NDM Digital Wing

NDM Digital Wing This is the unofficial platform for annoucements, updates, news & queries regarding the National Democratic Movement (NDM).

26/08/2026

"نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ صوبائی کمیٹی کے ممبر شہید عمر شیرانی"
درویش درانی نے کہا تھا؛ جو سورج جیسے تھے وہ تو سویروں کی طرف، روشن صبحوں کی طرف کوچ کر گئے۔ ہم چراغ ہیں، ہم اندھیروں سے لڑ رہے ہیں۔
عمر شیرانی ایسے ہی باغی چراغ تھے، جسے نہ اندھیروں کا خوف تھا نہ ہواؤں کا۔ کتنے بڑے بڑے نام تھے جو خوف، دہشت، وحشت اور بربریت کے سامنے جھک گئے، خاموش ہو گئے، یا بک گئے۔
وہ چراغ تھا، جلتا رہا۔ روشنی بانٹتا رہا۔ اندھیروں سے لڑتا رہا۔ مگر یہ بغاوت اندھیروں کے دوزخوں میں پلنے والی بلاؤں سے کیوں کر برداشت ہو سکتی تھی۔
چھبیس اگست ۲۰۲۴ء کی اس شام کو درابن کے علاقے میں، کڑی بختیار موڑ کے قریب، ایک سادہ سے ہوٹل میں چائے کی پیالی ہاتھ میں تھی اور نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے وہ گولیاں چلائیں جو بزدل ہمیشہ طاقتوروں کی پشت پناہی کے سائے میں چلاتے ہیں۔
اسے قتل کیا گیا۔
لیکن وہ اسے فنا نہ کر سکے۔ وہ زندہ تھا، اس لیے زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
عمر شیرانی مالی طور پر انتہائی غریب تھا مگر اس کا ذہن اور اس کی روح اعلیٰ انسانی آدرشوں، انسانی وقار، اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی لافانی دولت سے مالا مال تھے۔ اس کے پاس ان اعلیٰ ترین انسانی خوبیوں کی ایسی دولت تھی جو مفاد پرستوں، انسان دشمن قوتوں کے پاس ذرا بھی نہیں۔ اور یہی دولت اسے تاریخ میں امر رکھے گی۔
اس نے انتہائی غربت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اور ایسی تعلیم نہیں جو غاصبوں کی بابوگیری کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ وہ ایسے مفکر اور رہنما کے طور پر سامنے آئے جو عوام کے درمیان سے جنم لے اور ان کی اجتماعی سوجھ بوجھ کو شعور میں ڈھالے، اسے منظم کرے اور اجتماعی مزاحمت کا راستہ دکھائے۔
وہ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ سے وابستہ ہوئے اور این ڈی ایم پختونخوا کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے نمایاں ترین رہنما بنے۔
محسن داوڑ اور دیگر جمہوریت پسند ساتھیوں کے شانہ بشانہ، انہوں نے ایک واضح اور شفاف پیغام دیا: پختونوں کا مستقبل کلاشنکوف میں نہیں، منظم عوامی جمہوری مزاحمت میں ہے۔ ان کا نقطۂ نظر نہ رومانوی تھا، نہ بھولا بھالا؛ بلکہ انتہائی باشعور اور پختہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ عسکریت پسندی، چاہے کسی بھی نام سے آئے، بالآخر غریب اور کمزور کو ہی پیستی ہے۔ طاقتور کے لیے جنگ ایک حربہ ہے، مگر مظلوم کے لیے وہ قبر ہے۔
اسے پتہ تھا؛ نوآبادیاتی تشدد کا جواب اندھا انتقام نہیں بلکہ سیاسی تنظیم، شعور اور عوامی یکجہتی ہے۔ عمر شیرانی نے یہی راستہ چنا۔ انہوں نے ہر مظلوم طبقے (عورت، مزدور، بے زمین کسان، نوجوان) کی بات کو اپنی آواز بنایا۔ ان کے لیے سیاست کوئی کیریئر نہیں تھی، یہ ایک باشعور انسان کا انسانی فرض تھا۔
خوف ایک عجیب ہتھیار ہے۔ یہ گولی سے پہلے مارتا ہے۔ یہ آواز کو گلے میں روکتا ہے، قدموں کو گھر کی دہلیز پر روکتا ہے، عزم کو رات کے اندھیرے میں دفن کرتا ہے۔ مگر عمر شیرانی اس کا علاج جانتے تھے۔ "ذہن سے حالات کی سنگینی کو پہچانو، مگر ارادے سے ہار مت مانو۔"
شہادت سے چند دن پہلے انہیں سیکورٹی الرٹ ملے، دھمکیاں ملیں۔ ان کے ارد گرد موجود لوگوں نے کہا "رُک جاؤ، تھوڑا پیچھے ہٹو، خود کو بچاؤ۔ " مگر عمر شیرانی نے انکار کر دیا۔
یہ انکار بلا سوچے سمجھے نہیں تھا۔ یہ اس آدمی کا انکار تھا جو جانتا تھا کہ اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو ان لوگوں کو کون آواز دے گا جن کی اپنی کوئی آواز نہیں؟ اگر میں ڈر گیا تو دہشت جیت جائے گی۔ اور اگلی کئی نسلیں اس جیت کی قیمت ادا کرے گی۔
درازندہ کے فقیر قبرستان میں جب ہزاروں لوگ جمع ہوئے، جنمیں چئیرمین محسن داوڑ، اس کے ساتھی، سیاسی کارکن، قبائلی بزرگ، عام آدمی، سب شامل تھے۔ تو وہ محض ایک جنازہ نہیں تھا۔ وہ اس خطے کا اجتماعی غم تھا، اس کا اجتماعی غصہ تھا، اور اس کا اجتماعی عہد بھی تھا کہ جو کام عمر شیرانی ادھورا چھوڑ گیا ہے، اسے ادھورا نہیں رہنے دیں گے۔
وہ درازندہ کی مٹی سے اٹھے، اسی مٹی میں سو گئے۔ مگر جو بیج انہوں نے بویا؛ شعور کا، جرأت کا، عوامی سیاست کا، جمہوری سیاسی مزاحمت کا؛ وہ بیج اب اگ آیا ہے۔
عمر شیرانی کے قاتلوں کو خبر ہو؛ یہ درخت تناور درخت بنے گا۔ یہ مظلوموں کو چھاؤں دے گا، پناہ دے گا۔ یہ ظلم کے طوفانوں کے سامنے ٹہرے گا۔ اس درخت سے کئی درخت اور بنیں گے۔ کیوں کہ اس کی جڑیں اپنی ہی مٹی میں پیوست ہیں۔ یہ اسی مٹی سے زندگی اور قوتِ نمو حاصل کر رہا ہے۔
یہ نوآبادیاتی طاغوتی قوتوں کے پلانٹڈ امپورٹڈ درخت نہیں ہیں جو ذرا سا موسم بدلا اور فنا ہو گئے۔

