اردو اور انگریزی اخباروں نے اس خبر کو شائع کیا اور پھر آخر کار سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) پر رات 9 بجے کے اردو خبر نامے میں اس خبر کو نشر کیا گیا۔ راتوں رات 'عالم چنا' ایک مشہور نام بن گیا تھا۔ وہ جہاں جاتے، میڈیا نمائندگان اور تماشائی ان کا پیچھا کرتے آجاتے۔ انہیں جس انداز میں شہرت مل رہی تھی وہ اس سے پریشان ہو گئے تھے۔ عالم چنا نے سرکس چھوڑ دی اور پھر سے مزار پر معمولی ملازمت شروع کر دی۔ 1985 میں جرنل ضیاء الحق نے عالم چنا کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔23 مارچ کو جرنل ضیاء الحق کے ہاتھوں یومِ پاکستان کی پریڈ تقریب کے دوران ایک خصوصی ایوارڈ وصول کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ 21 مارچ کو انہیں کراچی لے جایا گیا اور پھر ہوائی سفر کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تقسیم ایوارڈ کی تقریب کے دوران ہزاروں افراد کے سامنے انہوں نے ضیا سے ایوارڈ وصول کیا اور ایک فوٹوگرافر نے پریس کے لیے اس موقعے کو قید کر لیا۔ پاکستان کے تمام نمایاں اخبارات (اور برطانیہ کے ڈیلی ٹیلی گراف نے بھی) نے ضیا کے ہاتھوں عالم چنا کو ایوارڈ دیتے وقت کی تصویر شائع کی جسے وصول کرنے کے لیے انہیں نمایاں طور پر جھکنا پڑا تھا۔ وہی تصویر کافی سندھی اخبارات میں بھی شائع ہوئی، لیکن ایک الگ کیپشن کے ساتھ۔ بجائے یہ لکھنے کے کہ 'دنیا کے سب سے طویل القامت شخص عالم چنا صدر ضیاء الحق کے ہاتھوں خصوصی ایوارڈ وصول کر رہے ہیں'، زیادہ تر سندھی اخبارات نے (سندھی میں) لکھا کہ 'سندھ اب بھی ضیاء کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ انہوں نے 1989 میں شادی کی ۔1990ءسےھی ان کی صحت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ وہ اکثر مایوس اور تنگ ہو جاتے تھے اور یہی شکایت کرتے کہ وہ اپنی عام سی زندگی میں ہی بہت خوش تھے۔ وہ اکثر اپنے سرکس کے دنوں کے بارے میں باتیں کرتے اور انہوں نے لعل شھباز قلندر کے مزار پر بھی عقیدتاّ ملازمت جاری رکھی ۔ باوجود اس کے کہ انہیں دنیا بھر سے نقد انعامات اور تحائف ملنا شروع ہو گئے تھے 1998 میں ان کے گردے ناکارہ ہونا شروع ہو گئے۔ حکومت نے انہیں علاج کے سلسلے میں اپنے خرچے پر امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا، مگر امریکی ہسپتال میں کوما میں چلے گئے اور جلد ہی وفات پا گئے۔ اس وقت ان کی عمر 45 برس تھی۔ وہ سہون شریف میں مدفون ہیں۔

09/12/2025

ایک ارب میں پانچ ہزار بیڈ والا ہسپتال ایسا ہی مذاق ہے جیسے زونگ نیٹ ورک دیتا یے آپ کو ایک ہفتہ میں 50 ہزار فری منٹ

09/12/2025

ڈی جی ہیلتھ صاحب
ایل۔ار۔ایچ سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں الٹراساونڈ کے فی میل ڈاکٹر تعینات کریں

30/10/2025

یہ معصوم بچہ جو اپنا نام سمیر ولد واحد بتاتا ہے، یکم جون 2025 کو تھانہ ریلوے کینٹ، کراچی کی حدود سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ سمیر اپنی والدہ کا نام عزرہ بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سر دریاب، پشاور کا رہائشی ہے۔ اس کے مطابق، اس کے والد ماربل کا کام کرتے ہیں۔
میرا پیارا ٹیم اس کے گھر والوں کی تلاش میں کوشاں ہے.اگر کسی کو اس کے گھر والوں یا رشتہ داروں کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو میرا پیارا ٹیم کو اطلاع دیں، تاکہ یہ معصوم بچہ دوبارہ اپنے خاندان میں جا سکے.

