The Khyber Times

The Khyber Times Focused on the evolving dynamics of Khyber Pakhtunkhwa, Tribal Districts, and Afghanistan. please follow and stay with us: The Khyber Times

Authentic news, insightful analysis, and unbiased commentary all in one place!

اسلام آباد میں ایس سی او سمٹ: عالمی رہنماؤں کی سیکیورٹی، معاشی اثرات اور سفارتی میدان میں پاکستان کا امتحانتحریر: دی خیب...
07/09/2026

اسلام آباد میں ایس سی او سمٹ: عالمی رہنماؤں کی سیکیورٹی، معاشی اثرات اور سفارتی میدان میں پاکستان کا امتحان

تحریر: دی خیبر ٹائمز اسپیشل رپورٹ

عالمی اور علاقائی سیاست کے افق پر پاکستان کیلئے ایک بڑا موقع دستک دے رہا ہے، لیکن اس موقع سے فائدے حاصل کرنے سے قبل اسلام آباد کو کئی بڑے، کٹھن اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین معاشی فیصلہ ساز ادارے، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں ایک اہم تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت آئندہ برس اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کیلئے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 6.6 ارب روپے (تقریباً 2 کروڑ 38 لاکھ ڈالر) مختص کئے گئے ہیں۔

اگرچہ ابتدائی طور پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے 12.6 ارب روپے (4 کروڑ 54 لاکھ ڈالر) کا مطالبہ سامنے آیا تھا، تاہم معاشی ترجیحات اور تفصیلی غور و خوض کے بعد ای سی سی نے فی الوقت 6.6 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے اضافی ضروریات کیلئے بعد میں رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں یہ محض ایک سرکاری گاڑیوں کی خریداری کا انتظامی فیصلہ نظر آتا ہے، لیکن اس کی تہہ میں علاقائی سفارت کاری، خطے کے تحفظ کا پیچیدہ تناظر اور پاکستان کیلئے عالمی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بڑا امتحان پوشیدہ ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم صرف ایک روایتی علاقائی فورم نہیں ہے بلکہ اسے 21ویں صدی کا ایک اہم جیو پولیٹیکل بلاک شمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت چین، روس، ہندوستان، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل یہ 10 رکنی اتحاد دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد اور عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 فیصد حصہ احاطہ کرتا ہے۔
پاکستان کیلئے ایس سی او کی اہمیت ہمیشہ سے دور رس رہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں قرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے شرکت کی، جس کے بعد پاکستان نے باقاعدہ طور پر 2026-27 کیلئے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ اس پیش رفت کے تحت ستمبر 2027 میں دنیا کے سب سے بڑے سیاسی اور معاشی اتحاد کے طاقتور ترین سربراہانِ مملکت کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہوں گی۔

پاکستان کیلئے یہ اجلاس کئی لحاظ سے اہم ہے، جیہسا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ تجارت، توانائی کے منصوبوں اور سی پیک (CPEC) کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے یہ ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔�عالمی دنیا اور سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینا کہ پاکستان محفوظ ہے اور ایک اہم عالمی ایونٹ کی میزبانی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت اور چین جیسے روایتی رقبا کی موجودگی میں خطے کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے میں پاکستان کے مرکزی کردار کی توثیق کی جاتی ہے۔�جب بھی عالمی طاقتوں کے سربراہان جیسے چین کے صدر، روس کے صدر یا ایران اور وسطی ایشیا کے نمائندے ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں تو ان کی سیکیورٹی کی پروٹوکول کی ضروریات کسی عام سطح کی نہیں ہوتیں۔ ایس سی او کے قواعد کے تحت تمام رکن ممالک کے سربراہان کو یکساں، فول پروف اور اعلیٰ ترین درجے کی سیکیورٹی فراہم کرنا میزبانی کرنے والے ملک کی لازمی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہوتی ہے۔
پاکستان اس وقت اندرونی اور سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں سیکیورٹی چیلنجز کے باعث بیرونی شخصیات اور بالخصوص غیر ملکی وفود کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اسلام آباد کا مقصد دنیا کے سامنے اپنے محفوظ اور پیشہ ورانہ تشخص کو نمایاں کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 30 جدید ترین اور جدید ترین سیکیورٹی نظام سے لیس بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداریاں اس میزبانی کا ایک بنیادی تکنیکی حصہ بن چکی ہیں۔
اگرچہ 6.6 ارب روپے کی گرانٹ ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب ملک معاشی اصلاحات اور سخت مالیاتی نظم و ضبط سے گزر رہا ہے، لیکن بین الاقوامی سفارتی وعدوں اور ملکی وقار کی بقا کے سامنے اس اخراجات کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کا ایس سی او اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوگا جب پورے خطے میں جیو پولیٹیکل اتحاد تیزی سے بدل رہے ہیں:
چین سی پیک کے فیز-2 اور اقتصادی راہداریوں کیلئے ایس سی او کو ایک مضبوط ڈھانچے کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب، روس اور پاکستان کے تعلقات میں گزشتہ کچھ برسوں میں برف پگھلی ہے اور دونوں ممالک توانائی اور سیکیورٹی تعاون میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا یہ اجلاس پاک روس اور پاک چین سه‌ فریقی رابطوں کو مزید طاقت بخش سکتا ہے۔
ازبکستان، تاجکستان، اور قازقستان جیسے ممالک کیلئے پاکستان کی گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں مختصر ترین بحری راستے فراہم کرتی ہیں۔ ایس سی او کا فورم پاکستان کو وسطی ایشیا کا تجارتی مرکز بنانے کے خواب کی تعبیر کے قریب لا سکتا ہے۔
ایس سی او کے پلیٹ فارم پر بھارت کی موجودگی ہمیشہ ایک پیچیدہ عنصر رہی ہے۔ پاکستان میں اجلاس کی میزبانی کے دوران بھارتی قیادت کی شرکت یا نمائندگی نہ صرف دونوں ممالک کے روایتی تعلقات میں بریفنگز کا باعث بنے گی بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ آیا ایس سی او روایتی دوطرفہ کشیدگی سے ہٹ کر علاقائی تعاون کو آگے بڑھا سکتا ہے یا نہیں۔
سفارتی طاقت کا مظاہرہ کبھی بھی مفت نہیں ہوتا، اس کیلئے مالی، انتظامی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر ہونے والا 6.6 ارب روپے کا اخراجات درحقیقت اسی سفارتی مشق کی شروعات ہے۔
آئندہ برس ستمبر میں جب دنیا کے طاقتور ترین حکمران اسلام آباد کے ایوانوں میں جمع ہوں گے، تو پاکستان کے پاس موقع ہوگا کہ وہ نہ صرف خطے کی معاشی و سیکیورٹی سمت کا تعین کرنے میں اپنا کردار ادا کرے بلکہ دنیا پر یہ ثابت کرے کہ وہ تمام تر چیلنجز کے باوجود عالمی سطح کی قیادت اور میزبانی کا بوجھ اٹھانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔�

