20/05/2026
برصغیر کی تاریخ میں “تیغہ” صرف ایک تلوار نہیں بلکہ طاقت، خوف، انصاف اور اختیار کی علامت تھی۔ فارسی لفظ “تیغ” سے نکلا یہ نام ایک بھاری اور چوڑی دھار والی تلوار کے لیے استعمال ہوتا تھا، جو ایک ہی وار میں فیصلہ کن ضرب لگانے کے لیے مشہور تھی۔
ہندوستان کی قدیم سلطنتوں سے لے کر مغل اور پھر سکھ سلطنت میں یہ تلوار استعمال ہوتی رہی میدانِ جنگ میں راجپوت، مغل اور سکھ جنگجو تیغہ کو بہادری اور شان کی نشانی سمجھتے تھے۔ گھڑ سوار سپاہی جب اسے لہراتے ہوئے دشمن پر حملہ کرتے تو صرف تلوار نہیں، بلکہ رعب بھی چلتا تھا۔
مگر تیغہ کا دوسرا رخ شاہی عدالتوں سے جڑا تھا۔ مغل دور میں جلاد بھی خاص قسم کی وزنی تیغہ استعمال کرتے تھے، تاکہ ایک ہی وار میں سزا مکمل ہو جائے۔ جلاد ریاستی قانون کا آخری چہرہ سمجھا جاتا تھا، اسی لیے اس کے ہاتھ مضبوط اور دل بے خوف ہونا ضروری تھا۔
یوں ایک ہی تیغہ کبھی جنگ میں فتح کی علامت بنتی، اور کبھی عدالت میں انصاف یا سزا کی۔ اسی لیے پرانی روایتوں میں کہا جاتا تھا:
“تیغہ کی دھار ہاتھ نہیں دیکھتی، صرف یہ یاد رکھتی ہے کہ وار انصاف کے لیے تھا یا ظلم کے لیے”۔