Information Hub

Information Hub finding right path🥰🥰🥰

برصغیر کی تاریخ میں “تیغہ” صرف ایک تلوار نہیں بلکہ طاقت، خوف، انصاف اور اختیار کی علامت تھی۔ فارسی لفظ “تیغ” سے نکلا یہ ...
20/05/2026

برصغیر کی تاریخ میں “تیغہ” صرف ایک تلوار نہیں بلکہ طاقت، خوف، انصاف اور اختیار کی علامت تھی۔ فارسی لفظ “تیغ” سے نکلا یہ نام ایک بھاری اور چوڑی دھار والی تلوار کے لیے استعمال ہوتا تھا، جو ایک ہی وار میں فیصلہ کن ضرب لگانے کے لیے مشہور تھی۔

ہندوستان کی قدیم سلطنتوں سے لے کر مغل اور پھر سکھ سلطنت میں یہ تلوار استعمال ہوتی رہی میدانِ جنگ میں راجپوت، مغل اور سکھ جنگجو تیغہ کو بہادری اور شان کی نشانی سمجھتے تھے۔ گھڑ سوار سپاہی جب اسے لہراتے ہوئے دشمن پر حملہ کرتے تو صرف تلوار نہیں، بلکہ رعب بھی چلتا تھا۔

مگر تیغہ کا دوسرا رخ شاہی عدالتوں سے جڑا تھا۔ مغل دور میں جلاد بھی خاص قسم کی وزنی تیغہ استعمال کرتے تھے، تاکہ ایک ہی وار میں سزا مکمل ہو جائے۔ جلاد ریاستی قانون کا آخری چہرہ سمجھا جاتا تھا، اسی لیے اس کے ہاتھ مضبوط اور دل بے خوف ہونا ضروری تھا۔

یوں ایک ہی تیغہ کبھی جنگ میں فتح کی علامت بنتی، اور کبھی عدالت میں انصاف یا سزا کی۔ اسی لیے پرانی روایتوں میں کہا جاتا تھا:

“تیغہ کی دھار ہاتھ نہیں دیکھتی، صرف یہ یاد رکھتی ہے کہ وار انصاف کے لیے تھا یا ظلم کے لیے”۔

19/05/2026

تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ نے ایک نئی لچ ماری ہے جس سے عام عوام خاص غریب طبقہ جو بس بل لیتا ہے اور جا کر جمع کروا آتا ہے انہیں ان ہیرا پھریوں کا کیا پتہ

اس ماہ کے بجلی کے بلوں پر جن کے 200 سے کم یونٹ استعمال ہوتے ہیں ان پر گورنمنٹ نے ایک QR کوڈ دیا جس پر لکھا ہے کہ گورنمنٹ آپکو 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے پر سبسڈی دے رہی ہے

اس سبسڈی کو اگر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اس کوڈ کو سکین کریں اور اپنی معلومات چیک کر کے فارم کو OKAY کریں

اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپکی 200 یونٹ والی سبسڈی اگلے ماہ سے ختم کر دی جائے گی اور پہلے یونٹ سے ہی وہی ریٹ لگے گا جو 201 یونٹ والے کو لگتا ہے اور اگر ایک بار لگ گیا تو 6 ماہ وہی لگتا رہے گا 😢

ظلم کی انتہا چیک کریں کہ ہزاروں لوگ ایسے ہوں گے جنکو اس چیز کا معلوم نہیں ہو گا اور اگلے ماہ سے انکا بل زیادہ آنا شروع ہو جائے گا

اس لئے تمام بھائیوں سے اپیل ہے کہ خود بھی یہ کام کریں اور اپنے آس پاس غریب لوگوں کی بھی مدد کریں

