05/06/2026
**جمرود: متنازعہ زمین کے دورے پر جمعیت علمائے اسلام جمرود کا شدید ردعمل**
جمرود: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) خیبر کے فنانس سیکرٹری حاجی محمد کریم آفریدی نے کمشنر پشاور کی جانب سے متنازعہ زمین کے حالیہ دورے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتظامی جانبداری اور غیر شفاف طرزِ عمل قرار دیا ہے۔
حاجی محمد کریم آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمشنر پشاور نے قوم کوکی خیل کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے خفیہ انداز میں متنازعہ زمین کا دورہ کیا، جو نہ صرف انتظامی جانبداری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ حقائق کو پسِ پشت ڈال کر کسی مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متنازعہ زمین کے معاملے میں قوم کوکی خیل ایک بنیادی اور براہِ راست فریق ہے، اس کے باوجود متعلقہ نمائندوں کو اعتماد میں نہ لینا اور ان کی عدم موجودگی میں دورہ کرنا قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے یکطرفہ اقدامات علاقے میں بے چینی، بداعتمادی اور کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
حاجی محمد کریم آفریدی نے واضح کیا کہ قوم کوکی خیل کا دوٹوک مؤقف ہے کہ میفی گرفتھ ایوارڈ 1912ء کے تحت حدبندی کے تعین اور اس کے نفاذ کے بغیر کسی بھی قسم کے فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی ایسے فیصلے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمشنر پشاور بار بار ایک فریق کی نمائندگی کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو انتظامی غیرجانبداری کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ زمین کے حوالے سے تمام فیصلے شفافیت، قانونی تقاضوں اور تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر کیے جائیں تاکہ علاقے میں امن، استحکام اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