21/08/2026

"گلبدین محسود صوبائی سیکرٹری اطلاعات نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ پختونخوا."
دارالہجرت کا بیٹا: مزاحمت کی وہ نسل جو پہاڑوں سے جنم لیتی ہے.
وہ زمین جو کبھی ہجرت کا نام رکھتی ہے، کبھی خود مزاحمت کی سند بن جاتی ہے۔ شوال کے سنگلاخ پہاڑوں میں، جہاں ہوا خود بھی کسی بغاوت کی طرح چلتی ہے، ایک بچہ 1993 میں اس زمین پر آنکھ کھولتا ہے جسے "دارالہجرت" کہا جاتا ہے۔ یہ نام اتفاق نہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں جنگی شیرعلی خان، فقیر آف ایپی کے نائب، نوآبادیاتی طاقت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ہجرت کو ترجیح دے چکے تھے۔ گرامشی نے کہیں لکھا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نہیں، مگر وہ اپنی لَے ضرور دہراتی ہے۔ اور یہاں، اسی چٹانی زمین پر، وہی لَے ایک نئے جسم میں سانس لینے لگتی ہے۔ گلبدین محسود، جنگی شیر علی خان کے پوتے، اسی لَے کے وارث ٹھہرتے ہیں۔
نوآبادیاتی نظام سب سے پہلے انسان کے ذہن پر قبضہ کرتا ہے، اس کے بعد اس کی زمین پر۔ وزیرستان کے بچے کے لیے علم کا حصول کبھی سیدھی راہ نہیں رہا۔ ہر سکول ایک نیا محاذ تھا، ہر جماعت ایک نیا کوچ۔ کانیگرم سے تیارزہ، تیارزہ سے پروآ، اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان کی زمین پر میٹرک کی سند؛ یہ محض تعلیمی سفر نہیں، یہ اس ریاست کے خلاف ایک خاموش استقامت ہے جو اپنے ہی شہریوں کو مسلسل بے گھر کرتی رہی۔ جنگ کی راکھ میں، ایک لڑکا کتاب کو ہتھیار بناتا ہے۔ یہ وہی عمل ہے جس میں تہذیب کے جھوٹے دعووں کے مقابل انسان اپنی بازیافت کرتا ہے۔ علم کے ذریعے اپنے آپ کو دوبارہ تخلیق کرنا، اس نظام کے اندر رہ کر جو تمہیں مٹانا چاہتا ہے۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے آباسین یونیورسٹی تک کا سفر بھی یونہی سادہ نہیں۔ یہ اس نسل کی کہانی ہے جو نوآبادیاتی درسگاہوں میں داخل ہو کر بھی اپنا قومی شعور نہیں کھوتی، اپنے طبقے، اپنی قوم کی زمین سے جڑا رہتا ہے، اور جامعہ کی چاردیواری کو محض ذاتی ترقی کا زینہ نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر کا اوزار بناتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے دوران، جب پشتون، گلگت بلتستانی اور کوہستانی طلباء کو اجنبیت اور استحصال کا سامنا تھا، گلبدین نے ایک متحدہ طلباء یونین کی بنیاد رکھی۔ ثقافتی بالادستی (hegemony) کو توڑنے کے لیے پہلے متبادل ادارے، متبادل اتحاد تشکیل دینا پڑتے ہیں۔ ریاستی جبر صرف بندوق سے نہیں چلتا، وہ نصاب سے، وظیفے کی تقسیم سے، انتظامیہ کے تعصب سے بھی چلتا ہے۔ اور جب وزیرِ تعلیم کا تعلق اقتدار کے اسی مرکز سے ہو جو محکوم کی زبان نہیں سمجھتا، تو اتحاد بذاتِ خود مزاحمت بن جاتا ہے۔
پھر آیا 24 مئی 2014 کا دن، جب آپریشن ضربِ عضب کے نام پر جو تباہی وزیرستان کے سینے پر برپا ہوئی، اس کے خلاف آواز اٹھی۔ عام شہریوں کی شہادتیں، جبری نقلِ مکانی کی سنگینی۔ یہ سب وہی منظرنامہ ہے جو گزشتہ چند دہائیوں سے پشتون وطن پر پرتشدد طریقے سے مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے: ایسا تشدد جو نہ صرف جسموں کو بلکہ پورے معاشرے کے حافظے کو مسخ کر دیتا ہے۔ احتجاج کی سزا کیا ملی؟ دو ماہ کی جلاوطنی، ڈی پی او کے دفتر میں بار بار طلبی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر جتنا سخت ہو، شعور اتنا ہی گہرا ہوتا جاتا ہے۔