اس عمل کو کرنے کا طریقہ:
ہر اس بل پر جو 200 سے کم استعمال کرتا ہے اس پر 2 QR کوڈ ہون گے اوپر والے کوڈ پر جس کے سبسڈی کا ذکر ہو گا اس کو اپنے Touch موبائل سے سکین کریں تو وہ ڈائریکٹ اس ویب سائٹ پر لے جائے گا وہاں اپنا ڈیٹا دیکھیں اور تصدیق کریں

تصدیق کرنے پر Sim پر کوڈ آئے گا وہ کوڈ لکھیں اور Verify پر کلک کریں

ایسا کرنے کے بعد VERIFIED لکھا آجائے گا
یہ معلومات ہر جگہ پہنچائیں سب کا بھلا ہو جائے گا

نہیں تو غریب کا بچہ مر جائے گا

یہ عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے

باقاعدہ بل پر لکھا ہوا ہے کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو 200 یونٹ والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی

مثلا: ابھی 100 پر 10 روپے یونٹ ہے اور 101 سے 199 پر 14 روپے ہے

سکین والا کام نہیں کریں گے تو پہلے یونٹ سے وہی ریٹ لگے گا جو 201 پر لگتا ہے مطلب کے 25 سے 27 روپے رہائشی پر اور 38 روپے کمرشل پر

کسی بڑے شہر کو لمحوں میں تباہ کرنا ہو تو اس کیلئے ایٹم بم استعمال ہوتا ہے اگر شہر کا نام و نشان صفاہستی سے مٹادینا ہو تو...
17/05/2026

کسی بڑے شہر کو لمحوں میں تباہ کرنا ہو تو اس کیلئے ایٹم بم استعمال ہوتا ہے اگر شہر کا نام و نشان صفاہستی سے مٹادینا ہو تو اس کیلئے ہائیڈروجن بم درکار ہوتا ہے

ہائیڈروجن بم (جسے تھرمو نیوکلیئر بم بھی کہا جاتا ہے) دنیا کا طاقتور ترین ہتھیار ہے۔ یہ ایٹم بم کی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس میں توانائی پیدا کرنے کے لیے نیوکلیئر فیوژن (ایٹموں کے ملاپ) کا عمل استعمال ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سورج میں روشنی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی: ایٹم بم 'فشن' (ایٹم کو توڑنے) پر کام کرتا ہے، جبکہ ہائیڈروجن بم 'فیوژن' (ایٹموں کو جوڑنے) پر مبنی ہے۔

طاقت: ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے ہزاروں گنا زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔ ہائیڈروجن بم کو چلانے کے لیے ایک چھوٹے ایٹم بم کی ضرورت پڑتی ہے جو فیوژن شروع کرنے کے لیے درکار حرارت فراہم کر سکے۔ فیوژن شروع کرنے کے لیے انتہائی زیادہ درجہ حرارت (تقریباً 50 ملین ڈگری سیلسیس) درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے ہائیڈروجن بم کے اندر ایک چھوٹا ایٹم بم (فِشن بم) نصب کیا جاتا ہے جو دھماکے کے ذریعے وہ حرارت فراہم کرتا ہے جس سے ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں جڑ کر ایک ہولناک دھماکہ کرتے ہیں۔ یعنی ہائیڈروجن بم کا دھماکہ شروع کرنے کے لیے پہلے ایک ایٹم بم پھاڑنا پڑتا ہے۔

ایٹم بم کی طاقت کلو ٹن (Kilotons) میں ناپی جاتی ہے، جبکہ ہائیڈروجن بم کی طاقت میگا ٹن (Megatons) میں ہوتی ہے۔ ایک میگا ٹن 10 لاکھ ٹن ٹی این ٹی (TNT) کے برابر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن بم کو "شہر ختم کرنے والا" (City Killer) ہتھیار کہا جاتا ہے جو ایٹم بم کے مقابلے میں 100 سے 1000 گنا زیادہ جانی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بڑے سائز اور زیادہ فیوژن ایندھن کی وجہ سے ہائیڈروجن بم سے پیدا ہونے والی تابکاری اور گرد و غبار (Fallout) بھی کہیں زیادہ وسیع علاقے کو متاثر کرتی ہے۔