سعودی اورافغان توانائی معاہدہ: جیو اکنامکس اور علاقائی تزویراتی توازنجنوبی اور وسطی ایشیا کی جیو اسٹریٹیجک بساط پر ایک ا...
07/09/2026

سعودی اورافغان توانائی معاہدہ: جیو اکنامکس اور علاقائی تزویراتی توازن

جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیو اسٹریٹیجک بساط پر ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے واشنگٹن سے لے کر بیجنگ، ماسکو، اسلام آباد، بیجنگ اور تہران تک کے سیاسی و سیکیورٹی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سعودی عرب کی توانائی کمپنی ڈیلٹا انرجی گروپ (Delta Energy Group) اور افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی وزارتِ کان کنی و پیٹرولیم کے مابین کابل میں طے پانے والا کثیر المیعاد معاہدہ خطے کی معاشی اور تزویراتی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت 25 سالہ عرصے کے دوران تقریباً 50 ارب ڈالر (اور بعض توسیعی جائزوں کے مطابق 10 سالہ عرصے میں فیلڈ ڈیولپمنٹ اور انفراسٹرکچر کی مد میں 60 ارب ڈالر) کی ممکنہ سرمایہ کاری کا فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی وسعت سے زیادہ اس کی دستخطی تقریب، اس میں سابق امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی پراسرار شرکت، اور اس سے جنم لینے والے علاقائی و سفارتی اثرات عالمی و علاقائی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

کابل میں طے پانے والا یہ بنیادی معاہدہ تین اہم اور مربوط انرجی پروگرامز پر مشتمل ہے، جس کا مقصد افغانستان کے ممکنہ ہائیڈرو کاربن ذخائر کی دریافت سے لے کر ان کی داخلی اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کی عملی فزیبلٹی تیار کرنا ہے۔ معاہدے کے پہلے حصے یعنی ہائیڈرو کاربن کی تلاش و پیداوار (EPSC) کے تحت ڈیلٹا انرجی کو مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں واقع "قشقاق اور ٹرپل" (Kushk and Tirpul) کے معاہداتی خطے میں کام کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ پورا علاقہ تقریباً 23,317 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور 11 بنیادی بلاکس پر مشتمل ہے، جہاں ڈیلٹا انرجی زلزلیاتی سروے، ڈرلنگ اور ذخائر کا تکنیکی جائزہ لے گی۔

دوسرا جزو ہرات گیس پروجیکٹ ہے، جس کا ہدف ہرات شہر اور وہاں کے انڈسٹریل پارک کو قدرتی گیس اور بجلی کی فراہمی کے ذریعے مقامی معیشت کو فوری فائدے پہنچانا ہے۔ سب سے اہم اور تیسرا حصہ "سینڈ گیس راہداری" (CentGas - Corridor of Prosperity) کا فریم ورک ہے، جو 700 کلومیٹر طویل قدرتی گیس ٹرانسمیشن پائپ لائن پر مشتمل ہے۔ یہ پائپ لائن ہرات کے ضلع گزارہ سے شروع ہو کر قندھار کے سرحدی ضلع اسپن بولدک تک جائیگی، جس کی 10 سالہ دورانئے میں تخمینی لاگت 10 ارب ڈالر مقرر کی گئی ہے تا کہ جنوبی ایشیا اور علاقائی منڈیوں کیلئے ایک نیا انرجی کوریڈور تشکیل دیا جا سکے، اگرچہ اس کا حتمی انحصار گیس کی تجارتی دریافت اور ریگولیٹری منظوریوں پر ہو گا۔

زلمے خلیل زاد کی پراسرار موجودگی:
کابل میں معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب میں سابق امریکی خصوصی ایلچی برائے افغان مصالحت زلمے خلیل زاد کی موجودگی نے بین الاقوامی اور افغان عوامی حلقوں میں گہرے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں امریکی تیل کمپنی "یونوکل" (Unocal) کے مشیر اور بعد میں دوحہ معاہدے کے مرکزی کردار کے طور پر، خلیل زاد کا ماضی اس تحرک کو محض ایک رسمی دورہ ثابت نہیں ہونے دیتا۔ عالمی سفارتی برادری میں ان کی موجودگی کو تین زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے: وہ یا تو طالبان کے غیر رسمی عالمی نمائندے کے طور پر سفارتی الگ تھلگ پن ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا سعودی سرمایہ کاری کنسورشیم کے سینئر جیو پولیٹیکل مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں، یا پھر واشنگٹن کے انٹیلی جنس و پالیسی ساز ایوانوں کیلئے ایک اسٹریٹیجک بیک چینل (Strategic Surrogate) کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ہم امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے باضابطہ موقف کا جائزہ لیتے ہیں۔ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی جانب سے امریکی کمپنیوں کو لیتھیم اور تانبے کی کان کنی میں سرمایہ کاری کی علانیہ پیشکش کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے باضابطہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، کابل میں اس سعودی تجارتی معاہدے کے موقع پر ایک بااثر سابق امریکی سفارت کار کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ ظاہری طور پر طالبان پر پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے پسِ پردہ اپنے خلیجی اتحادیوں کے ذریعے افغان معیشت کے کلیدی شعبوں پر اپنا غیر مستقیم کنٹرول اور نگرانی برقرار رکھنا چاہتا ہے تا کہ بیجنگ اور ماسکو کو افغانستان کے ہائیڈرو کاربن زونز پر بلا شرکتِ غیرے قبضہ کرنے سے روکا جا سکے۔