نقیب اللہ محسود کو ناحق قتل کیا گیا تواسلام آباد کی سڑکوں پر پشتون تحفظ موومنٹ کا قافلہ روانہ ہوا۔ یہ محض ایک احتجاج نہ تھا۔ یہ اس اجتماعی چیخ کا اظہار تھا جو دہائیوں سے دبائی جا رہی تھی۔ نقیب اللہ محسود کی ماورائے عدالت شہادت نے ثابت کیا کہ نوآبادیاتی ریاست کے لیے محکوم قوم کا فرد محض ایک عدد ہے، ایک "مشکوک" جسم، جسے بغیر عدالت، بغیر انصاف مٹایا جا سکتا ہے۔ کالونیت کبھی اپنے مقبوضین کو مکمل انسان تسلیم نہیں کرتی۔ 22 بانی ارکان میں شامل ہو کر، گلبدین محسود نے اس تاریخی لمحے میں اپنا نام درج کروایا جب خوف کی زنجیریں ٹوٹ رہی تھیں اور ایک نئی قومی بیداری جنم لے رہی تھی۔
مگر یہاں ایک اہم موڑ آتا ہے جو اس کہانی کو محض مزاحمتی رومانویت سے آگے لے جاتا ہے۔ گلبدین محسود نے، محسن داوڑ کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہو کر، پارلیمانی جدوجہد کی راہ چنی۔ یہ گرامشی کے "طویل مارچ بذریعہ اداروں" (long march through the institutions) کے تصور کی عملی تفسیر ہے۔ یہ خیال کہ محض سڑکوں کی بغاوت کافی نہیں، بالادست نظام کو اس کے اپنے میدانوں میں بھی چیلنج کرنا ضروری ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہو کر، اور پھر نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے ملک بھر میں بیس سے زائد یونٹ قائم کر کے، انہوں نے ثابت کیا کہ قومی شعور کی تعمیر تنظیم سازی کے بغیر ممکن نہیں۔
نامساعد حالات میں، سیاسی حریفوں کے بیچ، قبائلی تعصب کی دیواروں کو پھلانگتے ہوئے، گلبدین محسود نے الیکشن میں حصہ لیا۔ یہ وہ عمل ہے جب محکوم قوم محض شکایت کرنے والی نہیں رہتی بلکہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کی اہلیت کا دعویٰ کرتی ہے۔ ووٹ کی پرچی، اس تناظر میں، بندوق کی گولی سے کم انقلابی نہیں۔ یہ اعلان ہے کہ ہم موجود ہیں، ہم فیصلہ کریں گے۔
عمر شیرانی، فکری دوست اور ساتھی، جب شہید ہوئے تو گلبدین محسود نے ان کی قبر بنائی اور ضلع شیرانی میں پہلی برسی کا اہتمام کیا۔ یہ چھوٹا سا عمل، ظاہری سادگی کے باوجود، اس روایت کی توثیق ہے جسے ہر مزاحمتی تحریک اپنی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ وہ جو وطن پر نثار ہوئے، ان شہیدوں کیا یاد کو زندہ رکھنا۔ نوآبادیاتی نظام سب سے پہلے محکوم قوم کی تاریخ اور حافظے کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جو قوم اپنے شہیدوں کو یاد رکھنا جانتی ہے، وہ اپنے آپ کو بھی زندہ رکھنا جانتی ہے۔
آج گلبدین محسود نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی انفارمیشن سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ عہدہ کوئی منزل نہیں؛ یہ اس طویل سفر کا ایک اور پڑاؤ ہے جو دارالہجرت کی چٹانوں سے شروع ہوا تھا۔ ان کا نظریہ، تعلیم، آئین اور پارلیمانی جدوجہد کو پشتون علاقوں کے مسائل کا حل سمجھنا، اس فکری روایت کی توسیع ہے جو مزاحمت کو محض تباہی کا نام نہیں دیتی بلکہ تعمیر کا وسیلہ سمجھتی ہے۔
جنگی شیرعلی خان کے پوتے نے زمانہ طالبعلمی سے لے کر، ایک انقلابی وطن دوست تنظیم کے صوبائی ترجمان بننے تک جو سفر طے کیا، یہ سفر ایک فرد کی سوانح نہیں؛ یہ ایک ایسی قوم کی داستان ہے جو نوآبادیاتی نقشوں پر کھینچی گئی لکیروں کے باوجود اپنی شناخت، اپنی زمین، اور اپنے مستقبل کا دعویٰ ترک کرنے کو تیار نہیں۔ اور جب تک دارالہجرت جیسی زمینیں اپنے بیٹوں کو یہی سبق دیتی رہیں گی، یہ مزاحمت، جدوجہد اور ایثار کا قافلہ آگے بڑھتا رہے گا۔ کیونکہ مزاحمت کی تاریخ کبھی "ختم" نہیں ہوتی، وہ صرف نسل در نسل نیا روپ دھارتی رہتی ہے۔

14/08/2026

نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ سندھ کے صوبائی صدر حاجی محمد شیر محسود: استقامت، جدوجہد اور عزم و استقلال کا نام،
وزیرستان کی مٹی سے کراچی کی سیاسی زمین تک۔۔۔
محکوم اقوام کی تاریخ ہمیشہ دو دھاروں میں بہتی ہے: ایک وہ جو نوآبادیاتی ذہنیت کے سامنے سرنگوں ہو کر اپنی شناخت، اپنی زبان، اپنی زمین کا سودا کر لیتے ہیں، اور دوسرا وہ جو مبارز بن کر اپنی قوم کے شعور کو بیدار کرتے ہیں، اسے اس کے تاریخی حق کی یاد دلاتے ہیں۔ حاجی شیر محمد محسود کا سفر اسی دوسری دھارے کی ایک زندہ مثال ہے۔
یکم جنوری 1971 کو جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹ کائی کے گاؤں مرغی باند میں پیدا ہونے والا یہ بیٹا، اپنے والد حاجی زاریم خان کے نقشِ قدم پر چل کر روزگار کی تلاش میں پہلے اٹک کے پنڈی گھیب اور پھر کراچی پہنچا۔ یہ وہی سفر ہے جو لاکھوں پختونوں نے کیا۔ اپنی زمین سے بے دخلی کا سفر پشتونوں کی قسمت کا لکھا نہیں بلکہ استعماری جبر کی وجہ سے ہے۔ استعمار صرف زمین پر قبضہ نہیں کرتا، وہ ذہنوں کو بھی محکوم بناتا ہے۔ مگر شیر محمد محسود جیسے لوگ ثابت کرتے ہیں کہ جسمانی نقل مکانی کے باوجود شعوری بغاوت زندہ رہ سکتی ہے۔
نیشنل کالج کراچی میں طالب علمی کے دور میں ہی پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ یہ محض ایک نوجوان کی خودرو سرگرمی نہیں تھی۔ یہ اس شعوری بیداری کا اظہار تھا جو ہر محکوم قوم کے نوجوان کے اندر کسی نہ کسی صورت جنم لیتی ہے۔
کاروباری ذمہ داریوں نے تعلیمی سلسلہ روکا، مگر نظریہ اور سوچ کو نہیں روک سکیں۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک عام آدمی اور ایک نظریاتی کارکن میں ہوتا ہے۔ حالات بدل سکتے ہیں، مصروفیات بدل سکتی ہیں، مگر قوم کے ساتھ وابستگی کا رشتہ نہیں ٹوٹتا۔
2018 میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ابھار کے ساتھ ہی شیر محمد محسود دوبارہ صف اول میں آ کھڑے ہوئے۔ کراچی جیسے شہر میں، جہاں لاکھوں پختون محنت کش آباد ہیں مگر سیاسی طور پر بکھرے ہوئے، پی ٹی ایم کو منظم اور فعال رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ محکوم قوم کی بیداری شہروں کے سینوں میں، مزدوروں کی بستیوں میں، اور نوجوانوں کے جلسوں میں پروان چڑھتی ہے۔ اس دور میں ان کے کردار کی گواہی خود ان کے مخالفین بھی دیتے ہیں۔ اور یہ کسی بھی سیاسی کارکن کی سب سے بڑی سند ہوتی ہے۔
اختلافِ رائے، سیاسی جدوجہد کی روح ہے، بزدلی نہیں۔ جب ساتھیوں نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی بنیاد رکھی تو شیر محمد محسود نے اسے سراہا، مبارکباد دی۔ ایک ایسا عمل جو صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو نظریے کو شخصیت پرستی پر مقدم رکھتا ہو۔ اور جب 2022 میں انہوں نے خود بھی این ڈی ایم میں شمولیت اختیار کی، تو یہ کسی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ اصولی موقف کا تسلسل تھا۔
سندھ کی تنظیم سازی سے لے کر 2026 میں باقاعدہ صوبائی صدر منتخب ہونے تک کا سفر، محنت، دیانت اور اصول پسندی کی داستان ہے۔ گرامشی کہتا تھا کہ ہر انقلاب سے پہلے تنظیم سازی کا ایک طویل، صبر آزما دور آتا ہے، یعنی"خاموش زیرِزمین جنگ" کا دور۔ شیر محمد محسود کی سیاسی زندگی اسی مبارزہ / جدوجہد کی زندہ تصویر ہے۔ نہ شہرت کی طلب، نہ اقتدار کی ہوس، بلکہ اصول کی سیاست پر غیر متزلزل یقین۔ وہ خود کہتے ہیں کہ وصول کی سیاست سے نفرت کرتے ہیں، اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اور یہی وہ وصف ہے جو ایک عام سیاست دان کو تاریخ کے صفحات میں امر کر دیتا ہے۔
محکوم اقوام کی جدوجہد افراد سے نہیں، کرداروں سے آگے بڑھتی ہے۔ حاجی شیر محمد محسود جیسے کردار اس بات کی گواہی ہیں کہ وزیرستان کے پہاڑوں سے کراچی کی گلیوں تک، پختون قوم کی بیداری کا سفر رکنے والا نہیں۔

07/08/2026

صوبائی جنرل سیکرٹری این ڈی ایم جنوبی پختونخوا انجینیئر ایمل خان ناصر کا فکری اور سیاسی سفر:
نوآبادیاتی جبر صرف جغرافیائی سرحدوں کو پامال نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کی داخلی دنیا، اس کی شناخت، اور اس کے اجتماعی وجود کو مسخ کرنے کی منظم کوشش کرتا ہے۔ محکوم اقوام پر مسلط کیا گیا جابرانہ نظام، انسان کو محض ایک "سایہ" یا ایک "متحرک مشین" بنانے پر تلا ہوتا ہے۔ ایسی ہی شبِ تاریک میں جب ایک تاریخی ورثے کی نفی کی جا رہی ہو، تو سیاسی جدوجہد محض اقتدار کی ہوس نہیں رہتی، بلکہ وہ نوآبادیاتی ڈھانچوں کے خلاف ایک ہمہ گیر فکری، ثقافتی اور وجودی مقاومت (existential resistance) کا روپ دھار لیتی ہے۔
جنوبی پشتونخوا/بلوچستان کی پسماندہ و جبر زدہ دھرتی پر انجینیئر ایمل خان ناصر کی سیاسی مزاحمت اور استقامت اسی ہمہ گیر مزاحمتی روایت کا ایک جاندار اور نامیاتی استعارہ ہے۔
15 جنوری 1991 کو لورالائی کی تاریخ ساز زمین پر آنکھ کھولنے والے ایمل خان ناصر کا سیاسی سفر کوئی حادثاتی واقعاتی ترتیب نہیں، بلکہ ایک تاریخی تسلسل کا نتیجہ ہے۔
ان کے گھرانے کی فضا سیاسی شعور اور جدوجہد کے قصوں سے معطر تھی۔ والدِ گرامی کا پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ متحرک تعلق، گھر کے صحن کو ایک ایسی درسگاہ بنا چکا تھا جہاں قومی محرومی اور مزاحمت کے نصاب پڑھے جاتے تھے۔
بچپن ہی سے باچا خان کے عدم تشدد، انسانی وقار اور نوآبادیاتی استبداد کے خلاف غیر متزلزل افکار و جدوجہد نے ایمل خان کے سیاسی شعور کو گہری جلا بخشی۔ باچا خان کا فلسفہ محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں تھا، بلکہ پشتون وجود کی بحالی اور انسانی مرتبے کی بازیافت کا نام تھا۔ ایمل خان نے اس فکر کو محض تاریخ کے صفحات پر نہیں پڑھا، بلکہ اسے اپنے وجدان کا حصہ بنایا۔
تعلیم، تکنیک اور عوامی مزاحمتی سیاست:
کراچی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنا ایمل خان کے فکری سفر کا ایک اہم موڑ تھا۔ ٹیکنو کریٹک ساخت کے اندر رہتے ہوئے بھی ان کا ذہن تکنیکی باریکیوں تک محدود نہ رہا، بلکہ انہوں نے اپنے فن کو نوآبادیاتی ساختوں کے تجزیے اور عوامی خدمت کے آلے میں ڈھال دیا۔ کراچی کا کثیر الثقافتی اور تضادات سے بھرا ہوا ماحول، جو سرمایہ داری اور قومی استحصالی جبر کا سنگم تھا، ایمل کے لیے فکری جلا کا سبب بنا۔
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کی عوامی اور نامیاتی لہر جب ابھری، تو ایمل خان ناصر اس کے پیش روؤں میں شامل نظر آئے۔ یہ تحریک محض حقوق کی مانگ نہیں تھی، بلکہ فینن کے الفاظ میں "محکوموں کا یکلخت بول اٹھنا" (the speaking of the subaltern) تھا۔ اس تحریک نے تاریخ کے طاقوں میں دبائی گئی آوازوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ ایمل خان نے اس مرحلے پر عوام کے درد اور استحصالی جبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی،
اور پھر 2021 میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM) کے قیام کے ساتھ ہی اس فکری اور سیاسی سفر کو ایک منظم تنظیم کا روپ دیا۔
افراسیاب خٹک صاحب اور محسن داوڑ کا اثر:@
کسی بھی تحریک کے استوار ہونے کے لیے فکر کی گہرائی اور عمل میں جرأت و استقامت دو لازم و ملزوم عناصر ہیں۔ ایمل خان ناصر کے فکری اور سیاسی خمیر میں ان دونوں دھاروں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے:
افراسیاب خٹک کا تبحرِ علمی: افراسیاب خٹک کی تاریخ شناسی، عالمی سیاسیات پر عمیق نظر اور نوآبادیاتی منطق کا گہرا ادراک ایمل خان کے لیے ایک فکری مشعل راہ بنا۔ افراسیاب خٹک کے مطالعے سے ایمل نے سیکھا کہ مقامی جدوجہد کو عالمی اور علاقائی تاریخ کے ساتھ کیسے جوڑا جاتا ہے اور استعماری قوتوں کے بیانیے کو علمی سطح پر کیسے رد کیا جاتا ہے۔
محسن داوڑ کی ناقابلِ مصالحت جدوجہد: محسن داوڑ کی سیاسی استقامت، جرأت، اور ریاست کے روایتی استحصالی سانچوں کے سامنے جرات مندانہ موقف نے ایمل خان کے اندر ایک عمل پسند اور بے باک طرزِ عمل کو جنم دیا۔ محسن داوڑ کی غیر متزلزل جدوجہد نے ایمل خان کو یہ سکھایا کہ جب موقف حق پر مبنی ہو تو مصلحت کوئے ملامت بن جاتی ہے اور اصول پر قائم رہنا ہی اصل فتح ہے۔
کارکنوں کا اعتماد اور صوبائی قیادت کی ذمہ داری
پارٹی کے ساتھ سخت ترین نظریاتی کمٹمنٹ:
تنظیمی نظم اور کارکنوں کے ساتھ بلا تفریق انسانی رفاقت کی بنا پر کارکنوں نے ایمل خان ناصر کو نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ بلوچستان/جنوبی پشتونخوا کا صوبائی جنرل سیکرٹری منتخب کیا۔ یہ عہدہ ان کے لیے کسی روایتی سیاسی مسند یا جاہ و جلال کا ذریعہ نہیں، بلکہ"عوامی ذمہ داری" (popular responsibility) کی مجسم تصویر ہے۔
انہوں نے اس منصب کو محض دفتری کاغذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ جنوبی پشتونخوا کے دور افتادہ علاقوں، پہاڑوں، گاؤں اور وادیوں تک پارٹی کے پیغام کو پہنچایا۔ ان کی سیاسی جدوجہد میں زبانی جمع خرچ کے بجائے عمل کی پختگی، تنظیمی ضبط اور نظریاتی تحرک شامل ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا سائے کی طرح تعاقب کرنے والے حالات، سیاسی جبر، رکاوٹیں اور ریاست کا معاندانہ رویہ؛ یہ وہ تمام امتحان تھے جن سے اس نوجوان رہنما کو گزرنا پڑا۔ سیزر نے اپنی تحریروں میں لکھا تھا کہ استعمار کی سب سے بڑی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ مقاومت کرنے والے انسان کو توڑ دے، اسے مایوس کر دے اور اسے اس بات پر مجبور کر دے کہ وہ اپنے وجود پر ہی شک کرنے لگے۔
لیکن ایمل خان ناصر سخت ترین، اندوہناک اور پرپیچ حالات میں بھی ایک "چٹان" کی طرح ڈٹے رہے۔ ان کی پختگی کا راز ان کی اس گہری نظریاتی وابستگی میں پوشیدہ ہے کہ جدوجہد محض لمحاتی کامیابیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے وقار کی جنگ ہے۔ جب پارٹی پر سخت ترین وقت آیا، جب راستے مسدود کیے گئے اور سیاسی گٹھ جوڑ نے ہر ممکن دباؤ ڈالا، تو ایمل نے اپنے موقف، اپنے سیاسی آدرشوں اور اپنے عوامی عہد پر ذرہ برابر سمجھوتہ نہیں کیا۔
ایک نامیاتی روشناس: ادبی اور فلسفیانہ اختتام
ایمل خان ناصر کی سیاسی شخصیت محض ایک تنظیمی عہدے دار کی ساخت نہیں رکھتی، بلکہ ان کے اندر کا انسان ایک درد مند دل، ادبی حسیت اور فلسفیانہ بصیرت کا مالک ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جنوبی پشتونخوا اور بلوچستان کا مسئلہ محض چند ترقیاتی سکیموں یا انتظامی دلاساؤں کا نہیں، بلکہ یہ انسانی وقار، قومی شناخت اور حقِ ملکیت کا بنیادی سوال ہے۔
وہ تاریخ کے دھارے کو کسی بالادست قوت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے قائل نہیں۔ وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جب تک محکوم دھرتی کے بیٹوں اور بیٹیوں کے سینوں میں مزاحمت کی شمع روشن ہے، تب تک کوئی نوآبادیاتی طاقت ان کے وجود کو مٹا نہیں سکتی۔ ایمل خان ناصر کی سیاست، ان کا ایثار اور ان کا پختہ عزم اس بات کی ضمانت ہے کہ جنوبی پشتونخوا میں انسانیت، آزادی اور سیاسی شعور کی مشعل نہ صرف روشن رہے گی، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سمت کا تعین کرتی رہے گی۔

نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ پشاور کے سابق صدر کفایت داوڑ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری ہر باشعور انسان کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اخت...
02/08/2026

نیشنل سٹوڈنٹس موومنٹ پشاور کے سابق صدر کفایت داوڑ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری ہر باشعور انسان کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اختلافِ رائے جرم نہیں، بلکہ ایک جمہوری حق ہے۔
ہم تمام دوستوں، طلبہ، کارکنوں اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ 3 اگست، شام 6 بجے، فقیر ایپی لان، پشاور یونیورسٹی میں ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ آئیے متحد ہو کر انصاف، آئین اور بنیادی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
آج خاموشی، کل سب کی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
آئیں، متحد ہوں۔ آواز اٹھائیں۔ انصاف کا ساتھ دیں۔

31/07/2026

گلالئی اسماعیل چیئرپرسن نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ امریکہ:
گلالئی اسماعیل — ایک ایسی زندگی جو تیس اکتوبر انیس سو چھیاسی کو ضلع صوابی میں شروع ہوئی، مگر جس کے اثرات آج پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بایوٹیکنالوجی میں گریجویشن اور فلسفے میں ماسٹرز کرنے والی یہ نوجوان لڑکی محض ایک طالبہ نہیں رہی — اس نے علم کو ہتھیار بنایا اور سماج کی گہری تہوں میں اتر کر جبر کے خلاف آواز بلند کی۔ بعد ازاں امریکہ کی ڈینور یونیورسٹی کے معروف جوزف کوربل اسکول سے بین الاقوامی انسانی حقوق میں ماسٹرز کر کے اس نے اپنی جدوجہد کو علمی و عالمی سطح پر مزید مضبوط کیا۔
گلالئی کی پہچان "Aware Girls" کی بانی اور چیئرپرسن کے طور پر ہوئی — ایک ایسی تنظیم جو پشتون سماج میں خواتین کے حقوق اور بیداری کی علامت بن گئی۔ آگے چل کر وہ Humanists International کی بھی چیئرپرسن مقرر ہوئیں، اور مارچ 2021ء میں اسی ادارے کی سفیر (Ambassador) کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ان کی خدمات کا دائرہ کبھی مقامی حدود تک محدود نہیں رہا۔ 2010ء سے 2012ء تک وہ "Women's Global Network for Reproductive Rights" کی بورڈ ممبر رہیں، اور نوجوان امن کاروں کے عالمی نیٹ ورک UNOY کے ورکنگ گروپ کا بھی حصہ بنیں — یعنی امن، انسانی حقوق اور صنفی مساوات، تینوں محاذوں پر بیک وقت متحرک۔
ان کی انتھک جدوجہد کو عالمی سطح پر بارہا خراجِ تحسین پیش کیا گیا: 2014ء میں انہیں "انٹرنیشنل ہیومنسٹ آف دی ایئر" کا اعزاز ملا، 2015ء میں کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ برائے ایشیا، 2016ء میں تنازعات کی روک تھام پر شیراک انعام، اور 2017ء میں صحافت اور انسانی حقوق کی جرات کی علامت سمجھا جانے والا انا پولیتکووسکایا ایوارڈ ان کے نام ہوا۔
گلالئی اسماعیل کی کہانی دراصل یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک عام سے قصبے سے اٹھنے والی آواز، اگر عزم اور علم سے لیس ہو، تو وہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔

نیشنل سٹوڈنٹ مومنٹ یونیورسٹی آف بنوں کے سابقہ صدر کفایت داوڑ کی ناروا گرفتاری کے خلاف آج شام 8 بجے   ہمارے ساتھ فیسبک او...
30/07/2026

نیشنل سٹوڈنٹ مومنٹ یونیورسٹی آف بنوں کے سابقہ صدر کفایت داوڑ کی ناروا گرفتاری کے خلاف آج شام 8 بجے ہمارے ساتھ فیسبک اور ٹویٹر(ایکس) پر ڈیجیٹل مہم میں شامل ہوں ۔👇

این ڈی ایم ڈیجیٹل ونگ کی طرف سے جمعے کے دن 3 بجے نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ امریکہ چیئرپرسن گلالئی اسماعیل کی سیاسی جدوجہد او...
29/07/2026

این ڈی ایم ڈیجیٹل ونگ کی طرف سے جمعے کے دن 3 بجے نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ امریکہ چیئرپرسن گلالئی اسماعیل کی سیاسی جدوجہد اور انسانی حقوق کی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہمارے ساتھ ڈیجیٹل مہم میں شامل ہوں👇

ایک بار پھر وزیرستان کے نوجوان کو نشانہ بنایا گیا۔یونیورسٹی کے سابق صدر کفایت داوڑ کو میران شاہ قلعہ گیٹ پر اس بنیاد پر ...
28/07/2026

