21/03/2026
شہر پشاور کے ہیرو/ بدماش/ڈان
( حصہ اول)
شیروڈ نوٹنگھم انگلستان کے رہنے والے 12 ویں صدی کے مشہور ڈاکو رابن ہڈ ایک افسانوی کردار تھے ،جسکے بارے میں مشہور تھا کہ وہ امیروں کو لوٹ کر غریبوں کو دیتے تھے ۔
انکی زندگی پر کئی فلمیں بنی ۔
اسی طرح پرانے پشاور اندرون شہر کی تاریخ میں بھی کئی افسانوی کردار گزرے ہیں جنہیں مقامی لوگ رابن ہڈ سے تشبیہ دیتے ہیں ۔
ان افسانوی کرداروں کو تاریخ
" بدماش" کے طور پر یاد کرتی ہیں ۔دراصل بدماش یا "داغی" کا لفظ اکثر ان با اثر اور نڈر افراد کے لیے استعمال ہوتا تھا جو اپنے محلے یا بازار کے محافظ سمجھے جاتے تھے( یعنی ڈان تھے).
پرانے وقتوں میں ہر علاقے یا گلی میں ان بدماشوں کا ہونا مجبوری تھی ، کیونکہ یہ اپنے علاقے کی دوسرے بدماشوں سے حفاظت کرتے تھے ۔
بقول پرانے باسیوں ان کا رویہ اپنے علاقے کے لوگوں اور شرفاء کیساتھ بہت مثالی تھا ،لیکن ڈھینگوں اور بدماشوں کے لئے قہر ثابت ہوتے تھے ۔
دوستی یاریاں خوب نبھاتے تھے اور دشمنیاں مول لینا انکا شغل تھا ۔
یہ لوگ روایتی طور پر پہلوان، بانکے یا سخت گیر شخصیات ہوتے تھے جو محلے کے تنازعات حل کرتے چوری چکاری روکتی اور پولیس و سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی ان کا اثر و رسوخ ہوتا تھا۔ یہ افراد اکثر مخصوص طرز کے لباس، بوسکی کا جوڑا ، سر پر تلی دار یا قراقلی ٹوپی، تلی دار چپلیاں ، گلے میں طمانچہ ، ،جیب میں کمانی دار چاقو یا پاکی ( استرا)بغل میں چادر ، مخصوص موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ڈھینگے ہوکے چلتے تھے ۔
ان کا کام محلے کی "غیرت" اور عزت کا دفاع کرنا ہوتا تھا۔ اندرون شہر کے مختلف علاقوں جیسے قصہ خوانی, بازار کلاں،ڈبگری ، رام داس,یکہ توت ،لاہوری میں ہر بدمعاش کا اپنا ایک مخصوص حلقہ اثر ہوتا تھا۔ تبدیلی وقت کے ساتھ، خاص طور پر 1970 اور 80 کی دہائی کے بعد، یہ روایتی بدمعاش کلچر ختم ہو گیا اور اب یہ محض قصے کہانیوں کا حصہ ہیں ۔
پشاور کے چند لیجنڈری بدمعاشوں کے نام حاضر خدمت ہیں ۔
1)نثار حسین عرف نثارے ٹنڈا محلہ بھڑ نمک منڈی پشاور کے رہائشی تھے۔
2)مسافرے بدماش ھزار خونی پشاور کے رہنے والے تھے ، جسکی نثارے کے ساتھ دشمنی تھی
3)جان بدماش جان ،جو کہ امیر ترین شخص تھا جو کہ فلیٹس مری ،ناز سیمنا پشاور ، جانز ھوٹل پشاور ،جانز بیکیری پشاور صدر ،پکچر ھاوس سنیما پشاور کے مالک تھے۔
4)بچو بدماش محلہ شاہ برھان پشاور کا رہنے والا تھا۔
5)نیم خان بابر عرف چڑا بدماش کوھاٹی پشاور
6)ظریف خان ظریفے ، پپو خان کا یار
7)کالا خان ـ ڈھکی نعلبندی کا رہائشی
8)بخش المعروف مچلے وال،
کوٹلہ فیل بانان میں رہائش تھی
9)حبیب اللہ المعروف ببلی
10)ممتاز المعروف تازی
11)سیف اللہ المعروف سیفو
12)شیر دل -
13) ملک شیر بہادر خان - شیرے
14) فقیر محمد فقیرے ، پپو خان کا یار تھا
(15) حاجی رسول- ڈبنگے فقیر کلے
(16)بوستانے خان لاہوری گیٹ شیخ آباد والا
17)ملتان خان - ملتانے ، لنڈی ارباب
18)عمر بخش المعروف لالہ عمر محلہ بازداران اندرون جہانگیر پورے بازار کا رہائشی تھا
19)قلندرے - نوتھیہ
20)دادو- سوچاہ بدماش -أسیہ
21) يوسف-یوسفے بدمعاش ہزار خوانی کا رہائشی تھا
لیکن آج ہم ذکر کریں گے ان میں سے ایک نہایت مشہور ومعروف پپو بدمعاش کے بارے میں ،جی وہی پپو خان جس کے بارے میں محاورہ مشہور ہے کہ " پپو یار تنگ نا کر"
اصل نام زکریا خان تھا لیکن
پپو کے سے شہرت پائی ۔
پپو بدمعاش ،وڈپگہ گاؤں سے تعلق تھا،اور
لاہوری کے کچی محلہ،تسبیح گراں کا رہائشی تھا۔
،ملک شیر بہادر عرف شیرے اور ملک لطیف کے ساتھ دشمنی تھی، اور انکے ساتھ پہلی لڑائی میٹرو سینما میں ہوئی تھی ۔
خوبصورت گھوڑی رکھتا تھا اور ٹانگوں کی ریس لگاتا تھا ، چمکنی جی روڈ پر اس کے ٹانگے سے آگے نکلنے کی کسی کو بھی جرآت نہیں ہوتی تھی ۔
سفید ٹانگہ ، ہاتھ میں 7 ایم ایم کی بندوق تھامے شہر کا چکر لگاتا تھا، اسکے کوچوان کا نام کریمے تھا۔
پشتو فلموں میں انویسٹمنٹ کی اور دھقان اور کوچوان جیسی فلمیں بنائی
پکا قیوم لیگی تھا ،اسکے چچا میجر صادق ایک سیاسی شخصیت تھا
فلم سٹار ستارہ سے شادی کی تھی ،پیشی سے آتے ہوئے سینٹرل جیل کے قریب مارا گیا تھا ۔
علاقے کے لوگوں اور پرانے شہر کے باسیوں کے مطابق غریبوں سے ہمدردی رکھتا تھا اور علاقے کے لوگوں کا خیال رکھتا تھا ۔
کچھ لوگ اسے رابن ہڈ سے تشبیہ دیتے تھے ۔
نوٹ: یہ پوسٹ صرف پشاور کے تاریخی حوالے سے شائع کی گئی ہے ، اس سے کسی کی تشہیر یا دل آزاری نہیں ہے ، باقی اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