Contact:03090000015
Case id: 154176646

پتہ نہیں کون سہ خوش نصیب محلہ ہے جہاں سپرے ہو رہا ہےپشاور کی عوام تو ڈینگی سے مر رہے ہیں ہسپتال بڑھ چکے ہیں لیکن کوئی ای...
28/10/2025

پتہ نہیں کون سہ خوش نصیب محلہ ہے جہاں سپرے ہو رہا ہے
پشاور کی عوام تو ڈینگی سے مر رہے ہیں ہسپتال بڑھ چکے ہیں لیکن کوئی ایمرجنسی سپرے نہیں کئے جا رہے سب تصویروں کی نمائش لے لئے چلے جاتے ہیں

25/10/2025

پشاور میں شاہراہوں کی ترقی اور تزئین وآرائش پر سب سے زیادہ توجہ حکومت حیات آباد پر دیتی ہے جبکہ شہر کے اندر گلیاں تک ٹوٹی ہوے ہیں

‏خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں ؟جانئے مقدس ترین مقام کی چابیوں کے پیچھے چھپی وہ معجز...
25/10/2025

‏خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں ؟جانئے مقدس ترین مقام کی چابیوں کے پیچھے چھپی وہ معجزاتی تاریخ جو آپ کا بھی ایمان تازہ کر دے گی..
اگرچہ سعودی فرماں روا کو خادمین حرمین شریفین کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت خانہ کعبہ کی چابیاں
ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے شیبی خاندان کے پاس ہیں اور اس کے پیچھے ایسی کہانی ہے کہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا۔
بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ سبحان تعالیٰ نے اس کام کے لیے اس خاندان کا انتخاب کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے چابیاں ان کے حوالے کی تھیں۔
جب 8ہجری میں مسلمان مکہ پر غالب آئے اور اسے فتح کیا تو نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس کا دروازہ مقفل تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہیں۔ عثمان ابن طلحہٰ مسلمانوں کے مکہ مکرمہ فتح کر لینے پر خوفزدہ ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے ہوئے تھے۔ لوگوں کے بتانے پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان سے چابیاں لے کر دروازہ کھولو۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عثمان سے چابیاں طلب کیں تو اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا انکار نظرانداز کر دیا اور اس سے چابیاں چھین لیں اور دروازہ کھول دیا اور رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ بیت اللہ کے اندر رسول اللہ ﷺ نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آ گئے۔ اس وقت قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی، جس کا ترجمہ ہے ”بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللہ آپ کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کو جیسے ہی جبریل ؑ نے اللہ کا یہ پیغام پہنچایا انہوں نے فوری طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان کے پاس واپس جاﺅ اور چابیاں اس کے حوالے کر دو اور اس سے اپنے روئیے پر معذرت کرو۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جا کر عثمان ابن طلحہٰ کو چابیاں واپس کیں اور ان سے معذرت چاہی تو عثمان ششدر رہ گئے کہ ایک عظیم فاتح نے انہیں چابیاں واپس بھجوا دی ہیں۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آیت کریمہ کے نزول کا واقعہ اسے سنایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ چابیاں عثمان کو واپس کر دو۔ یہ سن کر عثمان ابن طلحہٰ نے فوراً کہا ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں“ اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔حضرت عثمان ابن طلحہٰ کے اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت جبریل ؑ واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور چابیوں کے متعلق اللہ کا حکم سنایا کہ ”آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی۔“ اس دن کے بعد سے آج تک خانہ کعبہ کی چابیاں اسی خاندان کے پاس ہیں۔
(سیرۃ النبویہ لابن ہشام ، ص473 ، تفسیر بغوی ، 1 / 353ماخوذاً)

21/10/2025

پشاور میں زلزلے کے تیز
جھٹکے
کس کس کو محسوس ہوے
اللہ خیر کرے

Address

Peshawar
25000

Telephone

+923329233347

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peshawar Brilliant City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share