سعودی عرب کی جانب سے سفارت خانے کی بحالی، جوائنٹ اکنامک کمیشن کی فعال سازی اور حال ہی میں طے پانے والا "مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ" (Mecca Pact) اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاض افغانستان میں معاشی و سیکیورٹی نفوذ بڑھا رہا ہے۔ پاکستان اس پیش رفت کو محتاط نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان اور افغانستان کی دوطرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چونکہ 700 کلومیٹر طویل سینڈ گیس پائپ لائن کا آخری سرا قندھار کے ضلع اسپن بولدک یعنی پاکستان کی سرحد تک پہنچتا ہے، اس لئے سعودی عرب کے 50 ارب ڈالر کا معاشی لیوریج (Economic Leverage) پاکستان کیلئے ایک بڑا سفارتی موقع ہے۔ اسلام آباد یہ امید کر رہا ہے کہ ریاض طالبان پر سیکیورٹی دباؤ بڑھا کر ٹی ٹی پی کے خاتمے اور سرحدی امن کی ضمانت حاصل کرے گا تا کہ سعودی سرمائے کی حفاظت ممکن ہو سکے۔

روس اس پیش رفت پر گہرے تحفظات رکھتا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ (UNAMA) کے مطابق افغان سرزمین پر 20,000 سے 23,000 کے قریب غیر ملکی جنگجو (خصوصاً داعش خراسان، ٹی ٹی پی،ای ٹی آئی ایم اور انصار اللہ) موجود ہیں۔ ماسکو کو خدشہ ہے کہ اتنے جنگجوؤں کی موجودگی کے باوجود امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں کے ذریعے اقتصادی و انٹیلی جنس واپسی کر رہا ہے، جو وسطی ایشیا کی سیکیورٹی اور روسی انرجی مارکیٹ دونوں کیلئے ایک چیلنج ہے۔ چین بھی بظاہر خاموش ہے لیکن یہ اس کی طویل المیعاد حکمتِ عملی ہے، بیجنگ پہلے فزیبلٹی اور سیکیورٹی کا انتظار کر رہا ہے، لیکن اگر سعودی کمپنی تکنیکی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر ناکام ہوتی ہے تو چین متبادل کے طور پر آگے بڑھے گا اور گوادر و سی پیک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ دوسری جانب ایران اپنی مشرقی سرحد ہرات میں سعودی معاشی داخلے کو سیکیورٹی گھیراؤ اور اپنی برآمدی انرجی مارکیٹ کیلئے خطرہ سمجھتا ہے، جس کے جواب میں وہ طالبان سے سفارتی بات چیت اور اپنے غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے ردِعمل دے سکتا ہے؎۔

سعودی کمپنی اور افغان حکومت کے درمیان 50 ارب ڈالر کا توانائی معاہدہ محض تیل و گیس کا سودا نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی جیو اکنامک صف بندیوں کی ایک بڑی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ اس نے افغانستان کو خطے کی عظیم طاقتوں کی معاشی و سیکیورٹی مسابقت کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں آئندہ دنوں میں ایک نیا تزویراتی توازن جنم لے گا۔

جنوب مشرقی ایشیا میں چین کا راستہ روکنے کی امریکی حکمت عملی؛ 11 ممالک اور 11 ملین ڈالرز کی خاموش جنگ تحقیق : ناصر داوڑعا...
07/09/2026

جنوب مشرقی ایشیا میں چین کا راستہ روکنے کی امریکی حکمت عملی؛ 11 ممالک اور 11 ملین ڈالرز کی خاموش جنگ

تحقیق : ناصر داوڑ

عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی چپقلش اور جیو پولیٹیکل مقابلے کے اس دور میں امریکہ نے جنوب مشرقی ایشیا میں چینی اثر و رسوخ، خصوصاً بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کے مقابلے کیلئے ایک نئی اور منظم نرم طاقت (Soft Power) کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) اور امریکی محکمہ خارجہ کی دستاویزات اور حالیہ رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ خطے کے 11 ممالک میں چینی منصوبوں کی شفافیت اور اثرات کو اجاگر کرنے کیلئے 11 ملین ڈالرز کے خصوصی فنڈز فعال کئے گئے ہیں۔

چین کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور تاثر بنانے کیلئے یہ فنڈنگ جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم (آسیان) کے 10 رکن ممالک انڈونیشیا، فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، کمبوڈیا، لاؤس، میانمار، سنگاپور، برونائی اور مشرقی تیمور پر مشتمل ہے۔ یہ خطہ بحیرہ جنوبی چین (South China Sea) اور اہم تجارتی سمندری شاہراہوں پر واقع ہونے کی وجہ سے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کیلئے شدید سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔

امریکی پروگرام "Countering PRC Malign Influence" کے تحت یہ رقم براہِ راست عسکری یا سیاسی مقاصد کے بجائے صحافتی، تحقیقی اور عوامی ذرائع کے ذریعے خرچ کی جا رہی ہے:

