Basit Khan

Basit Khan Digital Creator | Thoughts, Vibes & Real Content, Humanity focus,Motivation, Health Tips, Social Study.....

29/06/2026

ڈیرہ دہ افسوس حبرہ دہ! پحتون تبا دے😢 kpk #

26/06/2026

کربلا مسلمانوں کی تاریخ کا وہ عظیم سانحہ ہے، جہاں حق نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے قربانی کو ترجیح دی۔

سلام حضرت امام حسینؓ پر، جنہوں نے رہتی دنیا تک حق، صبر اور استقامت کا راستہ روشن کر دیا۔ #کربلا

26/06/2026

#کربلا🌹 واقعۂ کربلا کی اہمیت اور ہم اسے عقیدت سے کیوں یاد کرتے ہیں؟

واقعۂ کربلا تاریخ کا صرف ایک جنگی واقعہ نہیں، بلکہ حق، انصاف، صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی ایک لازوال مثال ہے۔ اسی لیے چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا بھر کے مسلمان حضرت امام حسینؓ کی قربانی کو عقیدت، احترام اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔

امام حسینؓ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو ایک مومن ظلم کے سامنے سر نہیں جھکاتا، چاہے اس کے بدلے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد وقت گزرتا گیا۔ جب یزید حکمران بنا تو اس نے حضرت امام حسینؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ حضرت امام حسینؓ نے محسوس کیا کہ ایسے شخص کی بیعت کرنا جو عدل، تقویٰ اور اسلامی اصولوں پر قائم نہ ہو، امت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اس لیے آپؓ نے بیعت سے انکار کر دیا۔

اسی دوران کوفہ کے ہزاروں لوگوں نے حضرت امام حسینؓ کو خطوط لکھے کہ آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور حق کی حمایت کریں گے۔ حالات جاننے کے لیے آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں ہزاروں افراد نے حضرت مسلمؓ کی حمایت کا اعلان کیا۔

لیکن جب حکومتی دباؤ، خوف اور دنیاوی مفادات سامنے آئے تو وہی لوگ ایک ایک کرکے پیچھے ہٹ گئے۔ جنہوں نے وفاداری کے وعدے کیے تھے، انہوں نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کو تنہا چھوڑ دیا، یہاں تک کہ آپؓ کو شہید کر دیا گیا۔

حضرت امام حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ راستے میں حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر ملی، مگر آپؓ نے حق کا راستہ چھوڑنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔

2 محرم 61 ہجری کو حضرت امام حسینؓ کا قافلہ کربلا پہنچا، جہاں یزیدی لشکر نے محاصرہ کر لیا۔ چند دن بعد دریائے فرات سے پانی لینا بھی بند کر دیا گیا۔ شدید گرمی میں بچے، خواتین اور بزرگ پیاس برداشت کرتے رہے، مگر حضرت امام حسینؓ نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

10 محرم، یومِ عاشورہ کو جنگ شروع ہوئی۔ حضرت امام حسینؓ کے وفادار ساتھی، خاندان کے افراد، حضرت علی اکبرؓ، حضرت قاسمؓ اور دیگر اہلِ بیتؓ ایک ایک کرکے شہید ہوتے گئے۔ آخرکار حضرت امام حسینؓ نے بھی حق کی خاطر اپنی جان قربان کر دی، مگر باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

کوفہ کے لوگوں کا کردار تاریخ کا ایک بڑا سبق ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ حق حضرت امام حسینؓ کے ساتھ ہے، انہوں نے خطوط بھی لکھے، وعدے بھی کیے، لیکن جب قربانی دینے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آیا تو اکثریت خوف اور دنیاوی مفادات کی وجہ سے اپنے وعدوں سے پھر گئی۔

کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کو صرف پہچان لینا کافی نہیں، بلکہ مشکل وقت میں حق کا ساتھ دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، انصاف پر قائم رہنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو دنیا کے فائدوں پر مقدم رکھنا ہی حضرت امام حسینؓ کی قربانی کا حقیقی پیغام ہے۔

🌹❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

نہیں خدا مگر ایک اللہ جو نہایت مہربان رحیم اور کریم ہےبسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد وایاک نستعین
26/06/2026

نہیں خدا مگر ایک اللہ جو نہایت مہربان رحیم اور کریم ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم ایاک نعبد وایاک نستعین

26/06/2026


🌹 واقعۂ کربلا: حق اور باطل کی لازوال داستانرسول اللہ ﷺ کے وصال کے کئی سال بعد اسلامی دنیا میں سیاسی حالات بدل چکے تھے۔ ج...
25/06/2026

🌹 واقعۂ کربلا: حق اور باطل کی لازوال داستان
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے کئی سال بعد اسلامی دنیا میں سیاسی حالات بدل چکے تھے۔ جب یزید حکمران بنا تو اس نے حضرت امام حسینؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ امام حسینؓ کا موقف تھا کہ قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے جو عدل، تقویٰ اور اسلامی اصولوں پر پورا نہ اترتا ہو، اس لیے آپؓ نے بیعت سے انکار کر دیا۔
اسی دوران کوفہ کے لوگوں نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام حسینؓ کو دعوت دی کہ آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور حق کی حمایت کریں گے۔ امام حسینؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں ہزاروں لوگوں نے حضرت مسلمؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور حمایت کا یقین دلایا۔
لیکن جب وقتِ آزمائش آیا تو صورتحال بدل گئی۔ حکومتی دباؤ، خوف اور دنیاوی مفادات کی وجہ سے وہی لوگ جو کل تک حمایت کے دعوے کر رہے تھے، پیچھے ہٹنے لگے۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور انہیں شہید کر دیا گیا۔
ادھر امام حسینؓ اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ راستے میں آپؓ کو حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر ملی، لیکن آپؓ نے حق اور سچائی کے راستے پر ثابت قدم رہنے کا فیصلہ کیا۔
2 محرم 61 ہجری کو امام حسینؓ کا قافلہ کربلا پہنچا۔ وہاں یزیدی لشکر نے محاصرہ کر لیا۔ چند دن بعد دریائے فرات سے پانی لینے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ خیموں میں بچے، خواتین اور بزرگ شدید پیاس کا سامنا کرتے رہے۔
10 محرم، یومِ عاشورہ کو جنگ شروع ہوئی۔ امام حسینؓ کے ساتھی ایک ایک کرکے شہید ہوتے گئے۔ آپؓ کے خاندان کے افراد، نوجوان بیٹے حضرت علی اکبرؓ، بھتیجے حضرت قاسمؓ اور دیگر جانثار بھی حق کی خاطر قربان ہو گئے۔
آخرکار امام حسینؓ بھی میدانِ کربلا میں شہید کر دیے گئے، لیکن انہوں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
کوفہ کے لوگوں کا کردار تاریخ کا ایک بڑا سبق ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ حق امام حسینؓ کے ساتھ ہے، انہوں نے خطوط بھی لکھے، وعدے بھی کیے، لیکن جب قربانی دینے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آیا تو اکثریت خوف اور مفاد کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئی۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کو پہچان لینا کافی نہیں، بلکہ مشکل وقت میں حق کا ساتھ دینا اصل

 #کربلا
25/06/2026

#کربلا

Address

Peshawar
LOCATION/ZIPCOD

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Basit Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share