ہائیڈروجن بم کا کوئی انسانی یا تعمیری مقصد نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک جنگی ہتھیار ہے جو دشمن کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور دفاعی برتری (Deterrence) حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا استعمال بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اور تابکاری کا باعث بنتا ہے۔

15/05/2026

گھر کا سربراہ پنکھے کی مانند ہوتا ہے…

جب وہ مسلسل چل رہا ہو تو گھر کے ہر فرد کو سکون اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے، کسی کو اس کی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
لیکن جیسے ہی وہ رک جائے، گھر کی فضا بوجھل ہو جاتی ہے، اور ہر طرف بے چینی اور "پسینہ" محسوس ہونے لگتا ہے۔

*اصل میں گھر کا سکون صرف وسائل سے نہیں، بلکہ اس ایک فرد کی مسلسل ذمہ داری، محنت اور خاموش قربانی سے قائم رہتا ہے۔*

👈*لہٰذا اسکی قدر کیجئے*

*جن بچوں کے سروں کے اوپر یہ سایہ برقرار ہے اللہ پاک اس سائے کو تادیر سلامت رکھے اور ان جن کے سروں سے یہ سایہ اٹھ گیا ہے اللہ پاک ان کی غیب سے مدد اور امداد فرمائے اور اپنے فضل سے یہ کمی پوری فرمائے*

15/05/2026

🌤️ `ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں`

*صُبح کے پہلے 30 منٹ آپ کے پُورے دن کا mood طے کرتے ہیں 🧠*

اگر دن کا آغاز شکایت اور جلدی اور ٹینشن سے ہو تو دماغ سارا دن تھکا ہُـوا محسُوس کرتا ہے🥀
`لیکن اگر آپ صُبح`
● تھوڑا خاموش بیٹھیں 🌿
● پانی پئیں 💧
● اپنے رب کو یاد کریں 🤍
*صبح سے اشراق تک مسجد میں بیٹھے 🖤
● اور خُود پر دباؤ کم رکھیں ✨

*تو ذہن زیادہ پُرسکون رہتا ہے اور انسان چھوٹی باتوں پر بھی کم پریشان ہوتا ہے ہر صُبح اپنے دل کو سکُون اور اپنے دماغ کو مُثبت سوچ دیا کریں*

پاکستان شاید خاموشی سے دنیا کی پہلی بڑی “ڈی سینٹرلائزڈ سولر اکانومی” بنتا جا رہا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس انقلاب ...
15/05/2026

