09/08/2026
چراغ سب کے بجھے، ایک ہوا کے ساتھ
جو لوگ اہلِ ہنر تھے، وہ بھی چلے گئے
خیبر پختونخوا کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے علیحدگی پر سوالات اٹھنے لگے
خیبر پختونخوا کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے علیحدگی کی خبر نے طبی حلقوں، مریضوں اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب ایک ماہر اور تجربہ کار معالج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے انسانی زندگیوں کو سنوارنے اور مریضوں کے لیے امید کا چراغ روشن کرنے میں مصروف ہو، ان کی اچانک رخصتی یا ادارے سے علیحدگی کا معاملہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا ادارے ایسے ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں کی خدمات سے محروم ہونے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟
کیا فیصلوں میں میرٹ، ادارہ جاتی ضرورت اور مریضوں کے مفاد کو بنیادی اہمیت دی گئی؟
اور سب سے بڑھ کر—کیا عوام کو اس فیصلے کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا؟
طبی ادارے صرف عمارتوں، مشینوں اور بستروں کا نام نہیں ہوتے؛ ان کی اصل طاقت ان کے ماہر ڈاکٹر، نرسیں، ٹیکنیکل اسٹاف اور وہ اعتماد ہوتا ہے جو برسوں کی محنت سے عوام کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔
اگر ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کی خدمات سے علیحدگی کسی انتظامی، قانونی یا محکمانہ فیصلے کا نتیجہ ہے تو اس کی وجوہات اور مکمل پس منظر کو شفاف انداز میں سامنے لانا ضروری ہے، تاکہ افواہوں کی جگہ حقائق لے سکیں اور عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
کیونکہ قومیں اپنے قابل لوگوں کو کھو کر مضبوط نہیں ہوتیں؛
وہ اپنے اہل، ماہر اور خدمت گزار لوگوں کی قدر کرکے آگے بڑھتی ہیں۔
اور شاید اسی لیے آج دل سے وہی مصرعہ نکلتا ہے:
"یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا،
اے چاند، یہاں نہ نکلا کر…"
مگر سوال یہ ہے کہ اگر روشنی دکھانے والے چراغ ہی بجھا دیے جائیں، تو پھر اندھیروں سے شکوہ کس سے کیا جائے؟
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
پاکستان زندہ باد ۔