1. تحقیقاتی صحافت اور میڈیا گرانٹس: خطے کے مقامی اور آزاد میڈیا اداروں کو فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ چین کے اربوں ڈالرز کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں اور ریلوے منصوبوں کی مالیاتی شرائط، قرضوں کے بوجھ اور ماحولیاتی اثرات پر تفصیلی تحقیقاتی رپورٹس شائع کریں۔
2. ڈیٹا ٹریکنگ اور تھنک ٹینکس: یونیورسٹیوں اور پالیسی ریسرچ اداروں کو گرانٹس دی جا رہی ہیں تاکہ وہ چینی سرمایہ کاری اور بحیرہ جنوبی چین میں بیجنگ کی بحری و سیکیورٹی پیش رفت کا درست ڈیٹا اکٹھا کر کے عالمی سطح پر پیش کریں۔
3. سول سوسائٹی اور مقامی احتجاجی آوازیں: دریائے میکونگ (Mekong River) پر چین کے ڈیموں کی تعمیر سے متاثرہ مقامی آبادیوں اور ماحولیاتی این جی اوز کی معاونت کی جا رہی ہے تاکہ وہ ان منصوبوں کی شفافیت کیلئے قانونی اور عوامی سطح پر آواز اٹھا سکیں۔
4. ڈیجیٹل بیانیہ: چین کے سرکاری میڈیا (مثلاً CGTN اور Xinhua) کے مقابلے میں مقامی زبانوں میں ڈیجیٹل مواد اور تجزئیے عام کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام میں امریکی و علاقائی موقف کو پذیرائی مل سکے۔
اس حکمت عملی کا سب سے زیادہ اثر فلپائن، کمبوڈیا، لاؤس اور ویتنام میں دیکھا جا رہا ہے۔ فلپائن میں جہاں سیکیورٹی کشیدگی بلند سطح پر ہے، وہاں بحری حدود اور چینی سرمایہ کاری پر عوامی بحث کو متحرک کیا گیا ہے، جبکہ کمبوڈیا اور لاؤس میں چینی قرضوں کے نفاذ اور ماحولیاتی خدشات پر توجہ مرکوز ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں اپنایا جانے والا یہ 'میڈیا و انفارمیشن وارفیر' ماڈل صرف اسی خطے تک محدود نہیں ہے۔ اسی نوعیت کی امریکی گرانٹس اور تحقیقاتی فنڈنگ پروگرام جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان میں 'پاک چین اقتصادی راہداری' (CPEC) کے شفافیت سے متعلق بیانئے پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں، جہاں بین الاقوامی ادارے مقامی صحافتی نیٹ ورکس اور تھنک ٹینکس کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے شفاف جائزوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

ایران کا خطے میں مشترکہ سیکیورٹی کیلئے چینی تجویز کی مکمل حمایت کا اعلاندی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ نیوز ڈیسک: ایرانی پارلیمن...
05/09/2026

ایران کا خطے میں مشترکہ سیکیورٹی کیلئے چینی تجویز کی مکمل حمایت کا اعلان

دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ نیوز ڈیسک: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا ہے کہ ایران خطے میں مشترکہ سیکیورٹی کے قیام سے متعلق چین کی جانب سے پیش کردہ تجویز کی مکمل اور بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ کا یہ اقدام خطے میں پائیدار امن اور خودکفیل سیکیورٹی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
محمد باقر قالیباف نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ چین کی جانب سے مشترکہ سیکیورٹی اپنائے جانے پر زور دینا درحقیقت وہی بنیادی اصول ہے جس کی جمہوریہ اسلامی ایران طویل عرصے سے وکالت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام علاقائی ممالک کی باہمی شمولیت کے بغیر خطے کا امن ممکن نہیں۔
ایرانی اسپیکر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک کو چاہئے کہ وہ اپنے مستقبل کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لیں اور بیرونی طاقتوں کا انتظار کرنے کے بجائے خود فیصلہ سازی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں حقیقی استحکام صرف اسی وقت ممکن ہے جب ایک نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، جس کی نشوونما اور بنیادیں خود اسی خطے کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس قسم کے علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کے قیام کیلئے ہر سطح پر تعاون کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
تہران کا موقف بیان کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ علاقائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے سے باہر کی طاقتوں پر اپنا انحصار ختم کریں اور باہمی تعاون، افہام و تفہیم کے ذریعے سیکیورٹی کے پائیدار انتظامات قائم کریں۔ غیر ملکی مداخلت کے بجائے باہمی اعتماد ہی خطے کے امن و ترقی کی ضمانت ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کے مقررہ قوانین کی خلاف ورزی پر مزید 11 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جس کے بعد متاثرہ جہازوں ...
03/09/2026

ایران نے آبنائے ہرمز کے مقررہ قوانین کی خلاف ورزی پر مزید 11 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جس کے بعد متاثرہ جہازوں کی کل تعداد 56 ہو گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان جہازوں کو حدود میں آنے پر ضبط یا حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ اپنی رائے کمنٹس میں دیں!

#ایران

دوسروں کے صوبے تقسیم کرنے والے، پنجاب پر خاموش کیوں؟  ایک اہم اور چبھتا ہوا سوال!                              Highlight...
03/09/2026

دوسروں کے صوبے تقسیم کرنے والے، پنجاب پر خاموش کیوں؟ ایک اہم اور چبھتا ہوا سوال!


Highlight ⊕ Kurram Sabawon News

بائلی اضلاع میں خاصہ دار فورس کا بڑا قدم: دفاتر کے بائیکاٹ کے بعد کوہاٹ ٹنل اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکیخیبر/ جم...
01/09/2026

بائلی اضلاع میں خاصہ دار فورس کا بڑا قدم: دفاتر کے بائیکاٹ کے بعد کوہاٹ ٹنل اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی

خیبر/ جمرود ( دی خیبرٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی سابقہ خاصہ دار فورس حالیہ پولیس اہلکاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اپنے جائز مطالبات اور سروس حقوق کی عدم فراہمی کے خلاف اہلکاروں نے باقاعدہ احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے تھانوں اور دفاتر کے امور کا بائیکاٹ شروع کر دیا ہے۔ جمرود میں تاریخی بابِ خیبر کے سامنے دئے گئے دھرنے میں سابقہ خاصہ دار فورس کمیٹی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا، تو احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے اور بالآخر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک پھیلایا جائے گا۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر نے بتایا کہ مطالبات کے حق میں منگل سے روزنامچہ درج کرنے اور ایف آئی آر کاٹ کر کیسز کی تفتیش کرنے کا تمام کام روک دیا گیا ہے۔ فورس نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (DPOs) کے انتظامی احکامات ماننے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔
اسی کے ساتھ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے علاوہ دیگر اضلاع سے بھیجے گئے ڈی پی اوز، ایس پیز اور ایم ٹی اوز (MTOs) رضا کارانہ طور پر واپس چلے جائیں، کیونکہ مقامی فورس کو اپنے حقوق سے محروم رکھ کر بیرونی افسران کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ تاہم، کمیٹی نے یہ وضاحت بھی کی کہ سیکورٹی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اہلکار پاک فوج اور ایف سی کے ساتھ مل کر تمام اہم اور حساس چیک پوسٹوں پر اپنی ڈیوٹیاں اسی طرح سرانجام دیتے رہیں گے تاکہ علاقے کا امن و امان متاثر نہ ہو۔
فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ دہائیوں سے خدمات سرانجام دینے والی 30 سے 32 ہزار کے قریب خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کر کے خیبرپختونخوا پولیس کا حصہ بنایا جائے گا۔ لیکن اہلکاروں کے بقول گزشتہ کئی سالوں سے انہیں شدید عدم تحفظ اور محرومی کا سامنا ہے۔
دھرنے کے شراکا کا کہنا ہے، کہ قبائلی اضلاع میں تھانوں، چوکیوں اور پولیس لائنز کے نام پر کوئی خاطر خواہ عمارتیں یا ضروری سہولیات دستیاب نہیں ہیں، جس سے کام کا ماحول انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔�اہلکاروں نے پنجاب پولیس اور خیبر پختونخوا پولیس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کو بارڈر ایریا الاؤنس، لا اینڈ آرڈر الاؤنس اور معقول ڈیلی الاؤنسز ملتے ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں فرض نبھانے والے اہلکاروں کو ان بنیادی مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔� خاصہ دار فورس کو پولیس میں مرج تو کر دیا گیا، لیکن ان کی ترقیوں، رینک دینے اور پینشن سے متعلق قانونی اور انتظامی ڈھانچہ آج تک واضح نہیں ہو سکا۔�احتجاجی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایپکس کمیٹی کے فیصلوں، وزیراعلیٰ، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کی جانب سے فورس کے دیرینہ مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی، تو اگلا قدم انتہائی سخت ہوگا۔
کمیٹی نے دھمکی دی ہے کہ وہ درہ آدم خیل کے مقام پر کوہاٹ ٹنل کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کر دیں گے۔ اس شاہراہ کی بندش سے صوبے کے جنوبی اضلاع کرک، بنوں، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے علاوہ سندھ اور بلوچستان جانے والی تمام تر درامداتی اور برامداتی ٹریفک رک جائیگی۔ اس کے باوجود اگر ان کے مطالبات پر کان نہ دھرا گیا، تو ہزاروں کی تعداد میں خاصہ دار اہلکار اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور وفاقی وزارتِ داخلہ کے دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کیلئے دھرنا دیں گے۔
سرحدی اور نازک ترین علاقوں میں قائم خاصہ دار فورس دہائیوں سے علاقے کے رسم و رواج اور سیکیورٹی معاملات کی ضامن رہی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف برسرِ پیکار اہم سرحدی خطے میں فورس کے اندر پائے جانے والے اس اندرونی اضطراب کو اگر وقت پر نہ سنبھالا گیا، تو اس کے اثرات صرف پولیس کے نظام پر ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و امان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ ادارے آپس کی کشیدگی کو ختم کر کے فورس کی جائز شکایات کا فوری اور پائیدار حل نکالیں۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مضبوط عسکری اتحاد کا سنگ میل: استنبول میں مکہ دفاعی معاہدے کی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس...
31/08/2026

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مضبوط عسکری اتحاد کا سنگ میل: استنبول میں مکہ دفاعی معاہدے کی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس شروع
پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے کی مشترکہ کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس آج ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں شرکت کیلئے پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف پر مشتمل اعلیٰ سطحی عسکری و سفارتی وفد ترکیہ پہنچ چکا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اس اہم ترین اجلاس میں ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس دورے کے دوران ترکیہ کی اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی قیادت سے الگ سے بھی دوطرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
اجلاس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی سلامتی کے امور سرِفہرست ہیں، جس کا بنیادی مقصد تینوں برادر ممالک کی عسکری صلاحیتوں کو یکجا کرنا، مسلح افواج کے مابین عملی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور دفاعی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار اور تحقیق میں تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اس تاریخی پیش رفت پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری مشترکہ خوش حالی اور سکیورٹی کی ضامن ہے، جبکہ مکہ معاہدے نے دونوں ممالک کے اسٹریٹجک بھائی چارے کی تصدیق کی ہے جو پاکستان اور ترکیہ کو سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے جوڑتے ہوئے مشترکہ تحفظ اور دفاعی قوت کی راہ ہموار کرتا ہے۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق، ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت و ٹیکنالوجی، پاکستان کی تجربہ کار عسکری قوت و ایٹمی صلاحیت، اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک و معاشی وسائل کا یکجا ہونا مسلم دنیا میں ایک طاقتور سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد رکھ رہا ہے، اور استنبول میں ہونے والے اس اجلاس کے نتائج آنے والے دنوں میں خطے کے دفاعی منظر نامے اور مسلم ممالک کی خودکفالت کی جانب ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوں گے۔

لکی مروت، بنوں پولیس امن کمیٹیوں کا اختتام: وقتی سمجھوتا یا پائیدار امن کی طرف پہلا قدم؟امن کمیٹی، پولیس اور سیکیورٹی اد...
31/08/2026

لکی مروت، بنوں پولیس امن کمیٹیوں کا اختتام: وقتی سمجھوتا یا پائیدار امن کی طرف پہلا قدم؟