پاکستان شاید خاموشی سے دنیا کی پہلی بڑی “ڈی سینٹرلائزڈ سولر اکانومی” بنتا جا رہا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس انقلاب کا بڑا حصہ سرکاری ریکارڈ میں مکمل طور پر نظر بھی نہیں آتا۔
2025 کے آخر تک پاکستان تقریباً 51.5 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کر چکا ہے۔ یہ مقدار تقریباً پورے قومی بجلی گرڈ کے برابر بنتی ہے۔ لیکن سرکاری طور پر رجسٹرڈ نیٹ میٹرڈ سولر صرف 5 سے 7 گیگاواٹ کے درمیان دکھایا جا رہا ہے۔
اصل کہانی یہی فرق بیان کرتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں گھروں، دکانوں، فیکٹریوں، ٹیوب ویلز اور کاروباروں نے خاموشی سے اپنے سولر سسٹمز لگا لیے ہیں، جن میں سے ایک بہت بڑا حصہ آف گرڈ یا غیر رجسٹرڈ ہے۔
سب سے حیران کن چیز اس تبدیلی کی رفتار ہے۔
چند سال پہلے تک پاکستان کی سولر مارکیٹ نسبتاً چھوٹی تھی، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ملک اپنی مجموعی بجلی کی کھپت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ سولر سے حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
اعداد و شمار خود پوری کہانی سناتے ہیں:
• 2024 میں تقریباً 16 سے 17 گیگاواٹ سولر درآمد ہوا
• 2025 میں مزید تقریباً 18 گیگاواٹ سولر آیا
• مجموعی درآمد 51.5 گیگاواٹ تک جا پہنچی
• رجسٹرڈ رووف ٹاپ سولر 5.3 سے 6.8 گیگاواٹ کے درمیان ہے
• جبکہ 24 گیگاواٹ سے زیادہ سولر سسٹمز غیر رجسٹرڈ یا آف گرڈ سمجھے جا رہے ہیں
یہ صرف توانائی کی منتقلی نہیں، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ آہستہ آہستہ قومی گرڈ سے خود کو الگ کر رہے ہوں۔
وجہ بالکل واضح ہے۔
بجلی مسلسل مہنگی ہوئی۔
ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی گئیں۔
لوڈشیڈنگ معمول بن گئی۔
اور دوسری طرف چینی سولر پینلز اور بیٹریاں مسلسل سستی ہوتی گئیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں پاکستانیوں نے ایک ہی فیصلہ کیا:
“یا اپنی بجلی خود پیدا کرو… یا ایک مہنگے اور غیر یقینی نظام کے رحم و کرم پر رہو۔”
جب سولر بجلی گرڈ سے بھی سستی ہو جائے تو اس کی رفتار اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ حکومتیں، پاور کمپنیاں اور حتیٰ کہ سرکاری ڈیٹا بھی اس تبدیلی کو مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کر پاتا۔
یہ صرف ایک ٹیکنالوجی شفٹ نہیں۔
یہ شاید ترقی پذیر ممالک میں توانائی کے مستقبل کا نیا ماڈل ہے — جہاں لوگ مرکزی، مہنگے اور فوسل فیول پر مبنی نظام کو چھوڑ کر براہِ راست اپنی توانائی خود پیدا کرنے لگتے ہیں۔
یہ واقعی “Escape Velocity پر پہنچتی ہوئی Decentralisation” معلوم ہوتی ہے۔

Hafiz Qasim

12/05/2026

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ بڑھاپا انسان کو دوبارہ بچپن کی اسی دہلیز پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اسے سہارے سے زیادہ 'لحاظ' اور توجہ سے زیادہ 'نرمی' کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین جب عمر کے اس حصے میں پہنچتے ہیں جہاں ان کی اپنی ہمت جواب دینے لگتی ہے، تو ان کا دل کسی ایسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں رہتا ہے جہاں انہیں اپنی کمزوری پر شرمندگی محسوس نہ ہو۔
یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ فطری طور پر اس اولاد کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جس کا مزاج چشمے کے میٹھے پانی کی طرح ٹھنڈا ہو۔
بڑھاپے میں انسان بہت حساس ہو جاتا ہے۔ وہ والدین کڑوی بات یا اونچی آواز سے ڈرنے لگتا ہے۔ جس اولاد کے سامنے انہیں یہ ڈر نہ ہو کہ "اگر میں نے یہ کہا تو وہ آگے سے جھڑک دے گا" یا "میرے بار بار پوچھنے پر وہ چڑ جائے گا"، والدین وہیں سکون پاتے ہیں۔ وہ ایسے بیٹے یا بیٹی کے پاس بیٹھنا پسند کرتے ہیں جس سے انہیں ناراضگی کا خوف نہ ہو۔
والدین نے اپنی پوری زندگی اولاد کو پالنے میں صرف کی ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنا 'مان' ٹوٹنے نہ دیں۔ وہ اسی بچے پر اپنا حق جتاتے ہیں جو محبت سے ان کی بات مانے۔ جب اولاد نرم مزاج ہو، تو والدین کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی حاکمیت اور عزت ابھی بھی برقرار ہے، اور وہ بے جھجھک اپنی ضرورتیں یا خواہشات اس کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔
بیماری اور نقاہت کی وجہ سے بوڑھے والدین بعض اوقات ایک ہی بات بار بار دہراتے ہیں یا غیر ضروری بحث کرتے ہیں۔ جو اولاد ان سے تنگ نہیں آتی اور مسکرا کر ان کی باتیں سنتی ہے، وہ ان کے لیے ایک معالج کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہاں ان کی موجودگی کسی پر بوجھ نہیں ہے، بلکہ خوشی کا باعث ہے۔
محبت کرنے والی اولاد والدین کی خاموشی کو بھی پڑھ لیتی ہے۔ جب والدین کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ان کا یہ بچہ ان کے مزاج کے اتار چڑھاؤ کو برداشت کر لے گا، تو ان کا جھکاؤ خود بخود اسی کی طرف ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی ناانصافی نہیں، بلکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ وہیں رکتا ہے جہاں اسے قدر اور سکون ملے۔
والدین کا کسی ایک بچے کی طرف زیادہ میلان اس کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔ یہ اس بات کی سند ہے کہ اس بچے نے اپنے رویے سے ان کے دل میں وہ مقام بنا لیا ہے جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ سچی خدمت صرف ہاتھ پاؤں دبانا نہیں، بلکہ اپنے ماتھے پر شکن لائے بغیر ان کے ناز نخرے اٹھانا ہے تاکہ وہ بلا جھجھک اپنا حق جتا سکیں۔
قدر کیجیے ان ہاتھوں کی جنہوں نے ہماری بنیادیں مضبوط کرتے کرتے اپنے ہاتھوں میں لاٹھیاں پکڑ لیں۔

