08/07/2026
🔹خیبر پختون خواہ کی اسمبلی پرائمری سکول کی اسمبلی ہے.خیبر پختون خواہ میں گزشتہ 14 سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اس سے پہلے جتنی بھی حکومتیں آئیں، اتنی کرپشن نہیں ہوئی جتنی کرپشن پی ٹی آئی کی حکومت نے کی ہے۔
🔹خیبر پختون خواہ اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اپنے لیے روز بروز اسمبلی میں قوانین بنا کر پاس کر رہے ہیں۔ اپنے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن، گریڈ 17، ملازمین، ڈرائیور، سیکیورٹی گارڈ، مالی، باورچی وغیرہ تاحیات ان کے ساتھ رہیں گے۔ ان سے پہلے اسمبلی میں جتنے بھی سپیکر آئے، انہوں نے ایسے بل پاس نہیں کیے۔ اس لالچی نے یہ بل اپنے لیے پاس کیا۔ اس کے علاوہ اس نے ایک اور بل پاس کیا جس میں ہے کہ اگر کوئی صحافی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرے تو اسے چھ ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا جمہوری معاشرے میں اظہار رائے بنیادی حق ہے۔اس لالچی نے یہ بل اسمبلی میں پاس کیا۔ یہ ڈکٹیٹر ہے یا عوامی نمائندہ؟ اس سے پہلے ڈکٹیٹروں نے بھی یہ قوانین پاس نہیں کیے۔
🔹اور جناب اسپیکر! یہ جو کوہستان میں 44 ارب روپے کا اسکینڈل ہوا، اس میں سے صرف 6 ارب روپے نیب نے وصول کیے۔ باقی 38 ارب روپے کا کیا ہوا؟
🔹خیبر پختون خواہ میں جتنے بھی تعمیراتی محکمے ہیں، سی اینڈ ڈبلیو، اریگیشن، پبلک ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ، اے ڈی، ٹی ایم اے، پی ڈی اے، یہ تمام کرپشن کی جڑ ہیں۔ اس پر آپ بھی سوئے ہوئے ہیں۔ نیب اور اینٹی کرپشن بھی سوئے ہوئے ہیں۔ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
🔹پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید عتیق شاہ! آپ اس صوبے سے باخبر ہیں اور جو کرپشن ہو رہی ہے، اس پر آپ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
🔹خیبر پختون خواہ میں اس پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ کرپشن میں اسٹیبلشمنٹ بھی برابر ملوث ہے۔
*الحاج ملک سراج الحق خلیل*