09/05/2026
آج مہمند ایجنسی کے واقعے سے معلوم ہوا کہ قبائل اس دلدل میں پھنس چکے ہیں جس سے نہ آگے جا سکتے ہیں اور نہ پچھے جا سکتے ہیں آج مہمند ایجنسی حلیمزئے ناساپئی میں ایک درد ناک واقعہ اس وقت ہوا۔
کہ تین مشکوک نامعلوم بندے پہاڑ میں بکریاں چرارہے تھے کہ مقامی گاوں کے ایک بندے نے روک کر جان پہچان کرانے کو کہا۔ گاوں کے بندے کو مشکوک نامعلوم تین بندو پر شک ہوا تو انھیں پکڑ کر کہا کہ یہاں سے چلے جاو۔ جب وہ نامعلوم بندے وہاں سے چلے گئے تو پولیس آگئی کہ یہ تین بندے سرکار کے تھے۔ تو گاوں والوں نے کیوں پکڑ کر یہاں چلے جانے کو کہا۔ مذاکرات اور بات چیت عوام اور پولیس کے درمیان جاری تھی کہ FC والے آگئے۔ FC والوں نے آتے ہی فائر شروع کردی۔
اور مطالبہ کیا کہ ہمیں وہ گاوں والا چاہئے جس نے تین نامعلوم بندوں کو چلے جانے کو کہا۔ عوام نے کہا کہ نامعلوم سول کپڑوں میں تھے اور ہمیں کیا پتہ یہ یہاں کیا کرنے آئے تھے لہذا اپنے علاقے کی امن امان کیلئے ہم یہ کرتے رہیں گے۔
ایف سی نے دوبارہ مار پیٹ شروع کی اور پھر فائرنگ شروع کی۔
آخر قبائل گزشتہ 20 سال سے اس جنگ پھنس کر کب خلاصی پائے گا. اگر کسی مشکوک شخص کو اپنے علاقے میں دیکھ کر اسکو بھگائے یہ بھی جرم ھے اور کسی مشکوک شخص کو اپنے علاقے میں چھوڑ دے یہ بھی جرم ھے. آخر کب تک قبائل سے یہ ناروا سلوک ہوتا رہے گا