امن کمیٹی، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے ایک بڑے بحران کا راستہ کیوں ہموار کیا؟
دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
لکی مروت اور بنوں کے درمیان حالیہ کشیدگی فی الوقت ایک معاہدے اور فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے بعد ٹلتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم اس بحران کا اختتام ابھی مکمل امن کی ضمانت نہیں۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سڑکوں پر احتجاج ختم ہوا یا فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کر لئے، بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی، مقامی امن کمیٹیوں کے کردار، پولیس کے اختیارات اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کمانڈ اور رابطے کا نظام کس طرح کام کرے گا؟
حالیہ بحران نے ایک ایسے انتظامی اور سیکیورٹی خلا کی نشاندہی کی ہے جسے اگر مستقل بنیادوں پر دور نہ کیا گیا تو ایک معمولی واقعہ بھی دوبارہ شدید کشیدگی پیدا کرسکتا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا چیلنج اعتماد کا بحران ہے۔ پولیس، امن کمیٹیوں، سیاسی نمائندوں، انتظامیہ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان اگر اختیارات اور ذمہ داریوں کی حدود واضح نہ ہوں تو دہشتگردی کے خلاف جنگ خود ایک انتظامی تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
لکی مروت اور بنوں کے علاقوں میں دہشتگردی کا مسئلہ نیا نہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان اضلاع میں پولیس، سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل دہشتگرد حملوں کا سامنا رہا ہے۔
لیکن موجودہ صورتحال کی حساسیت اس لئے زیادہ ہے کہ یہاں دو الگ نوعیت کے مسائل ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔
ایک طرف مقامی دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف اس کارروائی میں شامل مقامی عناصر، امن کمیٹیوں اور پولیس کے اختیارات پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی اختیار کی واضح حد بندی ضروری ہوجاتی ہے۔
اگر امن کمیٹی کا کردار صرف معاونت، معلومات کی فراہمی اور مجاز اداروں کے ساتھ تعاون تک محدود ہے تو اسے اسی دائرے میں رکھا جانا چاہئے۔ دہشتگردی کے خلاف گرفتاری، تفتیش، مقدمہ، تفتیشی تحویل اور قانونی کارروائی کا اختیار ریاست کے باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہونا چاہئے۔

فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کو ختم کرنے کی کوشش میں امن کمیٹی کے کردار کو قانونی اور انتظامی حدود میں لانے پر خاص زور دیا گیا ہے۔
معاہدے کے مطابق کسی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جائے گا۔
دہشتگردی یا عسکریت پسندی میں مطلوب افراد کو فوری طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے حوالے کیا جائے گا اور ان کی گرفتاری باقاعدہ طور پر ظاہر کی جائے گی۔
یہ شق انتہائی اہم ہے کیونکہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں سب سے بنیادی اصول یہی ہے کہ مشتبہ شخص کو قانون کے دائرے میں لاکر اس کے خلاف شفاف قانونی کارروائی کی جائے۔
یعنی کسی مقامی کمیٹی، گروہ یا غیر رسمی فورم کو ریاستی اداروں کے متوازی حراستی اختیار حاصل نہیں ہونا چاہئے۔

معاہدے کا ایک اہم پہلو امن کمیٹی کے ارکان کیلئے مخصوص اور منظور شدہ وردی کی شرط بھی ہے۔
بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی شرط معلوم ہوسکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک اہم اصول موجود ہے، ریاستی کارروائی میں شامل کسی بھی معاون فورس یا کمیٹی کے ارکان کی شناخت واضح ہونی چاہئے۔
غیر واضح شناخت، غیر رسمی مسلح گروہوں اور ریاستی اہلکاروں کے درمیان فرق ختم ہونے سے نہ صرف شہریوں کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں کسی بھی کارروائی کی ذمہ داری طے کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
اسی لئے امن کمیٹی کو ایک معاون کردار تک محدود رکھنا اس معاہدے کی بنیادی روح معلوم ہوتی ہے۔
مرکزی انسدادِ دہشتگردی کارروائیاں CTD، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دیں گے، جبکہ امن کمیٹی صرف مجاز حکام کی ہدایات کے تحت معاونت کرے گی۔
یہ تقسیم اگر عملی طور پر بھی برقرار رہتی ہے تو مستقبل کے تنازعات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماورائے عدالت کارروائیوں پر پابندی: معاہدے کی سب سے اہم شق:
معاہدے میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی، تشدد، غیر قانونی گرفتاری اور انتقامی کارروائیوں سے مکمل اجتناب کی شرط شامل ہے۔
یہ شق محض انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی انسدادِ دہشتگردی حکمت عملی کی ساکھ سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست اگر قانون سے ہٹ کر کارروائی کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں مقامی آبادی کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب قانون کے مطابق کارروائی، گرفتاری کا اندراج، تفتیش اور عدالت کے سامنے مقدمہ پیش کرنا ریاستی اداروں کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔
معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی کے نام پر کسی شہری کو ذاتی طور پر ہراساں، گرفتار یا سزا نہیں دی جائے گی۔
یہ شرط اس خدشے کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف اجتماعی کارروائی اور ذاتی دشمنیوں کے درمیان لکیر واضح رکھنا ضروری ہے۔

لکی مروت اور بنوں جیسے قبائلی و نیم قبائلی سماجی ڈھانچے رکھنے والے علاقوں میں ذاتی، خاندانی اور مقامی تنازعات کا اپنا ایک تاریخی پس منظر ہے۔
ایسے ماحول میں کسی شخص کو دہشتگرد قرار دینا، کسی پر مخبری کا الزام لگانا یا کسی مقامی دشمنی کو انسدادِ دہشتگردی کے عنوان میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
اسی لئے معاہدے میں منشیات، غیر قانونی اسلحے، بھتہ خوری، ذاتی دشمنی اور اختیارات کے غلط استعمال سے اجتناب کی شرط کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اصل امتحان یہ ہوگا کہ ان شرائط پر عملدرآمد کون اور کس طریقے سے یقینی بناتا ہے؟