ایک بار پھر وزیرستان کے نوجوان کو نشانہ بنایا گیا۔

یونیورسٹی کے سابق صدر کفایت داوڑ کو میران شاہ قلعہ گیٹ پر اس بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا کہ ان کا شناختی کارڈ بلاک تھا۔ کفایت داوڑ حسوخیل، تحصیل میرعلی کے رہائشی، ایک تعلیم یافتہ، باوقار اور پیشہ ور نوجوان ہیں جن کا کسی غیرقانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔

وہ اپنی والدہ کے اکلوتے بیٹے ہیں، اور ان کی والدہ کے مطابق کفایت نے اطلاع دی ہے کہ اگر علاقے کے معتبرین ضمانت دیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال مزید تشویش کا باعث ہے اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

ہم وزیرستان کے تمام مشران، منتخب نمائندوں اور بااثر شخصیات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ادا کریں، متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کریں اور کفایت داوڑ کی باعزت رہائی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

وزیرستان کے عوام پہلے ہی جنگ، دہشت گردی، جبری نقل مکانی اور مسلسل عدمِ تحفظ کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانا، شناختی کارڈ بلاک کرنا اور گرفتاریوں کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی کارکنوں کے خلاف ایسے اقدامات انصاف اور قانون کی روح کے منافی ہیں۔

ریاستی جبر کے ذریعے سیاسی آوازوں کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

این ڈی ایم کفایت داوڑ کی فوری، باعزت اور بلاشرط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے، ان کا شناختی کارڈ فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ انصاف، قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کا احترام ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔



24/07/2026

جمیلہ گیلانی نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ مرکزی سیکرٹری امور خارجہ:
جمیلہ گیلانی کا فکری خمیر اس سامراج دشمن (anti-colonial) اور پشتون قوم پرست (Pashtun Nationalist) نظریاتی روایت سے تیار ہوا ہے جس کی جڑیں باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک میں پیوست ہیں۔
جمیلہ گیلانی 5 جنوری 1960ء کو خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر مردان کے علاقے "میاں صاحب سرائے" میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد میاں فرید خان خدائی خدمت گار تحریک کے فعال رکن تھے اور وطن دوست و ترقی پسند نظریات کے ساتھ تادم مرگ مستقل مزاجی سے جڑے رہے۔
جمیلہ گیلانی نے بچپن ہی سے اس مزاحمتی فکر کو جذب کیا جہاں نوآبادیاتی دور کے زخموں کا مداوا ڈھونڈا جاتا تھا اور پشتونوں کے سیاسی و معاشی تشخص کی بقا کے لیے بحثیں ہوتی تھیں۔ ان کے لیے سیاست کوئی پیشہ نہیں بلکہ نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے بعد اثرات (post-colonial structures) کے خلاف ایک فکری اور عملی جنگ ہے۔
ان کی جدوجہد کا اصل محور یہ فکری ادراک ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد بھی پشتونوں کو جغرافیائی، سیاسی اور معاشی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کا وہی سلسلہ برقرار رکھا گیا جو کبھی انگریز سامراج کا شیوہ تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی میں اپنے طویل سفر، اور خاص طور پر 2008ء سے 2013ء تک قومی اسمبلی کی رکنیت کے دوران، انہوں نے اسی استعماری رویے کے خلاف آواز اٹھائی۔
جب ریاست نے سکیورٹی بیانیے کی آڑ میں پشتون وطن کو جنگ کی بھٹی میں جھونکا، تو جمیلہ گیلانی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس پالیسی کو چیلنج کیا۔ 2018ء میں جب پارٹی نے افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر جیسے کٹر نظریاتی اور قوم پرست رہنماؤں کی رکنیت معطل کی، تو جمیلہ گیلانی نے مصلحت پسندی پر اصول پسندی کو ترجیح دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ نظریے پر سمجھوتہ پشتون قومی تحریک کے ساتھ غداری ہوگی۔
ان کا حالیہ سیاسی سفر، خواہ وہ پشتون تحفظ تحریک (PTM) کے حقوق کے مطالبات کی فکری سرپرستی ہو یا نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM) کی مرکزی سیکرٹری کے طور پر تنظیمی کردار، دراصل اسی اینٹی کالونیل فکر کی توسیع ہے۔ وہ ریاست کے مروجہ ڈھانچے کو ایک داخلی استعمار (internal colonialism) کے طور پر دیکھتی ہیں، جہاں چھوٹے صوبوں اور مظلوم قومیتوں کے قدرتی وسائل پر مرکز کا غصب، اور بارودی سرنگوں یا لاپتہ افراد جیسے انسانی المیے اسی نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر ان کا بیانیہ کسی روایتی لیڈر کا نہیں بلکہ ایک ایسی پشتون قوم پرست مفکر کا ہے جو سویلین بالادستی، اپنے وسائل پر حقِ ملکیت اور جنگ سے پاک پرامن پشتونخوا کی وکالت کرتی ہے۔ جمیلہ گیلانی آج کے عہد میں نوآبادیاتی جبر کے خلاف پشتون مزاحمت کی ایک فکری اور توانا علامت بن کر کھڑی ہیں۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NDM Digital Wing posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share