07/09/2026
اسلام آباد میں ایس سی او سمٹ: عالمی رہنماؤں کی سیکیورٹی، معاشی اثرات اور سفارتی میدان میں پاکستان کا امتحان
تحریر: دی خیبر ٹائمز اسپیشل رپورٹ
عالمی اور علاقائی سیاست کے افق پر پاکستان کیلئے ایک بڑا موقع دستک دے رہا ہے، لیکن اس موقع سے فائدے حاصل کرنے سے قبل اسلام آباد کو کئی بڑے، کٹھن اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین معاشی فیصلہ ساز ادارے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں ایک اہم تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت آئندہ برس اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کیلئے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 6.6 ارب روپے (تقریباً 2 کروڑ 38 لاکھ ڈالر) مختص کئے گئے ہیں۔
اگرچہ ابتدائی طور پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے 12.6 ارب روپے (4 کروڑ 54 لاکھ ڈالر) کا مطالبہ سامنے آیا تھا، تاہم معاشی ترجیحات اور تفصیلی غور و خوض کے بعد ای سی سی نے فی الوقت 6.6 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے اضافی ضروریات کیلئے بعد میں رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں یہ محض ایک سرکاری گاڑیوں کی خریداری کا انتظامی فیصلہ نظر آتا ہے، لیکن اس کی تہہ میں علاقائی سفارت کاری، خطے کے تحفظ کا پیچیدہ تناظر اور پاکستان کیلئے عالمی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بڑا امتحان پوشیدہ ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم صرف ایک روایتی علاقائی فورم نہیں ہے بلکہ اسے 21ویں صدی کا ایک اہم جیو پولیٹیکل بلاک شمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت چین، روس، ہندوستان، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل یہ 10 رکنی اتحاد دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد اور عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 فیصد حصہ احاطہ کرتا ہے۔
پاکستان کیلئے ایس سی او کی اہمیت ہمیشہ سے دور رس رہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں قرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکت کی، جس کے بعد پاکستان نے باقاعدہ طور پر 2026-27 کیلئے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ اس پیش رفت کے تحت ستمبر 2027 میں دنیا کے سب سے بڑے سیاسی اور معاشی اتحاد کے طاقتور ترین سربراہانِ مملکت کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہوں گی۔
پاکستان کیلئے یہ اجلاس کئی لحاظ سے اہم ہے، جیہسا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ تجارت، توانائی کے منصوبوں اور سی پیک (CPEC) کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے یہ ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔�عالمی دنیا اور سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا کہ پاکستان محفوظ ہے اور ایک اہم عالمی ایونٹ کی میزبانی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت اور چین جیسے روایتی رقبا کی موجودگی میں خطے کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے میں پاکستان کے مرکزی کردار کی توثیق کی جاتی ہے۔�جب بھی عالمی طاقتوں کے سربراہان جیسے چین کے صدر، روس کے صدر یا ایران اور وسطی ایشیا کے نمائندے ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں تو ان کی سیکیورٹی کی پروٹوکول کی ضروریات کسی عام سطح کی نہیں ہوتیں۔ ایس سی او کے قواعد کے تحت تمام رکن ممالک کے سربراہان کو یکساں، فول پروف اور اعلیٰ ترین درجے کی سیکیورٹی فراہم کرنا میزبانی کرنے والے ملک کی لازمی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہوتی ہے۔
پاکستان اس وقت اندرونی اور سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں سیکیورٹی چیلنجز کے باعث بیرونی شخصیات اور بالخصوص غیر ملکی وفود کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اسلام آباد کا مقصد دنیا کے سامنے اپنے محفوظ اور پیشہ ورانہ تشخص کو نمایاں کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 30 جدید ترین اور جدید ترین سیکیورٹی نظام سے لیس بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداریاں اس میزبانی کا ایک بنیادی تکنیکی حصہ بن چکی ہیں۔
اگرچہ 6.6 ارب روپے کی گرانٹ ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب ملک معاشی اصلاحات اور سخت مالیاتی نظم و ضبط سے گزر رہا ہے، لیکن بین الاقوامی سفارتی وعدوں اور ملکی وقار کی بقا کے سامنے اس اخراجات کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کا ایس سی او اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوگا جب پورے خطے میں جیو پولیٹیکل اتحاد تیزی سے بدل رہے ہیں:
چین سی پیک کے فیز-2 اور اقتصادی راہداریوں کیلئے ایس سی او کو ایک مضبوط ڈھانچے کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب، روس اور پاکستان کے تعلقات میں گزشتہ کچھ برسوں میں برف پگھلی ہے اور دونوں ممالک توانائی اور سیکیورٹی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا یہ اجلاس پاک روس اور پاک چین سه فریقی رابطوں کو مزید طاقت بخش سکتا ہے۔
ازبکستان، تاجکستان، اور قازقستان جیسے ممالک کیلئے پاکستان کی گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں مختصر ترین بحری راستے فراہم کرتی ہیں۔ ایس سی او کا فورم پاکستان کو وسطی ایشیا کا تجارتی مرکز بنانے کے خواب کی تعبیر کے قریب لا سکتا ہے۔
ایس سی او کے پلیٹ فارم پر بھارت کی موجودگی ہمیشہ ایک پیچیدہ عنصر رہی ہے۔ پاکستان میں اجلاس کی میزبانی کے دوران بھارتی قیادت کی شرکت یا نمائندگی نہ صرف دونوں ممالک کے روایتی تعلقات میں بریفنگز کا باعث بنے گی بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ آیا ایس سی او روایتی دوطرفہ کشیدگی سے ہٹ کر علاقائی تعاون کو آگے بڑھا سکتا ہے یا نہیں۔
سفارتی طاقت کا مظاہرہ کبھی بھی مفت نہیں ہوتا، اس کیلئے مالی، انتظامی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر ہونے والا 6.6 ارب روپے کا اخراجات درحقیقت اسی سفارتی مشق کی شروعات ہے۔
آئندہ برس ستمبر میں جب دنیا کے طاقتور ترین حکمران اسلام آباد کے ایوانوں میں جمع ہوں گے، تو پاکستان کے پاس موقع ہوگا کہ وہ نہ صرف خطے کی معاشی و سیکیورٹی سمت کا تعین کرنے میں اپنا کردار ادا کرے بلکہ دنیا پر یہ ثابت کرے کہ وہ تمام تر چیلنجز کے باوجود عالمی سطح کی قیادت اور میزبانی کا بوجھ اٹھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔�