Afridi zaib

Afridi zaib Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Afridi zaib, Digital creator, Peshawar.

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی ...
21/11/2025

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر
تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک
مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی تھے انہیں
میں سے ایک کو وزیر اعظم بنانا تھا۔ تینوں عقلمند، وفادار، ہوشیار اور خدمت گزار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی خدمت کی تھی۔ اب بادشاہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے کس کو وزیر اعظم چنے اور کس کو چھوڑ دے۔

بادشاہ ہر وقت فکر مند رہتا حتی کہ سوچ سوچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ اس کے دماغ پر بھی اس پریشانی کا اثر ہوا۔ اسے باتیں بھولنے لگیں ۔ بھوک کم ہو گئی ۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ۔ لوگ جب کوئی بات کہتے تو لگتا جیسے یا تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یا سنائی نہیں دے رہا۔ غرض وزیر کے چناؤ کے مسئلے نے اسے پاگل سا کر دیا۔

در باری جانتے تھے کہ بادشاہ صرف اس مسئلے کی وجہ پیشان ہے مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے ۔ بادشاہ کو

اُداس دیکھ کر سب کے دل دُکھتے تھے ۔ آخر ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ کسی نہ کسی طرح بادشاہ کو دریا کے کنارے پکنک منانے پر رضا مند کر لیا جائے ۔ ممکن ہے کھلی فضا اور دریا کے نظارے سے بادشاہ کی طبیعت بہل جائے ۔ دربار کے کاموں اور ملکی مسائل سے کچھ دیر کے لیے نجات پاکر بادشاہ کو یقینا خوشی ہوگی لہذا بادشاہ کو سمجھا بجھا کر پکنک منانے پر رضا مند کر لیا گیا اور پروگرام کے لیے دن بھی مقرر ہو گیا۔

مقررہ دن بادشاہ اپنے وزیروں، درباریوں اور ملازموں کے ہمراہ دریا کے کنارے شاہی پکنک منانے چلا گیا۔ درباریوں نے بادشاہ کی تفریح کے لیے کھانے پینے کے علاوہ جس کھیل اور تماشے کا اہتمام بھی کیا تھا، جس کا جی چاہے نہائے اور دریا میں تیراکی کرے۔ دن نہایت خوبصورت تھا۔ پکنک پر آیا ہوا ہر شخص دن تفریح کے موڈ میں تھا۔

تمام انتظامات مکمل تھے۔ اچھے لوگ ساتھ تھے۔ بہترین پکے ہوئے انواع و اقسام کے کھانے ...۔

بادشاہ پر ان چیزوں کا بڑا اچھا اثر ہوا۔ کئی دن بعد بادشاہ اپنی فکر کو بھول کر سیر و تفریح کا لطف اٹھانے لگا۔ موسیقار دھیمے سروں میں ساز بجارہے تھے۔ دریا کی لہروں میں بھی موسیقی تھی۔ بادشاہ نہایت اطمینان سے دریا کے کنارے بیٹھا موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر قریب بیٹھے ہوئے تینوں نائب وزیروں پر پڑی اور پھر اس فکر نے بادشاہ کو گھیر لیا۔ وزیر اعظم کے چناؤ کا مسئلہ پھر اس کے ذہن میں تھا۔

یوں لگتا تھا جیسے صاف ستھرے آسمان کو اچانک سیاہ بادلوں نے ڈھانپ لیا ہو۔ بادشاہ کی ساری خوشی اور بے فکری کافور ہوگئی ۔ بادشاہ اب خالی خالی نظروں سے دریا کی کی چمکیلی لہروں کو گھور رہا تھا ۔ دیکھتے دیکھتے اس کی نظر ایک گول سی چیز پر پڑی جو دریا میں بہتی چلی آرہی تھی ۔

بادشاہ نے فورا اپنے پاس بیٹھے وزیروں کو مخاطب کیا اور کہا:۔

سامنے دریا میں کوئی چیز بہتی آرہی ہے ۔ نہ معلوم کیا ہے؟“

تینوں میں سے ایک نے آنکھوں پر ہاتھ کا سایہ کیا اور غور سے دریا کی طرف دیکھ کر بولا : ”عالی جاہ! جہاں تک میرا خیال ہے کوئی پھل قسم کی چیز ہے ۔ "

دوسرا وزیر اسی وقت اٹھ کر دریا کے پانی کے عین قریب چلا گیا۔ کچھ دیر پانی کو دیکھتا رہا پھر واپس آکر بادشاہ سے کہنے لگا :۔

جی ہاں ۔ عالی جاہ! یہ پھل ہی ہے غالباََ آم ہے ۔“ اسی وقت تیسرا نائب وزیر بغیر کچھ کہے اٹھا اور پانی کے بہاؤ کے قریب چلا گیا۔ آم اب دریا کے اسی حصے میں لہروں پر بہتا آگے نکل جانے کو تھا کہ اس نے پگڑی اور چغہ اتارا اور دریا میں کود گیا۔ پھر تیرتے ہوئے پھل کے قریب پہنچا اور اسے اچک لیا۔ پھل لے کر جلدی سے کنارے پر آیا اور نہایت احترام کے ساتھ بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولا :۔

"جی ہاں! عالی جاہ! یہ بالکل تازہ آم ہے۔ اسے خوش ذائقہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ اعلی قسم کا ہے ۔“

یہ کہہ کر تیسرے نائب وزیر نے آم بادشاہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ بادشاہ وزیر کی جرات دیکھ کر بے حد خوش ہوا اور اسے یوں لگا کہ اس کے ذہن پر چھایا ہوا بادل ایک دم چھٹ گیا ہے ۔ یہی وہ شخص ہے جس کو وہ اپنا زیر بنا سکتا ہے ۔ ایسا آدمی جو اس کی خوشنودی کے لیے ہر وقت تیار رہے اور اور : پھرتی سے سے کام کام کرے وہی وزیر اعظم بننے کا حقدار ہے۔ مجھے وزیر کے عہدے کے لیے ایسا ہی آدمی چاہیے ۔ ”میں نے

فیصلہ کر لیا ۔ “ بادشاہ نے دل ہی دل میں کہا:

اس شام بادشاہ نے دربار لگایا اور تمام درباریوں کو

طلب کر کے کہا:

میں آج ایک ضروری اعلان کر رہا ہوں ۔ "

سب درباری حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگ پکنک کا بادشاہ کی طبیعت پر ایسا اچھا اثر پڑے گا، انہیں یقین نہیں آتا تھا جب سب اہل دربار جمع

ہو گئے تو بادشاہ نے اپنی بارعب آواز میں اعلان کیا: "میں نے اپنا وزیر اعظم چن لیا ہے ۔ " "

حاضرین میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ۔ سب کے

ذہن میں یہی دو سوال تھے۔ کس کو وزیر اعظم چنا

ہے ...؟ بادشاہ اس فیصلے پر اچانک کیسے پہنچ گیا ...؟

بادشاہ کچھ دیر خاموش رہ کر اپنے درباریوں کی بے چینی کا مزہ لیتا رہا پھر بولا :

دریا کی لہروں پر بہتے ہوئے ایک آم نے مجھے فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ایک آدمی جسے نہ تو میں نے حکم دیا اور نہ کوئی اشارہ کیا، وہ فوراً دریا میں کود پڑا اور آم پکڑ کر میرے پاس لے آیا۔ میں آج سے اس کو اپنا وزیر اعظم مقرر کرتا ہوں ۔ آپ سب کو اندازہ ہو گیا کہ کون وزیر اعظم ہو گا؟

بادشاہ نے پھر کہا۔ " مجھے یقین ہے کہ وہ آدمی جو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے اتنی جرات دکھاتا ہے، وہ بڑے کاموں کو بھی خوبی سے کرے گا۔ میں نے اس شخص کو اس کی باتوں سے نہیں اس کام سے پہچانا ہے اور میں اپنے فیصلے سے خوش ہوں ۔

20/11/2025

REALLY 🥺

19/11/2025

🤲💝

17/11/2025

LA ILAHA IALLAH!ALLAH HAS MADE YOU, CREATED THIS EARTH FOR YOU. DO NOT LET SHAITAN MAKE YOU TURN YOUR BACK ON HIM!!ﷲ Is ...
29/10/2025

LA ILAHA IALLAH!
ALLAH HAS MADE YOU, CREATED THIS EARTH FOR YOU. DO NOT LET SHAITAN MAKE YOU TURN YOUR BACK ON HIM!!
ﷲ Is the greatest, the All-forgiving!
⋆。·°ʚ🕋ɞ°‧。⋆
turn to islam before its too late sisters and brothers!
also search muslimialani for more! ᡣ𐭩








دنیا کی سب سے بہترین تصویر #فوٹوگرافی کی تاریخ⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️اس نے دو اہم اصولوں کو دریافت کرکے شروع کیا: پہل...
25/10/2025

دنیا کی سب سے بہترین تصویر
#فوٹوگرافی کی تاریخ
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
اس نے دو اہم اصولوں کو دریافت کرکے شروع کیا: پہلا کیمرے کی ڈارک تصویر گرانا، اور دوسرا یہ کہ دریافت کرنا کہ روشنی کی نمائش کی وجہ سے کچھ مواد واضح طور پر تبدیل کردیا گیا ہے[2]۔ کوئی نمونے یا وضاحت اٹھارویں صدی سے پہلے کے ہلکے حساس مواد کی تصویر کشی کرنے کی کسی بھی کوشش کی نشاندہی نہیں کرتی ہے۔
لی گراسس 1826 یا 1827 کی کھڑکی سے منظر ، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم زندہ بچ جانے والی کیمرہ تصویر ہے۔ [1] اصل (بائیں) اور رنگین (دائیں) ری ڈائریکشن کی بہتری۔
1717 کے قریب، جوہان ہینرچ سکولزی نے ہلکی حساس مٹی کا استعمال کرتے ہوئے بوتل پر کٹ خطوط کی تصاویر کھینچیں۔ تاہم، اس نے ان نتائج کو مستقل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے. 1800 کے قریب ، تھامس ویڈگووڈ نے کیمرہ کی تصاویر کو مستقل شکل میں کیپچر کرنے کی ناکام کوشش کے باوجود پہلی قابل اعتماد دستاویز بنائی۔ ان کے تجربات میں تفصیلی تصاویر آئیں، لیکن ووڈ اور ان کے معاون ہمفری ڈیوی کو ان تصاویر کو درست کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ملا۔
1826 میں ، نیکپس نے سب سے پہلے کیمرے سے لی گئی تصویر کی مرمت کی ، لیکن کیمرے کی نمائش کے کم از کم آٹھ گھنٹے یا اس سے بھی کئی دن درکار تھے اور ابتدائی نتائج کافی خطرناک تھے۔ نپسی ایسوسی ایٹ لوئس ڈاگوری نے پہلا تجارتی طور پر اشتہار دیا فوٹو گرافی آپریشن ڈاگوریوٹائپ تیار کرنے کے لئے آگے بڑھا ہے۔ ڈگوریوٹی ماڈل نے کیمرے کی نمائش کے صرف چند منٹ لگے ، جس میں واضح اور درست نتائج سامنے آئے۔ 2 اگست 1839 کو ڈگویئر نے پیرس میں پیرس کے کمرے کے آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔ 19 اگست کو قصر المہد میں اکیڈمی آف سائنسز اور اکیڈمی آف فائن آرٹس کے اجلاس میں فنکارانہ تفصیلات شائع کی گئیں (عوام کو ایجادات کے حقوق دلانے کے لئے خنجر اور نیب کو سالانہ فراخ زندگی کا تحفہ دیا گیا) )[3][4][5] جب دھات کے پیٹرن کا عمل سرکاری طور پر عوام کو دکھایا گیا تو یہ حریف کا نقطہ نظر تھا

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afridi zaib posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share