حالیہ بحران سے ایک بنیادی سبق یہ سامنے آتا ہے کہ مقامی دہشتگرد نیٹ ورکس سے نمٹنے کیلئے پولیس کے کردار کو واضح اور مضبوط کرنا ضروری ہے۔
پولیس مقامی جغرافیہ، آبادی، قبائلی و سماجی روابط اور جرائم پیشہ و عسکریت پسند نیٹ ورکس کے بارے میں وہ معلومات رکھتی ہے جو کسی بھی انسدادِ دہشتگردی حکمت عملی کیلئے اہم ہوسکتی ہیں۔
خصوصاً گزشتہ چند ماہ کے دوران پولیس کی کارروائیوں کو مؤثر قرار دئے جانے کے تناظر میں ضروری ہے کہ ان کارروائیوں کی رفتار برقرار رکھی جائے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس کسی دوسرے ریاستی ادارے سے الگ ہوکر کام کرے۔
اصل ضرورت اداروں کے درمیان واضح کمانڈ، مشترکہ انٹیلی جنس اور آپریشنل رابطے کی ہے۔
پولیس کو مطلوب دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا اختیار اور قانونی تحفظ ملنا چاہئے، جبکہ CTD اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ معلومات کا فوری تبادلہ یقینی بنایا جانا چاہئے۔
لکی مروت اور ملحقہ علاقوں کی سیکیورٹی صورتحال کا ایک اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو پنجاب کی سرحد سے متصل علاقے اور گھنے جنگلات ہیں۔
مقامی طور پر بعض جنگلاتی علاقوں کو "درگہ" کہا جاتا ہے۔
ایسے جغرافیائی مقامات کسی بھی مسلح گروہ کیلئے عارضی پناہ، نقل و حرکت، اسلحہ چھپانے یا کارروائی کے بعد فرار کیلئے استعمال ہوسکتے ہیں۔
اسلئے صرف شہری آبادیوں میں سرچ آپریشن یا چیک پوسٹوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جنگلاتی علاقوں کی باقاعدہ جغرافیائی نقشہ بندی کی جائے،مشتبہ راستوں اور گزرگاہوں کی نشاندہی کی جائے، مرحلہ وار کلیئرنس کی جائے اور کلیئرنس کے بعد مستقل نگرانی کا نظام بنایا جائے، ساتھ ساتھ پنجاب و خیبر پختونخوا کے متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا فوری تبادلہ یقینی بنایا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے کو دوبارہ غیر نگرانی شدہ نہ چھوڑا جائے، ورنہ ایک مرتبہ صاف کیا گیا علاقہ دوبارہ محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
کسی بھی عسکریت پسند تنظیم کیلئے صرف جنگجو ہی اہم نہیں ہوتے، اس کے پیچھے ایک پورا سپورٹ نیٹ ورک ہوسکتا ہے جس میں رہائش، خوراک، نقل و حرکت، مالی معاونت، مواصلات، مقامی سہولت کاری اور دیگر لاجسٹک ضروریات شامل ہوتی ہیں۔
لکی مروت و بنوں بحران کے تناظر میں اس پہلو پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
جو لوگ دانستہ طور پر دہشتگردوں کو پناہ، خوراک، اسلحہ، مالی معاونت یا دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں، ان کی شناخت ہونی چاہئے۔ لیکن اس عمل میں بھی ثبوت، قانون اور عدالتی طریقہ کار کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔
بغیر ثبوت کسی شہری یا خاندان کو دہشتگردوں کا معاون قرار دینا مسئلہ حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔

انسدادِ دہشتگردی کی کامیابی کا انحصار صرف آپریشن پر نہیں بلکہ اس معلومات پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر آپریشن کیا جاتا ہے۔لکی مروت اور بنوں میں مقامی سطح پر انٹیلی جنس جمع کرنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
پولیس، CTD، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ایسا نظام ہونا چاہئے جس میں معلومات جمع ہوں ، تصدیق ہو، تجزیہ ہو، متعلقہ ادارے تک فوری پہنچے، کارروائی ہو، نتیجہ دوبارہ انٹیلی جنس نظام میں شامل کیا جائے۔
اگر کسی ادارے کے پاس اہم معلومات موجود ہوں لیکن دوسرے متعلقہ ادارے تک بروقت نہ پہنچیں تو بہترین آپریشنل صلاحیت بھی محدود ہوجاتی ہے۔
اسی لئے موجودہ بحران کے بعد سب سے اہم اصلاحات میں سے ایک انٹیلی جنس شیئرنگ کا مقامی اور ضلعی سطح پر مضبوط نظام ہونا چاہئے۔

معاہدے میں پولیس کو اطلاع دینے کی شرط کیوں اہم ہے؟
معاہدے کے مطابق کسی کارروائی یا چھاپے سے قبل ڈی ایس پی یا ڈی پی او بنوں کو باقاعدہ اطلاع دی جائیگی۔ یہ شق بظاہر انتظامی نوعیت کی ہے، لیکن اس کا تعلق براہ راست کمانڈ اینڈ کنٹرول سے ہے۔
اگر ایک ہی علاقے میں متعدد مسلح یا قانون نافذ کرنے والے عناصر اپنی اپنی سطح پر کارروائیاں شروع کردیں تو غلط شناخت، دوستانہ فائرنگ، شہریوں میں خوف اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔اسی لئے ہر آپریشن کی ذمہ داری، کمانڈ اور قانونی حیثیت واضح ہونا ضروری ہے۔

معاہدے میں امن کمیٹی کے ارکان کو احتجاج، دھرنے یا سڑکیں بند کرنے میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہ شق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فریقین نے سیکیورٹی کے مسئلے کو سیاسی یا عوامی دباؤ کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ امن کمیٹی یا اس کے ارکان کے جائز تحفظات کے اظہار کیلئے قانونی اور باقاعدہ فورم دستیاب ہو۔
محض احتجاج پر پابندی مسئلے کا مستقل حل نہیں، اصل حل یہ ہے کہ شکایات متعلقہ اداروں تک پہنچیں اور ان کا فیصلہ مقررہ طریقہ کار کے تحت ہو۔

معاہدے میں کسی ادارے کے ساتھ اختلاف کی صورت میں ریجنل پولیس آفیسر (RPO) بنوں کی ہدایت کو حتمی انتظامی حوالہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ شق اداروں کے درمیان تنازع کو سڑک یا مسلح طاقت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ادارہ جاتی چین آف کمانڈ میں رکھنے کی کوشش ہے۔ اگر اس اصول پر مستقل طور پر عمل کیا جائے تو مستقبل میں کسی معمولی اختلاف کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔

معاہدے میں ایم این اے شیر افضل خان مروت، ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ اور ایم پی اے پختون یار خان کو اہلکاروں کے تبادلوں یا انتظامی خدشات کے ازالے کیلئے قانونی و جمہوری کردار ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
یہاں بھی ایک اہم لکیر کھینچنا ضروری ہے۔ سیاسی نمائندوں کا کردار ضمانت، عوامی شکایات کی نمائندگی اور جمہوری رابطے تک محدود رہنا چاہئے۔ انہیں پولیس یا CTD کے روزمرہ آپریشنل فیصلوں کا متبادل نہیں بننا چاہئے۔
اگر سیاسی قیادت انتظامی شکایات کو قانونی طریقے سے متعلقہ فورم تک پہنچاتی ہے تو یہ ادارہ جاتی نظام کو مضبوط کرتی ہے، لیکن اگر سیاسی دباؤ آپریشنل فیصلوں میں براہ راست مداخلت بن جائے تو وہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے جسے ختم کرنے کیلئے معاہدہ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر لکی مروت اور بنوں کے علاوہ خیبر پختونخوا کے عوامی حلقے یا سوشل ایکٹیویسٹ کا انتہائی اہم سوال نوٹ کیا گیا، کہ کیا اس معاہدے کے بعد بحران ختم ہوسکتا ہے؟ یہ شاید اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ فی الوقت کشیدگی کا کم ہونا مثبت پیش رفت ہے، لیکن اسے مستقل امن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ بحران کا اصل امتحان اگلے مرحلے میں ہوگا۔
کیا امن کمیٹی اپنے متعین کردار تک محدود رہتی ہے؟
کیا پولیس کو اپنے قانونی اختیارات کے مطابق کام کرنے کی آزادی ملتی ہے؟
کیا CTD مطلوب افراد کے خلاف قانونی کارروائی بروقت مکمل کرتا ہے؟
کیا مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات شیئر کرتے ہیں؟
کیا پنجاب سے متصل جنگلاتی اور بعض پہاڑی علاقوں کی مسلسل نگرانی ہوتی ہے؟
کیا دہشتگردوں کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر کارروائی ہوتی ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا کسی نئے واقعے کی صورت میں فریقین دوبارہ سڑکوں پر آنے کے بجائے اسی معاہدے کے طے شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت معاملہ حل کریں گے؟
شہریوں کے سوالات بالکل جائز ہے ان کا حق ہے کہ کوئی بھی شہری سنجیدہ سوال اٹھائے اور مترلقہ حلقے ان سوالات کا ترجیحی بنیادوں پر غور کریں، یہی کامیابی کی جانب پہلا پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی سے سب سے بڑا سبق یہی ملتا ہے کہ بحران ختم ہونے کے بعد سیکیورٹی اداروں کو مطمئن ہوکر بیٹھ نہیں جانا چاہئے۔
دہشتگرد نیٹ ورک اپنی حکمت عملی تبدیل کرسکتے ہیں۔ ایک بڑا حملہ، کسی اہم شخصیت کی ہلاکت، پولیس اہلکاروں پر حملہ، کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا کسی شہری کے ساتھ مبینہ زیادتی دوبارہ عوامی غصے کو جنم دے سکتی ہے۔
ایسے میں اگر اداروں کے درمیان اعتماد پہلے سے کمزور ہو تو ایک مقامی واقعہ تیزی سے پولیس بمقابلہ امن کمیٹی، سیاسی قیادت بمقابلہ انتظامیہ یا عوام بمقابلہ ریاست کے تنازع میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسلئے موجودہ مفاہمت کو اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک کا آغاز سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دی خیبر ٹائمز کا تجزیہ: آگ بجھ گئی ہے، راکھ ابھی گرم ہے
لکی مروت و بنوں بحران فی الوقت ٹل گیا ہے، مگر اس کے بنیادی اسباب پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
ریاست کیلئے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ اختیار اور ذمہ داری کی لکیر واضح کی جائے۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائی ریاست کے باقاعدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ پولیس اور CTD کو مقامی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کیلئے مطلوبہ وسائل، انٹیلی جنس اور قانونی اختیار دیا جائے۔ امن کمیٹیوں کو معاون اور رابطہ کاری کے کردار تک محدود رکھا جائے۔
اس کے ساتھ پنجاب سے متصل جنگلاتی پٹی اور مقامی طور پر "درگہ" کہلانے والے ممکنہ محفوظ علاقوں پر مستقل توجہ دی جائے۔
صرف ایک مرتبہ آپریشن کرنا کافی نہیں ہوگا۔ کلیئر، ہولڈ اور مانیٹر کی مستقل حکمت عملی درکار ہے۔
دوسری جانب دہشتگردوں کے ممکنہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی بھی قانون اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہئے، تاکہ انسدادِ دہشتگردی کی کارروائی ذاتی دشمنیوں یا اجتماعی سزا میں تبدیل نہ ہو۔
اور سب سے اہم: انٹیلی جنس شیئرنگ:
اگر پولیس کو مقامی سطح پر حاصل ہونے والی معلومات بروقت CTD اور دیگر متعلقہ اداروں تک پہنچتی رہیں، اور مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کریں، تو دہشتگردی کے خلاف کارروائی زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔
حالیہ عرصے میں کسی بڑے واقعے کا نہ ہونا یقیناً حوصلہ افزا ہے، لیکن اسے خطرے کے خاتمے کی علامت نہیں سمجھا جاسکتا۔
لکی مروت اور بنوں کو اس وقت وقتی سکون نہیں، مستقل سیکیورٹی میکانزم کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس خطے میں امن کا سب سے بڑا دشمن صرف دہشتگرد نہیں، اداروں کے درمیان عدم اعتماد، اختیارات کا ابہام اور معلومات کا بروقت تبادلہ نہ ہونا بھی اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔
موجودہ معاہدہ اگر صرف ایک وقتی سیاسی سمجھوتہ بن کر رہ گیا تو اگلا بحران شاید پہلے سے زیادہ شدید ہو۔لیکن اگر اسے واضح کمانڈ، قانونی کارروائی، مضبوط پولیسنگ، مؤثر انٹیلی جنس اور اداروں کے درمیان مستقل رابطے کی بنیاد بنا دیا گیا تو یہی بحران ایک ایسے نظام کی تشکیل کا نقطۂ آغاز بھی بن سکتا ہے جو لکی مروت، بنوں اور ملحقہ علاقوں میں طویل المدتی امن کی بنیاد رکھ سکے۔ فیصلہ اب اس بات پر ہوگا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد ادارے اسے کس حد تک عملی حقیقت بناتے ہیں۔

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Khyber Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Khyber Times:

Shortcuts

Share