12/05/2026

*تمہارا نام آخری بار کب لیا جائے گا؟ 🕯️ ایک دن ایسا آئے گا… جب تم اپنے گھر میں موجود ہوگے*

تمہارا بستر وہیں ہوگا۔
تمہاری چپلیں دروازے کے پاس پڑی ہوں گی۔
تمہارا فون شاید ابھی بھی چارج پر لگا ہوگا۔ 📱
مگر تم… تم اس دنیا میں نہیں ہوگے۔
لوگ تمہارے کمرے میں آئیں گے۔
آہستہ آواز میں بات کریں گے۔
کوئی رو رہا ہوگا۔
کوئی خاموش کھڑا ہوگا۔
اور کوئی صرف یہ کہے گا:
“إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ…” 💔
پھر تمہیں اٹھایا جائے گا۔
وہی لوگ جو کبھی تمہارے ساتھ بیٹھ کر ہنستے تھے،
آج تمہارا جنازہ اٹھا رہے ہوں گے۔ ⚰️
😔 تم بولنا چاہو گے…
کہہنا چاہو گے:
“مجھے ابھی تھوڑا وقت اور دے دو…
میں نے ابھی بہت کچھ ٹھیک کرنا تھا…”
مگر زبان خاموش ہوگی۔
کیونکہ وقت ختم ہو چکا ہوگا۔
📖 پھر تم قبر میں اتار دیے جاؤ گے۔
پہلی مٹی تمہارے سینے پر گرے گی…
اور تب تمہیں پہلی بار احساس ہوگا
کہ دنیا واقعی ختم ہو چکی ہے۔
کوئی دوست ساتھ نہیں آئے گا۔
نہ ماں۔
نہ باپ۔
نہ وہ لوگ جن کے لیے تم نے اپنی آخرت بھلا دی تھی۔
صرف تم ہوگے…
اور تمہارے اعمال۔
😢 اس وقت تمہیں یاد آئیں گے وہ سجدے
جو تم نے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیے۔
وہ راتیں
جو گناہوں میں گزار دیں۔
وہ دل
جو تم نے توڑ دیے۔
وہ معافیاں
جو تم مانگ سکتے تھے مگر انا کی وجہ سے نہ مانگ سکے۔
اور سب سے زیادہ تکلیف کس بات کی ہوگی؟ 💔
یہ سوچ کر…
کہ تمہارے پاس موقع تھا۔
مگر تم نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔
☀️ پھر دنیا آگے بڑھ جائے گی۔
چند دن لوگ تمہیں یاد کریں گے۔
تمہاری تصویریں دیکھیں گے۔
تمہارے بارے میں باتیں کریں گے۔
پھر آہستہ آہستہ…
تمہارا ذکر کم ہونے لگے گا۔
📱 تمہارا نمبر فون میں رہ جائے گا،
مگر میسج آنا بند ہو جائیں گے۔
تمہارا WhatsApp خاموش ہو جائے گا۔
تمہاری جگہ کوئی اور لے لے گا۔
اور ایک دن ایسا آئے گا
جب کسی نے تمہارا نام آخری بار لیا ہوگا… 🥀
لیکن ایک ذات ایسی ہوگی
جو تمہیں کبھی نہیں بھولے گی۔
اللہ۔
وہ تمہارے ہر آنسو کو جانتا ہے۔
ہر گناہ کو بھی…
اور ہر سچی توبہ کو بھی۔ 🤲
اس لیے ابھی بھی وقت ہے۔
ابھی سانس چل رہی ہے۔
ابھی دروازہ بند نہیں ہوا۔
نماز کی طرف لوٹ آؤ۔
قرآن کی طرف لوٹ آؤ۔
اللہ کی طرف لوٹ آؤ۔
کیونکہ ایک دن
تم صرف ایک یاد بن جاؤ گے…
اور تمہاری اصل زندگی تب شروع ہوگی۔ ⚰️

