26/08/2026
"نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ صوبائی کمیٹی کے ممبر شہید عمر شیرانی"
درویش درانی نے کہا تھا؛ جو سورج جیسے تھے وہ تو سویروں کی طرف، روشن صبحوں کی طرف کوچ کر گئے۔ ہم چراغ ہیں، ہم اندھیروں سے لڑ رہے ہیں۔
عمر شیرانی ایسے ہی باغی چراغ تھے، جسے نہ اندھیروں کا خوف تھا نہ ہواؤں کا۔ کتنے بڑے بڑے نام تھے جو خوف، دہشت، وحشت اور بربریت کے سامنے جھک گئے، خاموش ہو گئے، یا بک گئے۔
وہ چراغ تھا، جلتا رہا۔ روشنی بانٹتا رہا۔ اندھیروں سے لڑتا رہا۔ مگر یہ بغاوت اندھیروں کے دوزخوں میں پلنے والی بلاؤں سے کیوں کر برداشت ہو سکتی تھی۔
چھبیس اگست ۲۰۲۴ء کی اس شام کو درابن کے علاقے میں، کڑی بختیار موڑ کے قریب، ایک سادہ سے ہوٹل میں چائے کی پیالی ہاتھ میں تھی اور نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے وہ گولیاں چلائیں جو بزدل ہمیشہ طاقتوروں کی پشت پناہی کے سائے میں چلاتے ہیں۔
اسے قتل کیا گیا۔
لیکن وہ اسے فنا نہ کر سکے۔ وہ زندہ تھا، اس لیے زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔
یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی
یوں ہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
عمر شیرانی مالی طور پر انتہائی غریب تھا مگر اس کا ذہن اور اس کی روح اعلیٰ انسانی آدرشوں، انسانی وقار، اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی لافانی دولت سے مالا مال تھے۔ اس کے پاس ان اعلیٰ ترین انسانی خوبیوں کی ایسی دولت تھی جو مفاد پرستوں، انسان دشمن قوتوں کے پاس ذرا بھی نہیں۔ اور یہی دولت اسے تاریخ میں امر رکھے گی۔
اس نے انتہائی غربت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اور ایسی تعلیم نہیں جو غاصبوں کی بابوگیری کے لیے حاصل کی جاتی ہے۔ وہ ایسے مفکر اور رہنما کے طور پر سامنے آئے جو عوام کے درمیان سے جنم لے اور ان کی اجتماعی سوجھ بوجھ کو شعور میں ڈھالے، اسے منظم کرے اور اجتماعی مزاحمت کا راستہ دکھائے۔
وہ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ سے وابستہ ہوئے اور این ڈی ایم پختونخوا کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کے نمایاں ترین رہنما بنے۔
محسن داوڑ اور دیگر جمہوریت پسند ساتھیوں کے شانہ بشانہ، انہوں نے ایک واضح اور شفاف پیغام دیا: پختونوں کا مستقبل کلاشنکوف میں نہیں، منظم عوامی جمہوری مزاحمت میں ہے۔ ان کا نقطۂ نظر نہ رومانوی تھا، نہ بھولا بھالا؛ بلکہ انتہائی باشعور اور پختہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ عسکریت پسندی، چاہے کسی بھی نام سے آئے، بالآخر غریب اور کمزور کو ہی پیستی ہے۔ طاقتور کے لیے جنگ ایک حربہ ہے، مگر مظلوم کے لیے وہ قبر ہے۔
اسے پتہ تھا؛ نوآبادیاتی تشدد کا جواب اندھا انتقام نہیں بلکہ سیاسی تنظیم، شعور اور عوامی یکجہتی ہے۔ عمر شیرانی نے یہی راستہ چنا۔ انہوں نے ہر مظلوم طبقے (عورت، مزدور، بے زمین کسان، نوجوان) کی بات کو اپنی آواز بنایا۔ ان کے لیے سیاست کوئی کیریئر نہیں تھی، یہ ایک باشعور انسان کا انسانی فرض تھا۔
خوف ایک عجیب ہتھیار ہے۔ یہ گولی سے پہلے مارتا ہے۔ یہ آواز کو گلے میں روکتا ہے، قدموں کو گھر کی دہلیز پر روکتا ہے، عزم کو رات کے اندھیرے میں دفن کرتا ہے۔ مگر عمر شیرانی اس کا علاج جانتے تھے۔ "ذہن سے حالات کی سنگینی کو پہچانو، مگر ارادے سے ہار مت مانو۔"
شہادت سے چند دن پہلے انہیں سیکورٹی الرٹ ملے، دھمکیاں ملیں۔ ان کے ارد گرد موجود لوگوں نے کہا "رُک جاؤ، تھوڑا پیچھے ہٹو، خود کو بچاؤ۔ " مگر عمر شیرانی نے انکار کر دیا۔
یہ انکار بلا سوچے سمجھے نہیں تھا۔ یہ اس آدمی کا انکار تھا جو جانتا تھا کہ اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو ان لوگوں کو کون آواز دے گا جن کی اپنی کوئی آواز نہیں؟ اگر میں ڈر گیا تو دہشت جیت جائے گی۔ اور اگلی کئی نسلیں اس جیت کی قیمت ادا کرے گی۔
درازندہ کے فقیر قبرستان میں جب ہزاروں لوگ جمع ہوئے، جنمیں چئیرمین محسن داوڑ، اس کے ساتھی، سیاسی کارکن، قبائلی بزرگ، عام آدمی، سب شامل تھے۔ تو وہ محض ایک جنازہ نہیں تھا۔ وہ اس خطے کا اجتماعی غم تھا، اس کا اجتماعی غصہ تھا، اور اس کا اجتماعی عہد بھی تھا کہ جو کام عمر شیرانی ادھورا چھوڑ گیا ہے، اسے ادھورا نہیں رہنے دیں گے۔
وہ درازندہ کی مٹی سے اٹھے، اسی مٹی میں سو گئے۔ مگر جو بیج انہوں نے بویا؛ شعور کا، جرأت کا، عوامی سیاست کا، جمہوری سیاسی مزاحمت کا؛ وہ بیج اب اگ آیا ہے۔
عمر شیرانی کے قاتلوں کو خبر ہو؛ یہ درخت تناور درخت بنے گا۔ یہ مظلوموں کو چھاؤں دے گا، پناہ دے گا۔ یہ ظلم کے طوفانوں کے سامنے ٹہرے گا۔ اس درخت سے کئی درخت اور بنیں گے۔ کیوں کہ اس کی جڑیں اپنی ہی مٹی میں پیوست ہیں۔ یہ اسی مٹی سے زندگی اور قوتِ نمو حاصل کر رہا ہے۔
یہ نوآبادیاتی طاغوتی قوتوں کے پلانٹڈ امپورٹڈ درخت نہیں ہیں جو ذرا سا موسم بدلا اور فنا ہو گئے۔