😨 ذرا تصور کرو…
وہ لمحہ
جب ایک انسان پہلی بار جہنم کی آگ میں پھینکا جائے گا۔
وہ چیخے گا۔
ایسی چیخ
جو دنیا میں کبھی کسی نے نہ سنی ہوگی۔
📖 قرآن کہتا ہے
کہ وہاں انسان کی کھال جل جائے گی۔
پھر نئی کھال دے دی جائے گی۔
پھر جلائی جائے گی۔
پھر نئی دی جائے گی۔
یعنی درد ختم نہیں ہوگا۔
موت نہیں آئے گی۔
بیہوشی نہیں ہوگی۔
💔 دنیا میں تو تم ایک معمولی سی چنگاری سے ڈر جاتے تھے۔
گرم پانی ہاتھ پر گر جائے تو فوراً ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔
زبان جل جائے تو ٹھنڈا پانی ڈھونڈتے تھے۔
مگر وہاں؟ 😢
پورا جسم آگ میں ہوگا۔
اور سب سے زیادہ خوفناک بات؟
وہاں انسان کو احساس ہوگا
کہ وہ اس عذاب سے بچ سکتا تھا۔
صرف ایک نماز…
صرف ایک سچی توبہ…
صرف اللہ کی طرف ایک قدم…
اور شاید آج وہ جہنم میں نہ ہوتا۔
😔 جہنم میں لوگ چیخیں گے:
“اے اللہ! ہمیں واپس بھیج دے!
ہم نیک اعمال کریں گے!”
مگر جواب آئے گا:
“کیا تمہیں دنیا میں مہلت نہیں دی گئی تھی؟”
⚠️ یہی وہ جملہ ہوگا
جو انسان کے دل کو توڑ دے گا۔
کیونکہ اس وقت اسے یاد آئے گا
کہ دنیا میں وقت تھا، صحت تھی، زندگی تھی…
مگر اس نے سب کچھ کھیل سمجھا۔
📱 گناہ کرتے وقت انسان ہنستا تھا۔
نماز چھوڑتے وقت کہتا تھا:
“ابھی تو عمر پڑی ہے…”
مگر موت نے کبھی کسی کو وقت بتا کر نہیں آنا۔
🤲 آج اگر دل زندہ ہے…
تو ابھی سجدہ کر لو۔
کیونکہ قیامت کے دن
انسان سب کچھ دے دے گا
صرف ایک موقع کے بدلے…
مگر اسے ایک لمحہ بھی واپس نہیں ملے گا۔ 😢🔥 جہنم کی آگ پہلی بار جب جسم کو چھوئے گی…
تو انسان چیخ اٹھے گا:
“یا اللہ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دے…
صرف ایک سجدہ کرنے کے لیے…
صرف ایک توبہ کرنے کے لیے…” 😢
مگر اُس وقت نہ وقت باقی ہوگا،
نہ مہلت…
نہ واپسی۔ 💔
آج ہم ہنستے ہیں،
گناہوں کو معمولی سمجھتے ہیں،
کسی کا کل نہیں آیا…
اور کسی کو اگلے لمحے کی ضمانت نہیں۔
جو سانس ابھی چل رہی ہے،
یہ بھی اللہ کی امانت ہے۔ 🤲
ذرا سوچو…
اگر آج رات تمہارا نام
“مرحوم” کے ساتھ لیا جائے تو؟ 😔
لوگ تمہارے لیے دعا کریں گے،
مگر تم عمل نہیں کر سکو گے۔
قرآن تمہارے سرہانے پڑھا جائے گا،
مگر تم ایک آیت بھی مزید نہ پڑھ سکو گے۔
تم چاہو گے کہ
صرف دو رکعت نفل پڑھ لو…
صرف ایک بار “استغفرُاللّٰہ” کہہ دو…
مگر وقت ختم ہو چکا ہوگا۔ 🥀
اس لیے آج ہی لوٹ آؤ۔
اپنے رب سے معافی مانگ لو۔
نماز کو مضبوطی سے پکڑ لو۔
ماں باپ کا دل جیت لو۔
لوگوں کو معاف کر دو۔
اور اپنے دل کو قرآن سے زندہ کر لو۔ 📖
کیونکہ قبر میں
نہ فالوورز ساتھ جائیں گے،
نہ دولت،
نہ شہرت…
صرف اعمال جائیں گے۔ ⚖️
اور یاد رکھو…
اللہ آج بھی تمہیں پکار رہا ہے۔
اگر تم ایک قدم اس کی طرف بڑھاؤ گے،
وہ رحمت کے دروازے کھول دے گا۔ ✨
ابھی بھی وقت ہے…
اس سے پہلے کہ تمہارا نام
آخری بار لیا جائے
_سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں_
_ایک بار درودشریف پڑھنے سے_
_ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہیں_

*❣ #گروپ دلچسپ ادبی تحریرات 🌙*

*ایڈمن عبد الرحمٰن*

*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نام اور ایڈ لکھ کر سینڈ کریں 03266433793*
*┅┄┈•※ ͜✤۝✤͜※┅┄┈•۔*
*┊ ┊ ┊ ┊ ۔*
*┊ ┊ ┊ ☽۔*
*┊ ┊ ☆۔*
*☆ ☆۔*@⁨all⁩

12/05/2026

حضرت شیخ صاحب ایک والدہ کے اخلاص اور قربانی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرما رہے تھے:
“ایک دفعہ مدرسے کے ناظم صاحب نے مجھ سے کہا کہ یہاں مدرسے میں ایک طالب علم ہے۔ ہماری دستار بندی (فارغ التحصیل طلبہ کی تقریب) ہونے والی تھی۔ دستار بندی کے موقع پر طلبہ اپنے لیے اخراجات کرتے ہیں، مہمان آتے ہیں، ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا ہے، نئے کپڑے اور جوتے سلوائے جاتے ہیں۔ یہ طلبہ کے لیے شادی سے بھی بڑھ کر خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ وہ واسکٹ اور نئے کپڑے تیار کرواتے ہیں اور دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی خدمت کے لیے بھی اخراجات کرتے ہیں۔
ناظم صاحب نے بتایا کہ ایک طالب علم کے پاس سونے کی ایک انگوٹھی ہے۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ‘حضرت! اس انگوٹھی کو مناسب قیمت پر فروخت کر دیں۔’
اس نے بتایا: ‘یہ انگوٹھی میری والدہ نے مجھے دی ہے اور فرمایا ہے کہ بیٹا! گھر میں اور کچھ نہیں، اس انگوٹھی کو بیچ کر اپنی دستار بندی کے اخراجات پورے کر لو۔’
میں نے اس طالب علم سے کہا: ‘بیٹا! یہ انگوٹھی مجھے دے دو، میں اسے ابھی فروخت نہیں کرتا، کل تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں گا۔’
وہ طالب علم جنوبی اضلاع سے تعلق رکھتا تھا۔ اگلی صبح میں نے اسے بلایا اور پوچھا: ‘بیٹا! وہ انگوٹھی کہاں ہے؟’
وہ گھبرا گیا اور کانپنے لگا۔ میں نے کہا: ‘بیٹا! اپنی والدہ کی دی ہوئی انگوٹھی نکالو۔’
اس نے لرزتے ہاتھوں سے جیب سے انگوٹھی نکالی۔ میں نے اس سے پوچھا: ‘بیٹا! تمہاری والدہ نے یہ انگوٹھی تمہیں کس حال میں دی تھی؟’
یہ سنتے ہی وہ رونے لگا اور کہنے لگا: ‘جب میں نے والدہ سے کہا کہ میری دستار بندی ہے، مہمان آئیں گے، کپڑے اور واسکٹ وغیرہ بنوانی ہے، تو والدہ نے فرمایا: “بیٹا! پریشان نہ ہو۔ گھر میں کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ دو روپے بھی نہیں کہ تمہیں دے سکوں۔ یہ انگوٹھی میری شادی کی نشانی ہے، جسے میں نے آج تک سنبھال کر رکھا تھا۔ آج میں نے یہ انگوٹھی اپنی انگلی سے اتار کر تمہیں دے دی ہے۔ اسے بیچ کر اپنی دستار بندی کے اخراجات پورے کر لو۔ میں آج بہت خوش ہوں کہ میرا بیٹا عالم بن رہا ہے اور اس کے سر پر حدیث کی پگڑی سجائی جائے گی۔”’
یہ کہتے ہوئے اس طالب علم کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں نے اس سے کہا: ‘بیٹا! یہ انگوٹھی واپس لے جاؤ اور اپنی والدہ کو واپس کر دینا۔ اسے اسی ہاتھ کی اسی انگلی میں پہنا دینا جہاں سے انہوں نے اتاری تھی۔ تمہاری دستار بندی کے تمام اخراجات میں خود پورے کروں گا یا کسی اور سے کروا دوں گا، لیکن تم یہ انگوٹھی واپس کر دو۔’
پھر حضرت شیخ صاحب فرمانے لگے: ‘بھائیو! میں آپ سے پوچھتا ہوں، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی اخلاص اور قربانی ہو سکتی ہے؟ لوگ علماء اور طلبہ پر تنقید کرتے ہیں، لیکن کیا علمِ دین حاصل کرنا اتنا آسان ہے؟’
اگر یہ لوگ جنت میں نہیں جائینگے تو آخر کون جائینگے ۔۔؟ یہ ماں اور اسکی اخلاص اللہ اکبر 😭💔

08/05/2026

عجیب جنگ تھی

*لڑا تو ایران لیکن مار اسرائیل نے کھائی اور ہار امریکہ کی ہوئی مگر برباد امارات ہو گیا تاہم جیت چین کی ہوئی البتہ عزت ایران کو ملی مگر بے عزتی انڈیا کی ہوئی اور پٹرول پاکستان میں مہنگا ہو گیا

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Information Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share